نیتی آیوگ
جناب راجیو گوبا نے بھارت کو ترقی یافتہ ملک بنانے کے لیے برقی نقل و حرکت کو ’’اسٹریٹجک ضرورت‘‘ قرار دیا، نیتی آیوگ نے انڈیا الیکٹرک موبیلٹی انڈیکس کا دوسرا ایڈیشن جاری کیا ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
16 SEP 2026 2:50PM by PIB Delhi
جناب راجیو گوبا نے ریاستی برقی گاڑی پالیسیوں سے متعلق نیتی آیوگ کی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر برقی نقل و حرکت کی جانب منتقلی کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ اسی موقع پر انڈیا الیکٹرک موبیلٹی انڈیکس (آئی ای ایم آئی ) رپورٹ کا دوسرا ایڈیشن بھی جاری کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ 2025 میں امریکہ میں نئی کاروں کی فروخت میں برقی کاروں کا حصہ تقریباً ایک دسویں، یورپی یونین میں ایک چوتھائی سے زیادہ اور چین میں نصف سے زیادہ رہاہے۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے برسوں میں دنیا بھر میں ان حصوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ انہوں نے حالیہ مغربی ایشیا کے بحران کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ برقی نقل و حرکت کے لیے ایک اہم فیصلہ کن موڑ ثابت ہو سکتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے 1970 کی دہائی کے تیل کے بحرانوں نے زیادہ ایندھن کفایت کی جانب عالمی کوششوں کو تیز کیا تھا۔

انہوں نے وِکسِت بھارت 2047 کے وژن کے لیے اس تبدیلی کو ’’معاشی، ماحولیاتی اور تزویراتی ضرورت‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت اپنی خام تیل کی تقریباً 89 فیصد ضروریات کے لیے درآمدات پر منحصر ہے۔ اگر برقی گاڑیوں کو وسیع پیمانے پر اختیار نہیں کیا گیا تو گاڑیوں کی ملکیت موجودہ سطح سے بڑھنے کے ساتھ یہ انحصار مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آٹوموبائل شعبہ مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی )میں تقریباً 7.1 فیصد کا حصہ ڈالتا ہے اور تقریباً 1.9 کروڑ روزگار فراہم کرتا ہے۔ اس لیے اس شعبے کو برقی گاڑیوں کی جانب عالمی منتقلی کے ساتھ ہم آہنگ رکھنا انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے دہلی جیسے شہروں میں گاڑیوں سے خارج ہونے والے دھوئیں کے باعث صحت عامہ پر پڑنے والے نمایاں اخراجات کی جانب بھی توجہ دلائی اور کہا کہ صاف ستھری نقل و حرکت کی جانب منتقلی ایک فوری ترجیح ہے۔
انہوں نے حکومت کی جانب سے پہلے ہی فراہم کی جانے والی وسیع پیمانے کی معاونت کا ذکر کیا، جو فیم، پی ایم ای-ڈرائیو اور پی ایم ای-بس سیوا جیسی اسکیموں کے ساتھ ساتھ آٹوموبائل و آٹو اجزا اور ایڈوانسڈ کیمسٹری سیل بیٹری ذخیرہ کرنے کے لیے دو پیداوار سے منسلک ترغیبی اسکیموں کے ذریعے مجموعی طور پر 92,000 کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔
انہوں نے برقی گاڑیوں کے چارجنگ کے نظام میں تیزی سے ہونے والی توسیع کو بھی اجاگر کیا، جس میں تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیاں اور نجی ادارے چارجنگ کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ حال ہی میں شروع کی گئی یونیفائیڈ بھارت ای-چارج ایپ سے توقع ہے کہ صارفین کے لیے چارجنگ کے بنیادی ڈھانچے تک رسائی کو مزید آسان اور سہل بنا کر اس نظام کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔
ریاستوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ بھارت کی 36 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں سے29 ریاستیں اب برقی گاڑیوں سے متعلق پالیسیاں نافذ کر چکے ہیں۔ آئی ای ایم آئی کے اسکور سے بھی وسیع پیمانے پر بہتری ظاہر ہوتی ہے؛ گزشتہ ایک سال کے دوران سب سے زیادہ ریاستی اسکور 77 سے بڑھ کر 84 جبکہ درمیانی اسکور 36 سے بڑھ کر 40 ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ انڈیکس ریاستوں کو اپنی پیش رفت کی نگرانی کرنے اور شواہد پر مبنی پالیسیاں وضع کرنے میں مدد دینے کے لیے اعداد و شمار پر مبنی ایک جامع فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ای-موبیلٹی کے شعبے میں ریاستوں کے تجربات میں ان کے صنعتی ڈھانچے، مالی صلاحیت اور جغرافیائی حالات کے مطابق اختیار کی گئی مختلف حکمت عملیوں کی وجہ سے پائے جانے والے اختلافات کوئی پیچیدگی نہیں بلکہ ایک طاقت ہیں، بشرطیکہ ریاستیں ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھیں۔
انہوں نے ریاستوں پر زور دیا کہ منتخب شہروں میں عوامی نقل و حمل کو برقی بنانے کو ترجیح دیں، چارجنگ کے بنیادی ڈھانچے کی جغرافیائی اعتبار سے متوازن تقسیم اور قابل اعتماد دستیابی کو یقینی بنائیں اور تحقیق و جدت طرازی میں سرمایہ کاری کو فروغ دیں۔
مکمل رپورٹ یہاں ملاحظہ کریں
https://www.niti.gov.in/sites/default/files/2026-09/India-Electric-Mobility-Index-IEMI-2025.pdf
********
(ش ح ۔م م ع ۔ت ا )
U. No.3633
(ریلیز آئی ڈی: 2310879)
وزیٹر کاؤنٹر : 7