زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

جنوبی ریاستوں کے زرعی روڈ میپ پر تبادلۂ خیال؛ مرکزی وزیر زراعت جناب شیوراج سنگھ چوہان نے حیدرآباد میں علاقائی زراعت کانفرنس سے خطاب کیا


ہمیں صرف کھانے، ملنے یا بیٹھنے کے بجائے نتائج دینے چاہئیں؛ اگر کوئی کام نہیں کیا گیا تو یہ دھوکہ دہی کے مترادف ہوگا: جناب شیوراج سنگھ چوہان

مرکز اور ریاستیں ٹیم ایگریکلچر کا حصہ ہیں؛ سائنس دانوں اور کسانوں کے درمیان رابطے کو مضبوط بنانا ضروری ہے: مرکزی وزیر زراعت

کانفرنس میں کیے گئے وعدے مقررہ مدت کے اندر پورے کیے جانے چاہئیں، ورنہ پوری مشق بے سود ثابت ہوگی: جناب شیوراج سنگھ چوہان

تلنگانہ اور کرناٹک نے فارمر آئی ڈی بنانے میں 75 فیصد سے زیادہ پیش رفت حاصل کی ہے؛ کیرالہ، تمل ناڈو اور انڈمان و نکوبار جزائر کو مزید محنت کی ضرورت ہے: مرکزی وزیر زراعت

ریاستوں کو ایگری اسٹیک اور فارمر آئی ڈی پر بروقت کام کرنا چاہیے: جناب شیوراج سنگھ چوہان

ریاستوں کو فارمر رجسٹری کے ساتھ زمین کے پارسل منسلک کرنے اور زمینی ریکارڈ کے اعداد و شمار کو مربوط کرنے کے کام میں تیزی لانی چاہیے: جناب شیوراج سنگھ چوہان

کسان 13 علاقائی زبانوں میں بھارت وستار سے مستفید ہوں گے؛ وہ اپنی زبان میں سوال پوچھ سکیں گے اور مشورہ حاصل کر سکیں گے: جناب شیوراج سنگھ چوہان

سائنس دانوں کو کسانوں تک لے کر جائیں تاکہ لیب سے تحقیق کو کھیتوں تک پہنچایا جا سکے: جناب شیوراج سنگھ چوہان

ہندوستان کو زراعت میں عالمی رہنما اور دنیا کی فوڈ باسکٹ بننا ہے؛ یہ ناممکن نہیں ہے: جناب شیوراج سنگھ چوہان

اٹھائیس تا انتس ( 28-29 ستمبر) ستمبر کو دہلی میں ربیع کانفرنس منعقد ہوگی؛ ریاستوں کے فصل وار منصوبوں کو حتمی شکل دی جائے گی: جناب شیوراج سنگھ چوہان

کرناٹک اور تمل ناڈو جیسی بڑی ریاستیں علاقائی زراعت کانفرنس میں شریک نہیں ہوئیں، حتیٰ کہ ان کے وزرائے زراعت نے بھی شرکت نہیں کی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 18 SEP 2026 8:07PM by PIB Delhi

مرکزی زراعت اور کسانوں کی بہبود کے وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے جنوبی ریاستوں کی علاقائی زراعت کانفرنس کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ریاستوں پر زور دیا کہ وہ زرعی شعبے میں طے شدہ اہداف اور کیے گئے وعدوں کو مقررہ مدت کے اندر پورا کریں۔ انہوں نے کہا کہ ریاستوں کو دن بھر ہونے والی بات چیت کے دوران سامنے آنے والے قابلِ عمل نکات پر سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے۔

مرکزی وزیر نے کہا کہ مرکز اور ریاستیں مل کر زراعت کی ٹیم ہیں۔ ہمارے سائنس دان، ہمارے کسان اور مرکزی و ریاستی حکومتوں کے افسران، سب ہندوستان کی زرعی ٹیم کا حصہ ہیں اور سب ایک ہیں۔ ہمیں مل کر کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کانفرنس میں ریاستوں کی جانب سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنا ضروری ہے، ورنہ یہ پوری مشق بے سود ثابت ہوگی۔

جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ اگر کسی ریاست نے کسانوں کی شناخت کا کام دسمبر تک مکمل کرنے کا عہد کیا ہے تو اسے یہ کام دسمبر تک مکمل کر لینا چاہیے۔ انفرادی کاموں کو بار بار دہرانے کی ضرورت نہیں، بلکہ ان پر عمل درآمد ضروری ہے۔

ہمیں نتائج دینے چاہئیں، محض کھانے، ملنے اور بیٹھنے سے کام نہیں چلے گا

مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ اگر کانفرنس کے بعد طے شدہ کاموں پر عمل درآمد نہیں کیا گیا تو پوری کوشش یا قواعد بے کار ثابت ہوگی۔ انہوں نے کہا، ’’اگر ہم ایک دن آئیں، کھائیں، ملیں، بیٹھیں اور پھر کچھ نہ کریں تو یہ عوام کو دھوکہ دینے کے مترادف ہوگا۔ ہمیں ایسا نہیں کرنا چاہیے؛ ہمیں نتائج دینے چاہئیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ انہیں پورا یقین ہے کہ اوپر سے نیچے تک، وزیر زراعت اور پوری ٹیم مل کر کام کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد صرف ہنگامہ برپا کرنا نہیں بلکہ موجودہ صورتحال کو تبدیل کرنا ہے۔ ہم اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے جب تک ہم زراعت کا چہرہ تبدیل نہیں کر لیتے۔

مرکزی وزیر نے یہ بھی کہا کہ ’’ وکست کرشی سنکلپ ابھیان (ترقی یافتہ زراعت کے حل کی مہم)‘‘ کے دوران یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ جب بھی ریاستیں کوئی تاریخ طے کریں گی، حکومتِ ہند اور کرشی وگیان کیندر (کے وی کے )کے سائنس دان ان کے ساتھ موجود ہوں گے۔ سائنس دان گاؤں اور کھیتوں کا دورہ کریں گے، کسانوں کے ساتھ بیٹھیں گے اور کسان، سائنس دان اور محکمۂ زراعت کے افسران مل کر متعلقہ امور پر تبادلۂ خیال کریں گے۔

ریاستوں کو فارمر آئی ڈی اور ایگری اسٹیک پر کام تیز کرنا چاہیے

جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ تمام ریاستوں نے ایگری اسٹیک کی اہمیت کو سمجھ لیا ہوگا۔ فارمر آئی ڈی بنانے کے عمل میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ تلنگانہ اور کرناٹک میں اس کی تکمیل کی شرح 75 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے۔ تمل ناڈو، کرناٹک اور تلنگانہ میں جیو ریفرنسنگ کے کام میں بھی اچھی پیش رفت ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انڈمان اور نکوبار جزائر، آندھرا پردیش، تلنگانہ، کرناٹک اور کیرالہ نے ڈیجیٹل فصل سروے کا کام مکمل کر لیا ہے، جبکہ کسانوں کی شناخت بنانے کے سلسلے میں جن ریاستوں کو ابھی مزید محنت کرنے کی ضرورت ہے، ان میں کیرالہ، تمل ناڈو اور انڈمان و نکوبار جزائر شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فارمر آئی ڈی کا عمل مقررہ مدت میں مکمل کرنا انتہائی ضروری ہے، کیونکہ مستقبل میں زراعت کے شعبے کے بہت سے نظام اسی پر منحصر ہوں گے۔ انہیں توقع ہے کہ کوئی بھی ریاست پیچھے نہیں رہے گی۔

لینڈ ریکارڈ اور فارمر رجسٹری کے درمیان تال میل ضروری ہے

مرکزی وزیر زراعت جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ جہاں زمین کے پارسل اب تک منسلک نہیں کیے گئے ہیں، خاص طور پر تمل ناڈو اور کیرالہ میں، وہاں یہ کام تیزی سے مکمل کیا جانا چاہیے۔ کیرالہ کو فارمر رجسٹری کے ساتھ زمینی ریکارڈ کے اعداد و شمار کو بھی مربوط کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی ریاستوں کو کرایہ دار کسانوں کے لیے معیاری عملی طریقۂ کار (ایس او پیز) تیار کرکے مطلع کرنے کی ضرورت ہے۔ کرناٹک، کیرالہ، تمل ناڈو اور انڈمان و نکوبار جزائر کو اس سمت میں کام کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پڈوچیری اور لکشدیپ کو گاؤں کے نقشوں کی جیو ریفرنسنگ کا کام مکمل کرنا ہوگا۔

بھارت وستار 13 علاقائی زبانوں میں کسانوں تک پہنچے گا

جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ کسانوں کو روزانہ بے شمار مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کسان ہر مسئلے کے لیے کہیں بھاگ کر نہیں جا سکتا، اس لیے موبائل پر صرف ایک نمبر ڈائل کرکے مناسب مشورہ حاصل کیا جا سکے۔ اسی لیے بھارت وستار کو اس مقصد سے تیار کیا گیا ہے کہ صرف ایک موبائل نمبر ڈائل کرکے مناسب مشورہ حاصل کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ یہ سہولت فی الحال ہندی اور انگریزی میں دستیاب ہے اور اسے تمل، تیلگو، کنڑ اور ملیالم سمیت 13 علاقائی زبانوں تک توسیع دی جائے گی۔ کسان اپنی زبان میں سوال پوچھیں گے اور اسی زبان میں جواب حاصل کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ آج آندھرا پردیش کے وزیر زراعت نے تیلگو میں بات کی۔ اپنی زبان میں خیالات کا اظہار کرنا واقعی زیادہ مؤثر اور درست ہوتا ہے۔ کسان اپنی زبان کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں، اس لیے اس نظام کو ریاستوں کے ساتھ مل کر جلد از جلد نافذ کیا جانا چاہیے۔ ریاستی اسکیموں کے انضمام کے عمل کو بھی تیز کرنا ہوگا۔

لیب سے زمین تک تحقیق

مرکزی وزیر زراعت جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ ریاستیں اپنی سہولت کے مطابق 15 یا 20 روزہ مہمات کا شیڈول بنا سکتی ہیں، اور حکومتِ ہند کے سائنس دان اسی وقت ریاستوں میں پہنچ جائیں گے۔ ہمارے پاس 16,000 سائنس دان ہیں۔ آئی سی اے آر کے ادارے، کے وی کے اور زرعی یونیورسٹیاں صرف تحقیق کے لیے نہیں ہیں، بلکہ تحقیق کو کسانوں تک پہنچانے کے لیے بھی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب تک کسان اور سائنس دان مل کر کام نہیں کریں گے اور تحقیق کسانوں تک، یعنی لیب سے زمین تک، نہیں پہنچے گی، تب تک اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

ہندوستان زراعت میں عالمی رہنما بنے گا*

مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ وزیر زراعت کی حیثیت سے وہ ہندوستان کو زراعت کے شعبے میں عالمی رہنما بنانے کے لیے پوری لگن اور ایمانداری سے کام کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کو دنیا کی فوڈ باسکٹ بنانا قابلِ حصول ہدف ہے۔ یہ ناممکن نہیں ہے؛ یہ ضرور حاصل ہوگا، لیکن اس کے لیے ہم سب کو سخت محنت کرنا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی زراعت میں نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں اور ہندوستان کو زراعت کے شعبے میں عالمی رہنما بنانے کے لیے مزید تبدیلیاں کی جائیں گی۔

ربیع کانفرنس 28 اور 29 ستمبر کو دہلی میں منعقد ہوگی

مرکزی وزیر زراعت جناب شیوراج سنگھ چوہان نے اعلان کیا کہ 28 اور 29 ستمبر کو دہلی کے پوسا انسٹی ٹیوٹ میں ربیع کانفرنس کا انعقاد کیا جائے گا، جہاں تمام ریاستوں کے وزرائے زراعت اور حکام اپنی اپنی ٹیموں کے ساتھ ربیع سیزن کے لیے ایک جامع منصوبہ پیش کریں گے۔

اس میں یہ طے کیا جائے گا کہ ہر فصل کے لیے کتنے رقبے میں کون سی فصل بوئی جائے گی۔ ان تیاریوں کو کانفرنس میں حتمی شکل دی جائے گی۔ اس کی بنیاد پر بیجوں کی دستیابی، کھاد کی ضروریات اور دیگر ضروری وسائل کا جائزہ لے کر مزید منصوبہ بندی کی جائے گی۔

 

***

 

UR-3769

(ش ح۔اس ک  )

 


(ریلیز آئی ڈی: 2312279) وزیٹر کاؤنٹر : 9