سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بائیو ای3 کے تحت بائیو پر مبنی ماحول دوست پلاسٹک کی تجارتی لانچنگ کو رسمی شکل دی
بھارت کے متنوع بائیو ماس وسائل فضلے کو سرمائے میں تبدیل کر سکتے ہیں اور حیاتیاتی معیشت کی نئی ویلوی چینز تیار کر سکتےہیں: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
وزیر موصوف نے یہ دکھانے کے لیے کہ گنے کو خوراک کے وسیلے سے پائیدار مواد میں کس طرح تبدیل کیا جا سکتا ہے، ایک وسیع تر عوامی رابطہ کاری مہم کی اپیل کی
پی ایل اے پر مبنی ماحول دوست پلاسٹک آئندہ پیڑھی کی پائیدار مینوفیکچرنگ کی جانب بھارت کے بڑھتے قدم کا اشارہ دیتا ہے
بلرام پور چینی ملز کی جانب سے پی ایل اے اور کو-پالیمرز کے لیے 100 ٹی پی اے پائلٹ پلانٹ کی سہولت کو 75 کروڑ روپے کی بائیو ای تھری گرانٹ کی معاونت
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
24 SEP 2026 5:57PM by PIB Delhi
سائنس اور تکنالوجی، ارضیاتی سائنس کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور وزیر اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، ایٹمی توانائی اور خلاء کے وزیر مملکت، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج پولی لیکٹک ایسڈ (پی ایل اے) پر مبنی حیاتیاتی طور پر زوال پذیر پلاسٹک کے تجارتی استعمال کا باضابطہ آغاز کیا، جو کہ اگلی نسل کی پائیدار مینوفیکچرنگ کی طرف ہندوستان کی منتقلی میں ایک اہم قدم ہے۔
حکومت کے بائیو ای تھری فریم ورک کے تحت بلرام پور چینی ملز لمیٹڈ (بی سی ایم ایل) کی جانب سے آگے بڑھائے جانے والے اس اقدام میں بائیو ٹیکنالوجی، پائیدار مینوفیکچرنگ اور تجارتی تبدیلی کو یکجا کیا گیا ہے۔ محکمہ بائیو ٹیکنالوجی (ڈی بی ٹی) کے تحت بائیو ٹیکنالوجی انڈسٹری ریسرچ اسسٹنس کونسل (بی آئی آر اے سی) کی جانب سے 75 کروڑ روپے کی گرانٹ پی ایل اے اور کو-پالیمرز کے 100 ٹن سالانہ پائلٹ اسکیل آر اینڈ ڈی پلانٹ کی معاونت کر رہی ہے، جس کا مقصد جدید حیاتیاتی مواد تیار کرنا اور انہیں تجارتی پیداوار کی طرف لے جانے میں سہولت فراہم کرنا ہے۔
اس پہل کی رونمائی نئی دہلی میں وزارتِ سائنس اور ٹیکنالوجی کے محکمہ بائیو ٹیکنالوجی میں کی گئی۔ یہ پائلٹ اسکیل سہولت یوپی کے کھمبھی میں بی سی ایم ایل کے انٹیگریٹڈ مینوفیکچرنگ کمپلیکس میں قائم کی جائے گی، جہاں یہ پائیدار مادی ایپلی کیشنز کے لیے پی ایل اے اور کو-پالیمر ٹیکنالوجیز کی ترقی اور ان کے دائرہ کار کو بڑھانے میں معاونت کرے گی۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ یہ پہل قدمی ہندوستان حیاتیاتی معیشت کے سفر میں ایک اہم سنگِ میل کی نمائندگی کرتا ہے، جہاں بائیو ٹیکنالوجی لیبارٹری کی تحقیق سے آگے نکل کر تجارتی مصنوعات، پائیدار مینوفیکچرنگ اور روزگار کی فراہمی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی بائیو اکانومی، جو 2014 میں تقریباً 10 بلین امریکی ڈالر تھی، اب بڑھ کر تقریباً 195 بلین امریکی ڈالر ہو چکی ہے، جو بائیو ٹیکنالوجی پر مبنی اقتصادی سرگرمیوں کے تیز رفتار پھیلاؤ کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگلے مرحلے میں سائنسی صلاحیتوں کو تجارتی طور پر قابلِ عمل مصنوعات اور ٹیکنالوجیز میں تبدیل کرنے پر توجہ مرکوز ہونی چاہیے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ پی ایل اے کی یہ پہل قدمی پائیدار مینوفیکچرنگ کی طرف عالمی منتقلی میں حصہ لینے اور حیاتیاتی وسائل پر مبنی ایک نیا ویلیو چین بنانے کی ہندوستان کی صلاحیت کو مضبوط کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروجیکٹ ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح ماحولیاتی خدشات کو دور کرتے ہوئے اعلیٰ قیمت والا مواد تیار کرنے کے لیے ملکی سائنسی صلاحیتوں کو صنعتی پیداوار سے جوڑا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ پہل قدمی حیاتیاتی معیشت میں ہندوستان کو ایک عالمی لیڈر کے طور پر ابھرنے اور دوسرے ممالک کے لیے عملی حل فراہم کرنے والے کے طور پر اپنا تعاون دے سکتی ہے۔
وزیر موصوف کے خطاب کی ایک بڑی توجہ "کچرے سے دولت" کے نقطہ نظر پر تھی۔ ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ہندوستان کے تنوع کا مطلب ہے کہ مختلف خطے مختلف قسم کے بائیو ماس اور کچرا پیدا کرتے ہیں، جنہیں مفید مصنوعات میں تبدیل کرنے کے لیے مختلف ٹیکنالوجیز اور طریقہ کار کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس لیے خطے کے لحاظ سے مخصوص بائیو ٹیکنالوجی کی صلاحیتیں مقامی طور پر دستیاب وسائل کو دولت میں تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ علاقائی ترقی کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ "کچرا (فضلہ) نامی کوئی چیز نہیں ہوتی،" اور جن مواد کو کچرا سمجھا جاتا ہے ان میں اکثر نمایاں چھپی ہوئی قدر و قیمت ہوتی ہے جسے سائنس اور ٹیکنالوجی کے ذریعے سامنے لایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حیاتیاتی وسائل، ری سائیکلنگ اور بائیو ماس کی تبدیلی کے حوالے سے ہندوستان کا متنوع تجربہ ملک کو ایسے حل تیار کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے جو وسیع تر عالمی مطابقت اور اہمیت کے حامل ہو سکتے ہیں۔
وزیر موصوف نے کہا کہ تحقیق کو تجارتی شکل دینے کا عمل ابتدائی مرحلے میں ہی ہونا چاہیے، جس کے تحت پائلٹ مینوفیکچرنگ، تصدیق، ہنرمند افرادی قوت اور صنعت کی شرکت کے ذریعے ٹیکنالوجیز لیبارٹریوں سے منڈیوں تک منتقل ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پی ایل اے کی یہ سہولت اعلیٰ قیمت والی ایپلی کیشنز کے لیے پالیمر تیار کرنے، ہنرمند اہلکاروں کو تربیت دینے اور تجارتی پیمانے پر مینوفیکچرنگ کے لیے ضروری علم اور تجربہ پیدا کرنے کا ایک پلیٹ فارم بن سکتی ہے۔
یہ 100 ٹن سالانہ پائلٹ اسکیل آر اینڈ ڈی کی سہولت اعلیٰ قیمت والی ایپلی کیشنز کے لیے خصوصی پی ایل اے گریڈز اور جدید پی ایل اے کو-پالیمرز تیار کرنے پر توجہ مرکوز کرے گی۔ یہ تکنیکی-اقتصادی ڈیٹا اور تکنیکی معلومات پیدا کرے گی، مصنوعات کی ترقی اور صارفین کی توثیق میں مدد کرے گی، ٹیکنالوجی کی دیسی ساخت سازی میں سہولت فراہم کرے گی اور تجارتی پیداوار کی طرف بلاتعطل دائرہ کار بڑھانے میں مدد کرے گی۔ یہ سہولت صنعت، تعلیمی اداروں اور تحقیقاتی اداروں کے درمیان باہمی تعاون کو بھی مضبوط کرے گی۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے حیاتیاتی تکنالوجی کو سادہ اور آسان الفاظ میں سمجھانے کے لیے عوامی رسائی کو بڑھانے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ ایسی ٹیکنالوجیز کے بارے میں بات چیت کے دوران یہ دکھایا جانا چاہیے کہ کس طرح گنے جیسے روزمرہ کے زرعی وسائل کو خوراک کے علاوہ دیگر مصنوعات بشمول پائیدار مواد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی کہانیوں سے لوگوں کو بائیو ٹیکنالوجی کی اہمیت کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے، اس کے وسیع تر استعمال کی حوصلہ افزائی ہو سکتی ہے اور دیسی ٹیکنالوجیز کے تجارتی استعمال کو فروغ مل سکتا ہے۔
اس پہل قدمی کو حکومت کے "ووکل فار لوکل اینڈ گلوبل" کے نقطہ نظر سے جوڑتے ہوئے، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ہندوستان کو دیسی تجارتی پیداواری صلاحیتیں پیدا کرنی چاہئیں اور کامیاب ٹیکنالوجیز کو مقامی ترقی سے عالمی منڈیوں تک لے جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بائیو ای تھری فریم ورک ملک کی اقتصادی ترقی، ماحولیاتی پائیداری اور روزگار کے اہداف کو بیک وقت آگے بڑھانے کا ایک بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔
پی ایل اے کی یہ پہل قدمی ہندوستان کی حیاتیاتی مینوفیکچرنگ کے منظر نامے میں ایک اہم تنوع کی علامت بھی ہے۔ بی سی ایم ایل کا تجارتی پی ایل اے وینچر قابلِ تجدید شکر پر مبنی فیڈ اسٹاک کو پی ایل اے اور بائیو پلاسٹک میں تبدیل کرنے پر مبنی ہے، جو زرعی وسائل سے پائیدار مواد کی تیاری کا ایک راستہ فراہم کرتا ہے۔ کمپنی نے اپنے تجارتی پی ایل اے پلانٹ کو صنعتی پیمانے کے بائیو پلاسٹک منصوبے کے طور پر پیش کیا ہے، جبکہ بائیو ای تھری کی معاونت سے قائم یہ پائلٹ سہولت اگلی نسل کے پی ایل اے گریڈز اور کو-پالیمرز کے لیے ایک اختراعی اور تحقیق و ترقی پلیٹ فارم فراہم کرے گی۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈی بی ٹی کے سکریٹری، ڈی جی-بی آر آئی سی اور بی آئی آر اے سی کے چیئرمین ڈاکٹر راجیش سدھیر گوکھلے نے کہا کہ یہ اقدام بائیو ٹیکنالوجی کو لیبارٹری سائنس سے آگے لے جا کر ایک مربوط مینوفیکچرنگ ایکو سسٹم کی طرف منتقل کرتا ہے، جس میں تصدیق شدہ عمل، پائلٹ سہولیات، ہنر مندی اور تجارتی پیمانے پر پیداوار شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروجیکٹ شکر اور دیگر بائیو ماس جیسے حیاتیاتی وسائل کو لیکٹک ایسڈ اور اعلیٰ قیمت والے بائیو پالیمرز میں تبدیل کر کے ایتھنول سے آگے ایک نیا ویلیو چین (پیداواری سلسلہ) بنا سکتا ہے، جبکہ اس کے ساتھ ہی پائیدار ترقی، روزگار اور علاقائی نمو کے مواقع بھی پیدا کر سکتا ہے۔
اس موقع پر ڈی بی ٹی کے سکریٹری، بی آر آئی سی کے ڈائریکٹر جنرل اور بی آئی آر اے سی کے چیئرمین ڈاکٹر راجیش سدھیر گوکھلے؛ ڈاکٹر دھننجے کے تیواری، سائنسدان-ایچ ، ڈی بی ٹی اور مینیجنگ ڈائریکٹر، بی آئی آر اے سی؛ محترمہ ایکتا وشنوئی، جوائنٹ سکریٹری ، ڈی بی ٹی؛ ڈاکٹر کلائیوانی گنیشن ، ڈی بی ٹی؛ ڈاکٹر شلپی گپتا ، بی آئی آر اے سی؛ اور محترمہ اونتیکا سراؤگی، ایگزیکٹو ڈائریکٹر، بلرام پور چینی ملز لمیٹڈ کے علاوہ دیگر معززین موجود تھے۔
بائیو ای تھری کی معاونت سے شروع کیے گئے اس پہل قدمی سے جدید حیاتیاتی مواد کی تیاری اور ان کی تجارتی کاری کو رفتار ملنے، ہندوستان کی ملکی بائیو مینوفیکچرنگ کی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے اور ایک پائیدار، روزگار پیدا کرنے والی اور عالمی سطح پر مسابقتی بائیو اکانومی کے ابھرنے میں مدد ملنے کی امید ہے۔




**********
(ش ح –ا ب ن)
U.No:4047
(ریلیز آئی ڈی: 2314634)
وزیٹر کاؤنٹر : 6