سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

نشے اور پریشانی سے نجات، بحالی اور استحکام تک: کاؤنسلنگ اور بازآبادکاری کے ذریعے دیو ایم کا سفر

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 15 SEP 2026 2:58PM by PIB Delhi

نشے کی لت صرف کسی فرد کی صحت کو ہی متاثر نہیں کرتی بلکہ اس کے خاندانی تعلقات، روزگار، جذباتی کیفیت اور سماجی حیثیت پر بھی اثر ڈال سکتی ہے۔ بروقت کاؤنسلنگ، طبی علاج اور مسلسل نگرانی سے فرد کو نشے کی لت کا سبب بننے والے عوامل کو سمجھنے، صحت مند طریقے سے حالات کا سامنا کرنے کی صلاحیت پیدا کرنے اور بتدریج صحت یابی و بازآبادکاری کی جانب بڑھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

منظم اور باہمی تال میل پر مبنی بازآبادکاری معاونت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے، مہاراشٹر کے اکولا ضلع سے تعلق رکھنے والے او بی سی برادری کے 29 سالہ خود روزگار شخص دیو ایم (تبدیل شدہ نام) نے پوروگامی بھیاوپرساد سماج کلیان وکاس ویایام پرسارک سنستھا کے ذریعے کاؤنسلنگ اور طبی علاج حاصل کیا، جو نشے کے عادی افراد کے لیے ایک مربوط بازآبادکاری مرکز (آئی آر سی اے) ہے۔ اس مداخلت سے ان کی صحت یابی کے عمل کو مضبوط بنانے میں مدد ملی اور ان کی مجموعی فلاح و بہبود پر بھی مثبت اثر پڑا۔

مدد حاصل کرنے سے قبل دیو کو خاندانی، مالی اور سماجی سطح پر متعدد مشکلات کا سامنا تھا، جن سے ان کی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی بری طرح متاثر ہوئی تھی۔ نشے کی لت کے باعث انہیں مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور اس کے منفی اثرات ان کے کاروبار کی کارکردگی اور مجموعی معاشی استحکام پر بھی واضح طور پر نظر آئے۔

خاندان میں بار بار ہونے والے تنازعات اور کشیدہ تعلقات نے دیو اور ان کے آس پاس کے لوگوں کے لیے ایک جذباتی طور پر دباؤ بھرا ماحول پیدا کر دیا تھا۔ اسی دوران، سماجی بدنامی اور توہین آمیز رویے نے ان کی ذہنی کیفیت کو متاثر کیا اور ان کے اعتماد کو بھی کمزور کر دیا۔ ان تمام دباؤ نے ان کے لیے ذاتی زندگی اور روزگار میں دوبارہ استحکام حاصل کرنا مزید مشکل بنا دیا۔

ان تمام مشکلات کے باوجود، دیو مکمل طور پر نشے کی لت سے نجات حاصل کرنا، اپنے خاندانی تعلقات کو بہتر بنانا اور ایک پُرسکون اور مستحکم زندگی گزارنا چاہتے تھے۔ وہ بہتر جذباتی نظم و ضبط پیدا کرنا بھی چاہتے تھے اور دباؤ یا مشکلات کا سامنا ہونے پر قابلِ اعتماد افراد سے مدد حاصل کرنا چاہتے تھے۔

5 اکتوبر 2025 کو دیو نے اکولا میں واقع آئی آر سی اے کے ذریعے مدد حاصل کی۔ بازآبادکاری کے عمل کے تحت انہیں مفت طبی علاج، نفسیاتی تھراپی، خاندانی کاؤنسلنگ، نشے سے متعلق ادویات، علاج کے دوران مفت کھانا اور باقاعدگی سے بعد از علاج نگرانی کی سہولت فراہم کی گئی۔

انفرادی، گروپ اور خاندانی کاؤنسلنگ کے ذریعے دیو کو اپنی ذاتی مشکلات سے نمٹنے اور نشے کی لت سے متعلق محرکات کو پہچاننے کے لیے رہنمائی فراہم کی گئی۔ ان نشستوں سے انہیں یہ سمجھنے میں بھی مدد ملی کہ ذہنی دباؤ، کشیدہ تعلقات اور جذباتی مشکلات ان کے رویے اور صحت یابی کے عمل کو کس طرح متاثر کرسکتی ہیں۔

image001_20260915145913_d5ab8c.jpg

دیو کو ذہنی دباؤ سے نمٹنے کی عملی تکنیکوں سے روشناس کرایا گیا، جن میں گہری سانس لینے کی مشقیں، روزمرہ کی سرگرمیوں کی ڈائری مرتب کرنا اور باقاعدگی سے جسمانی ورزش کرنا شامل تھا۔ انہیں یہ بھی ترغیب دی گئی کہ مشکل حالات کا اکیلے سامنا کرنے کے بجائے اپنے مسائل اور خدشات قابل اعتماد افراد کے ساتھ شیئر کریں۔ ان اقدامات سے ذہنی دباؤ اور نشے کی لت سے متعلق محرکات سے نمٹنے کے لیے صحت مند ردعمل پیدا کرنے میں مدد ملی۔

کاؤنسلنگ اور طبی علاج کے ذریعے دیو کو صحت یابی اور بازآبادکاری کے لیے درکار منظم مدد فراہم کی گئی۔ خاندانی کاؤنسلنگ سے کشیدہ تعلقات کو بہتر بنانے میں مدد ملی، جبکہ باقاعدگی سے بعد از علاج نگرانی نے علاج کے دوران دی گئی رہنمائی کو مزید مستحکم کیا اور صحت یابی کے عمل کے لیے ان کے عزم کو مضبوط بنایا۔

اس مداخلت سے دیو کی مجموعی فلاح و بہبود پر مثبت اثر پڑا اور انہیں بہتر جذباتی نظم و ضبط، خاندانی تعلقات میں بہتری اور زیادہ مستحکم زندگی کی جانب بڑھنے میں مدد ملی۔ مسلسل کاؤنسلنگ، طبی دیکھ بھال اور بعد از علاج مدد ان کے بازآبادکاری کے سفر کے اہم اجزا رہے ہیں۔

اس سہولت کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے دیو ایم نے کہا کہ، ‘‘کاؤنسلنگ اور طبی دیکھ بھال سے مجھے اپنے جذبات پر بہتر قابو پانے، اپنے خاندانی تعلقات کو بہتر بنانے اور زیادہ مستحکم زندگی کی جانب بڑھنے میں مدد ملی۔’’

دیو کا تجربہ اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ آسانی سے دستیاب علاج، نفسیاتی مدد، خاندان کی شمولیت اور باقاعدگی سے بعد از علاج نگرانی کس طرح نشے کی لت کا سامنا کرنے والے افراد کو باوقار انداز میں صحت یابی کی جانب بڑھنے میں مدد دے سکتی ہے۔ ان کا سفر اس بات کی اہمیت کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ بروقت ادارہ جاتی مدد سے مستفید افراد کو اپنا اعتماد بحال کرنے، تعلقات کو بہتر بنانے اور پُرسکون اور مفید مستقبل کی جانب بڑھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

 

****

 

ش ح۔ ش آ۔ن م

U-3616


(ریلیز آئی ڈی: 2310729) وزیٹر کاؤنٹر : 3