کوئلے کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

2014 سے سی سی ایل میں تبدیلی: کوئلہ پیداوار میں اضافے سے لیکرجدید کان کنی، پائیدار ترسیل اور جامع ترقی تک کااہم  سفر


سنٹرل کول فیلڈز لمیٹڈ کا سفر پیداوار کی صلاحیت میں توسیع،مشین کاری، ریل رابطے، ٹیکنالوجی کے استعمال، قابل تجدید توانائی، مالی استحکام اور کمیونٹی کی ترقی میں ایک دہائی کی پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 22 SEP 2026 12:52PM by PIB Delhi

ہندوستان کے کوئلہ شعبے میں 2014 سے اب تک پالیسی اصلاحات، منصوبوں کی منظوری کے عمل میں بہتری، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، ٹیکنالوجی کے استعمال، مشین کاری میں اضافے اور کارکردگی و توانائی کے تحفظ پر زیادہ توجہ کے نتیجے میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ جھارکھنڈ کے کوئلہ علاقوں میں کام کرنے والی کول انڈیا لمیٹڈ کی ذیلی کمپنی سنٹرل کول فیلڈز لمیٹڈ (سی سی ایل) اس تبدیلی کی ایک اہم مثال بن کر ابھری ہے۔

سی سی ایل میں عملی تبدیلی کا پیمانہ سب سے واضح طور پر اس کی کوئلہ پیداوار سے ظاہر ہوتا ہے۔ مالی سال 2013-14 میں 50.0 ملین ٹن (ایم ٹی) سے سی سی ایل نے اپنی پیداوار بڑھا کر مالی سال 2024-25 میں 87.5 ملین ٹن (ایم ٹی) کر دی، جو کمپنی کی تاریخ میں اب تک کی سب سے زیادہ پیداوار ہے۔ اس طرح 2013-14 سے اب تک کے عرصے میں سی سی ایل نے اپنی پیداوار میں تقریباً 75 فیصد اضافہ کیا ہے۔ سی سی ایل میں تبدیلی کی ایک اہم خصوصیت نئی اور توسیعی منصوبوں کے ذریعے کان کنی کی اضافی صلاحیت پیدا کرنا رہی ہے۔ اس عرصے کے دوران امرپالی (35 ایم ٹی وائی)، مگدھ (51 ایم ٹی وائی)، چندرگپت او سی پی (15 ایم ٹی وائی) اور کوترے بسنت پور پچمو (5 ایم ٹی وائی) جیسی بڑی کانیں تیار کی گئی ہیں۔ کارو، کونار اور نارتھ اُوریماری وغیرہ جیسی موجودہ کانوں کی صلاحیت میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ مزید کئی نئی کانیں اور توسیعی منصوبے زیر عمل ہیں، جن سے آنے والے برسوں میں سی سی ایل کی پیداواری صلاحیت میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

اضافی پیدا شدہ کوئلے کو پائیدار اور موثر ذرائع سے صارفین تک پہنچانا ایک اور بڑا چیلنج رہا ہے۔ اسی لیے سی سی ایل میں تبدیلی کو کوئلے کی نکاسی اور ترسیل کے نظام میں بھی واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہ زیادہ پیداوار کے لیے موثر نکاسی کا بنیادی ڈھانچہ بھی ضروری ہے، کمپنی نے مرحلہ وار ریل رابطے، کوئلہ ہینڈلنگ پلانٹس (سی ایچ پیز)، سائلوز، تیز رفتار لوڈنگ نظام اور فرسٹ مائل کنیکٹیویٹی (ایف ایم سی) منصوبوں میں سرمایہ کاری کی ہے۔

شمالی کرن پورہ کوئلہ علاقوں کے لیے انتہائی اہم ریلوے رابطوں میں شامل ٹوری-شیوپور ریل کوریڈور کو مرحلہ وار مضبوط کیا گیا ہے۔ تین لائنوں پر مشتمل اس ریلوے کوریڈور میں ہر سال تقریباً 100 ملین ٹن کوئلہ منتقل کرنے کی صلاحیت ہے۔ کوئلے کی نقل و حمل کو مزید پائیدار اور موثر بنانے کے لیے سی سی ایل کوئلہ ہینڈلنگ پلانٹس اور فرسٹ مائل کنیکٹیویٹی منصوبے قائم کر رہی ہے۔ 7.5 ایم ٹی وائی نارتھ اوریماری کوئلہ ہینڈلنگ پلانٹ پہلے ہی شروع کیا جا چکا ہے۔ زیر تعمیر بڑے کوئلہ ہینڈلنگ پلانٹس کے منصوبوں میں کونار (5 ایم ٹی وائی)، کے ڈی ایچ-پورنادیہ (7.5 ایم ٹی وائی)، امرپالی (25 ایم ٹی وائی)، کارو (7 ایم ٹی وائی) اور مگدھ (51 ایم ٹی وائی) شامل ہیں۔ ان نظاموں کا مقصد سڑک کے ذریعے کوئلہ منتقل کرنے پر انحصار کم کرنا، لوڈنگ کی کارکردگی بہتر بنانا اور کوئلے کی براہ راست ریل کے ذریعے نکاسی کو آسان بنانا ہے۔

کوکنگ کوئلہ ہندوستان کے فولاد کے شعبے کے لیے انتہائی اہم ہے، جو اب بھی بڑی حد تک درآمدات پر منحصر ہے۔ درآمدات کے متبادل کی اسٹریٹجک اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے، سی سی ایل نے معیاری ملکی دھلے ہوئے کوکنگ کوئلے کی دستیابی بڑھانے پر خاص توجہ دی ہے، جس سے زرمبادلہ کی بچت میں بھی تعاون ہو رہا ہے۔ کمپنی مجموعی طور پر 14.50 ملین ٹن سالانہ (ایم ٹی وائی) صلاحیت کی پانچ نئی کوکنگ کوئلہ واشریاں قائم کر رہی ہے۔ ان پروجیکٹوں کو آگے بڑھانے میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔

سی سی ایل اپنی سرگرمیوں کی نگرانی اور انتظام کے طریقوں میں تبدیلی لانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کو بھی اپنا رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے ہوئے استعمال کے مطابق، کمپنی نے اپنے کمانڈ علاقوں میں تحفظ، نگرانی اور عملی سرگرمیوں کی موثر نگرانی کو مضبوط بنانے کے لیے اے آئی سے لیس انٹیگریٹڈ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر (آئی سی سی سی) قائم کیا ہے۔ یہ مرکز حقیقی وقت میں نگرانی اور زیادہ موثر فیصلہ سازی میں سہولت فراہم کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجیوں کو یکجا کرتا ہے۔

سی سی ایل کی تبدیلی کا ایک اور اہم پہلو قابل تجدید توانائی اور توانائی کے تحفظ پر بڑھتی ہوئی توجہ ہے۔ سی سی ایل کے پاس اس وقت 32 میگاواٹ سے زیادہ کی نصب شدہ شمسی توانائی کی صلاحیت ہے، جس میں مجموعی طور پر 29 میگاواٹ صلاحیت کے تین زمین پر نصب شمسی توانائی پروجیکٹ شامل ہیں۔ گریڈیہ ضلع میں بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم (بی ای ایس ایس) کے ساتھ 100 میگاواٹ کا ایک بڑا شمسی توانائی پروجیکٹ بھی زیر تکمیل ہے۔ ان اقدامات سے کمپنی کے توانائی کے مجموعی ذرائع میں قابل تجدید توانائی کا حصہ بڑھے گا، اخراج میں کمی آئے گی اور نیٹ زیرو کے وسیع تر عزم کو پورا کرنے میں مدد ملے گی۔

سی سی ایل جدید اور ماحول دوست ٹیکنالوجیوں کو اپناتے ہوئے کان کنی کو بھی زیادہ پائیدار بنا رہی ہے۔ کمپنی نے سرفیس مائنرز اور کنٹینیوس مائنرز جیسی دھماکہ خیز مواد سے پاک ٹیکنالوجیوں کے ساتھ ساتھ اووربرڈن ڈمپس کی سائنسی بحالی، بارش کے پانی کو محفوظ کرنے، شجرکاری اور کانوں کی بحالی کے اقدامات اپنائے ہیں۔ 2014 سے پہلے سرفیس مائنرز اور کنٹینیوس مائنرز کے ذریعے پیداوار صفر تھی، جو اب بڑھ کر تقریباً 70 فیصد ہو گئی ہے۔ سی سی ایل مقامی برادریوں کے فائدے کے لیے کانوں کے اضافی پانی کا بھی استعمال کر رہی ہے، جس کے ذریعے کان کنی سے حاصل ہونے والے ایک وسیلے کو برادری کی ترقی کے ایک اہم ذریعہ میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔

سی سی ایل میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ اس کی مالی پوزیشن بھی نمایاں طور پر مضبوط ہوئی ہے۔ مالی سال 2017-18 میں ٹیکس کے بعد منافع (پی اے ٹی) 808 کروڑ روپے تھا، جو مالی سال 2024-25 میں بڑھ کر 4,035 کروڑ روپے ہوگیا، جبکہ اسی مدت کے دوران خالص مالیت 3,816 کروڑ روپے سے بڑھ کر 16,464 کروڑ روپے ہوگئی۔

سی سی ایل کی تبدیلی کا سماجی پہلو اس کی کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (سی ایس آر) کی سرگرمیوں سے بھی نمایاں طور پر سامنے آتا ہے۔ سی ایس آر کے تحت ہونے والے اخراجات کا دائرہ کار بنیادی طور پر بنیادی ڈھانچے، پینے کے پانی، صحت خدمات اور تعلیم پر مرکوز پروگراموں سے بڑھ کر ایسے بڑے اور طویل مدتی اقدامات تک پہنچ گیا ہے، جن کا مقصد پائیدار سماجی اثاثے اور مواقع پیدا کرنا ہے۔ مالی سال 2025-26 میں سی سی ایل نے تقریباً 74 کروڑ روپے کے سی ایس آر ہدف کے مقابلے میں تقریباً 86 کروڑ روپے کے مجموعی سی ایس آر اخراجات کی اطلاع دی۔

سی سی ایل کے منفرد سی ایس آر اقدامات میں ’سی سی ایل کے لال اینڈ سی سی ایل کی لاڈلی‘ نمایاں ہے۔ اس اہم پروگرام کے تحت کم مراعات یافتہ طبقات سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت طلبہ کو مفت رہائشی تعلیم اور انجینئرنگ داخلہ وامتحان کی تیاری کے لیے کوچنگ فراہم کی جاتی ہے، جس کے لیے ہر سال 40 طلبہ، جن میں 20 لڑکے اور 20 لڑکیاں شامل ہیں، کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ اس پروگرام نے دیہی اور کان کنی سے متاثرہ برادریوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو آئی آئی ٹی، این آئی ٹی اور دیگر معروف انجینئرنگ اداروں جیسے اعلی تعلیمی اداروں میں اعلی تعلیم حاصل کرنے کے قابل بنایا ہے۔

اسی طرح رانچی  کے کھیل گاؤں میں قائم کھیل اکادمی، جو سی سی ایل اور جھارکھنڈ حکومت کے درمیان شراکت داری کے تحت قائم کی گئی ہے، ایک اور اہم پہل کے طور پر ابھری ہے۔ 34ویں قومی کھیلوں کے لیے تیار کیے گئے بنیادی ڈھانچے کو استعمال کرتے ہوئے قائم کی گئی اس اکادمی کا انتظام جھارکھنڈ اسٹیٹ اسپورٹس پروموشن سوسائٹی کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران اس اکادمی نے نوجوان کھلاڑیوں کو کھیلوں کے ساتھ ساتھ تعلیم اور زندگی کی مہارتوں کے لیے معاونت فراہم کرتے ہوئے تربیت اور ترقی کے منظم مواقع فراہم کیے ہیں۔ اس اکادمی کے کھلاڑی قومی اور بین الاقوامی سطح پر تمغے حاصل کر رہے ہیں۔ اس پہل کو دو مرتبہ نیشنل سی ایس آر ایوارڈ سے بھی نوازا جا چکا ہے۔

آج سی سی ایل محض کوئلہ پیدا کرنے والی ایک تنظیم نہیں رہی ہے۔ 2014 سے اس میں آنے والی تبدیلی زیادہ پیداوار، بہتر پیداواری صلاحیت، کان کنی کی توسیع شدہ صلاحیت، مشینی طریقے سے کوئلے کی نکاسی، مضبوط ریل رابطے، قابل تجدید توانائی کے استعمال، بہتر ماحولیاتی انتظام، مالی مضبوطی اور سماجی ترقی میں وسیع تر کردار کی جانب منتقلی کی عکاسی کرتی ہے۔

سی سی ایل کا اہم سفر یہ ظاہر کرتا ہے کہ کسی کوئلہ کمپنی میں تبدیلی کو محض ملین ٹن پیداوار کی بنیاد پر نہیں ناپا جا سکتا۔ تقریباً 50 ملین ٹن سے بڑھ کر 87.5 ملین ٹن تک پہنچنے والی پیداوار اس سفر کا صرف ایک حصہ ہے۔ اس سے کہیں بڑی تبدیلی نئی کان کنی کی صلاحیت پیدا کرنے، جدید نکاسی و ترسیل کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، کوئلہ ہینڈلنگ پلانٹس اور ریل نظام کو مربوط کرنے، قابل تجدید توانائی اپنانے، پیداواری صلاحیت اور ماحولیاتی انتظام کو بہتر بنانے اور ’سی سی ایل کے لال اینڈ سی سی ایل کی لاڈلی‘ اور کھیل گاؤں اسپورٹس اکیڈمی جیسی پہلوں کے ذریعے برادریوں میں سرمایہ کاری کرنے میں نظر آتی ہے۔

جیسے جیسے ہندوستان اقتصادی ترقی اور ماحولیاتی ذمہ داری کے ساتھ توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہا ہے، 2014 سے سی سی ایل کا تجربہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح ایک روایتی کان کنی ادارہ بتدریج خود کو ایک جدید، ٹیکنالوجی سے لیس، بنیادی ڈھانچے پر مبنی اور سماجی ذمہ داری کے تئیں حساس تنظیم میں تبدیل کر سکتا ہے، جبکہ ملک کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں اپنا اہم کردار بھی مسلسل ادا کرتا رہا ہے۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 (ش ح ۔م م ع ۔ع ن)

U. No. 3903


(ریلیز آئی ڈی: 2313366) وزیٹر کاؤنٹر : 9
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी