وزارت دفاع
azadi ka amrit mahotsav

وزیر دفاع اور شہری ہوابازی کے وزیر کی موجودگی میں ایچ اے ایل نے فضائیہ کو دو ایل سی اے ایف او سی ٹوئن سیٹر ٹرینر اور تین ایچ ٹی ٹی-40 بنیادی تربیتی طیارے، پی ایچ ایل کو چار دھرو این جی ہیلی کاپٹر حوالے کیے


یہ تقریب ہندوستان کی دیسی خلائی صلاحیت، تکنیکی خود اعتمادی اور آتم نربھرتا کی جانب پیش رفت میں ایک اہم سنگ میل ہے: جناب  راج ناتھ سنگھ

’’خود انحصاری اور عالمی مسابقت حاصل کرنے کے لیے دیسی خلائی صلاحیت انتہائی اہم‘‘

وزیر دفاع نے جدید ترین دیسی خلائی  صلاحیتوں کی تکمیل کے لیے سرکاری و نجی شعبے کے درمیان بہتر تال میل پر زور دیا

’’نوجوان سائنس دانوں اور انجینئروں کو ہندوستان کی عالمی خلائی قیادت کو یقینی بنانے کے لیے تبدیلی لانے والی ٹیکنالوجیاں تیار کرنی چاہئیں‘‘

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 18 SEP 2026 7:34PM by PIB Delhi

ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (ایچ اے ایل) نے 18 ستمبر 2026 کو کرناٹک کے بنگلورو میں وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ اور شہری ہوابازی کے وزیر جناب کے رام موہن نائیڈو کی موجودگی میں ہندوستانی فضائیہ (آئی اے ایف) کو دو لائٹ کامبیٹ ایئرکرافٹ (ایل سی اے) تیجس فائنل آپریشنل کلیئرنس (ایف او سی) ٹوئن سیٹر ٹرینر اور تین ایچ ٹی ٹی-40 بنیادی تربیتی طیارے، جبکہ پون ہنس لمیٹڈ (پی ایچ ایل) کو چار دھرو نیکسٹ جنریشن (این جی) ہیلی کاپٹر حوالے کیے۔اپنے خطاب میں وزیر دفاع نے طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کی حوالگی کو ملک کی دیسی ایرو اسپیس صلاحیت، تکنیکی خود اعتمادی اور خود انحصاری کی جانب پیش رفت میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا، ’’ہمارا مقصد ہندوستان کو اپنی ایرو اسپیس ضروریات پوری کرنے کے معاملے میں باصلاحیت، خود کفیل اور عالمی سطح پر مسابقتی بنانا ہے۔‘‘

 

 

جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ہندوستان دفاعی شعبے میں آتم نربھرتا کی جانب منظم انداز میں آگے بڑھ رہا ہے، کیونکہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت والی حکومت نے خود انحصاری کے بنیادی منتر کے ساتھ کام شروع کرنے کے بعد سے ملک میں جدید ترین سازوسامان تیار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم نے نہ صرف دفاعی شعبے میں دفاعی سرکاری شعبے کی کمپنیوں (ڈی پی ایس یوز) کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں بلکہ نجی صنعت کی حوصلہ افزائی بھی کی ہے اور اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ سب کے لیے یکساں مواقع موجود ہوں۔‘‘ انہوں نے خود انحصاری کو فروغ دینے کے لیے وزارت دفاع کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کا بھی ذکر کیا۔

وزیر دفاع نے خلائی شعبے میں منظم انداز میں آگے بڑھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس شعبے میں خود انحصاری وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ خلائی نظام کی ترقی میں اچانک ’بگ بینگ‘ نہیں ہوسکتا۔ یہ ایک وسیع اور بتدریج عمل ہے، جس میں مختلف اقسام کے اجزا شامل ہوتے ہیں۔ اس میں شامل تمام مصنوعات اور اجزا ایک طویل سیڑھی کے چھوٹے چھوٹے زینوں کی مانند ہیں؛ ہمیں ایک وقت میں ایک قدم آگے بڑھنا ہوگا۔ ظاہر ہے کہ چیلنجز درپیش ہوں گے، لیکن خلاء جیسے پیچیدہ اور اہم شعبے میں پیش رفت کے لیے ہمیں انہیں ایک بڑے روڈ میپ پر سنگ میل کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔‘‘

جناب راج ناتھ سنگھ نے حوالگی کی تقریب کو شہری ہوابازی اور دفاعی خلائی صلاحیتوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تال میل کی علامت بھی قرار دیا۔ انہوں نے زور دیا کہ مضبوط خلائی صنعت کی ترقی صرف دفاعی ضروریات پوری کرنے تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے شہری اور فوجی، دونوں شعبوں کی ہوابازی کی ضروریات کو مؤثر طریقے سے پورا کرنے کے قابل ایک مکمل ماحولیاتی نظام تیار کرنے پر زور دیا۔

انہوں نے کہا، ’’جب طیاروں کے ڈیزائن، ایویونکس، پروپلشن، کمپوزٹ میٹریل، فلائٹ کنٹرول سسٹم، مینوفیکچرنگ اور سرٹیفکیشن جیسی صلاحیتیں ملک کے اندر ہی تیار کی جاتی ہیں تو اس سے پورے خلائی شعبے کو فائدہ ہوتا ہے۔ ہمیں ایک ایسا مربوط خلائی ماحولیاتی نظام تشکیل دینا ہوگا جو ہر شعبے میں خود کفیل ہو۔ مجھے یقین ہے کہ ہم اپنی اجتماعی طاقت کے ذریعے اس کوشش کو کامیابی سے آگے بڑھا سکتے ہیں۔‘‘

 

جنگ کی نوعیت تیزی سے بدلنے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ مستقبل میں فضائی کارروائیاں معلومات پر مبنی اور ٹیکنالوجی سے چلنے والی ہوں گی، اس لیے پیچیدہ نظام ملک میں ہی تیار کرنا انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگی مؤثریت صرف اچھی تربیت یافتہ اہلکاروں، جدید ٹیکنالوجی، مربوط نظام اور تیز رفتار فیصلہ سازی کے امتزاج سے یقینی بنائی جاسکتی ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ ایل سی اے ایف او سی ٹرینر اس مشکل آپریشنل ماحول کے لیے پائلٹوں کو تیار کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا، ’’جہاں دھرو این جی ہماری دیسی سول خلائی صلاحیت کی مثال ہے، وہیں ایل سی اے ایف او سی ٹرینر دیسی فوجی خلائی صلاحیت اور اس کے لڑاکا طیاروں کے ماحولیاتی نظام کی پختگی کی علامت ہے۔‘‘

ایچ ٹی ٹی-40 کے بارے میں جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ہندوستان کئی برسوں سے بنیادی تربیتی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمد شدہ طیاروں پر انحصار کرتا رہا ہے، لیکن اب ایچ اے ایل ہندوستانی فضائیہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایچ ٹی ٹی-40 طیارہ ملک میں ہی تیار کر رہی ہے۔ طیارے کی برآمدی صلاحیت کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ ایچ ٹی ٹی-40 کو بین الاقوامی منڈیوں میں بھی طلب حاصل ہوگی اور یہ ہندوستان کی خلائی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے میں اپنا مطلوبہ کردار ادا کرے گا۔

وزیر دفاع نے طیاروں کی تیاری، ہیلی کاپٹروں کی تیاری، اوور ہال، مرمت، دیکھ بھال اور خلائی انجینئرنگ کے شعبوں میں ایچ اے ایل کی مہارت کو اجاگر کرتے ہوئے اسے ہندوستان میں دیسی خلائی صلاحیتیں تیار کرنے کی کوششوں کا ایک اہم ستون قرار دیا۔ انہوں نے دفاعی سرکاری شعبے کی کمپنی سے کہا کہ وہ ڈیزائن، ترقی، تیاری، سرٹیفکیشن، لائف سائیکل سپورٹ اور عالمی مارکیٹنگ سمیت ایرو اسپیس ویلیو چین کے تمام شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کو مزید وسعت دے۔

جناب راج ناتھ سنگھ نے جاری تکنیکی منصوبوں میں تاخیر سے نمٹنے کے لیے حقیقت پسندانہ منصوبہ جاتی مدت مقرر کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ تاخیر سے اہم دفاعی ضروریات پوری کرنے میں خلا پیدا ہوسکتا ہے، اخراجات میں اضافہ ہوسکتا ہے اور ٹیکنالوجی کے فرسودہ ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

وزیر دفاع نے تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) کو ایک اہم ترجیحی شعبہ قرار دیتے ہوئے نوجوان سائنس دانوں، انجینئروں، ڈیزائنروں، ٹیسٹ پائلٹوں اور تکنیکی ماہرین پر زور دیا کہ وہ ایسی ٹیکنالوجیز تیار کرنے کا چیلنج قبول کریں جو آج موجود نہیں ہیں۔ انہوں نے ان سے اپیل کی کہ وہ ایسی صلاحیتیں تیار کریں جو آئندہ دہائی کے دوران عالمی ایرو اسپیس ٹیکنالوجی کے منظرنامے میں ہندوستان کو قائدانہ مقام دلانے میں مدد کریں۔

 

جناب راج ناتھ سنگھ نے سرکاری اور نجی شعبوں کو ایک دوسرے کا حریف سمجھنے کے بجائے باہمی تعاون کرنے والا شراکت دار سمجھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا، ’’جدید ترین دیسی خلائی صلاحیتیں تیار کرنے کے لیے سرکاری اور نجی شعبے کے درمیان بہتر تال میل ضروری ہے۔ مل کر کام کرنے سے ہم ہندوستان کے خلائی شعبے کی ترقی کو تیز کرسکتے ہیں۔ ہمیں مصنوعی ذہانت، خودکار نظام، بغیر پائلٹ کے فضائی نظام، الیکٹرانک وارفیئر، سائبر ٹیکنالوجیوں اور جدید ترین پروپلشن کے ذریعے اس شعبے میں ہونے والی تبدیلی کے لیے تیار رہنا ہوگا، جس میں ان کی دیسی ترقی اور انضمام پر بھرپور توجہ دی جائے۔ آئیے ہم سب عزم کریں کہ ہندوستان کو نہ صرف خلائی ٹیکنالوجی کے شعبے میں خود کفیل بنائیں گے بلکہ عالمی رہنما بھی بنائیں گے۔‘‘

اس موقع پر شہری ہوابازی کے وزیر جناب کے رام موہن نائیڈو نے کہا کہ دھرو این جی کی سرٹیفکیشن اور سول آپریشنز میں شمولیت ہندوستان کے دیسی شہری ہوابازی کے ماحولیاتی نظام کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے۔ انہوں نے اسے تجارتی استعمال کے لیے جدید ایرو اسپیس پلیٹ فارم تیار کرنے اور ان کی معاونت کرنے کی ہندوستانی صنعت کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کا عکاس قرار دیا۔

ایچ اے ایل کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر جناب روی کے نے کہا کہ تیجس ایف او سی ٹوئن سیٹر ٹرینرز، ایچ ٹی ٹی-40 بنیادی تربیتی طیاروں اور دھرو این جی ہیلی کاپٹروں کی حوالگی مختلف شہری اور دفاعی ضروریات کے لیے پلیٹ فارم تیار کرنے اور فراہم کرنے کی ایچ اے ایل کی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دونوں پلیٹ فارم ان صلاحیتوں کی گہرائی کی عکاسی کرتے ہیں جو ایچ اے ایل نے برسوں کے دوران تیار کی ہیں اور اس دیسی ایرو اسپیس ماحولیاتی نظام کی مضبوطی کو ظاہر کرتے ہیں جو ان کی معاونت کرتا ہے۔

ایئر چیف مارشل اے پی سنگھ، سیکریٹری (دفاعی پیداوار) جناب سنجیو کمار اور وزارت شہری ہوابازی کے سیکریٹری جناب سمیر کمار سنہا نے بھی تقریب میں شرکت کی۔

 

ایل سی اے ٹوئن سیٹر ٹرینر طیارے ایف او سی معاہدے کے تحت فراہم کیے جانے والے آخری دو طیارے ہیں۔ یہ طیارے ہندوستانی فضائیہ کی تربیتی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ پائلٹوں کو اگلے محاذ کے لڑاکا طیاروں کی کارروائیوں کے لیے دیسی تربیتی سلسلہ فراہم کریں گے۔ تیجس ٹرینر میں اگلے محاذ کے لڑاکا طیارے کے بنیادی نظام اور جنگی صلاحیت برقرار رکھی گئی ہے، جس سے پائلٹ اسی طیارے پر تربیت حاصل کرسکیں گے جسے وہ بعد میں سروس میں استعمال کریں گے۔

 

ایچ ٹی ٹی-40 (ہندوستان ٹربو ٹرینر-40) ملک میں ڈیزائن اور تیار کیا گیا بنیادی تربیتی طیارہ ہے، جسے دفاعی افواج کی ابتدائی تربیتی ضروریات پوری کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ یہ طیارہ آزمودہ ٹربوپراپ انجن کے ساتھ تیار کیا گیا ہے اور اسے کم رفتار پر بہتر کنٹرول اور زیر تربیت پائلٹوں کو مؤثر تربیت فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

اس میں جدید کاک پٹ اور ایویونکس نظام نصب ہے اور یہ بنیادی تربیت اور پرواز سے متعلق مختلف امور انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، جن میں ایروبیٹکس، عمومی پرواز کی تربیت، آلات کے ذریعے پرواز، نیویگیشن، رات میں پرواز اور قریبی فارمیشن میں پرواز شامل ہیں۔

 

دھرو این جی ایچ اے ایل کے شہری اور تجارتی روٹری وِنگ شعبے میں داخلے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ شہری آپریشنز کے لیے تیار کیے گئے اس ہیلی کاپٹر میں جدید نظام، جدید ایویونکس اور زیادہ طاقتور انجن شامل کیا گیا ہے۔یہ ہیلی کاپٹر مسافروں کی آمدورفت، ہنگامی طبی خدمات اور آف شور لاجسٹکس سپورٹ سمیت مختلف مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

************

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

(U :3764  )


(ریلیز آئی ڈی: 2312258) وزیٹر کاؤنٹر : 12