قانون اور انصاف کی وزارت
وزارت قانون و انصاف کے محکمہ انصاف نے دِشا 2.0 اسکیم کے تحت گوا میں علاقائی ورکشاپ کا انعقاد کیا
مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے قانون و انصاف جناب ارجن رام میگھوال نے انصاف تک رسائی کو مضبوط بنانے میں ٹیلی لا اور بلا معاوضہ قانونی خدمات کی اہمیت اجاگر کی
مہمان خصوصی، گوا کے گورنر جناب پسوپتی اشوک گجپتی راجو نے کہا کہ سماجی یا معاشی پس منظر سے قطع نظر ہر شہری کے وقار، منصفانہ برتاؤ اور مساوی مواقع کو یقینی بنانے کے آئینی تصور میں انصاف تک رسائی مرکزی حیثیت رکھتی ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
21 SEP 2026 3:33PM by PIB Delhi
حکومت ہند کےوزارت قانون و انصاف کے محکمۂ انصاف نے 21 ستمبر 2026 کو انڈیا انٹرنیشنل یونیورسٹی آف لیگل ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (آئی آئی یو ایل ای آر)، گوا میں دِشا 2.0 اسکیم کے تحت ایک علاقائی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ اس ورکشاپ میں انصاف تک رسائی، قانونی بیداری، قانونی امداد اور ٹیکنالوجی پر مبنی قانونی خدمات سے وابستہ اہم شراکت داروں نے شرکت کی۔ اس کا مقصد شہری مرکوز انصاف کی فراہمی کو مضبوط بنانا اور قانونی حقوق و قانونی چارہ جوئی کے ذرائع سے متعلق بیداری میں اضافہ کرنا تھا۔

علاقائی ورکشاپ میں دِشا 2.0 اسکیم کے تحت محکمہ انصاف کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کو اجاگر کیا گیا، جن میں قانونی معلومات، مشورے اور امداد تک رسائی کو آسان بنانے کے لیے ٹیکنالوجی اور کمیونٹی پر مبنی طریقہ کار کا استعمال شامل ہے۔ پروگرام نے مستفیدین، ولیج لیول انٹرپرینیورز (وی ایل ایز) اور پینل وکلا کے درمیان باہمی تبادلے کے لیے بھی ایک پلیٹ فارم فراہم کیا، جہاں انہوں نے اپنے تجربات اور شہریوں تک قانونی خدمات پہنچانے میں اپنے کردار کو اجاگر کیا۔
پروگرام میں گوا کے گورنر جناب پسوپتی اشوک گجپتی راجو نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔ اس موقع پر حکومت ہند میں قانون و انصاف کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) جناب ارجن رام میگھوال اور انڈیا انٹرنیشنل یونیورسٹی آف لیگل ایجوکیشن اینڈ ریسرچ، گوا کے وائس چانسلر پروفیسر (ڈاکٹر) آر وینکٹ راؤ بھی موجود تھے۔ تقریب میں مرکزی حکومت اور حکومت گوا کے افسران، کامن سروس سینٹرز (سی ایس سیز) کے نمائندے، ریاست گوا کے قانونی ادارے اور قابل رسائی و جامع انصاف کی فراہمی کے لیے کام کرنے والے دیگر شراکت دار شریک ہوئے۔

اپنے استقبالیہ خطاب میں وزارت قانون و انصاف کے محکمہ انصاف کے جوائنٹ سکریٹری جناب سریش کمار نے معزز شخصیات اور شرکاء کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے دِشا 2.0 اسکیم کے ذریعے انصاف تک رسائی کو مضبوط بنانے کے لیے محکمہ انصاف کے عزم کو اجاگر کیا، جس میں ٹیلی لا، نیائے بندھو، قانونی خواندگی اور قانونی بیداری پروگرام اور ودھی-سنجیوَنی پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ انہوں نے ’’نیائے پر بودھ‘‘ کے اقدامات کو بھی اجاگر کیا، جن میں ’’90 سیکنڈ میں اپنے حقوق جانیں‘‘ اور نعرہ نویسی کا مقابلہ شامل ہیں، نیز دستاویزی فلم اور ان تبادلہ خیال کا بھی ذکر کیا جن میں گوا میں دِشا 2.0 اسکیم کے نفاذ کو پیش کیا گیا۔ انہوں نے نیائے بندھو کے تحت لا کالجوں کی جانب سے انجام دی جانے والی بلا معاوضہ قانونی خدمات کو سراہا اور زور دیا کہ قانونی بیداری، ٹیکنالوجی سے فعال انصاف کی فراہمی اور کمیونٹی کی شراکت داری جامع اور شہری مرکوز انصاف تک رسائی کو یقینی بنانے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

ورکشاپ کی ایک اہم جھلک ’’نیائے پر بودھ – انصاف کے تئیں بیداری‘‘ کے تحت چلائی جانے والی ’’90 سیکنڈ میں اپنے حقوق جانیں‘‘ مہم کے لیے موصول ہونے والی اور شارٹ لسٹ کی گئی پانچ بہترین ریلز کی پیشکش تھی۔ اس موقع پر نیائے پر بودھ مہم کے تحت نعرہ نویسی کے مقابلے کا بھی آغاز کیا گیا، جس کا مقصد شہریوں میں ان کے آئینی اور قانونی حقوق کی سمجھ کو مزید گہرا کرنا، قانونی خواندگی کو فروغ دینا اور انصاف کی فراہمی کے نظام میں عوامی شمولیت اور شرکت کو بڑھانا ہے۔ شرکاء 31 دسمبر 2026 تک محکمہ انصاف کی ویب سائٹ https://www.doj.gov.in پر اپنے نعرے جمع کرا سکتے ہیں۔
پروگرام کے دوران گوا میں دِشا اسکیم کے نفاذ اور اس کی رسائی کو اجاگر کرنے والی ایک دستاویزی فلم دکھائی گئی۔ اس کے بعد اسکیم کے مستفیدین، وی ایل ایز اور پینل وکلا کے ساتھ براہ راست تبادلہ خیال کیا گیا، جس میں دِشا 2.0 کے اقدامات کے ذریعے قانونی مشورے اور امداد کی فراہمی سے متعلق اپنے تجربات شیئر کرنے کا موقع فراہم کیا گیا۔
ورکشاپ میں گوا میں نیائے بندھو (بلا معاوضہ قانونی خدمات) کے تحت لا اسکول کے طلبہ اور اساتذہ کے ساتھ بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جس میں بلا معاوضہ قانونی خدمات کے فروغ اور سب کے لیے انصاف تک رسائی کے مقصد کو آگے بڑھانے میں قانونی برادری اور تعلیمی اداروں کے کردار کو اجاگر کیا گیا۔

پروفیسر (ڈاکٹر) آر وینکٹ راؤ، معزز وائس چانسلر، انڈیا انٹرنیشنل یونیورسٹی آف لیگل ایجوکیشن اینڈ ریسرچ، گوا نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ آئی آئی یو ایل ای آر، گوا کے لیے ایک اہم دن ہے، کیونکہ یہ ادارہ وزارت قانون و انصاف کے محکمہ انصاف کی دِشا 2.0 اسکیم کے تحت پرو بونو کلب اسکیم کے ساتھ اشتراک کر رہا ہے۔ انہوں نے انصاف تک رسائی کو آگے بڑھانے کے لیے مؤثر ذرائع اور پلیٹ فارم فراہم کرنے پر دِشا اسکیم کی ستائش کی اور زور دیا کہ نوجوان وکلا کے لیے بلا معاوضہ قانونی خدمات انجام دینا ایک اہم ذمہ داری ہے۔ انہوں نے دِشا اسکیم کے تحت محکمہ انصاف کی جانب سے شروع کیے گئے ’نیائے سیتو اے آئی چیٹ بوٹ‘ کو شہریوں کو قانونی معلومات اور امداد تک رسائی فراہم کرنے کے لیے ایک اہم اقدام قرار دیا۔
معزز وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے قانون و انصاف جناب ارجن رام میگھوال نے اس بات کو اجاگر کیا کہ انصاف تک رسائی صرف عدالتوں اور قانونی کارروائیوں تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس میں شہریوں کو ان کے حقوق سے متعلق معلومات فراہم کرنا اور اس بات کو یقینی بنانا بھی شامل ہے کہ قانونی معلومات اور خدمات آسان، قابل رسائی اور جواب دہ ہوں۔ بلا معاوضہ قانونی خدمات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کلکتہ ہائی کورٹ کے سامنے تاریخی علی پوردوار کیس میں چترنجن داس اور جناب اروند گھوش کی متاثر کن خدمات کا حوالہ دیا، جہاں سی آر داس نے بے لوث طریقے پر جناب اروند گھوش کا دفاع کیا اور انصاف کے لیے مؤثر دلائل پیش کیے، جس کے نتیجے میں انہیں بری کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ خدمت کا یہ جذبہ آج بھی نیائے بندھو پہل کے ذریعے جاری ہے اور بلا معاوضہ قانونی خدمات فراہم کرنے والے وکلا کو انصاف کے نگہبانوں کے مانند قرار دیا۔ انہوں نے ’’نیائے پر بودھ: انصاف کے تئیں بیداری‘‘ کے تحت قانونی بیداری کے اقدامات کی اہمیت پر بھی زور دیا، بالخصوص قانونی خواندگی اور خدمت کے جذبے کو فروغ دینے میں تعلیمی اداروں، طلبہ اور نوجوان پیشہ ور افراد کو شامل کرنے پر۔

اپنے کلیدی خطاب میں گوا کے معزز گورنر جناب پسوپتی اشوک گجپتی راجو نے اس بات پر زور دیا کہ سماجی یا معاشی پس منظر سے قطع نظر ہر شہری کے وقار، منصفانہ برتاؤ اور مساوی مواقع کو یقینی بنانے کے آئینی تصور میں انصاف تک رسائی مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے لوگوں کو اپنے حقوق سمجھنے، بروقت مدد حاصل کرنے اور مناسب قانونی چارہ جوئی تک رسائی کے قابل بنانے میں قانونی بیداری اور شہریوں کو بااختیار بنانے کی اہمیت اجاگر کی۔ ’’نیائے پر بودھ: انصاف کے تئیں بیداری‘‘ پہل کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ باخبر شہری ہی بااختیار شہری ہوتا ہے اور قانونی خواندگی اور قانون کی حکمرانی کو مضبوط بنانے میں طلبہ، تعلیمی اداروں اور نوجوان پیشہ ور افراد کی شرکت کو سراہا۔ انہوں نے مزید زور دیا کہ انصاف تک رسائی حکومتوں، عدالتوں، قانونی ماہرین، تعلیمی اداروں، سول سوسائٹی اور شہریوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور وکست بھارت @2047 کے تصور کی جانب ایک زیادہ قابل رسائی، جواب دہ اور انسانیت نوازی پر مبنی انصاف کی فراہمی کا نظام قائم کرنے کے لیے اجتماعی کوششوں کی اپیل کی۔

ورکشاپ کا اختتام مہمانوں کو یادگاری تحائف پیش کرنے اور محکمہ انصاف کے ڈائریکٹر کی جانب سے اظہار تشکر کے ساتھ ہوا۔ پروگرام کا اختتام قومی نغمے کے بعد قومی ترانے کے ساتھ ہوا۔

علاقائی ورکشاپ نے دِشا 2.0 اسکیم کے تحت قانونی خواندگی کو مضبوط بنانے، قانونی خدمات تک رسائی آسان بنانے، بلا معاوضہ قانونی خدمات میں شمولیت کو فروغ دینے اور ٹیکنالوجی و کمیونٹی سطح پر رسائی کے طریقہ کار سے فائدہ اٹھانے کے لیے محکمہ انصاف کی مسلسل کوششوں کی توثیق کی، تاکہ انصاف کی فراہمی کے فوائد ملک بھر کے شہریوں تک پہنچ سکیں۔
******
ش ح ۔ م م ۔ م ا
UR No-3858
(ریلیز آئی ڈی: 2313015)
وزیٹر کاؤنٹر : 11