شماریات اور پروگرام کے نفاذ کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

قومی حسابات کے اعداد و شمار کی تدوین کے ذرائع اور طریقہ کار

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 21 SEP 2026 4:27PM by PIB Delhi
  1. بنیادی سال 2022-23 پر مبنی قومی حسابات کے اعداد و شمار کی نئی سیریز وزارت شماریات و پروگرام نفاذ (ایم او ایس پی آئی) کی جانب سے 27 فروری 2026 کو جاری کی گئی تھی اور بعد ازاں 31 اگست 2026 کو جون 2026 میں جاری ہونے والے پروڈیوسر پرائس انڈیکس (پی پی آئی)، صنعتی پیداوار کے اشاریہ (آئی آئی پی) وغیرہ کی نئی سیریز کی وجہ سے ہونے والی تبدیلیوں کو شامل کرنے کے لیے اسے اپ ڈیٹ کیا گیا۔ نئی سیریز نے بنیادی سال 2011-12 پر مبنی سابقہ سیریز کی جگہ لی ہے اور یہ بھارت کے قومی حسابات کے اعداد و شمار میں بنیادی سال میں آٹھویں نظرثانی کی نمائندگی کرتی ہے۔
  2. اس پریس ریلیز کے ذریعے وزارت شماریات و پروگرام نفاذ (ایم او ایس پی آئی) اشاعت ’’قومی حسابات کے اعداد و شمار کی تدوین کے ذرائع اور طریقہ کار‘‘ جاری کر رہی ہے۔ اس اشاعت میں قومی حسابات کے اعداد و شمار کی نئی سیریز میں جامع طور پر اختیار کیے گئے تصورات، تعریفوں، اعداد و شمار کے ذرائع، طریقہ کار اور تدوین کے عملی طریقوں کی مربوط تفصیل پیش کی گئی ہے اور نئی سیریز کے اجرا کے صرف سات ماہ بعد اسے ریکارڈ مدت میں جاری کیا جا رہا ہے۔
  3. نئی سیریز کی تیاری کے عمل کے تحت وزارت شماریات و پروگرام نفاذ نے 27 جون 2024 کو پروفیسر بی این گولدار، وزٹنگ فیکلٹی (انسٹی ٹیوٹ آف اکنامک گروتھ، آئی ای جی) کی سربراہی میں قومی حسابات کے اعداد و شمار سے متعلق مشاورتی کمیٹی (اے سی این اے ایس) تشکیل دی، تاکہ بنیادی سال میں نظرثانی کی مشق کے مخصوص پہلوؤں پر غور کیا جا سکے۔ اے سی این اے ایس نے ان شعبوں میں خصوصی غور و خوض کے لیے چار ذیلی کمیٹیاں تشکیل دیں، جن کے نام یہ ہیں: (i) جناب منیش کمار سنہا (چیف ایگزیکٹو آفیسر، جی ایس ٹی این) کی سربراہی میں نئے اعداد و شمار کے ذرائع، شرحوں اور تناسب کو شامل کرنے سے متعلق ذیلی کمیٹی؛ (ii) ڈاکٹر جی سی منا (پروفیسر، انسٹی ٹیوٹ فار ہیومن ڈیولپمنٹ) کی سربراہی میں طریقہ کار میں بہتری سے متعلق ذیلی کمیٹی؛ (iii) پروفیسر بی این گولدار (وزٹنگ فیکلٹی، آئی ای جی) کی سربراہی میں مستقل قیمتوں پر تخمینوں سے متعلق ذیلی کمیٹی؛ اور (iv) پروفیسر آر ایچ ڈھولکیا (ریٹائرڈ پروفیسر، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ، احمد آباد) کی سربراہی میں علاقائی حسابات سے متعلق ذیلی کمیٹی۔ اے سی این اے ایس اور اس کی ذیلی کمیٹیوں کے ارکان میں معاشیات، قومی حسابات، شماریات، عوامی پالیسی اور متعلقہ شعبوں سمیت مختلف علوم سے تعلق رکھنے والے ممتاز اور متنوع ماہرین تعلیم کا ایک باوقار گروپ شامل تھا۔
  4. اپنے غور و خوض کے حصے کے طور پر اے سی این اے ایس نے 9 ادوار میں اجلاس منعقد کیے، اس کے علاوہ ملک بھر کی جامعات، متعلقہ شعبوں کے ماہرین، مرکزی اور ریاستی حکومت کے محکموں، نیتی آیوگ اور مختلف تھنک ٹینکس کو شامل کرتے ہوئے ورکشاپس اور سیمینار بھی منعقد کیے۔ اس کے علاوہ اے سی این اے ایس کے تحت تشکیل دی گئی ذیلی کمیٹیوں نے مخصوص طریقہ کار اور اعداد و شمار سے متعلق امور پر غور کے لیے 35 سے زیادہ ادوار میں میٹنگیں کیں۔ کمیٹی نے دیگر امور کے ساتھ ساتھ قومی حسابات کے تخمینوں کی تدوین کو مضبوط بنانے کے لیے نئے اور بہتر اعداد و شمار کے ذرائع کو شامل کرنے، اقتصادی تجزیے اور پالیسی سازی کے لیے قومی حسابات کے اعداد و شمار کی تدوین اور پیشکش کے طریقہ کار، نیز اقوام متحدہ کی جانب سے مقرر کردہ جدید ترین بین الاقوامی معیارات کو اپنانے اور نافذ کرنے کے سلسلے میں وزارت شماریات و پروگرام نفاذ کو مشورے دیے۔ مزید برآں، پیداوار کے طریقہ کار، اخراجات کے طریقہ کار اور سہ ماہی مجموعی گھریلو پیداوار اور ذیلی قومی حسابات کے موضوعات کے تحت مجوزہ طریقہ کار میں تبدیلیوں کی تفصیل پیش کرنے والے تین مباحثی مقالے وسیع تر مشاورت کے لیے جاری کیے گئے۔
  5. متعلقہ فریقوں کی شرکت کو آسان بنانے اور قیمتی تجاویز حاصل کرنے کے لیے بعد ازاں ممبئی (26 نومبر 2025)، نئی دہلی (23 دسمبر 2025) اور چنئی (30 جنوری 2026) میں تین اعداد و شمار صارف (ڈیٹا یوزر) کانفرنسمنعقد کی گئیں، جن میں ماہرین، ماہرین تعلیم، پالیسی سازوں اور اعداد و شمار کے صارفین کا ایک متنوع گروپ شریک ہوا۔ وزارت شماریات و پروگرام نفاذ نے مجموعی گھریلو پیداوار کے بنیادی سال میں نظرثانی کے مختلف پہلوؤں پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ بھی تفصیلی مشاورت کی۔ متعلقہ فریقوں کے ساتھ وسیع غور و خوض کی بنیاد پر پہلی تین ذیلی کمیٹیوں کی سفارشات سے متعلق رپورٹیں اور چوتھی ذیلی کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر مجموعی ریاستی گھریلو پیداوار (جی ایس ڈی پی) کے لیے رہنما خطوط وزارت شماریات و پروگرام نفاذ کی ویب سائٹ پر عوامی طور پر دستیاب ہیں۔ ذیلی کمیٹیوں کی رپورٹوں میں قومی حسابات کے اعداد و شمار کی نئی سیریز کی تدوین کے لیے تجویز کردہ طریقہ کار کو اس اشاعت ’’قومی حسابات کے اعداد و شمار کی تدوین کے ذرائع اور طریقہ کار‘‘ میں شامل کیا گیا ہے۔
  6. اس اشاعت کا ایک اہم موضوع کارپوریٹ، مالیاتی، حکومتی اور گھریلو شعبوں کے تخمینے کے طریقہ کار کو جدید بنانا ہے۔ غیر مالیاتی نجی کارپوریٹ (این ایف پی سی) شعبے کے سلسلے میں رپورٹ میں کارپوریٹ دستاویزات، ایل ایل پی ریکارڈز اور کمپنی کی سطح پر دستیاب بہتر معلومات کے تفصیلی استعمال کو اجاگر کیا گیا ہے، تاکہ صنعتی درجہ بندی، اقتصادی سرگرمیوں کی پیمائش اور متعدد کاروباری شعبوں کے درمیان پیداوار کی تقسیم کو بہتر بنایا جا سکے۔ مالیاتی شعبے کے لیے اعداد و شمار کا دائرہ بھی نمایاں طور پر وسیع کیا گیا ہے۔ عمومی حکومتی شعبے کے لیے تبدیلیوں میں ادارہ جاتی دائرہ کار میں توسیع، پنشن کی ادائیگیوں کے طریقہ کار میں بہتری اور ملازمین کو فراہم کی جانے والی رہائشی سہولیات کی قدر کو شامل کرنا شامل ہے۔ گھریلو شعبے میں مختلف متبادل طریقہ کار کا جائزہ لینے کے بعد وزارت شماریات و پروگرام نفاذ کے دو سروے، یعنی غیر منظم شعبے کے کاروباری اداروں کا سالانہ سروے (اے ایس یو ایس ای) اور متواتر لیبر فورس سروے (پی ایل ایف ایس) سے براہ راست تخمینہ لگانے کا طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔
  7. رپورٹ میں اخراجات کی جانب سے تخمینوں اور سہ ماہی مجموعی گھریلو پیداوار کی تدوین میں نمایاں بہتری کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ نجی حتمی کھپت کے اخراجات (پی ایف سی ای) میں اقوام متحدہ کے مقصد کے مطابق انفرادی کھپت کی درجہ بندی (سی او آئی سی او پی) 2018 کے درجہ بندی کے فریم ورک کو اپنایا گیا ہے، جسے زیادہ تفصیلی کھپت کے اعداد و شمار اور انتظامی ذرائع سے حاصل معلومات کی حمایت حاصل ہے۔ تعمیرات، زراعت، مویشی پروری، جنگلات اور خدمات جیسے شعبوں کی تدوین کے طریقہ کار میں بھی نظرثانی کی گئی ہے، تاکہ اقتصادی سرگرمیوں کے تخمینے میں زیادہ یکسانیت یقینی بنائی جا سکے اور حالیہ اقتصادی حقائق اور اعداد و شمار کی بہتر دستیابی کی عکاسی ہو۔ سہ ماہی قومی حسابات کے سلسلے میں رپورٹ میں موجودہ بینچ مارکنگ طریقہ کار کی جگہ متناسب ڈینٹن طریقہ اختیار کرنے اور اشیا و خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) سمیت دیگر انتظامی اعداد و شمار کے زیادہ استعمال پر زور دیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر رپورٹ ایک زیادہ مضبوط، شفاف اور اعداد و شمار پر مبنی قومی حساباتی نظام کے لیے طریقہ کار کی بنیاد فراہم کرتی ہے، جو بھارتی معیشت کے بدلتے ہوئے ڈھانچے کی زیادہ بہتر عکاسی کرتا ہے۔ رپورٹ میں سپلائی یوز ٹیبلز (ایس یو ٹی) کی تدوین کا طریقہ کار اور علاقائی حسابات کے لیے رہنما خطوط بھی شامل ہیں۔
  8. یہ اشاعت دیگر امور کے ساتھ ان رپورٹوں میں پیش کی گئی سفارشات کو یکجا کرتی ہے جو پہلے ہی عوامی طور پر دستیاب ہیں اور جامع اور مربوط انداز میں بڑی معاشی مجموعی قدروں کی تدوین میں اختیار کیے جانے والے شماریاتی فریم ورک اور طریقہ کار کو پیش کرتی ہے۔ ان میں مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی)، قومی آمدنی، نجی حتمی کھپت کے اخراجات (پی ایف سی ای)، مجموعی مقررہ سرمایہ تشکیل (جی ایف سی ایف) اور بچت شامل ہیں۔ ہر باب کے آخر میں 2022-23 کے لیے 2011-12 سیریز اور 2022-23 سیریز کے مطابق موجودہ قیمتوں پر مجموعی قدر اضافے (جی وی اے) کے تخمینوں کا خلاصہ فوری حوالہ اور آسانی سے استفادے کے لیے شامل کیا گیا ہے۔ یہ اعداد و شمار پہلے ہی عوامی طور پر دستیاب ہیں اور اس میں کوئی نیا اعداد و شمار شامل نہیں کیا گیا ہے۔
  9. وزارت شماریات و پروگرام نفاذ قومی حسابات کے اعداد و شمار سے متعلق مشاورتی کمیٹی (اے سی این اے ایس) اور اس کی مختلف ذیلی کمیٹیوں اور ماہر ارکان کی قیمتی رہنمائی اور تعاون کے لیے تہہ دل سے شکر گزار ہے، جن کی بصیرت اور سفارشات نے اس اشاعت کو مزید مفید بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ہم مرکزی وزارتوں اور محکموں، ریاستی حکومتوں، مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی انتظامیہ، ریگولیٹری اداروں اور دیگر متعلقہ اداروں کی مسلسل حمایت، تعاون اور اہم اعداد و شمار و معلومات فراہم کرنے کے لیے بھی دلی ستائش کا اظہار کرتے ہیں، جن کی بدولت یہ مشق ممکن ہو سکی۔
  10. اشاعت سے توقع ہے کہ یہ پالیسی سازوں، محققین، تجزیہ کاروں، ماہرین تعلیم اور قومی حسابات کے اعداد و شمار کے دیگر صارفین کے لیے ایک جامع حوالہ جاتی دستاویز کے طور پر کام کرے گی اور قومی حسابات کی تدوین کے فریم ورک کو بہتر طور پر سمجھنے میں معاون ثابت ہوگی۔

یہ اشاعت اب وزارت شماریات و پروگرام نفاذ (ایم او ایس پی آئی) کی سرکاری ویب سائٹ پر دستیاب ہے: https://www.mospi.gov.in/uploads/documents/pressRelease/1789976245319-Sources%20and%20Methods%20for%20Compilation%20of%20National%20Accounts%20Statistics.pdf).

******

 

ش ح ۔ م م  ۔ م ا

UR No-3866

                          

 


(ریلیز آئی ڈی: 2313095) وزیٹر کاؤنٹر : 11
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Tamil , Kannada