وزارت خزانہ
azadi ka amrit mahotsav

‘‘ وکست بھارت کے سفر کی مالی معاونت’’ سے متعلق کانفرنس آج نئی دہلی میں اختتام پذیرہوئی

پہلے دن جامع معاشی ترجیحات، بچت، سرمایہ کاری اور مالیاتی استحکام پر توجہ مرکوز رہی، جبکہ دوسرے دن زرعی شعبے میں تبدیلی، توانائی کی منتقلی اور ٹیکنالوجی، بینکاری اور مجموعی ریاستی گھریلو پیداوار کی پیمائش کے مختلف پہلوؤں پر مختصر اجلاس منعقد ہوئے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 19 SEP 2026 9:23PM by PIB Delhi

‘‘وکست بھارت کے سفر کی مالی معاونت ’’کے موضوع پر کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں ریاستوں اور قانون ساز اسمبلی والے مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے وزرائے خزانہ اور مالی امور کے سکریٹریز کے علاوہ علمی دنیا، صنعت، بینکاری اور پالیسی سازی کے شعبوں سے وابستہ ماہرین نے شرکت کی۔ یہ کانفرنس آج نئی دہلی میں اختتام پذیر ہوگئی۔ دو روزہ کانفرنس کے دوران بھارت کی مالی ضروریات اور پائیدار، ہمہ گیر اور وسیع البنیاد معاشی ترقی کو برقرار رکھنے کے لیے درکار راستوں پر سلسلہ وار غور و خوض کیا گیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image001_20260919212417_9d688f.jpg

دو روزہ کانفرنس میں مرکزی وزیر خزانہ و کارپوریٹ امور نے شرکت کی۔ اس موقع پر آسام، دہلی، گوا، ہریانہ، جموں و کشمیر، کیرالہ، منی پور، میگھالیہ اور ناگالینڈ کے وزرائے اعلیٰ؛ اروناچل پردیش، بہار اور اڈیشہ کے نائب وزرائے اعلیٰ اور آندھرا پردیش، آسام، گجرات، ہماچل پردیش، جھارکھنڈ، مہاراشٹر، تمل ناڈو، تریپورہ، اتر پردیش، اتراکھنڈ اور مغربی بنگال کے وزرائے خزانہ کے علاوہ مختلف ریاستوں اور وزارت خزانہ کے اعلیٰ افسران نے بھی شرکت کی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image002_20260919212425_de0a9c.jpg

پہلا دن

وزارت خزانہ کے محکمہ اقتصادی امور کی سکریٹری محترمہ انورادھا ٹھاکر نے پہلے دن شرکاء کا خیرمقدم کیا اور افتتاحی اجلاس میں کانفرنس کے پس منظر اور مقصد کو واضح کیا۔

محترمہ انورادھاٹھاکر نے کہا کہ اپنی نوعیت کی اس پہلی کانفرنس میں طویل مدتی اور وسیع تر نقطہ نظر اپنایا گیا ہے، جس میں سرکاری اور نجی شعبے کی مالی ضروریات سے متعلق امور کو یکجا کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ علمی دنیا، صنعت، بینکاری اور پالیسی سازی کے شعبوں سے ماہرین کو بھی ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا گیا۔ ریاستوں نے بھی اپنے اپنے نقطہ نظر پیش کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ‘‘ وکست بھارت’’  کی جانب سفر مرکز اور ریاستوں کے درمیان گہری ہم آہنگی اور مختلف سطحوں پر مضبوط شراکت داری پر منحصر ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام اور مالیاتی نظم و ضبط کو عالمی سطح پر بھی تسلیم کیا گیا ہے۔ گزشتہ 16 سے 17 ماہ کے دوران بڑی بین الاقوامی درجہ بندی کرنے والی ایجنسیوں کی جانب سے بھارت کی خودمختار قرضہ درجہ بندی میں چار مرتبہ بہتری کی گئی ہے۔ حال ہی میں جے سی آر نے بھی بھارت کی درجہ بندی ایک درجے بہتر کرتے ہوئے بی بی بی پلس سے بڑھا کر اے مائنس کردی ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image003_20260919212435_9ef0df.jpg

محکمہ اقتصادی امور کی سکریٹری نے زور دے کر کہا کہ ‘‘ وکست  بھارت’’ کے حصول کے لیے درکار وسیع پیمانے پر تبدیلی کو صرف حکومت کے بجٹ سے پورا نہیں کیا جاسکتا۔ اس مقصد کے لیے نجی شعبے کی مالی معاونت، مالی وسائل کے حصول کے نئے اور اختراعی طریقہ کار اور حکومت کی مختلف سطحوں کے درمیان مزید مضبوط تعاون اہم کردار ادا کریں گے۔

انہوں نے شرکاء کو بتایا کہ ریاستوں کی شرکت کے ساتھ قائم کیے گئے ورکنگ گروپ موضوعاتی امور پر ہونے والے غور و خوض کو آگے بڑھائیں گے اور مختلف شعبوں کی مالی ضروریات کی نشاندہی کرنے کے ساتھ ساتھ قابل عمل سفارشات بھی پیش کریں گے۔

افتتاحی اجلاس میں حکومت مہاراشٹر کے سابق ایڈیشنل چیف سکریٹری جناب سدھیر شریواستو نے ‘‘ریاستوں کے مالیاتی نقطہ نظر’’ کے موضوع پر ایک پریزنٹیشن پیش کی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image004_20260919212451_4d8886.jpg

اپنے کلیدی خطاب میں انسٹی ٹیوٹ آف اکنامک گروتھ کے صدر اور تاحیات ٹرسٹی اور 15ویں مالیاتی کمیشن ( ایکس وی ایف سی ) کے چیئرمین جناب این کے سنگھ نے بھارت کی مضبوط مجموعی معاشی بنیاد کو اجاگر کیا۔ انہوں نے مالی سال 27-2026 کی پہلی سہ ماہی میں مجموعی گھریلو پیداوار( جی ڈی پی) کی 7.8 فیصد شرح نمو اور حال ہی میں جاپان کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی کی جانب سے بھارت کی درجہ بندی بی بی بی پلس سے بڑھا کر اے مائنس کیے جانے کا بھی ذکر کیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image005_20260919212501_26b4af.jpg

انہوں نے زور دے کر کہا کہ بھارت میں مجموعی ملکی بچت کی شرح، جو اس وقت مجموعی گھریلو پیداوار کا تقریباً34 فیصد ہے، اسے بڑھا کر 38 سے 40 فیصد تک لانے کی ضرورت ہے تاکہ ‘‘ وکست بھارت’’ کے لیے درکار 7 سے 8 فیصد کی شرح نمو کو برقرار رکھا جاسکے۔ مالیاتی پائیداری کے حوالے سے جناب این کے سنگھ نے ہر ریاست کے لحاظ سے قرض کی پائیداری کا جائزہ لینے کی وکالت کی۔ انہوں نے مالی معاملات میں زیادہ شفافیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بجٹ سے باہر لیے گئے قرض، حکومتی ضمانتیں، واجبات اور ریاستی ملکیت والے اداروں کے ذریعے لیے گئے قرض کو بھی حساب میں شامل کیا جانا چاہئے۔ محصولات میں اضافے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ محض ٹیکس کی شرحیں بڑھانے کے بجائے معلومات سے بھرپور استفادہ کرنے میں زیادہ مواقع موجود ہیں۔ مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ کی تکنیکوں کو موجودہ ٹیکس اعداد و شمار کے ساتھ استعمال کرکے ٹیکس قوانین کی پابندی میں موجود خامیوں کی نشاندہی، ٹیکس کے مؤثر دائرے کو وسیع اور محصولات میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ جناب این کے سنگھ نے سرکاری مالی وسائل سے نجی سرمایہ کاری کی جانب بڑھنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ سرکاری وسائل کو نجی سرمایہ کاری کے لیے محرک کا کردار ادا کرنا چاہئے۔ انہوں نے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے واضح اور قابل پیش گوئی قواعد، معاہدوں پر مؤثر عمل درآمد، تنازعات کے تیز تر حل اور سرمایہ کاری سے متعلق مضبوط معاہدوں کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ پیداواری عوامل سے متعلق بازاروں میں اصلاحات کے حوالے سے جناب این کے سنگھ نے سرمایہ، محنت اور زمین کو اہم شعبے قرار دیا۔ انہوں نے بھارت میں سرمایہ کی نسبتاً زیادہ لاگت کا ذکر کرتے ہوئے ہنرمندی کی تربیت، عملی تربیتی پروگراموں اور یونیورسٹیوں اور صنعتوں کے درمیان مضبوط روابط کے ذریعے محنت کی پیداواری صلاحیت بڑھانے پر زور دیا۔ انہوں نے ریاستوں سے زمین کے مؤثر استعمال کو بہتر بنانے، منظوری کے عمل کو آسان بنانے اور زمین کے مضبوط ڈیجیٹل ریکارڈ تیار کرنے کی بھی اپیل کی۔

موضوعاتی اجلاس

پہلا موضوعاتی اجلاس ‘‘مجموعی معاشی جائزہ’’ کے عنوان سے منعقد ہوا، جس کی نظامت انشورنس ریگولیٹری اینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف انڈیا کے چیئرمین جناب اجے سیٹھ نے کی۔ اس موضوعاتی اجلاس میں جے پی مورگن کے منیجنگ ڈائریکٹر اور چیف انڈیا اکانومسٹ اور وزیر اعظم کی اقتصادی مشاورتی کونسل(  پی ایم- ای اے سی) کے جز وقتی رکن ڈاکٹر ساجد زیڈ چنائے نے کلیدی خطاب کیا۔

پینل میں تین موضوعات پر غور و خوض کیا گیا۔ پہلا موضوع ‘‘ وکست  بھارت 2047 کے لیے بچت اور سرمایہ کاری کی شرح میں اضافہ’’ تھا، جس پر سٹی بینک، بھارت کے چیف ماہر اقتصادیات ڈاکٹر سمیرن چکرورتی نے اظہار خیال کیا۔ دوسرا موضوع ‘‘اختراعی مالی وسائل کے ذریعے ریاستی سطح پر مالیاتی سنہری اصول’’ تھا، جس پر اندرا گاندھی انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ ریسرچ، ممبئی کی پروفیسر آشما گوئل نے گفتگو کی۔ تیسرا موضوع ‘‘مالیاتی مزاحمت کو بہتر بنانے اور وسائل متحرک کرنے کے لیے سرکاری مالیاتی نظام کو مضبوط بنانا’’  پر مدراس اسکول آف اکنامکس کے ڈائریکٹر پروفیسر این آر بھانومورتی نے اظہار خیال کیا۔

ایک خصوصی اجلاس میں کوٹک مہندرا بینک کے بانی اور نان ایگزیکٹیو ڈائریکٹر جناب ادے کوٹک نے شرکت کی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image006_20260919212512_6369d9.jpg

دوسرا دن

دوسرے دن کا آغاز ‘‘زرعی شعبے میں تبدیلی کے لیے مالی معاونت’’ کے موضوع پر اجلاس سے ہوا، جس کی نظامت محکمہ زراعت کے سابق سکریٹری ڈاکٹر دیویش چترویدی نے کی۔ اس اجلاس میں ایم سی ایکس کے چیئرمین اور عوامی مفاد کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ہرش کمار بھان والا نے کلیدی خطاب کیا۔

پینل میں ‘‘بازار تک رسائی اور قابل اعتماد زرعی مالی معاونت’’ کے موضوع پر سم اُنّتی کے بانی اور نان ایگزیکٹیو چیئرمین جناب انل کمار ایس جی نے اظہار خیال کیا۔ ‘‘فصل کی کٹائی کے بعد مارکیٹنگ، نقل و حمل کی معاونت، بنیادی ڈھانچے اور غذائی اشیاء کی تیاری سے متعلق مسائل’’ کے موضوع پر امریکہ کی جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر شومیترو چٹرجی نے گفتگو کی۔ جبکہ ‘‘زرعی شعبے میں تبدیلی کے تناظر میں ایسے مالیاتی وسائل کے بارے میں آئی ایف اے ڈی کے تجربات، جنہیں بڑے پیمانے پر نافذ کیا جاسکتا ہے یا جن پر مزید غور کرنے کی ضرورت ہے’’ کے موضوع پر بین الاقوامی فنڈ برائے زرعی ترقی (آئی ایف اے ڈی) کے کنٹری ڈائریکٹر اور جنوبی ایشیاء مرکز کے سربراہ ڈاکٹر مارک ڈی سوزا شیلڈ نے اظہار خیال کیا۔

تیسرا موضوعاتی اجلاس ‘‘توانائی کی منتقلی کے لیے مالی معاونت’’ کے عنوان سے منعقد ہوا، جس کی نظامت وزارت توانائی کے سابق سکریٹری جناب آلوک کمار نے کی۔ اس اجلاس میں وزیر اعظم کے مشیر جناب ترون کپور نے کلیدی خطاب کیا۔

پینل کے ارکان نے مختلف موضوعات پر اظہار خیال کیا۔ انڈی گرڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر جناب ہرش شاہ نے ‘‘قابل تجدید توانائی اور بجلی کی ترسیل کے اثاثوں کے لیے مالی معاونت’’ کے موضوع پر، ٹاٹا پاور کے منیجنگ ڈائریکٹر اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر ڈاکٹر پرویر سنہا نے ‘‘بیٹری توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام (بی ای ایس ایس) ، پمپڈ اسٹوریج منصوبوں (پی ایس پی) اور توانائی ذخیرہ کرنے کے دیگر حلوں کے لیے مالی معاونت’’ کے موضوع پر، جبکہ عالمی بینک کے جنوبی ایشیاء خطے میں توانائی اور کان کنی کے شعبوں کے پریکٹس منیجر اور سربراہ جناب راہل کچلو نے ‘‘کاربن کو جذب کرنے، استعمال کرنے اور ذخیرہ کرنے (سی سی یو ایس) کے لیے مالی معاونت اور کاربن کریڈٹ کا ایسا نظام وضع کرنا جس میں ملک کے قومی سطح پر طے شدہ تعاون (این ڈی سی) کے اہداف کو اولین ترجیح حاصل ہو’’ کے موضوع پر پریزنٹیشن پیش کی۔

تمام اجلاس میں ریاستی حکومتوں نے اپنے تجربات بھی پیش کیے، جس سے مالی معاونت کی ترجیحات اور درپیش چیلنجز کے حوالے سے مختلف نقطہ ہائے نظر کے تبادلے کا موقع ملا۔

خصوصی اجلاس

دو خصوصی اجلاسوں میں بھارت کی ترقی کے سفر کے ابھرتے ہوئے مختلف پہلوؤں پر غور کیا گیا۔ وزارت شماریات و پروگرام عمل درآمد(ایم او ایس پی آئی) کے سکریٹری ڈاکٹر سوربھ گرگ نے ‘‘مجموعی ریاستی گھریلو پیداوار (جی ایس ڈی پی)  کے تناظر میں بھارت کے ‘ وکست بھارت’ کے سفر کی پیمائش’’ کے موضوع پر اظہار خیال کیا، جبکہ وزارت الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی (ایم ای آئی ٹی وائی) کے سکریٹری جناب ایس کرشنن نے ‘‘ وکست بھارت کی جانب بھارت کے سفر میں جدید دور کی ٹیکنالوجی کا کردار’’ کے موضوع پر گفتگو کی۔


https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image007_20260919212542_4e32ef.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image008_20260919212550_66ba25.jpg

 

اختتامی اجلاس

اختتامی اجلاس میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے حکومت ہند کے چیف اقتصادی مشیر ڈاکٹر وی اننتھا ناگیشورن نے کہا کہ کانفرنس نے مرکز اور ریاستوں کو وسائل پیدا کرنے اور ان کی تقسیم سے متعلق روایتی بحث سے آگے بڑھ کر آئندہ دو دہائیوں کے دوران بھارت کی ترقی کے لیے درکار مالی وسائل پر اجتماعی طور پر غور و خوض کرنے کا ایک اہم موقع فراہم کیا۔ انہوں نے کہا کہ بات چیت کا معیار اور ریاستوں کی جانب سے اپنے نقطہ ہائے نظر کھل کر پیش کرنے کے انداز نے اس کانفرنس کے سالانہ انعقاد کی ضرورت کو مضبوطی سے واضح کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت میں بچت کا بنیادی حجم خاطر خواہ ہے اور اسے مزید بڑھانے کی ضرورت ہوگی، تاہم ‘‘ وکست  بھارت’’ کے لیے درکار سرمایہ کاری کو متحرک کرنے کے لیے نجی سرمائے کی کہیں زیادہ وسیع پیمانے پر شمولیت ناگزیر ہوگی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image009_20260919212602_eb915e.jpg

ڈاکٹر وی اننتھا ناگیشورن نے ریاستوں کے لیے تین ترجیحات بیان کیں: پہلی، زمین، بجلی اور نقل و حمل کی سہولیات کی دستیابی کے ساتھ مؤثر ایک ہی جگہ منظوری کے نظام کو یقینی بناکر نجی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا؛ دوسری، مضبوط منصوبہ سازی اور قابل اعتماد منصوبہ جاتی رپورٹوں کے ذریعے سرمایہ کاری کے معیار کو بہتر بنانا، تاکہ ملکی اور کثیر ملکی مالی اداروں سے مالی معاونت حاصل کرنے میں آسانی ہو، ساتھ ہی ترقی کے امکانات رکھنے والے اور اب تک کم مالی سہولیات حاصل کرنے والے اضلاع کی جانب قرض کا رخ کرنا؛ اور تیسری، مالی پابندیوں کے باوجود ریاستوں کی اپنی سرمایہ جاتی اخراجات میں اضافہ کرنا۔ اس ضمن میں انہوں نے جناب سدھیر شریواستو کی اس تجویز کا حوالہ دیا کہ مالی سال 32-2031 تک مجموعی ریاستی گھریلو پیداوار (جی ایس ڈی پی) کے تقریباً2.4 فیصد کے موجودہ سرمایہ جاتی اخراجات کو بڑھا کر 3 فیصد کیا جائے۔

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ‘‘وکست بھارت کا انحصار وکست راجیہ پر ہے’’،ڈاکٹر ناگیشورن نے کہا کہ ریاستوں کی جانب سے پیش کیے گئے تجربات، جاری ضابطہ جاتی نرمی کی کوششوں اور ماہرین کی سفارشات کو آگے بڑھاتے ہوئے واضح ذمہ داریوں اور مقررہ مدت کے ساتھ شراکت داری میں تبدیل کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے اپنی بات ختم کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے سامنے بیک وقت دو اہم تقاضے ہیں: 2047 تک طویل مدتی ترقی کے سفر کو برقرار رکھنا اور اگلے پانچ برسوں کے دوران وسائل کو تیزی سے متحرک کرنا، کیونکہ اس عرصے میں عالمی سطح پر مالی وسائل کے حصول کے مواقع دستیاب رہیں گے۔

دو روزہ کانفرنس کے اختتامی اجلاس میں اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے چیئرمین جناب چلاّ سرینواسولو سیٹّی نے ‘‘بینکاری شعبے سے مالی وسائل کے ذرائع’’ کے موضوع پر خطاب کیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image010_20260919212612_b740f1.jpg

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

*****

 

 

 

ش ح۔ض ر۔ش ت

U.NO-3850

 


(ریلیز آئی ڈی: 2313012) وزیٹر کاؤنٹر : 8