کامرس اور صنعت کی وزارتہ
azadi ka amrit mahotsav

نیشنل ٹریڈرز ویلفیئر بورڈ کی 11ویں میٹنگ نئی دہلی میں منعقدہوئی


بورڈ نے تاجروں کی فلاح و بہبود، کاروبار کرنے میں آسانی، ڈیجیٹل طور پر بااختیار بنانے اور برآمدات کے فروغ کے اقدامات کا جائزہ لیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 25 SEP 2026 2:32PM by PIB Delhi

نیشنل ٹریڈرز ویلفیئر بورڈ (این ٹی ڈبلیو بی) کی گیارہویں میٹنگ نئی دہلی کے وانیجیہ بھون میں ہائبرڈ موڈ میں منعقدہوئی ۔ بورڈ نے تاجروں کی فلاح و بہبود ، کاروبار کرنے میں آسانی ، ڈیجیٹل طور پر بااختیار بنانے ، مالی سہولیات  تک رسائی ، مرکز اور ریاست کے درمیان تال میل اور برآمدات کے فروغ سے متعلق متعدد اقدامات کا جائزہ لیا ۔ ب غور و خوض کے دوران جی ایس ٹی، ایم ایس ایم ایز، تاجروں کی شکایات کے ازالے، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور تاجروں، خوردہ فروشوں، مینوفیکچررز، برآمد کنندگان اور خدمات فراہم کرنے والوں کے لیے ادارہ جاتی تعاون کو مضبوط بنانے سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے۔

غور و خوض کے دوران ارکان نے جی ایس ٹی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا، جن میں ٹیکس نظام کو معقول بنانا، ریفنڈ میں تاخیر، طویل آڈٹ، ایمنسٹی اسکیمیں، آئی ٹی سی سے متعلق بے ضابطگیاں اور زیر التوا اپیلوں کے حل جیسے معاملات شامل تھے۔ ایم ایس ایم ای اور مالیات سے متعلق امور پر تاجروں کو ایم ایس ایم ای سہولت کاری کمیٹیوں میں شامل کرنے، 30 دن کی مدت مقرر کرتے ہوئے مرکزی قرض پورٹل قائم کرنے کی تجویز، سی آئی بی آئی ایل اسکور کے طریقہ کار میں اصلاحات اور تاجروں کی شکایات کے لیے ہیلپ لائنیں قائم کرنے پر بھی بات چیت ہوئی۔

ارکان نے تاجروں کی فلاح و بہبود سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا، جن میں سرکاری ٹھیکیداروں کو بروقت ادائیگی، تکنیکی جرمانوں سے تحفظ، کاروباری مندی کے ادوار میں قرض کی واپسی میں رعایت اور مرکز و ریاستوں کے درمیان بہتر تال میل شامل ہیں۔ ڈیجیٹل طور پر بااختیار بنانے کے سلسلے میں بورڈ نے او این ڈی سی اور ڈیجی دوکان کو ضلعی سطح تک وسعت دینے، نیتی آیوگ کے تحت خواتین کی کاروباری سرگرمیوں کے لیے سہولت کاری ڈیسک قائم کرنے، شکایات کے ازالے کے لیے پی او ایس ایچ سیل اور سائبر فراڈ سے متعلق شکایات کے ازالے کے نظام کو مضبوط بنانے پر غور کیا۔

تاجروں اور ایم ایس ایم ایز کی برآمدی سرگرمیوں میں شرکت بڑھانے، برآمدی مواقع کے بارے میں بیداری پیدا کرنے، ادارہ جاتی معاونتی نظام کو مضبوط بنانے اور ہندوستان کو عالمی سطح پر مسابقتی تجارتی ملک کے طور پر ابھرنے کو فروغ دینے پر خصوصی زور دیا گیا۔ بورڈ نے شعبہ وار مسائل کا جائزہ لینے اور پالیسی اقدامات کے لیے منظم سفارشات پیش کرنے کی غرض سے موضوعاتی کمیٹیوں اور مخصوص ورکنگ گروپس کی ضرورت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

میٹنگ کی صدارت این ٹی ڈبلیو بی کے چیئرمین جناب سنیل جے سنگھی نے کی۔ انہوں نے بورڈ کو اس کے مقاصد کے حصول کے لیے کیے گئے اہم اقدامات سے آگاہ کیا۔ جناب سنگھی نے جن وشواس ایکٹ جیسی اصلاحات کے ذریعے تاجروں کی فلاح و بہبود کے لیے حکومت کے عزم کو اجاگر کیا، جس کے تحت 40 ہزار تعمیلی تقاضوں کو معقول بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کاروبار کرنے میں آسانی سے متعلق اقدامات اور مدھیہ پردیش، پنجاب، اتر پردیش اور تمل ناڈو میں ریاستی تاجر فلاحی بورڈز کے قیام کا بھی ذکر کیا۔ گوا اور تلنگانہ سے تحریری تصدیقات موصول ہونے کے ساتھ ساتھ ضلعی سہولت کاری مراکز کے قیام میں پیش رفت کا بھی ذکر کیا گیا۔

جناب سنگھی نے مسلسل 100 ورچوئل کانفرنسوں کے کامیاب انعقاد کو بھی اجاگر کیا، جن سے مرکز اور ریاستوں کے درمیان روابط مضبوط ہوئے ہیں۔ انہوں نے 29 جون کو سودیشی جاگرن منچ کی جانب سے بھاماشاہ جینتی کو راشٹریہ ویاپاری دیوس کے طور پر منانے، دہرادون اور اندور میں ویاپاری سمواد اور چنڈی گڑھ و اندور میں ترنگا یاترا کی سرگرمیوں سمیت مختلف اقدامات اور مہمات کا بھی ذکر کیا۔

چیئرمین نے ارکان کو نیکسٹ جنریشن جی ایس ٹی 2.0 اصلاحات، او این ڈی سی کے انضمام اور ڈیجی دوکان کی توسیع سے متعلق پیش رفت سے بھی آگاہ کیا۔ او این ڈی سی کی جانب سے بی ٹو بی خریداری اور کریانہ اسٹورز کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے شروع کیا گیا اقدام ڈیجی دوکان، ایک ہی آرڈرنگ انٹرفیس کے ذریعے کریانہ اسٹورز کو خریداری کے عمل کو ڈیجیٹل بنانے میں مدد فراہم کر رہا ہے۔ اس وقت حیدرآباد اور جے پور میں 19 ہزار سے زائد خوردہ فروش اس پلیٹ فارم پر فعال ہیں۔

میٹنگ کے آغاز میں ڈی پی آئی آئی ٹی کے ڈائریکٹر جناب یوراج رویندر پاٹل نے بورڈ کے ارکان اور متعلقہ وزارتوں و محکموں کے ایکس آفیشیو ارکان کا خیرمقدم کیا اور این ٹی ڈبلیو بی کے دائرہ کار اور ذمہ داریوں کا خاکہ پیش کیا۔ انہوں نے بورڈ کے اقدامات کو فروغ دینے اور ڈی پی آئی آئی ٹی کے انٹرایکٹو ویڈیو کانفرنس اجلاسوں کو وسیع پیمانے پر لوگوں تک پہنچانے کی اہمیت پر زور دیا۔

ارکان کو آئندہ ہونے والی اصلاحات سے بھی آگاہ کیا گیا، جن میں کنزیومر پروٹیکشن (ترمیمی) بل 2026 شامل ہے، جس کے یکم جنوری 2027 سے نافذ ہونے کی تجویز ہے اور جس کا مقصد زندگی گزارنے میں آسانی کو بڑھانا ہے۔ بورڈ نے ہندوستان-برطانیہ سی ای ٹی اے مذاکرات پر بھی غور کیا، جس میں برآمدات کے فروغ پر خصوصی زور دیا گیا۔

میٹنگ میں تجارتی انجمنوں اور ریاستوں و مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی نمائندگی کرنے والے غیر سرکاری ارکان کے علاوہ حکومت ہند کی مختلف وزارتوں اور محکموں کے ایکس آفیشیو ارکان نے شرکت کی۔

میٹنگ کا اختتام تاجروں کے لیے پالیسی سازی کی وکالت، ڈیجیٹل طور پر بااختیار بنانے، کاروبار کرنے میں آسانی سے متعلق اصلاحات، سماجی تحفظ کے اقدامات اور مرکز و ریاستوں کے درمیان بہتر تال میل کے ذریعے سازگار ماحول پیدا کرنے کے بورڈ کے عزم کے اعادے کے ساتھ ہوا۔ بورڈ نے تاجروں اور ان کے ملازمین کی فلاح و بہبود اور انہیں بااختیار بنانے کے لیے کام کرنے اور وکست بھارت 2047 کے وژن میں فعال کردار ادا کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

***

ش ح۔ ک ا۔ ش ب ن

U.NO.408


(ریلیز آئی ڈی: 2314898) وزیٹر کاؤنٹر : 14
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Telugu