PIB Backgrounder
سلیکون کی دنیا میں بھارت کی دستک
سیمیکون انڈیا 2026 اور بھارت کے چِپ سازی کی عالمی طاقت بننے کی کہانی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
15 SEP 2026 10:52AM by PIB Delhi
سترہ ستمبر کو وزیر اعظم جناب نریندر مودی دوارکا میں یشوبھومی پہنچ کر سیمی کون انڈیا 2026 کا افتتاح کریں گے۔ ان کے پیچھے عالمی چِپ ساز کمپنیاں، پالیسی ساز اور سرمایہ کار موجود ہوں گے، جو اس صنعت کا مشاہدہ کریں گے جسے بھارت نے اپنی بنیاد سے خود تعمیر کیا ہے۔ تین دن تک ملک میں سیمیکون (سیمی کنڈکٹر) مینوفیکچرنگ کی یہ داستان پوری طرح نمایاں رہے گی۔ ایک ایسی صنعت کے لیے، جس کی بھارت میں ایک دہائی پہلے شاید ہی کوئی سرگرمی تھی، یہ محض ایک کانفرنس نہیں ہے۔ یہ وہ موقع ہے جب بھارت کے سیمی کنڈکٹر سے متعلق عزائم عالمی توجہ کا مرکز بننے جارہے ہیں۔

اس سال کی مرکزی تھیم ’’ سلیکون ٹو سسٹمز: بلڈنگ دی ایکوسسٹم‘‘ ہے۔ بظاہر یہ ایک مختصر جملہ ہے، لیکن اس کے مفہوم میں بہت گہرائی ہے۔ بھارت اب یہ سوال نہیں کر رہا کہ وہ چِپس تیار کرسکتا ہے یا نہیں، بلکہ اب سوال یہ ہے کہ وہ چِپس سے متعلق پورا نظام کتنی تیزی سے تیار کرسکتا ہے۔
دنیا کو چلانے والی چیز
اپنا فون ہاتھ میں اٹھائیے۔ اس کے اندر کہیں ڈاک ٹکٹ سے بھی چھوٹا سلیکون کا ایک ٹکڑا موجود ہے، جس پر اربوں ٹرانزسٹرز نصب ہیں اور یہ ٹرانزسٹرز ہر سیکنڈ میں اربوں بار آن اور آف ہوتے ہیں۔ ایپل کی جانب سے تیار کردہ اے 19 بایونک چِپ، جو 3 نینو میٹر ٹیکنالوجی پر مبنی ہے، اس انتہائی چھوٹی سطح پر تقریباً 30 ارب ٹرانزسٹرز سموئے ہوئے ہے۔ بلا مبالغہ، یہ انسانوں کی جانب سے تیار کی جانے والی اب تک کی پیچیدہ ترین اشیا میں سے ایک ہے۔
چِپس اب کوئی محدود پیمانے پر استعمال ہونے والی مصنوعات نہیں رہ گئی ہیں۔ یہ گاڑیوں، ڈرونز، طیاروں، ایم آر آئی مشینوں اور مصنوعی سیاروں تک میں استعمال ہوتی ہیں۔ اس وقت عالمی الیکٹرانکس صنعت کی مالیت تقریباً 4.3 ٹریلین ڈالر ہے اور یہ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ سیمی کنڈکٹرز اس بڑھتے ہوئے صنعتی ڈھانچے کی بنیاد میں موجود ہیں اور اسے مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ آٹوموبائل سے لے کر صحت عامہ اور دفاع تک ہر دوسری صنعت کا انحصار اس بات پر ہے کہ چپ بنانے والے پلانٹ سے کیا تیار ہوکر نکلتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیمی کنڈکٹرز کو بنیادی اہمیت کی حامل صنعت سمجھا جاتا ہے۔ اگر اس بنیادی سطح کو نظر انداز کردیا جائے تو اس کے اوپر قائم پورا صنعتی ڈھانچہ کمزور ہوجاتا ہے۔
دنیا نے یہ حقیقت بڑی مشکل سے سیکھی۔ مثال کے طور پر کووڈ وبا کے دوران کاروں کے کارخانے بند ہونے کی صورت حال پیدا ہوگئی۔ اس کی وجہ اسٹیل یا افرادی قوت کی کمی نہیں تھی، بلکہ چِپس دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے ایسا ہوا۔ جن ممالک نے کئی دہائیوں تک سیمی کنڈکٹرز کو کسی اور کی ذمہ داری سمجھ کر نظر انداز کیا تھا، وہ اچانک اپنی مقامی پیداواری صلاحیت تیار کرنے کی دوڑ میں شامل ہوگئے۔ وبا نے چِپس کے لیے جاری دوڑ شروع نہیں کی، بلکہ اس نے صرف سب کو پہلے سے زیادہ تیزی سے دوڑنے پر مجبور کردیا۔
اس لمحے تک پہنچنے کا ایک طویل سفر
سیمی کنڈکٹرز میں بھارت کی دلچسپی اس سے کہیں پرانی ہے جتنا زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں۔ اس شعبے میں کئی دہائیوں تک خاموش کوششیں، چھوٹے پیمانے پر شروعات اور مشکل حالات سے حاصل کیے گئے تجربات کا ایک طویل سلسلہ جاری رہا۔ ایک طویل عرصے تک یہ عزم تو موجود تھا، لیکن اس کے گرد مطلوبہ صنعتی ماحولیاتی نظام پوری طرح تشکیل نہیں پاسکا۔ پھر ایک مختلف طریقہ کار اختیار کیا گیا اور صورت حال بدل گئی۔ غیر ملکی سرمایہ کاری، ٹیکس اور کسٹمز کے شعبوں میں کی جانے والی اصلاحات نے اس شعبے کے لیے بڑے پیمانے پر راستے کھول دیے۔ عالمی الیکٹرانکس کمپنیوں نے بھی آہستہ آہستہ بھارت میں اپنی مینوفیکچرنگ لائنیں قائم کرنا شروع کردیں اور اس کے نتائج اب واضح طور پر سامنے ہیں۔
سال 2014-15میں بھارت میں تقریباً 1.9 لاکھ کروڑ روپے مالیت کی الیکٹرانکس مصنوعات تیار کی گئی تھیں۔ 2025-26 تک یہ اعداد و شمار بڑھ کر 13.11 لاکھ کروڑ روپے ہوگیا، جو تقریباً سات گنا اضافہ ہے۔ الیکٹرانکس مصنوعات کی برآمدات بھی تقریباً 38,000 کروڑ روپے سے بڑھ کر 4.24 لاکھ کروڑ روپے ہوگئیں، یعنی تقریباً گیارہ گنا اضافہ ہوا۔
موبائل فون کی کہانی اس سے بھی زیادہ نمایاں تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے۔ موبائل فون کی پیداوار 18,000 کروڑ روپے سے بڑھ کر 6.27 لاکھ کروڑ روپے ہوگئی، یعنی 33 گنا اضافہ ہوا۔ برآمدات بھی تقریباً 1,500 کروڑ روپے سے بڑھ کر 2.59 لاکھ کروڑ روپے ہوگئیں، یعنی 165 گنا اضافہ ہوا۔ 2014 میں اسمارٹ فون بھارت سے برآمد کی جانے والی سرفہرست 100 اشیا میں بھی شامل نہیں تھے۔ مالی سال 2025-26 میں اسمارٹ فون بھارت کی سب سے بڑی برآمدی شے بن گئے، جو پٹرولیم مصنوعات اور جواہرات و زیورات سے بھی آگے نکل گئے۔ آج بھارت اپنی ضرورت کے 99.2 فیصد موبائل فون خود تیار کرتا ہے اور موبائل فون کا خالص درآمد کنندہ ہونے کے بجائے خالص برآمد کنندہ بن چکا ہے۔ مینوفیکچرنگ کا یہ پورا نظام اب 25 لاکھ روزگار کے مواقع فراہم کر رہا ہے۔
یہ وہ مرحلہ ہے جہاں پوری تصویر بدلتی ہوئی نظر آتی ہے۔ جو ملک کبھی الیکٹرانکس کے شعبے میں بار بار کی ناکام کوششوں کے لیے جانا جاتا تھا، وہ اب حجم کے اعتبار سے دنیا کا دوسرا سب سے بڑا موبائل فون تیار کرنے والا ملک بن چکا ہے۔ الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ نے اس بات کو ثابت کردیا کہ یہ کام ممکن ہے۔ سیمی کنڈکٹرز ہمیشہ سے اس سفر کا اگلا قدم تھے۔
مشن کی تعمیر
یہ اگلا مرحلہ 2021 میں سیمیکون انڈیا پروگرام کے ساتھ شروع ہوا۔ حکمت عملی واضح اور سوچ سمجھ کر تیار کی گئی تھی۔ مقصد محض نمائش کے لیے کوئی منصوبہ قائم کرنا نہیں، بلکہ ایک حقیقی اور مکمل ماحولیاتی نظام تیار کرنا تھا۔ سیمیکون 1.0 کے تحت 76,000 کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی، جس میں چپ ڈیزائن اور تیاری سے لے کر پیکیجنگ، جانچ، آلات، خام مال اور ہنرمند افرادی قوت تک پوری ویلیو چین کا احاطہ کیا گیا۔ جولائی 2026 میں حکومت نے سیمیکون 2.0 کی منظوری دی، جس کے تحت 1,27,500 کروڑ روپے کی رقم مختص کرکے اس بنیاد کو مزید وسعت دی گئی۔یہ پورا پروگرام چھ بنیادی ستونوں چپ ڈیزائن، سیمی کنڈکٹر آلات اور خام مال، چپ تیاری کے مراکز، جدید پیکیجنگ، تحقیق و ترقی اور ہنرمند افرادی قوت کی ترقی پر مبنی ہے۔
زمینی سطح پر موجود اعداد و شمار بھی اس عزم کی واضح تصدیق کرتے ہیں۔ چھ ریاستوں میں سیمی کنڈکٹر سے متعلق 12 پروجیکٹوں کو منظوری دی جاچکی ہے، جن کے تحت 1.64 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی سرمایہ کاری کے وعدے کیے گئے ہیں۔ ان پروجیکٹوں میں سلیکون اور کمپاؤنڈ سیمی کنڈکٹر فیب، ڈسپلے مینوفیکچرنگ اور جدید پیکیجنگ کی سہولتیں شامل ہیں۔ ان میں سے تین سہولتوں میں تجارتی پیداوار بھی شروع ہوچکی ہے۔ صرف یہ ایک حقیقت اس بات کی واضح عکاسی کرتی ہے کہ بھارت سیمی کنڈکٹر سے متعلق محض کاغذی پالیسی سے آگے بڑھ کر زمینی سطح پر سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کی جانب قدم بڑھا چکا ہے۔
چپس کی تیاری کے لیے ہنرمند افرادی قوت کی ترقی
کسی بھی فیب کی کامیابی اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ اس کے اندر تیار ہونے والی چِپس کو ڈیزائن کرنے والے انجینئرز کتنے ماہر ہیں۔ اس شعبے کے لیے ہدف بالکل واضح ہے: اس دہائی کے دوران 85,000 ہنرمند سیمی کنڈکٹر انجینئرز کی ایک مضبوط افرادی قوت تیار کرنا۔چِپس ٹو اسٹارٹ اپ پروگرام کے تحت اب تک 320 تعلیمی اداروں میں الیکٹرانک ڈیزائن آٹومیشن (ای ڈی اے) ٹولز فراہم کیے جاچکے ہیں اور 68,000 سے زیادہ طلبہ کو تربیت دی جاچکی ہے۔ اس کے علاوہ، 24 سیمی کنڈکٹر ڈیزائن پروجیکٹوں کو مالی مدد کے لیے منظوری دی گئی ہے، جبکہ ڈی ایل آئی اسکیم کے تحت 105 اسٹارٹ اپس اور ایم ایس ایم ایز کو ای ڈی اے ٹولز کی معاونت فراہم کی جارہی ہے۔
اپریل 2026 تک 75 تعلیمی اداروں کی جانب سے 211 چِپس کا ٹیپ آؤٹ مکمل کیا جاچکا تھا، جو اس بات کی واضح علامت ہے کہ چِپ ڈیزائن کی صلاحیت اب صرف چند اعلی سطح کی تجربہ گاہوں تک محدود نہیں رہی بلکہ وسیع پیمانے پر پھیل رہی ہے۔ ان میں سے سات چِپس کو مختلف نوڈز پر تیار بھی کیا جاچکا ہے، جن میں 12 نینو میٹر تک کے جدید ترین نوڈز شامل ہیں۔
ملک بھر میں چِپ ڈیزائن کی سہولت کو زیادہ سے زیادہ اداروں اور طلبہ تک پہنچانے کے لیے چِپس ٹو اسٹارٹ اپ (سی 2 ایس) پروگرام اور ڈیزائن لنکڈ انسینٹیو (ڈی ایل آئی) اسکیم کے تحت سی-ڈیک میں چِپ اِن سینٹر قائم کیا گیا ہے۔ یہ ایک مرکزی قومی سہولت کے طور پر کام کرتا ہے، جہاں جدید چِپ ڈیزائن ٹولز، چِپ مینوفیکچرنگ کی سہولتوں اور خصوصی تربیت تک رسائی فراہم کی جاتی ہے۔
چِپ اِن سینٹر نے 500 سے زائد اداروں، جن میں 400 تعلیمی ادارے اور 100 اسٹارٹ اپس شامل ہیں، کے ایک لاکھ سے زیادہ انجینئروں کو یہ سہولیات فراہم کی ہیں۔ ان اداروں نے مجموعی طور پر 300 سے زیادہ چپ ڈیزائن تیار کیے ہیں، جنہیں ایس سی ایل، موہالی اور بیرون ملک جدید فاؤنڈریز میں تیاری کے لیے استعمال کیا گیا ہے، جبکہ چپ ڈیزائن کے آلات کے استعمال کا دورانیہ 4 کروڑ گھنٹے سے تجاوز کر چکا ہے۔ ایسے مہنگے آلات اور خدمات تک مشترکہ رسائی فراہم کرکے اس اقدام نے نئے اداروں کے لیے داخلے کی رکاوٹیں کم کی ہیں، ترقیاتی اخراجات گھٹائے ہیں اور چپ اختراع کے عمل کو تیز کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں ایک مرکزی چپ ڈیزائن مرکز کے لیے دنیا کا سب سے بڑا صارف نیٹ ورک وجود میں آیا ہے۔
چِپ کے نئے دور کے لیے ایک شراکت داری
بھارت کی سیمی کنڈکٹر کے شعبے میں پیش رفت اب محض ایک ملکی کہانی نہیں رہی۔ انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کے پانچویں روز بھارت باضابطہ طور پر پیکس سلیکا اتحاد میں شامل ہوگیا۔ اس اتحاد میں امریکہ اور دیگر شراکت دار ممالک شامل ہیں، جن کا مقصد عالمی سلیکان سپلائی چین کو محفوظ بنانا ہے۔ اس کا مقصد اہم معدنیات اور سیمی کنڈکٹر کی تیاری سے لے کر جدید اے آئی نظام اور ان کی تعیناتی کے بنیادی ڈھانچے تک پورے ’’سلیکان اسٹیک‘‘ کو محفوظ بنانا ہے۔مقصد بالکل واضح ہے: سپلائی چین کو چند ہاتھوں تک محدود ہونے سے روکنا، معاشی دباؤ کا مقابلہ کرنا اور ان ٹیکنالوجیز کو، جو اس صدی کا رخ متعین کریں گی، کھلی اور جمہوری ریاستوں کے ہاتھوں میں محفوظ رکھنا۔ بھارت کے لیے یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کے سیمی کنڈکٹر کے عزائم اب اپنی سرحدوں سے کہیں آگے تک پھیل چکے ہیں۔
جہاں تمام کڑیاں آپس میں ملتی ہیں
یہی وہ چیز ہے جو سیمیکون انڈیا 2026 کو محض ایک نمائش سے کہیں بڑھ کر بناتی ہے۔ یشوبھومی میں تین دن تک 600 سے زائد نمائش کنندگان اور 300 بین الاقوامی کمپنیاں 15,000 مربع میٹر کے رقبے میں اپنی موجودگی درج کرائیں گی، جبکہ 150 سے زائد معروف مقررین اپنے علم اور تجربے سے آگاہ کریں گے۔ چھ ممالک اور 12 ریاستوں کے پویلین کے ساتھ اسٹارٹ اپ نمائش، طلبہ کا ہیکاتھون، افرادی قوت کی ترقی کا پویلین اور خواتین فورم بھی منعقد ہوں گے۔ ان میں سے ہر ایک اس ماحولیاتی نظام کے ایک حصے کی جھلک پیش کرے گا، جسے بھارت نے گزشتہ پانچ برسوں کے دوران مسلسل محنت سے تیار کیا ہے۔
ایک چِپ کو ڈیزائن کرنے میں برسوں اور تیار کرنے میں کئی ماہ لگتے ہیں، لیکن اس کے اثرات کہیں زیادہ عرصے تک قائم رہتے ہیں۔ آج ہر فون، ہر کار اور اسپتال کے ہر اس آلات کے اندر یہی چِپ موجود ہے، جسے وہ چلانے میں مدد دیتی ہے۔ آج ہماری زندگی میں استعمال ہونے والی ان تمام ڈیوائسز کا انحصار کسی نہ کسی ایسے فرد یا ادارے پر ہے، جس نے کہیں نہ کہیں سب سے پہلے وہ چِپ تیار کی۔سیمیکون انڈیا 2026 بھارت کا یہ واضح اعلان ہے کہ اب وہ اس شعبے میں کسی اور پر انحصار نہیں کرنا چاہتا بلکہ خود یہ ذمہ داری سنبھالنے کا عزم رکھتا ہے۔ یہ کل سے نہیں، بلکہ آج سے شروع ہونے والا سفر ہے۔
حوالہ جات
Ministry of Electronics & IT:
PIB Backgrounders:
پی ڈی ایف دیکھنے کےلئے لنک پر کلک کریں
***
ش ح۔ ش آ۔ن م
U.NO.3559
(ریلیز آئی ڈی: 2310391)
وزیٹر کاؤنٹر : 7