سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ’سوَچھ ساگر سُرکشت ساگر 5صفر‘ میں بڑے پیمانے پر عوامی شرکت کی ستائش کی ؛ 15 لاکھ افراد نے سمندر کے تحفظ کا عہد کیا؛ 13 ریاستوں اور مرکزی زیرِ انتظام علاقوں میں 231 مقامات پر ساحلی صفائی مہم چلائی گئی

مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے شہر پر مبنی سائنسی کلسٹرز (مراکز) کے قیام، بہتر باہمی اشتراک اور بھارت کی سائنسی کامیابیوں کو عوام تک وسیع پیمانے پر پہنچانے پر زور دیا

وزیرموصوف  نے سائنسی کامیابیوں کو عوام کے مزید قریب لانے کے لیے سائنس کی وزارتوں اور محکموں کے درمیان بہتر باہمی تعاون اور ہم آہنگی کا مطالبہ کیا

’وگیان کی بات‘ (سائنس کی بات) عوام اور سائنس کے درمیان تعلق کو مزید گہرا کرے گی؛ 26 ستمبر کو ہونے والا اس کا دوسرا ایڈیشن بنیادی طبعی علوم اور کوانٹم ٹیکنالوجی پر مرکوز ہوگا

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے سائنسی کامیابیوں کی ڈیجیٹل لائبریری، سی ایس آئی آر@85 اور ای ایس ٹی آئی سی -2026 کی تیاریوں کا جائزہ لیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 21 SEP 2026 5:55PM by PIB Delhi

سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیات  سائنسز کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور وزیر اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات و پنشن، جوہری توانائی اور خلائی امور کے وزیر مملکت، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج سائنس کی وزارتوں اور محکموں کے درمیان مضبوط رابطہ کاری، شہر پر مبنی سائنسی کلسٹرز کی ترقی اور بھارت کی سائنسی کامیابیوں کو عوام تک وسیع پیمانے پر پہنچانے کا مطالبہ کیا۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے حال ہی میں اختتام پذیر ہونے والی مہم ’’سوَچھ ساگر سُرکشت ساگر صفر  5‘‘اور اس مہم کے دوران عوامی شرکت کے پیمانے کا بھی جائزہ لیا۔ 12 سے 19 ستمبر 2026 تک چلنے والی اس ساحلی صفائی مہم کا دائرہ کار 13 ریاستوں/مرکزی زیرِ انتظام علاقوں کے 231 مقامات تک پھیلا ہوا تھا، جس میں 15 لاکھ افراد نے سمندر کے تحفظ کا عہد کیا۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ کی صدارت میں منعقدہ سائنسی وزارتوں/محکموں کے ماہانہ جائزہ اجلاس میں حکومتِ ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر پروفیسر اجے کمار سود؛ سیکریٹری، محکمہ بائیو ٹیکنالوجی، ڈاکٹر راجیش گوکھلے؛ سیکریٹری، محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی، پروفیسر امیش وی واگھمارے؛ سیکریٹری، محکمہ سائنسی و صنعتی تحقیق، پروفیسر این کلائی سیلوی؛ سیکریٹری، وزارتِ ارتھ سائنسز، ڈاکٹر ٹی سری نواسا کمار نے شرکت کی۔ اور ’انسندھان نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن‘کے سی ای او ڈاکٹر شیوکمار کلیانارمن، نیز متعلقہ وزارتوں، محکموں اور سائنسی اداروں کے اعلیٰ حکام موجود تھے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کے سائنسی اداروں کو زیادہ باہمی ہم آہنگی اور نمایاں انداز میں کام کرنا چاہیے، جس میں شہروں پر مبنی سائنسی کلسٹرز متعلقہ شعبوں میں کام کرنے والے اداروں اور اسٹیک ہولڈرز کو اکٹھا کرنے میں مدد کریں۔ انہوں نے نئی اور مؤثر سائنسی کامیابیوں کی مسلسل نشاندہی اور انہیں اجاگر کرنے پر بھی زور دیا، تاکہ لیبارٹریوں اور اداروں سے سامنے آنے والا اہم کام معاشرے کے وسیع تر طبقے تک پہنچ سکے۔

وزیر نے سائنس کی وزارتوں اور محکموں کے درمیان مواصلاتی نظام کو مضبوط بنانے پر زور دیا تاکہ سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت طرازی میں اہم کامیابیوں کو بروقت، قابل رسائی اور دلچسپ انداز میں عوام تک پہنچایا جا سکے۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ سائنسی کامیابیوں کو ادارہ جاتی حدود سے باہر لے جایا جائے اور ہندوستان کے سائنسی نظام اور شہریوں کے درمیان مضبوط رابطہ قائم کیا جائے۔

اجلاس میں 'سائنسی کامیابیوں کی ڈیجیٹل لائبریری' کے مجوزہ منصوبے پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اس لائبریری کا تصور ویڈیوز اور دیگر مواصلاتی مواد کے ایک مشترکہ ذخیرے کے طور پر کیا گیا ہے جو ہندوستان کے سائنسی اداروں کے کام کو اجاگر کرے گا۔ سی ایس آئی آر-این اائی ایس سی پی آر اس ڈیجیٹل لائبریری کے لیے ادارہ جاتی طریقہ کار اور نفاذ کا ڈھانچہ تیار کرنے والے مرکزی ادارے (نوڈل ایجنسی) کے طور پر کام کر رہا ہے، جبکہ متعلقہ وزارتوں اور محکموں کے درمیان شرکت اور وسائل کے اشتراک کے طریقہ کار پر کام جاری ہے۔

جائزہ اجلاس میں ڈی ایس ٹی ،ڈی بی ٹی ، ڈی ایس آئی آر/سی ایس آئی آر اور ایم او ای ایس  کی جانب سے جاری ڈیجیٹل رسائی کی کوششوں کا بھی جائزہ لیا گیا، جن میں اہم سائنسی اور تکنیکی کامیابیوں کو اجاگر کرنے والے مختصر دورانیے کے مواد کی تیاری اور تشہیر شامل ہے۔ اس مربوط حکمت عملی کا مقصد سائنسی اداروں کے کام کو زیادہ نمایاں کرنا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ اہم پیش رفت سائنسی برادری سے باہر بھی لوگوں تک پہنچے۔

 

وزیر موصوف نے عوامی شرکت کے اس تسلسل کو برقرار رکھنے اور سائنسی آگاہی، ماحولیاتی ذمہ داری اور شہریوں کے عملی اقدامات کے درمیان تعلق کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔ اس مہم نے ساحلوں کی صفائی اور سمندروں کو محفوظ بنانے کی ملک گیر کوشش میں شہریوں، طلباء، ساحلی برادریوں، سرکاری ایجنسیوں، سائنسی اداروں اور رضاکاروں کو اکٹھا کیا۔

اجلاس میں 'وگیان کی بات' نامی ماہانہ لیکچر سیریز کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس سیریز کا آغاز محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی نے ہندوستان کے خود مختار سائنسی اداروں کے کام کو اجاگر کرنے اور ان کی کامیابیوں کو وسیع تر سامعین تک پہنچانے کے لیے کیا تھا۔ اس کا دوسرا سیشن 26 ستمبر 2026 کو منعقد ہونا طے پایا ہے جس میں ایس این بوس نیشنل سینٹر فار بیسک سائنسز کے ڈائریکٹر شرکت کریں گے؛ اس سیشن میں بنیادی طبعی علوم اور کوانٹم ٹیکنالوجی میں ہونے والی پیش رفت پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

'وگیان کی بات' کا افتتاحی سیشن 29 اگست 2026 کو منعقد ہوا تھا، جس میں تعلیمی حلقوں، تحقیقی اداروں اور صنعت سے وابستہ 7,500 سے زائد افراد نے شرکت کی تھی۔ اس سلسلے کا مقصد جدید ترین تحقیق، تکنیکی جدت اور ان کی قومی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے ایک باقاعدہ پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے، ساتھ ہی ساتھ ہندوستان کے سائنسی اداروں اور عوام کے درمیان رابطے کو مضبوط بنانا ہے۔

اجلاس میں 'سی ایس آئی آر@85' (سی ایس آئی آر کے 85 سالہ جشن) کی تیاریوں کا بھی جائزہ لیا گیا، جس میں 25 ستمبر 2026 کو ہونے والا پروگرام اور 'ای ایس ٹی آئی سی -2026' سے متعلق تازہ ترین پیش رفت شامل تھی۔ بات چیت میں پروگرام کی تیاری، باہمی رابطہ کاری اور ہندوستان کے سائنسی اداروں کی کامیابیوں اور خدمات کو مؤثر انداز میں عوام تک پہنچانے جیسے امور کا احاطہ کیا گیا۔

جائزہ اجلاس میں وزارتوں کے درمیان اور وزارتوں کے اندر باہمی رابطے کے طریقہ کار پر بھی غور کیا گیا، جس میں موضوعاتی بات چیت اور کلسٹر پر مبنی سرگرمیاں شامل تھیں؛ ان کا مقصد سائنسی ایکو سسٹم (نظام) میں باہمی تعاون اور اشتراکِ عمل کو فروغ دینا ہے۔ سائنسی امور سے وابستہ وزارتوں اور محکموں کی مواصلاتی ٹیموں کے درمیان باقاعدہ تبادلہ خیال پر بھی زور دیا گیا تاکہ مربوط انداز میں عوام تک رسائی اور سائنسی کامیابیوں کی وسیع پیمانے پر تشہیر کو یقینی بنایا جا سکے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اس بات پر زور دیا کہ سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت طرازی کے شعبوں میں ہندوستان کی پیش رفت نمایاں، قابلِ رسائی اور معاشرے کے لیے بامقصد ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط ادارہ جاتی تعاون، مربوط مواصلات اور عوام کے ساتھ مسلسل رابطہ سائنسی ایکو سسٹم کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔

اجلاس کا اختتام ان اقدامات کو مربوط انداز میں آگے بڑھانے، سائنسی اداروں اور عوام کے درمیان رابطے کو مستحکم کرنے، اور ہندوستان کی سائنسی کامیابیوں اور ایجادات کو وسیع پیمانے پر اجاگر کرنے کے عزم کے ساتھ ہوا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image001_20260921175628_f5e70f.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image002_20260921175636_43ee63.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image003_20260921175643_8d6bd0.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image004_20260921175649_22f89f.jpg

ش ح ۔ ال ۔ ع ر

UR-3874

 

 

 


(ریلیز آئی ڈی: 2313170) وزیٹر کاؤنٹر : 6
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी