نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ
azadi ka amrit mahotsav

نائب صدر جمہوریہ سی پی رادھا کرشنن نے شری رام کالج آف کامرس میں 'تیسرے شری ارون جیٹلی میموریل ڈیبیٹ' کے فاتحین کو انعامات تقسیم کیے


شری ارون جیٹلی کے نام پر مباحثے کا انعقاد ان کی وراثت اور خدمات کے لیے ایک بہترین اور موزوں خراجِ عقیدت ہے: نائب صدر

جمہوریت کے لیے سوالات ناگزیر ہیں، لیکن انہیں تعمير کے لیے اٹھایا جانا چاہیے، تخریب کے لیے نہیں: نائب صدر

مصنوعی ذہانت کی چنوتیوں کو مواقع میں تبدیل کیا جا سکتا ہے؛ راجیہ سبھا آئین کے آٹھویں شیڈول کی تمام زبانوں میں اے آئی کی مدد سے ترجمے کے نظام پر کام کر رہی ہے: نائب صدر جمہوریہ

ایلگورتھمز کو کبھی بھی اپنی ذہانت کا متبادل نہ بننے دیں۔ انسانی تخلیقی صلاحیتوں کی جگہ مصنوعی ذہانت کبھی نہیں لے سکتی: نائب صدر

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 25 SEP 2026 6:48PM by PIB Delhi

نائب صدر جمہوریہ جناب سی پی رادھا کرشنن نے آج نوجوان بھارتیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سوال اٹھائیں، تنقیدی انداز میں غور و فکر کریں اور معاشرے اور ملک کے تئیں ذمہ داری کے گہرے احساس کے ساتھ کام کریں۔

دہلی یونیورسٹی کے شری رام کالج آف کامرس (ایس آر سی سی) میں 'تیسری شری ارون جیٹلی میموریل ڈیبیٹ' کی تقریبِ تقسیمِ انعامات سے خطاب کرتے ہوئے، نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ سوال اٹھانا جمہوریت کا ایک لازمی ستون ہے۔

انہوں نے کہا، ’’سوال اٹھائے بغیر کوئی جمہوریت نہیں ہوتی۔ لیکن سوالات وہاں پوچھے جانے چاہئیں جہاں ضرورت ہو، اور ان کا مقصد خلل ڈالنا نہیں بلکہ ترقی ہونا چاہیے۔ ‘‘

طلبا سے آزادانہ رائے قائم کرنے پر زور دیتے ہوئے، انہوں نے کہا: "کسی کی بھی حمایت کرنے سے پہلے، آپ کو یہ پوچھنا چاہیے کہ کیا یہ معاشرے اور ملک کے لیے فائدہ مند ہوگا؟ اگر آپ کی یہ سوچ بن جائے، تو بھارت 2047 سے پہلے ہی ایک ترقی یافتہ ملک بن جائے گا۔

ایس آر سی سی کو اپنے 100 سال مکمل کرنے پر مبارکباد دیتے ہوئے، نائب صدر، جو دہلی یونیورسٹی کے چانسلر بھی ہیں، نے کہا کہ ایک صدی 'صرف وقت کی پیمائش نہیں ہوتی؛ بلکہ یہ کردار کی پیمائش ہوتی ہے۔'

انہوں نے کہا کہ ادارے اسی وقت قائم رہتے ہیں جب وہ اپنی اقدار سے جڑے رہیں اور ساتھ ہی ساتھ خود کو مستقل طور پر جدید بناتے رہیں، بدلتے ہوئے وقت کے مطابق خود کو ڈھالیں اور مستقبل کے لیے تیاری کریں۔

شری ارون جیٹلی کو ایس آر سی سی کا ایک ممتاز طالبِ علم، سیاسی رہنما، منتظم اور ایک بہترین خطیب قرار دیتے ہوئے، نائب صدر نے کہا کہ وہ قانونی مہارت، سیاسی سمجھ بوجھ، معاشی وژن اور غیر معمولی تبادلۂ خیال کی صلاحیتوں کا ایک نادر اور بہترین امتزاج تھے۔

انہوں نے کہا، "اختلافِ رائے سے بچنے سے جمہوریت مضبوط نہیں ہوتی۔ جمہوریت تب مضبوط ہوتی ہے جب اختلافِ رائے کو دلیل، شواہد اور مکالمے کے ذریعے حل کیا جائے۔"

سابق وزیر اعظم جناب اٹل بہاری واجپئی کے دورِ حکومت میں شری ارون جیٹلی کے ساتھ اپنی ملاقاتوں اور بات چیت کو یاد کرتے ہوئے، نائب صدر نے خزانہ اور کمپنی امور کے مرکزی وزیر کے عہدے سمیت کئی اہم عہدوں پر رہتے ہوئے ملک کی تعمیر و ترقی میں ان کے کردار کو اجاگر کیا۔"

انہوں نے بڑی اصلاحات میں شری ارون جیٹلی کے کردار کا ذکر کیا، جن میں جی ایس ٹی، دیوالیہ پن کا قانون، ٹیکسیشن اور مالیاتی اصلاحات، اور بھارت کے مالیاتی و معاشی ڈھانچے کو مضبوط بنانے والے اقدامات شامل ہیں۔ انہوں نے مالیاتی شمولیت میں بھی ان کے تعاون کو اجاگر کیا۔

انہوں نے کہا کہ 'اس عظیم شخصیت کو ایک مباحثے سے بہتر اور کیا خراجِ عقیدت پیش کیا جا سکتا ہے'، اور ایک علمی فورم کے ذریعے اپنے اس ممتاز قدیم طالبِ علم کی یاد منانے پر ایس آر سی سی کی تعریف کی۔

نائب صدر نے اس بات پر زور دیا کہ جمہوری گفتگو کے لیے آزادیٔ اظہارِ رائے، مخالفانہ نقطہ ہائے نظر کا احترام، شواہد پر مبنی دلائل اور پارلیمانی آداب و اخلاق ناگزیر ہیں۔

انہوں نے مباحثے کے لیے دورِ حاضر کے موضوعات کا انتخاب کرنے پر منتظمین کی تعریف کی، جن میں کام کے اوقات کے بعد آف لائن ہونے کا حق، سب کے لیے بنیادی آمدنی، کارپوریٹ گورننس میں ملازمین کی نمائندگی اور 'وکست بھارت @2047' کے لیے انسانی سرمایہ شامل ہیں۔

سوشل میڈیا، ایلگورڈمز، فوری ردِعمل اور شارٹ فارم مواد پر مبنی دورِ حاضر کے معلوماتی ماحول کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے دلائل پر مبنی اور ذمہ دارانہ عوامی گفتگو کی اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے تمام شرکاء اور انعام یافتگان کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے 'علمی وابستگی کی اہمیت اور الفاظ کی طاقت' کا شاندار مظاہرہ کیا ہے۔

طلبہ کو 'مستقل طور پر خود کو ڈھالنے اور مسلسل سیکھتے رہنے' کی ترغیب دیتے ہوئے، نائب صدر نے یاد دلایا کہ کس طرح کمپیوٹرز کو، جنہیں کسی زمانے میں بہت سے لوگ ملازمتوں کے لیے ایک خطرہ سمجھتے تھے، بالآخر آئی ٹی کے شعبے میں بھارت کی ترقی کا ایک بڑا محرک بن گئے۔

انہوں نے کہا، "مصنوعی ذہانت ہمیں چنوتی دے رہی ہے، لیکن ہم مصنوعی ذہانت کی ان چنوتیوں کو مواقع میں تبدیل کر سکتے ہیں۔"

بھارت جیسے متنوع ملک میں چنوتیوں سے نمٹنے کے لیے مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں کو اجاگر کرتے ہوئے، انہوں نے ریئل ٹائم لسانی ترجمے کو اس کی ایک اہم مثال کے طور پر پیش کیا۔

نائب صدر نے بتایا کہ راجیہ سبھا آٹھویں شیڈول میں شامل تمام زبانوں میں اے آئی کی مدد سے خودکار ترجمے کا نظام متعارف کرانے کے لیے کام کر رہی ہے۔

اس کے ساتھ ہی، انہوں نے طلبہ کو متنبہ کیا: 'ایلگورتھمز کو کبھی بھی اپنی ذہانت کا متبادل نہ بننے دیں۔ انسانی تخلیقی صلاحیتوں کی جگہ مصنوعی ذہانت کبھی نہیں لے سکتی۔'

اپنے خطاب کے آخر میں، نائب صدر نے کہا کہ ایس آر سی سی کے سو سالہ جشن کو ہر ایک کو یہ یاد دلانا چاہیے کہ 'ادارے اسی وقت عظیم بنتے ہیں جب ہر نسل انہیں اس حالت سے بہتر چھوڑ کر جائے جس حالت میں اس نے انہیں پایا تھا۔'

نائب صدر نے 'تیسری شری ارون جیٹلی میموریل ڈیبیٹ' کے فاتحین کے درمیان انعامات تقسیم کیے، اور دورِ حاضر کے موضوعات پر سنجیدہ دلائل اور پرجوش شمولیت پر تمام شرکاء کی تعریف کی۔ انہوں نے مختلف شعبوں میں غیر معمولی کامیابیوں اور خدمات کے اعتراف میں ایس آر سی سی کے ممتاز سابق طلبہ کو بھی اعزاز سے نوازا، اور ان کے کارناموں کو اس ادارے کی عمدگی اور قیادت کی شاندار روایت کا عکاس قرار دیا۔

پروفیسر یوگیش سنگھ، وائس چانسلر، دہلی یونیورسٹی؛ جناب اجے ایس شری رام، چیئر مین، گورننگ باڈی، ایس آر سی سی؛ پروفیسر سمرت کور، پرنسپل، ایس آر سی سی؛ اور آنجہانی شری ارون جیٹلی کی شریک حیات محترمہ سنگیتا جیٹلی کے علاوہ معزز اساتذہ، سابقہ طلبا، اور طلبا بھی اس موقع پر موجود تھے۔

**********

 (ش ح –ا ب ن)

U.No:4125


(ریلیز آئی ڈی: 2315169) وزیٹر کاؤنٹر : 11
یہ ریلیز پڑھیں: English , Tamil , Malayalam