PIB Backgrounder
ہندوستان کے الیکٹرانکس اور سیمی کنڈکٹر کے عزائم کو آگے بڑھانے کے لئے ’پوری صنعت‘ کا نقطہ نظر
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
23 SEP 2026 11:42AM by PIB Delhi
ہندوستان کا الیکٹرانکس اور سیمی کنڈکٹر شعبہ ایک نئے اور اہم دور میں داخل ہو رہا ہے۔ بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری، مینوفیکچرنگ کی صلاحیتوں میں توسیع اور عالمی کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی موجودگی کے ساتھ یہ پورا ماحولیاتی نظام بے مثال رفتار سے ترقی کر رہا ہے۔ صنعت کے پھیلاؤ کے ساتھ صنعت سے وابستہ رہنما انفرادی صلاحیتوں کو اجتماعی قومی استعداد میں تبدیل کرنے کے لیے صنعتی اداروں کے درمیان مزید مضبوط اور مربوط نقطہ نظر کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔
صنعتی رہنماؤں کی جانب سے سامنے آنے والا ایک اہم پیغام یہ ہے کہ ترقی کے اگلے مرحلے کو کسی ایک شعبہ کے ذریعے آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔ سیمی کنڈکٹرز، الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ، پرزہ جات، خام مال، ڈیزائن، پیکیجنگ اور آخری استعمال کی ایپلی کیشنز ایک دوسرے پر پہلے سے کہیں زیادہ منحصر ہو رہے ہیں۔ اس لیے کامیابی کا انحصار صرف تکنیکی صلاحیتوں اور بنیادی ڈھانچے پر نہیں بلکہ صنعت کے باہمی تعاون کی صلاحیت پر بھی ہوگا۔تعاون کا یہی جذبہ سیمی کون انڈیا- 2026 کے دوران منعقدہ پینل مباحثے ’’انڈسٹری ایسوسی ایشنز ایڈوانسنگ انڈیا ڈیز نیشنل ایجنڈا‘‘ کا مرکزی موضوع تھا۔ انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن (آئی ایس ایم) کے چیف ایگزیکٹیو افسر جناب امیتیش کمار سنہا کی زیر صدارت اس اجلاس میں معروف صنعتی انجمنوں کے اعلی نمائندوں نے شرکت کی اور اس بات پر تبادلہ خیال کیا کہ کس طرح باہمی تعاون کو مزید گہرا کرکے ہندوستان کے سیمی کنڈکٹر اور الیکٹرانکس سے متعلق عزائم کو تیز رفتاری سے آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔
مباحثہ میں اس بات پر بڑھتے اتفاق رائے کی عکاسی ہوئی کہ صنعت کو مزید مربوط ’پوری صنعت‘ کے نقطہ نظر کی جانب بڑھنا چاہیے۔ شرکا نے کہا کہ اگرچہ مختلف صنعتی انجمنیں اس ماحولیاتی نظام کے مختلف شعبوں کی نمائندگی کرتی ہیں، لیکن بالآخر ان سب کا مشترکہ مقصد ہندوستان میں عالمی سطح پر مسابقتی الیکٹرانکس اور سیمی کنڈکٹر شعبہ تشکیل دینا ہے۔

مباحثے کے دوران بار بار یہ بات سامنے آئی کہ ٹیکنالوجی کے مختلف شعبوں کے درمیان باہمی انضمام تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ آج چپس کی اہمیت صرف انفرادی طور پر نہیں بلکہ آلات، مصنوعات اور نظاموں میں ان کے انضمام سے پیدا ہوتی ہے۔ چپ سازی میں پیش رفت معاون خام مال اور آلات پر منحصر ہے، جبکہ مینوفیکچرنگ کے لیے پیکیجنگ، جانچ اور الیکٹرانکس کی وسیع تر صلاحیتیں ضروری ہیں۔ صنعت کی یہ باہم مربوط نوعیت پوری ویلیو چین میں مضبوط روابط اور زیادہ منظم باہمی تعاون کا تقاضا کرتی ہے۔مباحثے کا ایک اور اہم موضوع انفرادی کانفرنسوں اور تقریبات سے آگے مسلسل رابطے کو برقرار رکھنے کی ضرورت تھی۔ صنعتی رہنماؤں نے ایک ایسے مستقل کمیونٹی میکانزم کے قیام کے تصور پر غور کیا جو مسلسل بات چیت کو فروغ دے، صنعتی انجمنوں کے درمیان تال میل کو آسان بنائے اور قومی اہمیت کے معاملات پر اجتماعی اقدامات کو آگے بڑھانے میں مدد کرے۔
یہ تجویز موجودہ صنعتی انجمنوں کے خصوصی کردار کو ختم کرنے سے متعلق نہیں ہے۔ اس کے بجائے، اس کا مقصد ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے، جہاں وہ ایسے معاملات پر باہمی تعاون کر سکیں جو مختلف شعبوں اور ویلیو چینز سے متعلق ہوں۔ جیسے جیسے ہندوستان کے عزائم مینوفیکچرنگ یونٹس کے قیام سے آگے بڑھ کر ایک جامع سیمی کنڈکٹر ماحولیاتی نظام کی تشکیل کی جانب بڑھ رہے ہیں، ویسے ویسے اس طرح کے ادارہ جاتی تعاون کو ایک اہم اسٹریٹجک ضرورت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
مباحثے میں وسیع تر ’’سلیکان سے سسٹمز تک‘‘ کے ویژن کو تقویت دی گئی، جس میں ڈیزائن، مینوفیکچرنگ، پیکیجنگ، الیکٹرانکس اور ٹیکنالوجی کے حل باہم مل کر ایک مضبوط اور زیادہ مستحکم ماحولیاتی نظام تشکیل دیتے ہیں۔ ہندوستان اپنے سیمی کنڈکٹر سے متعلق عزائم کو آگے بڑھا رہا ہے، ایسے میں صنعتی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ترقی کے اگلے مرحلے کی تشکیل میں سرمایہ کاری اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کی طرح باہمی تعاون بھی اتنا ہی اہم ثابت ہو سکتا ہے۔
اس رفتار کو مزید تقویت دیتے ہوئے، سیمی کون انڈیا -2026 میں 600 سے زیادہ نمائش کنندگان نے شرکت کی، جن میں تقریباً 300 بین الاقوامی کمپنیاں شامل تھیں۔ ان کمپنیوں نے ہندوستان کے سیمی کنڈکٹر اور الیکٹرانکس ماحولیاتی نظام میں بڑھتی ہوئی عالمی دلچسپی کو اجاگر کیا۔ تقریب کے دوران مینوفیکچرنگ، ڈیزائن، پیکیجنگ، مصنوعی ذہانت، تحقیق و ترقی، لاجسٹکس اور ہنرمندی کے فروغ سمیت مختلف شعبوں میں 56 مفاہمت ناموں، اسٹریٹجک اقدامات اور صنعتی اعلانات کا بھی مشاہدہ کیا گیا۔

حکومت کی حمایت بھی اس تبدیلی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ پروڈکشن لنکڈ انسینٹیو (پی ایل آئی) اسکیموں اور انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن جیسے اقدامات کے ذریعے گھریلو صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور ایک مستحکم مینوفیکچرنگ ماحولیاتی نظام تشکیل دینے کی کوششیں جاری ہیں۔ حکومت نے سیمی کون انڈیا پروگرام کے تحت 12 سیمی کنڈکٹر منصوبوں کو منظوری دی ہے، جبکہ ستمبر 2026 تک پانچ تجارتی سیمی کنڈکٹر یونٹس پہلے ہی کام شروع کر چکے ہیں۔
مجموعی طور پر یہ پیش رفت ایک وسیع تر حقیقت کو اجاگر کرتی ہے: ہندوستان کی سیمی کنڈکٹر کی کہانی اب صرف کارخانے قائم کرنے تک محدود نہیں رہی ہے۔ اب اس کا دائرہ مختلف صنعتوں، اداروں اور ٹیکنالوجیز کے درمیان روابط قائم کرنے تک پھیل رہا ہے، جہاں تعاون ہندوستان میں الیکٹرانکس اور سیمی کنڈکٹر شعبہ کی ترقی کے اگلے مرحلے کی بنیاد کے طور پر ابھر رہا ہے۔
Click to see pdf
***
ش ح – ظ الف – م ش
UR No. 3951
(ریلیز آئی ڈی: 2313767)
وزیٹر کاؤنٹر : 8