دیہی ترقیات کی وزارت
بھارت نے سری لنکا کے وفد کے ساتھ اراضی ریکارڈ کے ڈیجیٹائزیشن اور جدید کاری کا تجربہ شیئر کیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
23 SEP 2026 3:30PM by PIB Delhi
دیہی ترقی کی وزارت کے اراضی وسائل سے متعلق محکمے نے آج سری لنکا کے سرکاری افسران کے ایک وفد کی میزبانی کی۔ یہ وفد نیشنل سینٹر فار گڈ گورننس کے زیر اہتمام ایک تجرباتی پروگرام کے تحت بھارت کے دورے پر آیا ہے۔ یہ بات چیت اراضی وسائل سے متعلق محکمے کے جوائنٹ سکریٹری جناب پی نراہری کی صدارت میں ہوئی۔ اس دوران اراضی ریکارڈ کو ڈیجیٹل اور جدید بنانے کے بھارت کے تجربے پر توجہ مرکوز کی گئی، جس میں ڈیجیٹل انڈیا لینڈ ریکارڈز ماڈرنائزیشن پروگرام، حقوق اراضی کے ریکارڈز کی کمپیوٹرائزیشن، رجسٹریشن کو اراضی ریکارڈ سے مربوط کرنے اور منفرد اراضی پارسل شناختی نمبر پر خصوصی توجہ دی گئی۔
سری لنکا کے وفد کی قیادت وفد کی ٹیم لیڈر محترمہ پاتھی راگے لکشمن پاتھما کماری نے کی۔ وفد میں نیشنل سینٹر فار گڈ گورننس، ایل بی ایس این اے اے کے کورس کوآرڈینیٹر ڈاکٹر مکیش کے بھنڈاری اور کورس ڈائریکٹر ڈاکٹر اے پی سنگھ کے علاوہ ، سری لنکا کے اراضی، سروے اور انتظامی خدمات سے وابستہ سینئر افسران بھی شامل تھے۔
وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے ، جناب پی نرا ہری نے بھارت اور سری لنکا کے درمیان قریبی تعلقات اور عوامی انتظامیہ کے شعبے میں تجربات کے تبادلے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ زمین محض ایک انتظامی ریکارڈ نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق لوگوں کے روزگار، اقتصادی سرگرمیوں، سرکاری فوائد تک رسائی اور شہریوں کے تحفظ کے احساس سے گہرا ہے۔ بھارت کا تجربہ ٹیکنالوجی کے ذریعے اراضی انتظامیہ کو مسلسل جدید بنانے کا رہا ہے، جب کہ ہماری ریاستوں اور ان کے اراضی نظام میں پائی جانے والی مختلف نوعیت کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔ ہمیں سری لنکا کے اپنے ساتھیوں کے ساتھ یہ تجربات شیئر کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے اور ہم ان کے ادارہ جاتی طریقوں اور اصلاحات سے سیکھنے کے بھی خواہاں ہیں۔ ‘‘
بات چیت کے دوران ، اراضی وسائل سے متعلق محکمے کے ڈائریکٹر (ایل آر) جناب امیت کمار سنگھ نے ڈیجیٹل انڈیا لینڈ ریکارڈز ماڈرنائزیشن پروگرام (ڈی آئی ایل آر ایم پی) کو تقویت دینے والی وسیع تر اصلاحات اور تکنیکی نظام کا جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے روایتی کاغذی ریکارڈ سے مربوط ڈیجیٹل اراضی معلوماتی نظام کی جانب بھارت کی پیش رفت کو اجاگر کیا۔
جناب امیت کمار سنگھ نے کہا کہ ’’ اراضی ریکارڈ میں تبدیلی محض کاغذی ریکارڈ کو ڈیجیٹل شکل دینے تک محدود نہیں ہے۔ اس کا وسیع تر مقصد ، ایک ایسا مربوط اراضی معلوماتی نظام تشکیل دینا ہے، جہاں تحریری ریکارڈ، مقامی معلومات، رجسٹریشن سے متعلق اعداد و شمار اور جغرافیائی ٹیکنالوجیز ایک دوسرے کی تکمیل کریں۔ ‘‘
وفد کے ساتھ ڈی آئی ایل آر ایم پی کی اہم پیش رفت سے متعلق درج ذیل معلومات شیئر کی گئیں:
- حقوق اراضی کے 99.90 فی صد ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کیا جا چکا ہے۔
- 97.43 فی صد کَیڈسٹرل نقشوں کو ڈیجیٹل شکل دی جا چکی ہے اور 76.16 فی صد اراضی پارسلز کی مکمل جغرافیائی نشاندہی کی جا چکی ہے۔
- کَیڈسٹرل نقشوں اور حقوق اراضی کے ریکارڈ کے درمیان 85.24 فی صد مقامی و تحریری معلومات کا انضمام مکمل کیا جا چکا ہے۔
- 40.58 کروڑ سے زیادہ اراضی پارسلز کو 14 ہندسوں پر مشتمل حروف و اعداد کے منفرد بھو - آدھار (یو ایل پی آئی این) تفویض کیے جا چکے ہیں۔
- 98.96 فی صد سب رجسٹرار دفاتر (ایس آر اوز) کو کمپیوٹرائزڈ کیا جا چکا ہے۔
- 17 ریاستیں/مرکز کے زیر انتظام علاقے مرکزی نیشنل جینیرک ڈاکیومنٹ رجسٹریشن سسٹم (این جی ڈی آر ایس) اپنا رہے ہیں، جب کہ 17 ریاستیں اپنی مخصوص ڈیجیٹل رجسٹریشن سافٹ ویئر استعمال کر رہی ہیں۔
- ریونیو کورٹ کیس مینجمنٹ سسٹم (آر سی سی ایم ایس) کے تحت 94.11 فی صد ریونیو عدالتوں کو کمپیوٹرائزڈ کیا جا چکا ہے، جس سے جائیداد کے ریکارڈ پر مقدمات کی حقیقی وقت میں نشان دہی ممکن ہو گئی ہے۔
وفد کو کَیڈسٹرل نقشوں اور حقوق اراضی کے ریکارڈ کو مربوط کرنے کے بارے میں بھی معلومات فراہم کی گئیں، تاکہ ملکیت کی تفصیلات، اراضی پارسل کی حدود اور رقبے سے متعلق معلومات میں یکسانیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
اس بات چیت میں رجسٹریشن کے ذریعے جائیداد کے رجسٹریشن کو اراضی ریکارڈ سے جوڑنے کے عمل کا بھی جائزہ لیا گیا، جس میں کاغذ سے پاک رجسٹریشن اور خودکار منتقلی کی جانب جاری اصلاحات شامل ہیں۔ ابھرتے ہوئے نظام کے تحت رجسٹریشن سے متعلق معلومات متعلقہ محکمہ مال کے افسر کو الیکٹرانک طریقے سے بھیجی جا سکتی ہیں، تاکہ اراضی ریکارڈ کو اپ ڈیٹ کیا جا سکے۔ اس سے تاخیر کم ہونے کے ساتھ ساتھ سرکاری دفاتر کے بار بار چکر لگانے کی ضرورت بھی کم ہوگی۔
وفد کو بھارت لینڈ اسٹیک کے بارے میں بھی تفصیلی معلومات فراہم کی گئیں۔ یہ جی آئی ایس پر مبنی ایک مربوط اور وفاقی نظام ہے، جس میں سیٹلائٹ اور ڈرون سے حاصل تصاویر، جغرافیائی طور پر مربوط کَیڈسٹرل حدود، حقوق اراضی کے ریکارڈ، جائیداد کے رجسٹریشن سے متعلق معلومات، ماسٹر پلان اور زوننگ ضوابط، تعمیراتی منظوریوں، پابندیوں اور مقدمات، سرکل ریٹس اور کرایہ داری کی تفصیلات کو ایک جگہ مربوط کیا گیا ہے۔ اس نظام کا مقصد ، کسی اراضی پارسل سے متعلق اراضی کی تمام معلومات کا ایک مربوط ڈیجیٹل منظر فراہم کرنا ہے۔
دورے پر آئے افسران کو یو ایل پی آئی این یا بھو - آدھار کے بارے میں بھی معلومات فراہم کی گئیں۔ اس نظام کے تحت ، اراضی پارسل کو اس کے جغرافیائی نقاط کی بنیاد پر 14 ہندسوں پر مشتمل حروف و اعداد کی ایک منفرد شناخت دی جاتی ہے۔ یہ نظام اراضی پارسلز کو اراضی سے متعلق دیگر اعداد و شمار کے ساتھ جوڑنے میں سہولت فراہم کرتا ہے اور اراضی پارسل کی تقسیم ہونے کی صورت میں بھی اس کے روابط برقرار رکھتا ہے۔
اراضی وسائل سے متعلق محکمے کے ڈائریکٹر (ایل آر) جناب سروَدا نند برنوال نے نکشا (نیشنل جیو اسپیشل نالج - بیسڈ لینڈ سروے آف اربن ہیبی ٹیشنز) پروگرام کا جامع جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے جدید سروے اور جغرافیائی ٹیکنالوجیز کے ذریعے شہری اراضی ریکارڈ کو جدید بنانے کے لیے پروگرام کے طریقۂ کار کے بارے میں بھی بتایا۔
پیشکش میں نکشا کے مکمل عمل کی تفصیلات پیش کی گئیں، جس میں درج ذیل مراحل شامل ہیں:
- سینٹی میٹر کی سطح تک درست مقامی نشاندہی کے لیے فضائی ڈرونز پر نصب 2 ڈی نادر کیمرے، 5 کیمروں پر مشتمل ترچھے زاویے والے نظام اور لائڈار سینسرز کا استعمال۔
- پیچیدہ شہری علاقوں کے لیے آرتھو ریکٹیفائیڈ امیجری (او آر آئی)، ڈیجیٹل ایلیویشن ماڈلز (ڈی ای ایم) اور 3 ڈی ریئلٹی ماڈلز کی تیاری۔
- آر ٹی کے جی این ایس ایس روور کے ذریعے زمینی حقائق کی تصدیق، شراکتی بنیادوں پر زمینی جانچ اور دعووں و اعتراضات کے شفاف ازالے کا بندوبست ۔
- آزمائشی مرحلے کے تحت 150 میں سے 145 شہری بلدیاتی اداروں (یو ایل بی) میں فضائی سروے مکمل کیا جا چکا ہے اور قانونی طور پر مستند شہری جائیداد کارڈز (ارپرو کارڈز) جاری کرنے کی جانب پیش رفت جاری ہے۔
جناب سروَدا نند برنوال نے کہا کہ ’’ نکشا جدید جغرافیائی ٹیکنالوجیز کے ذریعے شہری اراضی کے بندوبست کو مستحکم کرنے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ قابل اعتماد اور مربوط شہری اراضی ریکارڈ تیار کرکے یہ پروگرام بہتر اراضی بندوبست میں مدد دے سکتا ہے، منصوبہ بندی کو بہتر بنا سکتا ہے اور شہریوں کے لیے زندگی کو مزید آسان بنانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ ‘‘
اس بات چیت کے ذریعے سری لنکا کے وفد کو بڑے پیمانے پر اراضی کے بندوبست سے متعلق اصلاحات کے شعبے میں بھارت کے تجربے سے آگاہ کیا گیا۔ اس میں اراضی ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن، مقامی و تحریری معلومات کا انضمام، ڈیجیٹل رجسٹریشن، منتقلی ، اراضی پارسلز کی جغرافیائی شناخت، ریونیو عدالتوں کا کمپیوٹرائزیشن اور شہری اراضی کی جدید نقشہ سازی شامل ہیں۔
اس تبادلے سے عوامی انتظامیہ کے شعبے میں بین الاقوامی سطح پر تجربات اور معلومات کے تبادلے کی اہمیت اجاگر ہوئی۔ اس کے ساتھ یہ بھی واضح ہوا کہ ڈیجیٹل اور جغرافیائی ٹیکنالوجیز شفاف، مربوط اور شہری - مرکوز اراضی کے بندوبست میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں اور عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنا سکتی ہیں۔




***
) ش ح – م م - ع ا )
U.No. 3969
(ریلیز آئی ڈی: 2313935)
وزیٹر کاؤنٹر : 8