حکومت ہند کے سائنٹفک امور کے مشیر خاص کا دفتر
حکومت ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر پروفیسر اجے کمار سود نے شہروں میں کچرے کے انتظام کو بہتر بنانے کے لئے ڈجیٹل پلیٹ فارم کا آغاز کیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
17 SEP 2026 9:44AM by PIB Delhi
حکومت ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر پروفیسر اجے کمار سود نے 16 ستمبر 2026 کو ’بھارت میں ٹھوس کچرے کے انتظام (ایس ڈبلیو ایم) کی ٹیکنالوجیز کے لیے لائف سائیکل اسیسمنٹ (ایل سی اے) فریم ورک کی تیاری‘ کے منصوبے کے نتائج اور سفارشات کا جائزہ لینے کے لیے ایک اجلاس کی صدارت کی۔ سائنسی سکریٹری ڈاکٹر پروندر مینی بھی اس اجلاس میں موجود تھے۔ اجلاس میں پرنسپل سائنسی مشیر کے دفتر سے سائنس دان ’ایف‘ ڈاکٹر وشال چودھری، سائنس دان ’ڈی‘ ڈاکٹر حفصہ احمد، وزارت ہاؤسنگ اور شہری امور کی مرکزی صحت عامہ اور ماحولیاتی انجینئرنگ تنظیم کی ڈپٹی ایڈوائزر محترمہ شروَنتھی اور آئی آئی ایس سی بنگلور کے شعبہ سول انجینئرنگ کے پروفیسر (رٹائرڈ) پروفیسر ایم ایس موہن کمار، جو منصوبے کی جائزہ و نگرانی کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں، نے شرکت کی۔ منصوبے کے کنسورشیم میں آئی آئی ایس سی بنگلور سے پروفیسر لکشمی ناراینا راؤ اور پروفیسر چانکیہ ہویسال، آئی آئی ٹی مدراس سے پروفیسر آر وینو اور آئی آئی ٹی (بی ایچ یو) وارانسی سے پروفیسر آر ایس سنگھ کے علاوہ اہم تحقیقی معاونین شامل تھے، جو ایل سی اے ماڈلنگ، گرین ہاؤس گیسوں (جی ایچ جی) کے حساب کتاب اور ڈجیٹل ٹول کی تیاری کے ذمہ دار تھے۔ مدعو کردہ شہری مقامی اداروں (یو ایل بیز) کے نمائندوں نے بھی اجلاس میں ورچوئل طور پر شرکت کی۔

کچرے سے دولت مشن اور سوچھ بھارت مشن-اربن جیسے قومی مشنوں کے ویژن سے ہم آہنگ، پرنسپل سائنسی مشیر کے دفتر نے 2024 میں اس منصوبے کی حمایت کی تھی، جسے آئی آئی ایس سی بنگلور، آئی آئی ٹی مدراس اور آئی آئی ٹی (بی ایچ یو) وارانسی نے مشترکہ طور پر انجام دیا۔ اس منصوبے کا مقصد ملک کے حالات کے مطابق اور قومی سطح پر قابل اطلاق لائف سائیکل اسیسمنٹ (ایل سی اے) فریم ورک کے ساتھ گرین ہاؤس گیسوں(جی ایچ جی) کے اخراج کا حساب لگانے والی ویب ایپلی کیشن تیار کرنا تھا، تاکہ شہری مقامی اداروں (یو ایل بیز) کو کم کاربن اخراج والے ٹھوس کچرے کے انتظام کے نظام کی منصوبہ بندی، موازنہ اور اسے بہتر بنانے میں مدد مل سکے۔

منصوبے کی ٹیم نے کچرے کے انتظام کی مختلف ٹیکنالوجیز کا احاطہ کرنے والی ایل سی اے تحقیق کے نتائج پیش کیے، جس کے لیے بنگلور، میسور، تمکورو، چنئی، دہلی اور وارانسی کے مطالعاتی جائزوں کو بھی شامل کیا گیا تھا۔ جی ایچ جی کیلکولیٹر ایپ کی ایک مظاہراتی ویڈیو میں اس کی اہم خصوصیات اور یہ بتایا گیا کہ یہ شہری مقامی اداروں (یو ایل بیز) کو کچرے کے انتظام کی مختلف ٹیکنالوجیز اور عملی صورت حال سے وابستہ اخراج کی مقدار معلوم کرنے میں کس طرح مدد کر سکتی ہے۔ ٹیم نے کچرے کے انتظام کے متبادل طریقوں کا جائزہ لینے اور کم کاربن اخراج والے طریقوں کی نشاندہی کرنے کے لیے مختلف منظرناموں کے موازنہ کے ماڈیولز بھی پیش کیے۔ اس کے علاوہ، ہندوستانی کچرے کے انتظام کی ٹیکنالوجیز، جیسے بایومائننگ، این ایروبک ڈائجیشن، ویسٹ ٹو انرجی اور لینڈ فلنگ کے بارے میں ایل سی اے کے تفصیلی نتائج بھی پیش کیے گئے۔
اس منصوبے کے تحت تیار کردہ جی ایچ جی کیلکولیٹر ایپ درج ذیل سہولتیں فراہم کرتی ہے اور ان کو ممکن بناتی ہے:
- شہری مقامی اداروں (یو ایل بیز) کے لیے خصوصی طور پر تیار کردہ یہ آسان استعمال جی ایچ جی کیلکولیٹر ایپ موجودہ ٹھوس کچرے کے انتظام کے طریقوں سے ہونے والے اخراج کا باآسانی تجزیہ کرتی ہے۔
- ایپ میں کچرے کے انتظام کے عام طریق کار، جیسے این ایروبک ڈائجیشن، جلانا (ویسٹ ٹو انرجی)، کمپوسٹنگ، ری سائیکلنگ اور لینڈ فلنگ شامل ہیں۔
- ایپ خالص اخراج، اجتناب کیے گئے اخراج، نقل و حمل سے متعلق اخراج، کاربن فٹ پرنٹ اور مختلف گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج سے متعلق اعداد و شمار، جیسے میتھین، کاربن ڈائی آکسائیڈ، نائٹروجن آکسائیڈ (NOx) اور بلیک کاربن فراہم کرتی ہے۔
- ایپ شہری مقامی اداروں کو کچرے کے انتظام کے ایسے بہترین طریقوں کے مختلف منظرناموں کو دیکھنے میں مدد دیتی ہے جن کے نتیجے میں کم سے کم جی ایچ جی اخراج اور کم ترین کاربن فٹ پرنٹ حاصل ہوتا ہے۔
- ایپ کو نئے منصوبوں کے ماحولیاتی جائزے، مختلف مشاورتی اداروں کی جانب سے تیار کردہ تفصیلی منصوبہ جاتی رپورٹوں (ڈی پی آرز) اور ٹینڈروں کے لیے درکار لازمی ماحولیاتی کارکردگی کے اشاریوں کو پر کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
پروفیسر سود نے منصوبے کے تحت تیار کیے گئے ایل سی اے فریم ورک اور ایپلی کیشن کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ٹولز شہری مقامی اداروں کو منصوبہ بندی کے لیے سائنسی بنیاد فراہم کر سکتے ہیں اور ملک بھر میں ذہین، لچکدار اور کم اخراج والے ٹھوس کچرے کے انتظام کے نظام کی جانب منتقلی میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ڈاکٹر مینی نے اس منصوبے کو سوچھ بھارت مشن-اربن کے مقاصد سے ہم آہنگ قرار دیتے ہوئے ایسے ادارہ جاتی نظام وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیا جو ملک بھر میں اس طرح کے حل کے وسیع پیمانے پر نفاذ میں معاون ثابت ہو سکیں۔منصوبے میں موجودہ اور مستقبل کے ٹھوس کچرے کے انتظام کے نظام کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے حکمت عملی سے متعلق سفارشات بھی پیش کی گئیں۔ اس کے علاوہ، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے قابل، کم اخراج والے کچرے کے انتظام کی جانب بھارت کی منتقلی کے لیے قومی سطح کا لائحہ عمل بھی پیش کیا گیا۔

اجلاس کے دوران جاری کی گئی ’بھارت میں ٹھوس کچرے کے انتظام (ایس ڈبلیو ایم) کی ٹیکنالوجیز کے لیے لائف سائیکل اسیسمنٹ (ایل سی اے) فریم ورک کی تیاری‘ کے عنوان سے رپورٹ https://psa.gov.in/CMS/web/sites/default/files/publication/Integrated_Report_IISc_BHU_IITM_Final%20%281%29.pdf
دستیاب ہے۔
*****
ش ح – ظ الف – ش ب
UR No. 3686
(ریلیز آئی ڈی: 2311212)
وزیٹر کاؤنٹر : 8