ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ماحولیات کے مرکزی وزیر نے نئی دہلی میں جے آئی سی اے  کے اشتراک سے ’’جنگلات کے مؤثر انتظام کی خاطر صلاحیت میں اضافے کے پروجیکٹ‘‘ پر ورکشاپ کا افتتاح کیا


پروجیکٹ میں مقامی علم اور چیلنجوں کی عکاسی کرنے والے خطہ مخصوص صلاحیت سازی کے ماڈیولز پر توجہ مرکوز کی جانی چاہیے؛ جدید سائنسی طریقہ کار اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کی بنیاد پر ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے: جناب بھوپیندریادو

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 25 SEP 2026 10:57AM by PIB Delhi

ماحولیات، جنگلات اور آب وہوا کی تبدیلی (ای ایف سی سی)کے مرکزی وزیر جناب بھوپیندر یادو نے آج نئی دہلی میں متعلقہ وزارت کی جانب سے جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی(جے آئی سی اے) کے اشتراک سے منعقد کی جانے والی ’’جنگلات کے مؤثر انتظام کے لیے صلاحیت میں اضافے کے منصوبے‘‘ پر ورکشاپ کا افتتاح کیا۔ ورکشاپ میں وزارت کے سینئر افسران اور جے آئی سی اے انڈیا کے سینئر نمائندوں نے شرکت کی۔ مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے جنگلات کے محکمے کےنمائندوں، جنگلات کے شعبے سے وابستہ بھارتی تحقیقی اداروں اور مرکزی تربیتی اداروں نے بھی اس میں شرکت کی۔

صلاحیت میں اضافے کا منصوبہ (2025-26 سے 2031-32) بدلتی ہوئی جنگلات اور جنگلی حیات کے انتظام کی ضروریات، موسمیاتی اور ماحولیاتی خدشات میں اضافے اور زمینی سطح پر جنگلاتی عملے کی بڑھتی ہوئی متنوع ذمہ داریوں کے پیش نظر ان کی صلاحیت میں اضافہ کرنے کے مقصد سے شروع کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت تحقیق اور ترقی کو بھی مضبوط بنانے کا تصور پیش کیا گیا ہے، تاکہ علمی معلومات اور تحقیقی نتائج کو بہتر تربیت اور جنگلات کے پائیدار انتظام کے مؤثر طریقوں میں تبدیل کیا جا سکے۔

ورکشاپ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جناب بھوپیندر یادو نے کہا کہ یہ پروجیکٹ جنگلات کے شعبے میں بھارت اور جاپان کے درمیان کئی دہائیوں سے جاری تعاون میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ وزیر موصوف نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور جنگلات پر منحصر برادریوں کے روزگار کے ذرائع کو سہارا دینے میں جنگلات کا اہم رول ہے۔ جناب یادو  نے زمینی سطح پر کام کرنے والے جنگلاتی عملے کی عملی اور انتظامی دونوں پہلوؤں سے صلاحیت مضبوط کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

جنگلات میں لگنے والی آگ کے انتظام کو ایک عالمی چیلنج قرار دیتے ہوئے جناب یادو نے کہا کہ اس پروجیکٹ میں جنگلات کی آگ پر قابو پانے، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور موسمیاتی اقدامات کے شعبوں میں تکنیکی اور زمینی سطح کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کی نمایاں گنجائش موجود ہے۔ وزیر موصوف نے زور دیکر کہا  کہ صلاحیت سازی صرف کلاس روم میں دی جانے والی تربیت تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ جدید ٹیکنالوجیز کے استعمال اور زمینی سطح پر بہترین عملی طریقوں پر توجہ مرکوز ہونی چاہیے، ساتھ ہی مقامی برادریوں کے علم اور تجربے کو بھی اس میں شامل کیا جانا چاہیے۔

وزیر موصوف نے اس بات پرمزید زور دیا کہ مقامی علم اور چیلنجوں کی عکاسی کرنے والے خطہ مخصوص صلاحیت سازی کے ماڈیولز تیار کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے پروجیکٹ کے اہم عناصر کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ان میں عملی تکنیکی حل کے لیے تحقیق و ترقی، زمینی سطح پر اطلاق کے لیے پائلٹ پروجیکٹس، عملی نوعیت کی تربیت فراہم کرنے والے تربیتی اداروں کو مضبوط بنانا اور سارک(ایس اے اے آر سی) سمیت دیگر ترقی پذیر ممالک کے ساتھ بہترین عملی طریقوں کا تبادلہ شامل ہے۔ جناب یادو نے کہا کہ روایتی علم، سائنسی طریقہ کار اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو یکجا کرتے ہوئے ورکشاپ میں ہونے والی بات چیت اور غور و خوض کو زمینی سطح پر ٹھوس اقدامات میں تبدیل کیا جانا چاہیے۔

اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے جے آئی سی اے انڈیا آفس کے سینئر نمائندے جناب ایجی واکاماتسو نے کہا کہ اس پروجیکٹ کا مقصد ایک ایسا پلیٹ فارم تیار کرنا ہے جو بھارتی اور جاپانی تحقیقی اداروں کو ایک ساتھ لائے، تاکہ عالمی چیلنجوں کے حل تیار کیے جا سکیں اور جنگلات کے انتظام، آب وہوا کی تبدیلی اور صلاحیت سازی کے شعبوں میں گلوبل ساؤتھ میں بھارت کی قیادت کو مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ جنگلات کے شعبے میں جے آئی سی اے  کی بھارت کے ساتھ شراکت داری تقریباً تین دہائیوں پر محیط ہے اور اس سے 7 لاکھ سے زیادہ افراد استفادہ کر چکے ہیں۔

جناب واکاماتسو نے بتایا کہ پروجیکٹ کے دوسرے مرحلے میں، جو 2025-26 سے 2031-32 تک جاری رہے گا، لکڑی کی ویلیو ایڈیشن اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے، جنگلات کے بہتر انتظام کے لیے ڈیجیٹل تبدیلی اور مشترکہ علمی تحقیق پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ انہوں نے پائیدار جنگلاتی انتظام اور صلاحیت میں اضافے کے لیے بھارت میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے ساتھ تعاون کو مزید گہرا کرنے کے لیے جے آئی سی اے کے عزم کا اظہار کیا۔

ماحولیات، جنگلات اور آب وہوا کی  تبدیلی کی وزارت (ایم او ای ایف سی سی) کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل (وائلڈ لائف) جناب رمیش پانڈے نے اس سے قبل بتایا تھا کہ اس پروجیکٹ  کی مجموعی لاگت 537.10 کروڑ روپے ہے، جس میں جے آئی سی اے  کی جانب سے 440.42 کروڑ روپے اور حکومت ہند کی جانب سے 96.68 کروڑ روپے شامل ہیں۔ یہ پروجیکٹ  سات برس کی مدت میں، 2025-26 سے 2031-32 تک نافذ کیا جا رہا ہے۔ اس پروجیکٹ میں بھارت کی تمام ریاستیں شامل ہوں گی، جن میں نئی شریک ہونے والی ریاستوں کو ترجیح دی جائے گی، جبکہ ان ریاستوں کو بھی تعاون فراہم کیا جائے گا جو اس سے قبل متعلقہ پروجیکٹ میں شامل تھیں۔

یہ پروجیکٹ جے آئی سی اے  کی معاونت سے پہلے چلائے گئے پروجیکٹ کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے اور اس کا مقصد پائیدار جنگلاتی انتظام اور زمینی سطح پر کام کرنے والے جنگلاتی عملے کی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ اس موقع پر پروجیکٹ کا بروشر بھی جاری کیا گیا، جس میں پروجیکٹ کے اہم مقاصد اور تعاون کے شعبوں کی تفصیلات پیش کی گئی ہیں۔ ورکشاپ کے تکنیکی اجلاس میں مذکورہ وزارت کی جانب سے پروجیکٹ کے مقاصد اور دائرہ کار پر پرزنٹیشن دی گئی، جے آئی سی اے کے نمائندوں نے اس کے تعلق سے اپنے خیالات پیش کیے اور ریاستوں، تحقیقی اداروں اور مرکزی تربیتی اداروں کے ساتھ ایک باہمی تبادلہ خیال کا اجلاس بھی منعقد  کیا گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 (ش ح –ش  م-ع ن)

U. No. 4076


(ریلیز آئی ڈی: 2314827) وزیٹر کاؤنٹر : 6
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी