سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

یورپی پارلیمنٹ کے وفد کی  مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ سے ملاقات


بھارت-یورپی یونین آزادانہ تجارتی معاہدے پر موثر عمل درآمد اور سائنس، ٹیکنالوجی و ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں مزید گہرے تعاون پر تبادلہ خیال

بھارت-یورپی یونین شراکت داری سے مصنوعی ذہانت، کوانٹم ٹیکنالوجیز، سیمی کنڈکٹرز اور جدید تحقیق کے شعبوں میں تعاون کے نئے راستے کھل رہے ہیں: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

مرکزی وزیر نے آب و ہوا، ماحولیات کے لیے سازگار اور گرین ٹیکنالوجیز اور گرین ہائیڈروجن کے شعبوں میں بھارت-یورپی یونین تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا

بھارت نے تجارتی و ٹیکنالوجی کونسل کے ذریعے ٹھوس نتائج اور ہورائزن یورپ کے ذریعے مزید وسیع تحقیقی تعاون پر زور دیا

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع بھارت-یورپی یونین کی توسیع پذیر اسٹریٹجک شراکت داری کے اہم ستون بدستور بنے رہیں گے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 22 SEP 2026 4:14PM by PIB Delhi

صنعت، تحقیق و توانائی سے متعلق یورپی پارلیمنٹ کی کمیٹی (آئی ٹی آر ای) کے وفد نے، جس کی قیادت اینجلیکا ونزگ اور آسٹریا سے تعلق رکھنے والے رافائیلے اسٹینکانیلی کر رہے تھے، آج سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور وزیر مملکت برائے وزیر اعظم دفتر، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، جوہری توانائی اور خلاء، ڈاکٹر جتیندر سنگھ سے ملاقات کی اور مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ بات چیت میں بھارت-یورپی یونین آزادانہ تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) پر موثر عمل درآمد اور سائنس، ٹیکنالوجی، تحقیق اور اہم و ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں یورپی یونین کے ساتھ مزید گہرے تعاون پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی۔

وزیر موصوف نے کہا کہ بھارت-یورپی یونین کی اسٹریٹجک شراکت داری باہمی ترجیح کے حامل شعبوں میں قریبی تعاون کے لیے اہم مواقع فراہم کرتی ہے اور سائنس و تحقیق اس شراکت داری کا لازمی حصہ ہیں۔

یورپی پارلیمنٹ کے وفد میں آئی ٹی آر ای کے رکن اینجلیکا ونزگ، آسٹریا؛ یورپی پارلیمنٹ کے رکن رافائیلے اسٹینکانیلی؛ آئی ٹی آر ای کے مکمل رکن اور یورپی پارلیمنٹ کے رکن محمد چہیم، نیدرلینڈز، ایس اینڈ ڈی کے نائب صدر؛ آئی ٹی آر ای کے مکمل رکن اور یورپی پارلیمنٹ کے رکن راؤل دے لا ہوز کوئنٹانو، اسپین؛ آئی ٹی آر ای کے مکمل رکن اور یورپی پارلیمنٹ کے رکن نکولاس گونزالیز کاساریس، اسپین؛ آئی ٹی آر ای کے مکمل رکن اور یورپی پارلیمنٹ کے رکن مورٹن لوکیگارڈ، ڈنمارک؛ آئی ٹی آر ای کے مکمل رکن اور یورپی پارلیمنٹ کے رکن جوری راتاس، ایسٹونیا؛ اور آئی ٹی آر ای کے مکمل رکن اور یورپی پارلیمنٹ کے رکن ورجینیوس سنکیویچیئس، لتھوانیا شامل تھے۔

مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ کی قیادت میں بھارتی وفد میں محکمہ خلاء کے ڈاکٹر راجیو جیسوال؛ محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی کی ڈاکٹر نیشا میندیرتا اور ڈاکٹر پروین کمار سومسندرم؛ محکمہ بایوٹیکنالوجی کے ڈاکٹر دھننجے تیواری؛ سائنسی و صنعتی تحقیق کی کونسل (سی ایس آئی آر) کے ڈاکٹر پربھاسس بندیوپادھیائے؛ محکمہ جوہری توانائی کے ڈاکٹر انیل چوہان؛ محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی کی ڈاکٹر ایکتا کپور اور وزارت خارجہ کی محترمہ ندھی چودھری شامل تھیں۔

وفد کی جانب سے بات کرتے ہوئے آسٹریا سے تعلق رکھنے والی یورپی پارلیمنٹ کی رکن اور آئی ٹی آر ای کی مکمل رکن اینجلیکا ونزگ نے ملاقات کے لیے ڈاکٹر جتیندر سنگھ  کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ بھارت یورپی یونین کا ایک اہم اسٹریٹجک شراکت دار ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفد کے دورے کا مقصد بھارت کی صنعتی اور ٹیکنالوجی پالیسیوں کو بہتر طور پر سمجھنا اور مزید قریبی تعاون کے شعبوں کی نشاندہی کرنا ہے۔ انہوں نے صنعتی مسابقت کو مضبوط بنانے، اہم اشیا کی محفوظ اور مضبوط سپلائی چین کو یقینی بنانے اور ماحولیات کے لیے سازگار و ڈیجیٹل منتقلی کو آگے بڑھانے کے حوالے سے مشترکہ مفادات کا ذکر کیا اور ان امور پر بھارت اور یورپی پارلیمنٹ کے درمیان مسلسل مذاکرات کا خیرمقدم کیا۔

مذاکرات کے دوران ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ بھارت-یورپی یونین آزادانہ تجارتی معاہدے پر جلد اور موثر عمل درآمد کو اجتماعی ترجیح برقرار رہنا چاہیے۔ انہوں نے اس معاہدے پر جلد دستخط اور توثیق کے لیے یورپی پارلیمنٹ کی جانب سے مسلسل تعاون کی بھارت کی امید  کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ آزادانہ تجارتی معاہدہ کاروباری اداروں، صارفین اور ہنرمند پیشہ ور افراد کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گا اور بھارت-یورپی یونین کی کثیر جہتی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید تقویت فراہم کرے گا۔

بھارت کی تحقیق اور اختراع سے متعلق ترجیحات کے سلسلے میں وزیر موصوف  نے کہا کہ تحقیق اور اختراع حکومت کے ‘‘وکست بھارت 2047’’ کے وژن کا مرکزی حصہ ہیں۔ اس کے تحت زیادہ اثر انگیز تحقیق، تحقیق کو ٹیکنالوجی اور مصنوعات میں تبدیل کرنے اور صنعت کی بڑھتی ہوئی شمولیت پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے انوسندھان نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن (اے این آر ایف) اور 10 ارب یورو کی ریسرچ، ڈیولپمنٹ اینڈ انوویشن (آر ڈی آئی) پہل کا ذکر کیا، جس کا مقصد زیادہ خطرات اور زیادہ اثرات والی تحقیق کو فروغ دینا اور ڈیپ ٹیک اسٹارٹ اپس کو پروان  چڑھانا ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے مصنوعی ذہانت، کوانٹم ٹیکنالوجیز، جدید مواد، بایوٹیکنالوجی اور سیمی کنڈکٹرز سمیت جدید اور ابھرتے ہوئے شعبوں کے علاوہ ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ اور اگلی نسل کی ٹیلی کمیونیکیشن ٹیکنالوجیز، بشمول 6 جی، میں بھارت-یورپی یونین کے درمیان مزید تعاون پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ کوانٹم ٹیکنالوجیز کے شعبے میں تحقیق، عملی اطلاق، ہنرمندی اور وسیع تر کوانٹم ایکو سسٹم کی ترقی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بھارت خاص طور پر صحت اور سائنس جیسے شعبوں میں اس کے استعمال میں دلچسپی رکھتا ہے، جبکہ اس کے ذمہ دارانہ اور قابل اعتماد استعمال کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔

سیمی کنڈکٹرز کے حوالے سے وزیر موصوف نے کہا کہ بھارت کے بڑھتے ہوئے سیمی کنڈکٹر اور الیکٹرانکس ایکو سسٹم اور محفوظ و مضبوط سیمی کنڈکٹر سپلائی چین کے لیے یورپی یونین کی کوششوں سے باہمی تعاون کے مزید امکانات پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحقیق، اختراع، سرمایہ کاری اور ایکو سسٹم کی ترقی سمیت مختلف شعبوں میں بھارت کے سیمی کنڈکٹر اقدامات اور یورپی یونین کے چپس فریم ورک کے درمیان ہم آہنگی کے امکانات پر غور کیا جا سکتا ہے۔

وزیر موصوف  نے صاف اور سبز ٹیکنالوجیز، آب و ہوا اور ماحولیاتی چیلنجز سے متعلق شعبوں میں بھی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا اور انہیں تحقیق کے شعبے میں باہمی تعاون کے اہم شعبے قرار دیا۔ بھارت-یورپی یونین تجارتی و ٹیکنالوجی کونسل (ٹی ٹی سی) کے تحت صاف اور سبز ٹیکنالوجی سے متعلق ترجیحی شعبوں میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ اس میں چار سال کے دوران 60 ملین یورو کی مشترکہ سرمایہ کاری بھی شامل ہے، جس کا مقصد کچرے سے ہائیڈروجن کی تیاری، سمندری آلودگی اور الیکٹرک گاڑیوں کی بیٹریوں کی ری سائیکلنگ کے شعبوں میں مشترکہ تحقیق کو فروغ دینا ہے۔

مذاکرات میں الیکٹرک گاڑیوں کی چارجنگ ٹیکنالوجیز اور ٹیسٹنگ سے متعلق مجوزہ بھارت-یورپی یونین انوویشن ہب پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسے ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے جو دونوں فریقوں کی تحقیقی صلاحیت، ٹیسٹنگ انفراسٹرکچر، معیارات سے متعلق مہارت اور اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کو ایک جگہ لائے گا۔ بھارت اور یورپی یونین ہائیڈروجن ویلیز کے حوالے سے بھی معلومات اور تجربات کا تبادلہ کر رہے ہیں اور ہائیڈروجن سے متعلق حفاظتی معیارات کے شعبے میں تعاون کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ گرین ہائیڈروجن کے شعبے میں تعاون کے امکانات تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافے میں بھی معاون ثابت ہو سکتے ہیں، جس میں درمیانی مدت کے دوران بھارت سے یورپی یونین کو گرین ہائیڈروجن کی برآمد بھی شامل ہے۔

ہورائزن یورپ پروگرام کے حوالے سے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ اس پروگرام کے ساتھ بھارت کی وابستگی سے بھارتی تحقیق کاروں کے لیے باہمی ترجیح کے حامل جدید ترین تحقیقی شعبوں میں یورپی اداروں کے ساتھ شراکت داری کے مواقع میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی وابستگی سے متعلق مذاکرات میں اچھی پیش رفت ہو رہی ہے اور بیشتر امور پر نمایاں ہم آہنگی پائی جاتی ہے، تاہم بعض قانونی، مالی اور ادارہ جاتی امور پر بات چیت جاری ہے۔ بھارت مذاکرات کو جلد مکمل کرنے کے لیے پرعزم ہے اور ایسے انتظام کا منتظر ہے جو متوازن، باہمی طور پر مفید ہو اور تحقیق کاروں، اداروں اور صنعت کے لیے مواقع میں اضافہ کرے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آئی ٹی آر ای کے وفدسے  ان شعبوں کی نشاندہی کرنے کی گزارش کی جہاں بھارتی اور یورپی تحقیقی و اختراعی ترجیحات میں ہم آہنگی پیدا ہو سکتی ہے، بالخصوص ایسے شعبے جہاں تعاون کے نتیجے میں مشترکہ تحقیق، ٹیکنالوجی کی ترقی اور اسے بڑے پیمانے پر عملی شکل دینے کے مواقع پیدا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت یورپ کو ایک اہم تحقیقی شراکت دار کے طور پر دیکھتا ہے، کیونکہ وہاں مضبوط تحقیقی ادارے، جدید تحقیقی بنیادی ڈھانچہ اور اختراع کا وسیع ایکو سسٹم موجود ہے۔

اس میٹنگ  میں بھارت کی تحقیقی ترجیحات، اہم اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، بھارت-یورپی یونین تجارتی و ٹیکنالوجی کونسل کے نفاذ اور اس کے بعد کی پیش رفت، نیز ہورائزن یورپ کے ساتھ بھارت کی وابستگی کی موجودہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس سے سائنس، ٹیکنالوجی، اختراع اور ماحولیات کے لیے سازگار  ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں مزید تعاون کے وسیع امکانات کو تقویت ملی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image001_20260922161549_cb344e.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image002_20260922161602_16d635.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image003_20260922161614_e826c7.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image004_20260922161627_0c7575.jpg

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ش ح۔ک ح۔ ر ب۔

U-3921

                          


(ریلیز آئی ڈی: 2313532) وزیٹر کاؤنٹر : 6
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Gujarati