صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
مرکزی وزارت صحت نے عالمی ہیپاٹائٹس ڈے 2026 منایا؛ قومی وائرل ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام کے آٹھ سال مکمل ہونے پر پیش رفت کا جائزہ
مرکزی وزیر مملکت برائے صحت و خاندانی بہبود محترمہ انوپریا پٹیل نے ہیپاٹائٹس سے پاک بھارت کے عزم پر زور دیا؛ حکومت، ریاستوں اور تمام متعلقہ فریقوں کی اجتماعی کوششوں سے 2030 تک وائرل ہیپاٹائٹس کو عوامی صحت کے لیے خطرے کے طور پر ختم کرنے کی اپیل
محترمہ پٹیل نے کہا کہ بھارت ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں ہیپاٹائٹس سی کا مفت علاج اور ہیپاٹائٹس بی کا علاج و انتظام فراہم کیا جاتا ہے؛ خدمات تک رسائی اور ان کی استطاعت کو مزید بہتر بنایا گیا ہے
‘‘پیدائش کے وقت دی جانے والی ہیپاٹائٹس بی کی خوراک کی کوریج 92 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے؛ ریاستیں حاملہ خواتین کی ہیپاٹائٹس بی کی 100 فیصد اسکریننگ یقینی بنائیں اور ہیپاٹائٹس بی و ہیپاٹائٹس سی کے بارے میں بیداری کو مزید مضبوط کریں’’
صحت کے مرکزی سکریٹری نے بتایا کہ قومی وائرل ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام کے تحت 21 کروڑ سے زائد مستفیدین کی اسکریننگ، 6 لاکھ سے زائد مریضوں کا علاج، 1,153 علاج مراکز کا قیام اور 7.64 کروڑ حاملہ خواتین کی اسکریننگ کی جا چکی ہے
قومی وائرل ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام تولیدی اور اطفال صحت پروگرام اور قومی ایڈز کنٹرول پروگرام کے ساتھ باہمی تعاون سے فائدہ اٹھا رہا ہے
تقریب میں وائرل ہیپاٹائٹس، اس کے پھیلاؤ کے طریقوں اور قومی وائرل ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام کے تحت دستیاب خدمات سے متعلق معلومات، تعلیم اور مواصلات مواد جاری کیا گیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
28 JUL 2026 3:35PM by PIB Delhi
مرکزی وزارت صحت و خاندانی بہبود نے آج عالمی موضوع "ہیپاٹائٹس: آئیے اسے ختم کریں" کے تحت عالمی ہیپاٹائٹس ڈے 2026 منایا۔ اس موقع پر قومی وائرل ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام (این وی ایچ سی پی)کے آٹھ سال مکمل ہونے کی بھی یاد دہانی کی گئی۔ وزارت صحت و خاندانی بہبود کے قومی صحت مشن کے تحت 2018 میں عالمی ہیپاٹائٹس ڈے کے موقع پر شروع کیا گیا یہ پروگرام 2030 تک وائرل ہیپاٹائٹس کو عوامی صحت کے لیے خطرے کے طور پر ختم کرنے کے بھارت کے عزم کی عکاسی کرتا ہے، جو پائیدار ترقی کے ہدف ایس ڈی جی 3.3 کے مطابق ہے۔ مرکزی وزیر مملکت برائے صحت و خاندانی بہبود اور کیمیکلز و فرٹیلائزرز محترمہ انوپریا پٹیل نے کلیدی خطاب کیا اور حکومت ہند کے ہیپاٹائٹس سے پاک بھارت کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے حکومت، ریاستوں اور تمام متعلقہ فریقوں کی جانب سے مزید بھرپور کوششوں پر زور دیا۔


کلیدی خطاب کرتے ہوئے محترمہ انوپریا پٹیل نے کہا کہ ‘‘بھارت میں قومی وائرل ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام کے آٹھ سال مکمل ہونے پر پیش رفت کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس دوران روک تھام، اسکریننگ، تشخیص، علاج اور علاج کے بعد مریضوں کی نگرانی کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔’’انہوں نے کہا کہ ‘‘بھارت ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں ہیپاٹائٹس سی کا مفت علاج اور ہیپاٹائٹس بی کا علاج و انتظام فراہم کیا جا رہا ہے، جبکہ خدمات تک رسائی اور انہیں عام لوگوں کے لیے قابل استطاعت بنانے کے لیے مسلسل اقدامات کیے جا رہے ہیں۔’’ انہوں نے مزید بتایا کہ ‘‘ادویات کی قیمت ایک ڈالر سے بھی کم کر دی گئی ہے، جبکہ معیاری تشخیصی سہولیات تک رسائی بھی مسلسل بڑھائی جا رہی ہے، تاکہ بیماری کی ابتدائی شناخت اور بروقت علاج کو یقینی بنایا جا سکے۔’’

وزیر موصوفہ نے کہا کہ اس پروگرام کو مرحلہ وار وسعت دی گئی ہے۔ ابتدا میں ضلعی صحت مراکز پر غیر پیچیدہ مریضوں کے لیے علاج کی سہولیات کو مضبوط کیا گیا، جبکہ پیچیدہ معاملات کے لیے مریضوں کو اعلی مراکز تک بھیجنے کی خدمات فراہم کرنے کے لیے منتخب اداروں کو مستحکم کیا گیا۔ اس کے بعد ملک بھر میں موجود 1.85 لاکھ سے زائد آیوشمان آروگیہ مندروں کے نیٹ ورک تک اسکریننگ اور علاج کی خدمات کو وسعت دی گئی، جس سے بنیادی صحت کی سطح پر ہیپاٹائٹس سے متعلق خدمات تک لوگوں کی رسائی میں اضافہ ہوا۔
بیماری سے بچاؤ کے اقدامات کو اجاگر کرتے ہوئے محترمہ پٹیل نے کہا کہ ‘‘ ہمہ گیر امیونائزیشن پروگرام کے تحت 2011 میں متعارف کرائی گئی ہیپاٹائٹس بی ویکسین کی پیدائش کے وقت دی جانے والی خوراک کی کوریج 92 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے۔’’ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ‘‘اس وقت تقریباً 65 فیصد حاملہ خواتین کی ہیپاٹائٹس بی کی اسکریننگ کی جا رہی ہے، تاہم ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو 100 فیصد اسکریننگ کا ہدف حاصل کرنے کی سمت کام کرنا چاہیے، تاکہ تمام اہل نوزائیدہ بچوں کو بروقت ہیپاٹائٹس بی ویکسین کی پیدائشی خوراک دی جا سکے اور ہیپاٹائٹس بی سے متاثرہ ماؤں کے نوزائیدہ بچوں کو 24 گھنٹے کے اندر ہیپاٹائٹس بی امیونوگلوبیولن (ایچ بی آئی جی)فراہم کیا جا سکے۔’’
محترمہ انوپریا پٹیل نے پیشہ ورانہ طور پر بیماری کی منتقلی کو روکنے کے لیے صحت کارکنوں کو ویکسین لگانے کی اہمیت پر بھی زور دیا اور زیادہ خطرے والے افراد میں خصوصی اقدامات کرنے کی اپیل کی، تاکہ کمزور طبقات کو جگر کی دائمی بیماری اور جگر کے کینسر سے محفوظ رکھا جا سکے۔ ہیپاٹائٹس بی اور ہیپاٹائٹس سی کو ‘‘خاموش قاتل’’ قرار دیتے ہوئے انہوں نے عوام میں زیادہ سے زیادہ بیداری پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور ریاستوں و مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے اپیل کی کہ وہ لوگوں کو اس بات سے آگاہ کریں کہ سرکاری صحت مراکز میں جانچ اور علاج کی سہولیات دستیاب ہیں۔
اس بات کا اعادہ کرتے ہوئے کہ ‘‘صحت ایک مشترکہ ہدف ہے’’، محترمہ پٹیل نے کہا کہ ‘‘حکومت ہند، ریاستی حکومتوں اور تمام متعلقہ فریقوں کو 2030 تک وائرل ہیپاٹائٹس کو عوامی صحت کے لیے خطرے کے طور پر ختم کرنے کے ہدف کے حصول کے لیے نئے عزم کے ساتھ مل کر کام جاری رکھنا چاہیے۔’’ ملک کی اجتماعی کوششوں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘‘مسلسل اور مزید بھرپور کوششوں سے ہیپاٹائٹس سے پاک بھارت کے تصور کو حقیقت میں بدلنے میں مدد ملے گی۔’’
اس موقع پر محترمہ پٹیل نے معلومات، تعلیم اور مواصلات(آئی ای سی)سے متعلق مواد بھی جاری کیا، جس میں ہیپاٹائٹس بی اور ہیپاٹائٹس سی سے متعلق پوسٹر شامل ہیں۔ ان میں بیماری کے پھیلاؤ کے طریقوں اور قومی وائرل ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام (این وی ایچ سی پی) کے تحت دستیاب خدمات کو اجاگر کیا گیا ہے، تاکہ ان مواد کو ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں وسیع پیمانے پر عام کیا جا سکے۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی سکریٹری صحت محترمہ پنیہ سلیلا سری واستو نے قومی وائرل ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام کے تحت حاصل ہونے والی نمایاں پیش رفت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس پروگرام کے تحت 21 کروڑ سے زائد مستفیدین کی اسکریننگ کی جا چکی ہے، جبکہ 6 لاکھ سے زیادہ مریضوں کو مفت علاج فراہم کیا گیا ہے۔

مرکزی سکریٹری صحت نے اجاگر کیا ‘‘پروگرام نے ہر ضلع میں ایک علاج مرکز قائم کرنے کے اپنے ہدف کو عبور کر لیا ہے۔ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے تعاون سے اب ملک میں 1,153 علاج مراکز موجود ہیں، جن میں 70 سے زیادہ خصوصی مراکز بھی شامل ہیں، جہاں جدید طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔’’ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ‘‘یہ کامیابیاں حکومت، وزارت اور پورے معاشرے کی مشترکہ کوششوں سے ممکن ہوئی ہیں۔’’
پروگرام کے باہمی تعاون پر مبنی نفاذ پر زور دیتے ہوئے محترمہ سری واستوا نے کہا کہ قومی ایڈز کنٹرول پروگرام زیادہ خطرے والے افراد تک رسائی میں معاونت کرتا ہے، جبکہ یونیورسل امیونائزیشن پروگرام ہیپاٹائٹس بی کی پیدائش کے وقت دی جانے والی خوراک کے ساتھ ساتھ صحت کارکنوں کی ویکسینیشن بھی یقینی بناتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ زچگی سے متعلق صحت کے پروگرام حاملہ خواتین کی حمل کے دوران اسکریننگ اور ہیپاٹائٹس بی سے متاثرہ ماؤں کے نوزائیدہ بچوں کو ایچ بی آئی جی دینے کے ذریعے ماں سے بچے میں بیماری کی منتقلی کو روکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ان مربوط کوششوں کے نتیجے میں 7.64 کروڑ سے زیادہ حاملہ خواتین کی اسکریننگ کی جا چکی ہے، جبکہ ہیپاٹائٹس بی سے متاثرہ ماؤں کے ہاں پیدا ہونے والے 2.24 لاکھ نوزائیدہ بچوں کو ایچ بی آئی جی دیا گیا ہے۔ مزید بھرپور کوششوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے ہر متاثرہ فرد کی شناخت اور اسے علاج سے جوڑنے کی اپیل کی۔ انہوں نے آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن کے ساتھ مربوط قومی وائرل ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام کے کیس بیسڈ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے مؤثر استعمال پر بھی زور دیا، تاکہ مریضوں کی نگرانی، علاج اور علاج کے بعد کی دیکھ بھال کو مزید مضبوط بنایا جا سکے اور اس طرح بیماری کی مزید منتقلی کو روکنے میں مدد ملے۔
اس موقع پر ایڈیشنل سکریٹری اور قومی صحت مشن(این ایچ ایم)کی مشن ڈائریکٹر محترمہ آرادھنا پٹنائک نے بتایا کہ قومی وائرل ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام کی توجہ ہیپاٹائٹس بی اور ہیپاٹائٹس سی پر مرکوز ہے۔ اس کے تحت حاملہ خواتین کی حمل کے دوران اسکریننگ اور متاثرہ ماؤں کے نوزائیدہ بچوں کو ایچ بی آئی جی دینے کے ذریعے ہیپاٹائٹس بی کی ماں سے بچے میں منتقلی کو روکنے اور ہیپاٹائٹس سی کی جلد تشخیص اور علاج کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان میں خاص طور پر انجیکشن کے ذریعے منشیات استعمال کرنے والے افراد(آئی ڈی یو ) سمیت زیادہ خطرے والے گروہوں پر توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس پروگرام کو تولیدی اور اطفال صحت(آر سی ایچ)پروگرام اور قومی ایڈز کنٹرول پروگرام کے ساتھ باہمی تعاون کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے، جبکہ پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی)کے حصول کے لیے اس باہمی تعاون کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تقریب میں جاری کیے گئے معلومات، تعلیم اور مواصلات(آئی ای سی) کے مواد سے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں بیداری اور عوام تک رسائی کی کوششوں کو مزید تقویت ملے گی۔


صحت خدمات کے ڈائریکٹر جنرل(ڈی جی ایچ ایس)ڈاکٹر لونیٹ گوپال کرشنا، قومی وائرل ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام (این وی ایچ سی پی)کے جوائنٹ سکریٹری جناب نکھل گجراج، بھارت میں عالمی ادارہ صحت کے نمائندے ڈاکٹر یوان جے-ایف ہٹن، قومی وائرل ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام کی ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر سندھیہ کبرہ، ایڈیشنل چیف سکریٹریز (صحت) اور وزارت کے سینئر افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے پرنسپل سکریٹریز (صحت)، مشن ڈائریکٹرز، پروگرام افسران، ماہرین اور دیگر مندوبین نے بھی تقریب میں ورچوئل طور پر شرکت کی۔
***
ش ح۔ع و۔م ذ
UR. No. 3573
(ریلیز آئی ڈی: 2310595)
وزیٹر کاؤنٹر : 6