PIB Backgrounder
آئی ایم ای آئی میں چھیڑ چھاڑ
ڈجیٹل خودمختاری کے لیے خطرہ
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
23 SEP 2026 10:15AM by PIB Delhi
ہندوستان کا بڑھتا ہوا ڈجیٹل ماحولیاتی نظام اور محفوظ آلات کی ضرورت
ہندوستان کی تیز رفتار ڈجیٹل تبدیلی نے ٹیلی مواصلات کو روزمرہ زندگی، تجارت اور حکمرانی کا لازمی حصہ بنا دیا ہے۔ ملک میں فعال وائرلیس موبائل صارفین کی تعداد جولائی 2026 میں 1204.01 ملین تک پہنچ گئی۔ صارفین کی یہ وسیع تعداد ہندوستان کے مربوط ڈجیٹل ماحولیاتی نظام کے حجم کی عکاسی کرتی ہے۔ موبائل نیٹ ورک اور آلات تیزی سے ڈجیٹل ادائیگیوں، آن لائن خدمات اور شہریوں پر مرکوز حکمرانی کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ ان ٹیکنالوجیز پر انحصار بڑھنے کے ساتھ ٹیلی مواصلاتی نیٹ ورکس اور آلات کی سلامتی اور سالمیت کو یقینی بنانا بھی زیادہ اہم ہوتا جا رہا ہے۔
اس پھیلتے ہوئے ڈجیٹل ماحولیاتی نظام کے ساتھ سلامتی سے متعلق نئے چیلنجز بھی سامنے آ رہے ہیں۔ ایسا ہی ایک مسئلہ بین الاقوامی موبائل آلات شناختی نمبر (آئی ایم ای آئی) کا غلط استعمال ہے۔ آئی ایم ای آئی نمبروں میں چھیڑ چھاڑ یا ان کے غلط استعمال سے تبدیل شدہ شناخت رکھنے والے آلات کے استعمال میں سہولت پیدا ہو سکتی ہے اور ٹیلی مواصلاتی نیٹ ورکس پر آلات کی شناخت کا عمل پیچیدہ ہو سکتا ہے۔ اس طرح کے طریقے قانون نافذ کرنے والے اداروں، صارفین کے تحفظ اور نیٹ ورک کی سلامتی کے لیے چیلنج پیدا کر سکتے ہیں۔ لہٰذا ایک محفوظ، قابل اعتماد اور مضبوط ٹیلی مواصلاتی ماحولیاتی نظام کو برقرار رکھنے کے لیے آلات کی شناخت سے متعلق نمبروں کی سالمیت کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔
|
آئی ایم ای آئی میں غیر قانونی چھیڑ چھاڑ کیا ہے؟
اگر کوئی شخص:
- جان بوجھ کر موبائل ڈیوائس کے منفرد شناختی نمبر کو ہٹاتا، مٹاتا، تبدیل کرتا یا اس میں رد و بدل کرتا ہے؛ یا
- جان بوجھ کر ایسے ہارڈ ویئر یا سافٹ ویئر کا استعمال، تیاری، کاروبار، نقل و حمل، کنٹرول یا تحویل کرتا یا اسے اپنے قبضہ میں رکھتا ہے، جبکہ اسے معلوم ہو کہ اسے مذکورہ بالا طریقے سے ترتیب دیا گیا ہے،تو یہ عمل غیر قانونی تصور کیا جائے گا۔
|
آئی ایم ای آئی کو سمجھنا
- آئی ایم ای آئی کیا ہے؟ آئی ایم ای آئی ایک منفرد 15 ہندسوں کا نمبر ہے جو ٹیلی مواصلاتی نیٹ ورک پر موبائل ڈیوائس کی شناخت کرتا ہے۔
- ٹی اے سی سے کیا مراد ہے؟ آئی ایم ای آئی کے پہلے آٹھ ہندسے ٹائپ ایلوکیشن کوڈ (ٹی اے سی) پر مشتمل ہوتے ہیں، جو موبائل ڈیوائس کے ماڈل یا قسم کی شناخت کرتے ہیں۔
- آئی ایم ای آئی نمبر کون مختص کرتا ہے؟ گلوبل سسٹم فار موبائل کمیونیکیشنز ایسوسی ایشن (جی ایس ایم اے) ٹی اے سی کی عالمی سطح پر تخصیص کی نگرانی کرتی ہے۔
- آئی ایم ای آئی کیسے مختص کیے جاتے ہیں؟ جی ایس ایم اے مینوفیکچررز اور برانڈ مالکان کو ٹی اے سی مختص کرتی ہے۔ اس کے بعد مینوفیکچررز ہر ڈیوائس کے لیے منفرد آئی ایم ای آئی نمبر مختص کرتے ہیں۔
- ڈوئل سم فون میں کتنے آئی ایم ای آئی نمبر ہوتے ہیں؟ عام طور پر ڈوئل سم فون میں دو آئی ایم ای آئی نمبر ہوتے ہیں، ہر سم سلاٹ کے لیے ایک۔
- صارفین اپنا آئی ایم ای آئی کیسے معلوم کر سکتے ہیں؟ صارفین اپنے موبائل ڈیوائس پر *#06# ڈائل کرکے آئی ایم ای آئی نمبر دیکھ سکتے ہیں۔
- صارفین آئی ایم ای آئی کی تصدیق کیسے کر سکتے ہیں؟ صارفین سنچار ساتھی پورٹل یا موبائل ایپ پر جا کر، یا KYM <15 ہندسوں کا آئی ایم ای آئی نمبر> لکھ کر 14422 پر ایس ایم ایس بھیج کر ڈیوائس کی تفصیلات کی تصدیق کر سکتے ہیں۔

ہر فرد کی سلامتی کے حوالے سے جواب دہی
ایک محفوظ ٹیلی مواصلاتی نظام کے لیے ضروری ہے کہ آلہ تیار کرنے سے لیکر روزمرہ استعمال تک، اس کے پورے دور میں ہر سطح پر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جائے۔ مینوفیکچررز، درآمد کنندگان، فروخت کنندگان اور شہری، سبھی آئی ایم ای آئی کے غلط استعمال کی روک تھام میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
- مینوفیکچررز کے لیے ضروری ہے کہ ہندوستان میں تیار کیے جانے والے تمام متعلقہ ٹیلی مواصلاتی آلات کے آئی ایم ای آئی نمبرز کی حکومت کے پاس پہلی بار فروخت، جانچ، تحقیق یا کسی دوسرے استعمال سے پہلے رجسٹریشن کرائیں۔ رجسٹریشن ڈیوائس سیٹو–انڈین کاؤنٹر فیٹیڈ ڈیوائس ریسٹرکشن (آئی سی ڈی آر) پورٹل کے ذریعے کی جاتی ہے۔ مینوفیکچررز کو یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ آلات میں درست، منفرد اور غیر تبدیل شدہ آئی ایم ای آئی نمبرز درج ہوں۔
- درآمد کنندگان کے لیے ضروری ہے کہ ہندوستان میں متعلقہ ٹیلی مواصلاتی آلات درآمد کرنے سے پہلے آئی ایم ای آئی نمبرز کی مرکزی حکومت کے پاس رجسٹریشن کرائیں۔ فروخت، جانچ، تحقیق و ترقی یا دیگر مقاصد کے لیے درآمد کیے جانے والے آلات کی رجسٹریشن ڈیوائس سیٹو–آئی سی ڈی آر پورٹل کے ذریعے مکمل کی جانی چاہیے۔ درآمد کنندگان کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ درآمد شدہ آلات میں درست اور مجاز آئی ایم ای آئی نمبرز موجود ہوں۔
- دوبارہ فروخت کرنے والوں اور خوردہ فروشوں کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ فروخت کے لیے پیش کیے جانے والے ٹیلی مواصلاتی آلات میں درست اور غیر تبدیل شدہ آئی ایم ای آئی نمبرز موجود ہوں۔ استعمال شدہ آلات کا کاروبار کرنے والوں کو لین دین مکمل کرنے سے پہلے حکومت کے پاس موجود تبدیل شدہ اور بلیک لسٹ کیے گئے آلات کے مرکزی ڈیٹا بیس سے آئی ایم ای آئی کی تصدیق کرنی چاہیے، جس کے لیے ہر آئی ایم ای آئی کی تصدیق پر مقررہ فیس ادا کرنا ہوگی۔ تبدیل شدہ یا قابل تغیر آئی ایم ای آئی والے آلات فروخت کرنے یا ان کا کاروبار کرنے پر سخت قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
- برانڈ مالکان کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ان کے برانڈ کے تحت فروخت کیے جانے والے آلات متعلقہ آئی ایم ای آئی رجسٹریشن اور سائبر سکیورٹی کے تقاضوں پر پورے اترتے ہوں۔ ان کے برانڈز کی مناسب رجسٹریشن ڈیوائس سیٹو–آئی سی ڈی آر پورٹل کے ذریعے متعلقہ جی ایس ایم اے ٹائپ ایلوکیشن کوڈ (ٹی اے سی) سے منسلک کرتے ہوئے کی جانی چاہیے۔ انہیں یہ یقینی بنانا چاہیے کہ مارکیٹ میں پیش کیے جانے والے آلات میں مستند اور مجاز آئی ایم ای آئی نمبرز موجود ہوں۔
کیا چیزیں استعمال کرنے سے شہری گریز کریں
محکمہ ٹیلی مواصلات (ڈی او ٹی) نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ایسی سرگرمیوں سے گریز کریں جن میں ٹیلی مواصلاتی شناختی نمبروں اور وسائل میں چھیڑ چھاڑ یا ان کا غلط استعمال شامل ہو:
- ایسے موڈیم، ماڈیول، سم باکس یا دیگر آلات کا استعمال، حصول یا جوڑ کر تیار کرنا جن میں آئی ایم ای آئی کو تبدیل کرنے یا اپنی مرضی کے مطابق ترتیب دینے کی سہولت ہو یا جن کے آئی ایم ای آئی میں چھیڑ چھاڑ کی گئی ہو۔
- جعلی دستاویزات، دھوکہ دہی، فریب یا کسی اور شخص کی شناخت ظاہر کرکے سم کارڈ حاصل کرنا۔
- اپنے نام پر حاصل کیے گئے سم کارڈ دوسروں کو منتقل کرنا، فروخت کرنا یا حوالے کرنا، جن کا وہ غلط استعمال کر سکتے ہیں۔
- کالنگ لائن آئیڈینٹی (سی ایل آئی) یا دیگر ٹیلی مواصلاتی شناختی نمبروں میں تبدیلی کے لیے موبائل ایپلی کیشنز، ویب سائٹس یا کسی بھی دوسرے ذریعے کا استعمال کرنا۔
|
سنجار ساتھی پلیٹ فارم
شہری اپنے موبائل ہینڈ سیٹس کی تصدیق اور انہیں محفوظ بنانے کے لیے سنجار ساتھی پلیٹ فارم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ یہ پلیٹ فارم صارفین کو کسی آلے کی آئی ایم ای آئی تفصیلات، جس میں برانڈ، ماڈل اور مینوفیکچرر کی تصدیق کی سہولت فراہم کرتا ہے، جس سے آلے کی اصلیت اور سلامتی کو مضبوط بنانے میں مدد ملتی ہے۔ سنجار ساتھی ایپ کے بارے میں مزید معلومات حاصل کریں۔

|
شہریوں کو کیا کرنا چاہیے
صارفین کو اپنے آلات کی حفاظت کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ان کے آئی ایم ای آئی نمبرز اصلی اور محفوظ رہیں۔
- موبائل آلات صرف مجاز فروخت کنندگان سے خریدیں اور آئی ایم ای آئی کی تفصیلات کی تصدیق کریں۔
- ہینڈ سیٹ کو محفوظ رکھنے کے لیے مضبوط پاس ورڈ، پن یا بایومیٹرک تصدیق کا استعمال کریں۔
- آلات کی مرمت صرف مجاز سروس مراکز سے کرائیں تاکہ آئی ایم ای آئی میں چھیڑ چھاڑ یا دیگر بدنیتی پر مبنی سرگرمی کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔
- آلہ گم یا چوری ہونے کی صورت میں اسے بلاک کرانے کے لیے سرکاری طریق کار پر عمل کریں:
- فوری طور پر مقامی پولیس میں رپورٹ درج کرائیں اور شکایت کی ایک نقل اپنے پاس محفوظ رکھیں۔
- اپنے ٹیلی کام آپریٹر سے گم شدہ موبائل نمبر کے لیے ڈپلیکیٹ سم کارڈ حاصل کریں (ٹی آر اے آئی کے ضوابط کے تحت دوبارہ جاری کیے گئے سم کارڈ کے فعال ہونے کے بعد پہلے 24 گھنٹوں تک ایس ایم ایس خدمات محدود رہتی ہیں۔ چونکہ سنچار ساتھی پر موبائل او ٹی پی کے ذریعے تصدیق ضروری ہے، اس لیے درخواست جمع کرانے کے لیے سم کے فعال ہونے کے 24 گھنٹے بعد تک انتظار کرنا ہوگا)۔
- سنچار ساتھی (سی ای آئی آر) پورٹل یا موبائل ایپ پر بلاک کرنے کی درخواست درج کریں اور پولیس رپورٹ اور درست شناختی ثبوت اپ لوڈ کریں۔ اس کے بعد آپ کو ایک منفرد درخواست آئی ڈی موصول ہوگی۔
- اگر بعد میں آپ کا آلہ مل جائے تو پہلے مقامی پولیس کو اس کی اطلاع دیں، اس کے بعد پورٹل پر اپنی درخواست آئی ڈی استعمال کرکے ہینڈ سیٹ کو محفوظ طریقے سے ان بلاک کریں۔
آلے کی سلامتی برقرار رکھنا پورے ٹیلی مواصلاتی نظام کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ بیداری، ضابطوں کی پابندی اور ذمہ دارانہ استعمال دھوکہ دہی کی روک تھام، شہریوں کے تحفظ اور بھارت کے ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کی سلامتی مضبوط بنانے میں مزید مدد کر سکتے ہیں۔
آئی ایم ای آئی میں چھیڑ چھاڑ کے خلاف قانونی تحفظ[1]&[2]
ہندوستان نے ٹیلی مواصلاتی نظام کی سالمیت کے تحفظ کے لیے ایک مضبوط قانونی ڈھانچہ قائم کیا ہے۔
- ٹیلی مواصلات ایکٹ- 2023 میں ٹیلی مواصلاتی شناختی نمبروں جس میں موبائل ہینڈ سیٹس اور دیگر ٹیلی مواصلاتی آلات کے آئی ایم ای آئی نمبر میں چھیڑ چھاڑ کے خلاف سخت کارروائی کی گنجائش فراہم کی گئی ہے۔
- دفعہ 42(سی)(3) ٹیلی مواصلاتی شناختی نمبروں میں چھیڑ چھاڑ کی ممانعت کرتی ہے۔ دفعہ 42(ای)(3) دھوکہ دہی، فریب یا کسی دوسرے شخص کی شناخت ظاہر کرکے سبسکرائبر آئیڈینٹی ماڈیولز (سم) یا ٹیلی مواصلاتی شناختی نمبر حاصل کرنے کی ممانعت کرتی ہے۔
- خلاف ورزی پر تین سال تک قید، 50 لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں کی سزا ہو سکتی ہے۔ ایکٹ کی دفعہ 42(7) کے تحت ایسے جرائم قابل دست اندازی پولیس اور ناقابل ضمانت ہیں۔
- دفعہ 42(6) کے تحت ایسے جرائم کے ارتکاب میں مدد دینے یا ان کی حوصلہ افزائی کرنے والے افراد بھی اسی سزا کے مستحق ہوں گے۔
یہ دفعات آئی ایم ای آئی میں چھیڑ چھاڑ اور ٹیلی مواصلاتی وسائل کے غلط استعمال کے خلاف ایک مضبوط روک تھام فراہم کرتی ہیں۔
ہندوستان کے ڈجیٹل مستقبل کا تحفظ
ہندوستان کے ٹیلی مواصلاتی سفر میں نمایاں پیش رفت کے ساتھ مشترکہ ذمہ داری بھی شامل ہے۔ مضبوط قوانین، تصدیقی ذرائع اور شہریوں میں بیداری مل کر اس نظام کو محفوظ اور قابل اعتماد بناتے ہیں۔ حکومت، صنعت اور انفرادی صارفین سمیت ہر متعلقہ فریق کا اس اعتماد کو برقرار رکھنے میں اپنا کردار ہے۔ چوکس اور باخبر شہری، غلط استعمال کے خلاف سب سے مضبوط دفاع ہیں۔ مسلسل تعاون سے ہندوستان کی ڈجیٹل رابطہ کاری آنے والی نسلوں تک محفوظ رکھی جا سکے گی۔
حوالہ جات:
Ministry of Communications
· https://www.pib.gov.in/PressReleaseDetail.aspx?PRID=2305203®=3&lang=1
· https://www.ceir.gov.in/Home/index.jsp
· https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2190763®=48&lang=2
· https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2190763®=48&lang=2
· https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2190763®=48&lang=2
· https://www.eservices.dot.gov.in/sites/default/files/circular-notifications/cybersecurity-rules-2024.pdf
· https://www.eservices.dot.gov.in/sites/default/files/circular-notifications/telecom-cyber-security-amendment-rules-2025.pdf
· https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2193461&lang=2®=3&utm_source
· https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1598008&lang=2®=3&utm_source
Telecom Regulatory Authority of India
· www.trai.gov.in/sites/default/files/2026-08/PR_No116of2026_0.pdf
Click to see pdf
***
ش ح – ظ الف – م ش
UR No. 3949
(ریلیز آئی ڈی: 2313756)
وزیٹر کاؤنٹر : 6