ریلوے کی وزارت
بھارتی ریلوے نے مکٹبن (عادل آباد) اور گڈچاندور کے درمیان 38.21 کلومیٹر طویل نئی ریلوے لائن کے لیے 493 کروڑ روپے کی منظوری دی
نئی ریلوے لائن سے مختصر ریل روٹ میسر ہوگا، مال برداری رابطے مضبوط ہوں گے اور صنعتی و معدنی ترقی کو فروغ ملے گا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
18 SEP 2026 11:23AM by PIB Delhi
علاقائی ریل رابطوں کو مضبوط بنانے اور مسافروں و مال برداری کی تیز تر اور زیادہ مؤثر آمدورفت کو آسان بنانے کی سمت میں ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے بھارتی ریلوے نے جنوبی وسطی ریلوے کے تحت مکٹبن (عادل آباد) اور گڈچاندور کے درمیان 38.21 کلومیٹر طویل نئی ریلوے لائن کی تعمیر کی منظوری دے دی ہے۔ اس منصوبے پر 493 کروڑ روپے کی لاگت آئے گی۔
صنعتی اور معدنی مراکز سے ریل رابطے مضبوط ہوں گے
یوتمل ضلع کا مکٹبن اور چندرپور ضلع کا گڈچاندور اہم صنعتی اور معدنی مراکز ہیں، جہاں سیمنٹ کے کئی کارخانے، ویسٹرن کول فیلڈز لمیٹڈ کی کوئلے کی کانیں اور قریبی چونے کے پتھر کی کانیں واقع ہیں۔ نئی ریلوے لائن ان صنعتی مراکز سے ریل رابطے کو مضبوط بنائے گی اور مال برداری کی زیادہ مؤثر آمدورفت میں سہولت فراہم کرے گی۔
مختصر راستے سے مال برداری میں بہتری اور موجودہ نیٹ ورک پر بوجھ میں کمی
نئی ریلوے لائن ایک مختصر اور زیادہ مؤثر ریلوے روٹ فراہم کرے گی، جس سے سفر کا فاصلہ، نقل و حمل میں لگنے والا وقت اور متعلقہ اخراجات کم ہوں گے۔ اس کے علاوہ، یہ موجودہ وردھا-منک گڑھ سیکشن کے متبادل راستے کے طور پر کام کرے گی، جس سے اس سیکشن پر ٹریفک کا بوجھ کم ہوگا اور مال برداری کی آمدورفت زیادہ ہموار ہو سکے گی۔
تفصیلی منصوبہ رپورٹ کے مطابق، منصوبہ مکمل ہونے کے بعد روزانہ دونوں سمتوں میں دو دو میمو ٹرینوں کے علاوہ 6.08 ملین ٹن سالانہ مال برداری کی آمدورفت کی توقع ہے۔ مال برداری میں کوئلہ اور کوک، سیمنٹ، اسپنج آئرن، دھاتی اسکریپ، لوہا اور اسٹیل، کھاد اور غذائی اجناس سمیت دیگر اشیا شامل ہوں گی۔
مجری-ناندیڑ راستے اور اہم مقامات سے براہ راست کنیکٹویٹی
نئی ریلوے لائن کوئلے اور سیمنٹ کے صنعتی مرکز کو مجری-ناندیڑ راستے سے براہ راست جوڑے گی، جس سے کوئلہ، سیمنٹ اور آر ایم ایس پی کی کھیپ کو مہاراشٹر اور کرناٹک کے جالنا، پربھنی، چھترپتی سمبھاجی نگر اور دیگر مقامات تک کم فاصلے کے راستے سے پہنچانے میں سہولت ہوگی۔
بھیڑ بھاڑ والے بلہار شاہ-ناگپور راستے پر انحصار میں کمی
یہ منصوبہ بھیڑ بھاڑ والے بلہار شاہ-ناگپور ہائی ڈینسٹی نیٹ ورک (ایچ ڈی این) راستے پر انحصار کم کرے گا، جبکہ یوتمل اور چندرپور اضلاع کے نسبتاً کم ریل رابطے والے علاقوں میں ریل رابطے کو بہتر بنائے گا۔ اس سے بہتر ریلوے بنیادی ڈھانچے کے ذریعے خطے میں صنعتی اور اقتصادی ترقی کو فروغ ملے گا۔
علاقائی ریلوے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا
نئی ریلوے لائن علاقائی ریلوے نیٹ ورک کی گنجائش میں اضافہ کرے گی، ضروری اشیا کی آمدورفت میں سہولت فراہم کرے گی اور بڑھتی ہوئی مال برداری اور مسافروں کی ضروریات کے لیے ایک اضافی ریلوے راہداری مہیا کرے گی۔ اس منصوبے سے موجودہ ریلوے نیٹ ورک کے زیادہ مؤثر استعمال میں مدد ملنے کے ساتھ ساتھ صنعتی اور علاقائی اقتصادی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ش ح۔ع ح۔ ن م۔
U-3774
(ریلیز آئی ڈی: 2311855)
وزیٹر کاؤنٹر : 7