مواصلات اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت
محکمۂ ٹیلی مواصلات کی جانب سے بنگلورو میں ٹیلی کام مینوفیکچرنگ زون کے لیے تیسری سرمایہ کار گول میز کانفرنس کا انعقاد، سرمایہ کاری، جدت اور ملکی مینوفیکچرنگ پر زور
مرکزی وزیر مواصلات جناب جیوتی رادتیہ سندھیا اور مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے بنگلورو میں سرمایہ کاروں کی گول میز کانفرنس کی صدارت کی
‘‘24 کمپنیاں پہلے ہی اس منصوبے کا حصہ بن چکی ہیں اور گوالیار ٹیلی کام مینوفیکچرنگ زون میں 5,500 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی تجویز پیش کر چکی ہیں’’: مرکزی وزیر جناب جیوتی رادتیہ سندھیا
صنعتی شعبے کے ساتھ مشاورت کا مقصد ملک میں ٹیلی کام آلات کی تیاری اور جدت پر مبنی مضبوط صنعتی نظام کو فروغ دینا ہے؛ گوالیار ٹیلی کام مینوفیکچرنگ زون کے لیے بنگلورو میں منعقدہ سرمایہ کار روڈ شو میں تقریباً 700 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کے عزم کا اظہارکیا گیا
بھارت کے پہلے مربوط ٹیلی کام مینوفیکچرنگ زون(ٹی ایم زیڈ) کا قیام وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے‘آتم نربھر بھارت’ اور ‘میک اِن انڈیا’ کے وژن سے ہم آہنگ ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
22 SEP 2026 9:45PM by PIB Delhi
محکمۂ ٹیلی مواصلات(ڈی او ٹی) نے آج بنگلورو میں سرمایہ کاروں کی تیسری گول میز کانفرنس منعقد کی، جس کا مقصد ٹیکنالوجی، ٹیلی کام، سیمی کنڈکٹر اور الیکٹرانکس کے شعبوں سے وابستہ اہم صنعتی نمائندوں کے ساتھ بھارت میں سرمایہ کاری کے مواقع پر تبادلۂ خیال کرنا تھا۔ یہ مواقع مدھیہ پردیش کے گوالیار میں قائم کیے جانے والے بھارت کے پہلے مربوط ٹیلی کام مینوفیکچرنگ زون(ٹی ایم زیڈ) سے متعلق ہیں۔
مرکزی وزیر مواصلات اور شمال مشرقی خطے کی ترقی کے وزیرجناب جیوتی رادتیہ ایم. سندھیا اور مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی زیر صدارت منعقدہ اس گول میز کانفرنس میں صنعت کے سرکردہ نمائندوں اور ممکنہ سرمایہ کاروں نے شرکت کی۔ کانفرنس میں ملک میں ٹیلی کام آلات کی تیاری کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے، مصنوعات میں مقامی قدر میں اضافہ کرنے، تحقیق و ترقی کو فروغ دینے، جدت طرازی کی حوصلہ افزائی، برآمدات میں معاونت اور عالمی سطح پر مسابقت کی صلاحیت رکھنے والے ٹیلی کام و الیکٹرانکس کے مضبوط صنعتی نظام کی تشکیل پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔
اس موقع پر جناب جیوتی رادتیہ ایم. سندھیا نے کہا:‘‘ٹیلی کام مینوفیکچرنگ زون عملی طور پر تعاون پر مبنی وفاقیت کی ایک بہترین مثال ہے۔ مرکزی حکومت اور مدھیہ پردیش حکومت مل کر کام کر رہی ہیں، جبکہ ریاستی حکومت تقریباً 8,000 کروڑ روپے کے مراعاتی پیکیج اور سبسڈی فراہم کرنے کے انتظامات کر رہی ہے۔ باہمی تعاون پر مبنی یہی طرزِ عمل نجی شعبے میں سرمایہ کاری، جدت طرازی اور کاروبار کو وسعت دینے کے حوالے سے اعتماد پیدا کرتا ہے۔’’
مرکزی وزیر نے مزید کہا:‘‘بھارت اب فیصلہ کن طور پر خدمات پر مبنی معیشت سے مصنوعات پر مبنی معیشت کی جانب بڑھ رہا ہے۔ ٹیلی کام کے شعبے میں ہماری تین ترجیحات بالکل واضح ہیں: ملک میں مصنوعات کی مقامی قدر میں اضافہ کرنا، بھارت میں دانشورانہ املاک پیدا کرنا، اور بھارت میں ڈیزائن و تیار کی جانے والی مصنوعات کو دنیا کے ہر خطے تک پہنچانا۔ ہم نے دیکھا ہے کہ سیمی کنڈکٹرز سے لے کر ہوا بازی تک مختلف شعبوں میں بھارت کے ‘آتم نربھر بھارت’ کے سفر نے رفتار پکڑی ہے۔ اب ٹیلی کام اگلا اہم میدان ہے۔
وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے ’میک اِن انڈیا، میک فار انڈیا اور میک فار دی ورلڈ‘ کے وژن کے تحت اب ہمیں ‘ڈیزائن اِن انڈیا’ پر بھی توجہ دینی ہوگی اور ایسی مصنوعات تیار کرنا ہوں گی جو عالمی سطح پر مسابقت کر سکیں۔’’
مرکزی وزیر نے مزید کہا:‘‘آج بنگلورو میں منعقدہ روڈ شو کے ساتھ سرمایہ کاروں سے رابطے کی ہماری مہم کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیا ہے اور تقریباً 24 کمپنیاں پہلے ہی اس کا حصہ بن چکی ہیں۔ ہمارا عزم بالکل واضح ہے: اگر کسی سرمایہ کار کو ٹیلی کام مینوفیکچرنگ زون (ٹی ایم زیڈ) سے متعلق کوئی سوال درپیش ہو یا کسی مسئلے کا سامنا ہو تو ہم اسے 48 گھنٹوں کے اندر حل کرنے کی کوشش کریں گے۔ ہم چاہتے ہیں کہ گوالیار محض مینوفیکچرنگ کا مرکز نہ رہے بلکہ ایسا مقام بنے جہاں صنعت کو یہ اعتماد ہو کہ حکومت ایک ذمہ دار اور فوری طور پر تعاون کرنے والے شراکت دار کے طور پر اس کے ساتھ کھڑی ہے۔’’
مدھیہ پردیش کے وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا:‘‘مدھیہ پردیش مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے ایک مضبوط مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔ ریاست کا محلِ وقوع اور بنیادی ڈھانچہ اس کی بے پناہ صلاحیتوں کو مزید تقویت دیتا ہے۔ ہم صنعتوں کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے پُرعزم ہیں، خصوصاً ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی اور ٹیلی کام کے شعبوں میں۔ مجھے یقین ہے کہ یہ شراکت داری نئی سرمایہ کاری کو فروغ دے گی، روزگار کے مواقع پیدا کرے گی اور بھارت کو عالمی اقتصادی رہنما بنانے کے سفر میں اہم کردار ادا کرے گی۔’’
بنگلورو میں منعقدہ سرمایہ کاروں کی گول میز کانفرنس، ٹیلی کام مینوفیکچرنگ زون کے منصوبے کے آغاز کے بعد محکمۂ ٹیلی مواصلات کی جانب سے سرمایہ کاروں تک مسلسل رسائی اور رابطے کی مہم کا حصہ تھی۔
30 جولائی 2026 کو محکمۂ ٹیلی مواصلات اور حکومتِ مدھیہ پردیش نے نئی دہلی میں بھارت کے پہلے ٹیلی کام مینوفیکچرنگ زون کے قیام کے لیے مفاہمت نامے(ایم او یو) پر دستخط کیے۔ اس منصوبے کا پہلا مرحلہ گوالیار میں قائم کیا جائے گا۔
مفاہمت نامے کے تحت ٹیلی کام اور الیکٹرانکس کی تیاری، تحقیق و ترقی، جدت طرازی اور دیگر متعلقہ سرگرمیوں کے لیے مربوط بنیادی ڈھانچے سے آراستہ ایک ’پلگ اینڈ پلے‘ صنعتی کلسٹر قائم کیا جائے گا، جہاں صنعتیں ضروری سہولیات کے ساتھ فوری طور پر اپنا کام شروع کر سکیں گی۔
مرکزی حکومت پہلے مرحلے کے لیے 493 کروڑ روپے کی 100 فیصد مالی معاونت فراہم کر رہی ہے، جبکہ حکومتِ مدھیہ پردیش نے سرمایہ کاروں کے لیے مراعات کے ساتھ تقریباً 170 ایکڑ اراضی مفت فراہم کی ہے۔
اس کے بعد نئی دہلی اور ممبئی میں سرمایہ کاروں کی دو گول میز کانفرنسیں منعقد کی گئیں، جہاں صنعت نے 5,500 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کے عزم کا اظہار کیا۔ ٹیلی کام مینوفیکچرنگ زون کے تحت اس سرمایہ کاری سے تقریباً 18,000 روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔
تیسری سرمایہ کار گول میز کانفرنس میں ٹیلی کام مینوفیکچرنگ زون (ٹی ایم زیڈ) کے منصوبے میں سرمایہ کاروں کی گہری دلچسپی سامنے آئی۔ متعدد سرمایہ کاروں نے اپنی انتظامیہ کی جانب سے حتمی منظوری کے بعد 700 کروڑ سے 800 کروڑ روپے تک کی سرمایہ کاری کی تجاویز پیش کیں۔ کئی کمپنیوں نے سرمایہ کاری کے امکانات پر مثبت ردِعمل کا اظہار کیا اور منصوبے کا جائزہ لینے کے لیے موقع پر جا کر معائنہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ٹیلی کام مینوفیکچرنگ زون کا منصوبہ ‘آتم نربھر بھارت’ اور ‘میک اِن انڈیا، میک فار دی ورلڈ’کے وژن سے ہم آہنگ ہے۔ اس کا مقصد ٹیلی کام اور الیکٹرانکس کے شعبوں میں سرمایہ کاری، مینوفیکچرنگ، جدت طرازی اور روزگار کے مواقع کو فروغ دینا ہے۔
سرمایہ کاروں کی گول میز کانفرنس سے قبل مرکزی وزیر نے بنگلورو میں ٹیلی کام اور ٹیکنالوجی کے شعبے کی معروف کمپنی کوالکوم کا دورہ کیا۔ اس موقع پر مرکزی وزیر نے کمپنی کی اعلیٰ قیادت اور سینئر نمائندوں سے ملاقات کی اور ٹیلی کام ٹیکنالوجی میں ہونے والی پیش رفت، سیمی کنڈکٹر کے شعبے میں صلاحیتوں، مقامی سطح پر مصنوعات کی تیاری، تحقیق و جدت طرازی اور بھارت کے ٹیلی کام مینوفیکچرنگ ایکو سسٹم میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کی مزید مؤثر شمولیت کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا۔
اس صنعتی دورے کے ذریعے صنعت کی ضروریات کو بہتر طور پر سمجھنے اور ٹیلی کام آلات، سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی، مصنوعات کے ڈیزائن، تحقیق و ترقی اور نئی نسل کی مواصلاتی ٹیکنالوجیز سمیت مختلف شعبوں میں حکومت اور صنعت کے درمیان مزید مضبوط تعاون کے امکانات تلاش کرنے کا موقع ملا۔
گوالیار ٹیلی کام مینوفیکچرنگ زون(ٹی ایم زیڈ) کے بارے میں
گوالیار میں مجوزہ ٹیلی کام مینوفیکچرنگ زون(ٹی ایم زیڈ) کو ٹیلی کام مصنوعات کی تیاری، تحقیق و ترقی اور جدت طرازی کے لیے ایک مربوط ‘پلگ اینڈ پلے’ صنعتی کلسٹر کے طور پر قائم کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس میں موبائل آلات، آپٹیکل فائبر، ٹیلی کام آلات اور نئی نسل کی 5جی/ 6جی ٹیکنالوجیز سمیت مختلف شعبے شامل ہوں گے۔
حال ہی میں دستخط کیے گئے مفاہمت نامے(ایم او یو) کے تحت مرکزی حکومت پہلے مرحلے کے لیے 493 کروڑ روپے کی 100 فیصد مالی معاونت فراہم کر رہی ہے، جبکہ حکومتِ مدھیہ پردیش نے سرمایہ کاروں کے لیے مختلف مراعات کے ساتھ تقریباً 170 ایکڑ اراضی مفت فراہم کی ہے۔
اس مقصد کے لیے ایک مخصوص مقصد کے لیے قائم خصوصی ادارہ (ایس پی وی) بھی قائم کیا گیا ہے، جس میں 51 فیصد حصص حکومتِ مدھیہ پردیش اور 49 فیصد حصص محکمۂ ٹیلی مواصلات کے پاس ہوں گے۔
********
ش ح۔ ع ح۔ج ا
U-3944
(ریلیز آئی ڈی: 2313745)
وزیٹر کاؤنٹر : 5