وزارت دفاع
’ومرش‘ ڈی آر ڈی او-صنعت ہم آہنگی اجلاس: وزیر دفاع نے ایم ایس ایم ایز اور اسٹارٹ اپس کو بااختیار بنانے کیلئے اہم پالیسی اقدامات کا اعلان کیا اور ساتھ ہی لائسنس یافتہ صنعتوں کے ساتھ سافٹ ویئر کے سورس کوڈ شیئر کرنے کے لئے فریم ورک کا آغاز کیا
ٹیکنالوجی کی منتقلی کے لیے نو لائسنسنگ معاہدے 13 مینوفیکچرنگ شراکت داروں کے حوالے کئے گئے، صنعت تک رسائی کو وسعت دینے کے لئے مفاہمت ناموں کا تبادلہ
ہندوستان کو عالمی پیداواری مرکز میں تبدیل کرنے کے لئے ڈی آر ڈی او اور صنعت کے درمیان تعاون کو وسعت دینے اور ایم ایس ایم ایز اور اسٹارٹ اپس کو دفاعی سپلائی چین کا لازمی حصہ بنانے کی ضرورت ہے: وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ
’’وکست بھارت کا مقصد ایک ایسے ملک کی تعمیر ہے جو اقتصادی طور پر مضبوط، ٹیکنالوجی کے لحاظ سے خود کفیل، سماجی طور پر سب کو ساتھ لے کر چلنے والی، ماحولیاتی طور پر پائیدار اور حکمت عملی کے لحاظ سے محفوظ ہو‘‘
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
15 SEP 2026 1:45PM by PIB Delhi
وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ نے 15 ستمبر 2026 کو نئی دہلی میں منعقدہ ڈی آر ڈی او-صنعت ہم آہنگی اجلاس ’ومرش‘ کے دوران اہم پالیسی اقدامات کا اعلان کیا۔ ان اقدامات میں ایم ایس ایم ایز اور ڈیپ ٹیک اسٹارٹ اپس کے لیے تکنیکی اور مالی رکاوٹوں کو کم کرنے کا ایک جامع فریم ورک شامل ہے، جس کے تحت براہ راست مالی امداد، انکیوبیشن سپورٹ اور ڈی آر ڈی او کی جانچ کی سہولیات تک خصوصی رسائی فراہم کی جائے گی۔ لائسنس یافتہ صنعتوں کے ساتھ ڈی آر ڈی او کے تیار کردہ سافٹ ویئر کے سورس کوڈ شیئر کرنے کے لیے ایک معیاری اور محفوظ فریم ورک بھی شروع کیا گیا ہے، جس کا مقصد سافٹ ویئر پر مبنی دفاعی صلاحیتوں کو تیز رفتاری سے فروغ دینا اور فرسودہ ٹیکنالوجی کے انتظام کو بہتر بنانا ہے۔
_20260915134711_6599ca.jpeg)
_20260915134722_1df6be.jpeg)
ٹیکنالوجی کی منتقلی کے لیے نو (09) لائسنسنگ معاہدے (ایل اے ٹی او ٹی ایس) وزیر دفاع کی موجودگی میں 13 مینوفیکچرنگ شراکت داروں کے حوالے کیے گئے تاکہ جدید ترین نظاموں کی تجارتی پیداوار کو ممکن بنایا جا سکے۔
صنعت کو حوالے کیے گئے ایل اے ٹی او ٹی ایس کی فہرست
صنعت تک رسائی کو وسعت دینے اور نچلی سطح پر شرکت کو فروغ دینے کے لیے سوسائٹی آف انڈین ڈیفنس مینوفیکچررز (ایس آئی ڈی ایم) اورلگھو ادیوگ بھارتی (ایل یو بی) کے ساتھ اہم مفاہمت ناموں کا بھی باضابطہ طور پر تبادلہ کیا گیا۔ ڈی آر ڈی او نے مقامی دفاعی اداروں کی مینوفیکچرنگ صلاحیت اور پختگی کا معیار طے کرنے کے لیے سسٹم فار ایڈوانس مینوفیکچرنگ اسیسمنٹ اینڈ ریٹنگ (ایس اے ایم اے آر) ورژن 2.0 کے سلسلہ میں کوالٹی کونسل آف انڈیا کے ساتھ ایک معاہدہ بھی کیا۔
_20260915134743_db38d2.jpeg)
اپنے خطاب میں وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ڈی آر ڈی او اور صنعت کے درمیان تعاون اب صرف پیداوار تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ اسے تحقیق، ڈیزائن، جانچ، سرٹیفیکیشن اور مینوفیکچرنگ پر مشتمل پوری ویلیو چین تک وسعت دی جانی چاہیے، تاکہ ہندوستان کو دفاعی مینوفیکچرنگ کا عالمی مرکز بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا- ’’ڈی آر ڈی او کے پاس علم اور ٹیکنالوجی ہے، صنعت کے پاس بڑے پیمانے پر پیداوار اور مینوفیکچرنگ کی صلاحیت ہے، اسٹارٹ اپس جدت اور تیزی سے کام کرنے کی صلاحیت لے کر آتے ہیں، جبکہ نوجوانوں کے پاس نئے ہندوستان کا خواب ہے۔ جب یہ چاروں قوتیں یکجا ہو کر ساتھ آگے بڑھیں گی تو کوئی بھی ہدف ناممکن نہیں ہوگا۔‘‘
_20260915134751_6360d2.jpeg)
جناب راج ناتھ سنگھ نے اس بات پر زور دیا کہ ’وکست بھارت‘ کا مقصد صرف ایک معاشی طور پر مضبوط ملک کی تعمیر نہیں ہے، بلکہ اسے ٹیکنالوجی کے میدان میں خود کفیل، سماجی طور پر سب کو ساتھ لے کر چلنے والا، ماحولیاتی طور پر پائیدار اور حکمت عملی کے لحاظ سے محفوظ ملک بنانا بھی ہے۔ انہوں نے کہا - ’’2047 تک ہمیں اہم ٹیکنالوجیز میں آتم نربھرتا حاصل کرنی ہے، ملکی سطح پر تیار ہونے والے اجزا کے استعمال میں نمایاں اضافہ کرنا ہے، دفاعی برآمدات میں کئی گنا اضافہ کرنا ہے اور عالمی سپلائی چین میں ہندوستان کی مضبوط موجودگی یقینی بنانی ہے۔‘‘
وزیر دفاع نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں گزشتہ چند برسوں کے دوران دفاعی شعبہ میں کی جانے والی بے مثال اصلاحات کا ذکر کیا، جن میں مثبت دیسی کاری کی فہرستوں کا اجرا، ’میک اِن انڈیا‘ پہل، آئی ڈیکس، ادیتی اور درآمدات پر انحصار کم کرنے اور خود کفالت کی جانب بڑھنے کے لیے دفاعی تحقیق و ترقی کے بجٹ کا 25 فیصد نجی شعبے کے لیے مختص کرنے کا فیصلہ شامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکنالوجی ڈیولپمنٹ فنڈ کے ذریعے اسٹارٹ اپس کو مالی امداد فراہم کی جا رہی ہے اور متعدد ٹیکنالوجیز پہلے ہی پیداوار کے مرحلے تک پہنچ چکی ہیں۔ انہوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ آئی ڈیکس نے دفاعی اختراع کے لیے ایک نیا ماحولیاتی نظام بھی تشکیل دیا ہے، جہاں اسٹارٹ اپس حقیقی عملی ضروریات کی بنیاد پر حل تیار کر رہے ہیں۔
_20260915134800_300f23.jpeg)
اسٹارٹ اپس اور ایم ایس ایم ایز کو ہندوستان میں اختراع کے نئے علم بردار قرار دیتے ہوئے جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ’آتم نربھر بھارت‘ کے مقصد کو حاصل کرنے میں ان اداروں کا اہم کردار ہے، کیونکہ یہ جدید ترین ٹیکنالوجیز کے ساتھ بڑے دفاعی نظاموں کے لیے پرزے، ذیلی نظام اور دیگر ضروری اجزا تیار کر رہے ہیں۔ انہوں نے بڑی صنعتوں کے ساتھ ساتھ ایم ایس ایم ایز اور اسٹارٹ اپس کو بھی دفاعی سپلائی چین کا لازمی حصہ بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور اعتماد ظاہر کیا کہ نئے اقدامات سے صنعت کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
وزیر دفاع نے اجاگر کیا کہ نئی پالیسی اقدامات کا مقصد صنعت کی قیادت میں تحقیق و ترقی کو فروغ دینا، اسٹارٹ اپس اور ایم ایس ایم ایز کو مالی امداد اور رہنمائی فراہم کرنا، تعلیمی اداروں اور صنعت کے درمیان تعاون کو فروغ دینا اور مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ، ہائپرسونکس اور ڈائریکٹیڈ انرجی جیسی مستقبل کی ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
_20260915134809_30d5f9.jpeg)
جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ہندوستان تیزی سے دفاعی سازوسامان درآمد کرنے والے ملک سے دفاعی برآمد کنندہ ملک بن رہا ہے۔ ایسے میں ڈرون ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور سائبر سکیورٹی جیسے کئی شعبہ ہیں، جہاں ایم ایس ایم ایز اور اسٹارٹ اپس اختراع کے عمل کو تیز کر سکتے ہیں اور ہندوستان کی تکنیکی اور حکمت عملی کی صلاحیتوں کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا ’’ایم ایس ایم ایز ہندوستانی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی اور دفاعی ماحولیاتی نظام کی ایک اہم طاقت ہیں۔ انہیں معیار، بروقت فراہمی، اختراع اور عالمی معیارات پر مسلسل توجہ دینے کے ساتھ بڑی کمپنیوں کے ساتھ اپنی شراکت داری کو بھی وسعت دینی چاہیے۔‘‘
وزیر دفاع نے اس بات پر زور دیا کہ جس ملک کے پاس اپنی ٹیکنالوجی ہوتی ہے، وہ اپنے مستقبل کی سمت خود طے کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خود کفالت ملک کے مزاج اور رویے کا لازمی حصہ بننی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا - ’’جو کمپنیاں آج نئی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری کریں گی، وہ کل کی قائد بنیں گی، کیونکہ مستقبل کی جنگ میں وہی ملک حکمت عملی کی برتری حاصل کرے گا جو ٹیکنالوجی کے میدان میں سب سے آگے ہوگا۔‘‘
اس موقع پر دفاع کے سکریٹری، محکمہ دفاع تحقیق و ترقی کے سکریٹری اور ڈی آر ڈی او کے چیئرمین جناب راجیش کمار سنگھ نے کہا کہ ’ومرش- 2026‘ کو ’وارتا سے وکاس‘ کے موضوع کے تحت اسٹریٹجک طور پر اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ جدید ترین تجارتی اختراع کو قومی دفاعی تیاریوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے اور نجی شعبے کی صلاحیتوں کو دفاعی ماحولیاتی نظام کے بنیادی ڈھانچے میں منظم انداز میں شامل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فورم قومی سلامتی کے نظام کو محض خریدار اور فروخت کنندہ کے لین دین پر مبنی تعلقات سے نکال کر باہمی تعاون اور مشترکہ طور پر تیار کیے جانے والے ٹیکنالوجی کے ماحولیاتی نظام میں تبدیل کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

جناب راجیش کمار سنگھ نے حکومت کی خود کفالت کی کوششوں کے نتیجے میں حالیہ برسوں کے دوران دفاعی شعبے میں ہونے والی تبدیلیوں کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا- ’’ٹیکنالوجی کی منتقلی میں توسیع سے نہ صرف دفاعی افواج کی ضروریات پوری کرنے کے لیے متوازی پیداواری لائنیں قائم کرنے میں مدد ملی ہے، جس سے ایم ایس ایم ایز کو براہ راست فائدہ پہنچا ہے، بلکہ اس سے ان رکاوٹوں کو دور کرنے میں بھی مدد ملی ہے جو پہلے محدود مینوفیکچرنگ صلاحیت کی راہ میں حائل تھیں۔ اب تک 2300 سے زیادہ ٹیکنالوجی ٹرانسفر (ٹی او ٹی ایس) 1100 سے زیادہ صنعتوں کو فراہم کیے جا چکے ہیں۔ فی الحال ڈی آر ڈی او کی تیار کردہ تقریباً 50 میزائلوں سے متعلق ٹیکنالوجیز صنعت کے لیے دستیاب کرائی گئی ہیں، تاکہ اس شعبے میں مزید وسیع شرکت کو فروغ دیا جا سکے۔‘‘
تقریب کے دوران ’لچکدار ہندوستان کے لیے دفاعی نظام – دفاع میں آتم نربھرتا کو آگے بڑھانا‘ کے عنوان سے ایک کتاب بھی جاری کی گئی۔ یہ خصوصی مجموعہ 2014 سے 2026 کے دوران ڈی آر ڈی او کے ٹیکنالوجی کلسٹرز کی جانب سے تیار کیے گئے اہم دفاعی نظاموں کی دستاویز پیش کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ڈی آر ڈی او میں انسانی وسائل کی آؤٹ سورسنگ سروس کے معاہدوں سے متعلق رہنما خطوط بھی جاری کیے گئے۔ ان رہنما خطوط میں ڈی آر ڈی او کی تجربہ گاہوں میں انسانی وسائل کی آؤٹ سورسنگ کیلئے خدمات کی خریداری، موزوں خدمات فراہم کرنے والوں کے انتخاب، معاہدوں کے انتظام، کارکردگی کی نگرانی اور معاہدے کے ساتھ ساتھ قانونی ذمہ داریوں کی تعمیل کیلئے خدمات کی تفصیلات وضع کرنے کا ایک جامع فریم ورک فراہم کیا گیا ہے۔
اس موقع پر سکریٹری (دفاعی پیداوار) جناب سنجیو کمار، سکریٹری (دفاعی مالیات) جناب وشواجیت سہائے اور ممتاز سائنس داں و ڈائریکٹر جنرل (پروڈکشن کوآرڈی نیشن اینڈ سروسز انٹرایکشن)، ڈی آر ڈی او ڈاکٹر (محترمہ) چندریکا کوشک بھی موجود تھیں۔
تکنیکی اجلاسوں کے دوران ڈی آر ڈی او کے ٹیکنالوجی کلسٹرز کے ڈائریکٹر جنرلز نے ایروناٹیکل سسٹمز، میزائل، اسلحہ، مائیکرو الیکٹرانکس اور بحری نظام کے شعبوں میں تکنیکی روڈ میپ پیش کیے۔ ڈی آر ڈی او ہیڈکوارٹر نے طریق کار سے متعلق تعمیل کو آسان بنانے، سہولیات تک رسائی کے عمل کو تیز کرنے اور لائسنس جاری کرنے کے وقت کو کم کرنے کے لیے اقدامات متعارف کرائے۔
اعلی سطحی پینل مباحثے میں ڈی آر ڈی او، محکمہ دفاعی پیداوار (ڈی ڈی پی) اور دفاعی افواج کے سینئر نمائندوں نے ٹیکنالوجی کو تیزی سے اپنانے، ڈیولپمنٹ-کم-پروڈکشن پارٹنر ماڈل کو مزید مؤثر بنانے اور مقامی ٹیکنالوجیز کو فعال دفاعی خدمات میں تیزی سے شامل کرنے کے طریق کار پر غور و خوض کیا۔
اس اہم تقریب میں دفاعی صنعت کے 250 سے زیادہ رہنماؤں، صنعتی ایوانوں کے نمائندوں، سینئر سول و فوجی افسران اور ڈی آر ڈی او کے سینئر سائنس دانوں نے شرکت کی۔ محکمہ فروغ صنعت و اندرونی تجارت (ڈی پی آئی آئی ٹی) کے سکریٹری نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ قومی دفاعی صنعتی نظام کو مضبوط بنانے کے مقصد سے منعقدہ ’ومرش- 2026‘ نے ڈی آر ڈی او کی تکنیکی تحقیق اور ابھرتے ہوئے ڈیپ ٹیک اسٹارٹ اپس کو پہلے سے قائم مینوفیکچرنگ ماحولیاتی نظام کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک منظم پلیٹ فارم فراہم کیا، جس سے نجی شعبے کی شرکت کے لیے تیز رفتار، شفاف اور باہمی تعاون پر مبنی ماحول تشکیل پایا۔
***
ش ح – ظ الف – ن ع
UR No. 3568
(ریلیز آئی ڈی: 2310437)
وزیٹر کاؤنٹر : 3