ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
مرکزی وزیر ماحولیات نے ہندوستان میں ٹائیگر ریزرو کے انتظامی موثریت کے جائزے کےچھٹے دور کے لیے افتتاحی ورکشاپ کا افتتاح کیا؛ ایم ای ای-ٹی آر 2026 کے لیے تکنیکی رہنما کتابچہ بھی جاری کیا گیا
مقامی سماجی و اقتصادی پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے مخصوص مقامات کے مطابق ماحولیاتی منظرنامے کے انتظام اور حالات کے مطابق تحفظ کے طریقہ کار اپنانے کی ضرورت ہے: جناب بھوپیندر یادو
ایم این ای –ٹی آر 2026 میں ٹائیگر ریزرو کے لیے ’ٹھوس کچرے کے انتظام‘ کو ایک الگ جائزہ کےمعیار کے طور پر شامل کیا جائے گا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
25 SEP 2026 2:00PM by PIB Delhi
ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کے مرکزی وزیر جناب بھوپیندر یادو نے آج نئی دہلی میں نیشنل ٹائیگر کنزرویشن اتھارٹی(این ٹی سی اے) کے زیر اہتمام اور وائلڈ لائف انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا(ڈبلیو آئی آئی) کے اشتراک سے ہندوستان کے ٹائیگر ریزرو کے انتظامی موثریت کے جائزے کے چھٹے دور(ایم ای ای-ٹی آر) کی افتتاحی ورکشاپ کا افتتاح کیا۔
افتتاحی ورکشاپ کے ساتھایم ای ای-ٹی آر کے چھٹے دور کا آغاز ہوا، جس میں ملک کے تمام 58 ٹائیگر ریزرو شامل ہوں گے۔ ورکشاپ میں این ٹی سی اے،ڈبلیو آئی آئی، ریاستی محکمہ جنگلات، ٹائیگر ریزرو کے انتظامی ٹیموں اور ماہرین نے شرکت کی اور چھٹے دور کے فریم ورک، طریقہ کار اور عمل درآمد سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔
اپنے افتتاحی خطاب میں جناب بھوپیندر یادو نے اجاگر کیا کہ ہندوستان نے ٹائیگر (شیروں)کے تحفظ کے لیے 85,000 مربع کلومیٹر سے زیادہ رقبہ مختص کیا ہے۔ انہوں نے جنگلی حیات کے تحفظ اور جائزے کے عمل میں بدلتے ہوئے سائنسی طریقوں اور ٹیکنالوجی کو مسلسل شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ سائنسی بنیاد پر اختیار کیے جانے والے طریقہ کار کی رہنمائی ہمدردی، اقدار اور وژن کے ذریعے ہونی چاہیے، تاکہ محکمہ جنگلات اور مقامی برادریوں کے درمیان ہم آہنگ تعلقات کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے جنگلی حیات کے تحفظ کے تئیں معاشرے میں وابستگی کا احساس پیدا کرنے میں جنگلات کے عہدیداروں کی نسل در نسل خدمات کو سراہا۔
وزیر موصوف نے تجویز پیش کی کہ ایم ای ای رپورٹس کے جائزے میں مقامی ماحولیاتی اور سماجی ماہرین کو بھی شامل کیا جائے، جبکہ ایم ایم اے کے عمل میں مقامی نوجوانوں کی شرکت بھی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ جائزے کے نتائج میں ہر ٹائیگر ریزرو کی مخصوص ضروریات اور چیلنجز کی عکاسی ہونی چاہیے اور ماحولیاتی نظام کے تحفظ اور سماجی توازن کو پالیسی اقدامات کی بنیاد بنایا جانا چاہیے۔
جناب یادو نے انسان اور جنگلی حیات کے درمیان ٹکراؤ کوعلاقے کی بنیاد پر جائزہ لینے اور تحفظ کے قابل پیمائش نتائج حاصل کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے مقامی سماجی و اقتصادی پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے مخصوص مقامات کے مطابق ماحولیاتی منظرنامے کے انتظام اور حالات کے مطابق تحفظ کے طریقہ کار کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایم ای کی مشق میں پیشہ ورانہ مہارت اور غیر جانب داری کو مرکزی حیثیت حاصل رہنی چاہیے، تاکہ جائزے تحفظ کے انتظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ایک مستحکم بنیاد فراہم کر سکیں۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کےمرکزی وزیر مملکت جناب کیرتی وردھن سنگھ نے محکمہ جنگلات کے سینئر افسران کی لگن کو سراہا، جو کئی دہائیوں کے انتظامی اور تحفظ سے متعلق تجربے کو زمینی سطح پر ایم ایم ای کے جائزے میں بروئے کار لا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کا وسیع علم اور میدانی تجربہ مستقبل کی نسل کے جنگلی حیات کے تحفظ کے ماہرین کے لیے ادارہ جاتی تجربے کا ایک قیمتی خزانہ ہے۔
ٹائیگر ریزرو کے تحفظ کے مقاصد کے حصول کے لیے اس کا انتظام کتنے موثر طریقے سے کیا جا رہا ہے، ایم ای ای-ٹی آر ایک منظم اور شواہد پر مبنی جائزہ ہے۔اس میں انتظامی اقدامات کے ساتھ ساتھ منصوبہ بندی، وسائل اور انتظامی نظام کی موزونیت کا جائزہ لیا جاتا ہے اور یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ یہ کوششیں تحفظ کے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں کس حد تک کامیاب ہو رہی ہیں۔ہندوستان میں ایم ای ای کا انعقاد محفوظ علاقوں کے انتظامی موثریت کے جائزے کے لیےآئی یو سی این ورلڈ کمیشن آن پروٹیکٹڈ ایریاز(ڈبلیو سی پی اے) کے فریم ورک سے مطابقت رکھنے والے طریقہ کار کے تحت کیا جاتا ہے۔ اس فریم ورک میں چھ عناصر کا جائزہ لیا جاتا ہے، جس میں صورتحال، منصوبہ بندی، وسائل، طریقہ کار، نتائج اور حاصل شدہ اثرات شامل ہیں۔
ہندوستان میں ایم ایم ای کا آغاز 2006 میں ہوا تھا۔ اب تک 2006، 2010، 2014، 2018 اور 2022 میں جائزے کے پانچ دور مکمل کیے جا چکے ہیں، جن میں بالترتیب 28، 39، 43، 50 اور 51 ٹائیگر ریزرو شامل تھے۔ چھٹا دور سابقہ جائزوں کے تجربات کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے، جس میں زمینی شواہد، انتظامی نتائج، ابھرتے ہوئے خطرات، ڈیجیٹل اور جغرافیائی معلومات اور مسلسل بہتری پر مزید توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ایم ای ای –ٹی آر 2026کی ایک اہم نئی خصوصیت ’ٹھوس کچرے کے انتظام‘ کو ایک الگ جائزہ کےمعیار کے طور پر شامل کرنا ہے۔ اس معیار کے تحت ٹائیگر ریزرو میں کچرے کے پائیدار انتظام کے طریقوں پر توجہ مرکوز کی جائے گی ، بالخصوص جنگلاتی چوکیوں ، سیاحتی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والے کچرے اور جنگلی حیات کے ریسکیو مراکز میں پیدا ہونے والے طبی کچرے کا جائزہ لیا جائے گا۔
جائزے میں ٹائیگر ریزرو (شیروں کے مسکن)کے انتظام کے اہم پہلوؤں کو شامل کیا جائے گا، جن میں ٹائیگر اور شکار بننے والے جانوروں کا تحفظ، رہائش گاہوں کا انتظام، تحفظ اور جنگلی حیات سے متعلق جرائم کی روک تھام، جنگلی حیات کی نگرانی اور صحت، آگ اور آفات کا انتظام، انسان اور جنگلی حیات کے درمیان ہم آہنگی، مقامی برادریوں کی شمولیت، سیاحت کا انتظام، ماحولیاتی منظرنامے میں باہمی ربط، انتظامی منصوبہ بندی اور وسائل شامل ہیں۔ یہ جائزہ آزاد کثیر شعبہ جاتی جائزہ ٹیموں کے ذریعے کیا جائے گا اور اس کا مقصد انتظامی امور کی مضبوطی، خامیوں اور بہتری کے متقاضی شعبوں کی نشاندہی کرنا ہوگا، ساتھ ہی انتظامی اقدامات اور وسائل کو ترجیح دینے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرنا ہوگا۔
ورکشاپ کے تکنیکی اجلاسوں میں ایم ای ای-ٹی آر2026، اس کے آغاز اور ارتقا، ایم ایم ای -ٹائیگر ریزرو فریم ورک کے معیارات اور اشاریوں، نیز میدانی دوروں کے لیے عملی طریقہ کار اور انتظامات سے متعلق مختلف پہلوؤں اور معلومات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ افتتاحی اجلاس کے دوران ایم ای ای -2026 کا تکنیکی رہنما کتابچہ بھی جاری کیا گیا، جس میں چھٹے دور کے جائزے کے لیے فریم ورک کو پیش کیا گیا ہے۔
******
ش ح۔ م ع ن-خ م
(U: 4087)
(ریلیز آئی ڈی: 2314893)
وزیٹر کاؤنٹر : 11