دیہی ترقیات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

پنشن سکھیاں، ریٹائرمنٹ سیکیورٹی کو دیہی ہندوستان کی دہلیز تک لے جائیں گی


دیہی ترقی کے محکمے اور پی ایف آر ڈی اے نے خواتین کی قیادت والے این آر ایل ایم کمیونٹی نیٹ ورک کے ذریعے پنشن کوریج کو بڑھانے  سے اتفاق کیا ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 15 SEP 2026 8:54AM by PIB Delhi

دیہی کنبوں  تک پنشن سے متعلق بیداری اور ریٹائرمنٹ کے بعد مالی تحفظ کو پہنچانے کی سمت ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے دیہی ترقی  کےمحکمہ (ڈی او آٓر ڈی) اور پنشن فنڈ ریگولیٹری اینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (پی ایف آر ڈی اے) نے آج ایک مفاہمت نامے(ایم او یو) پر دستخط کیے۔ اس کا مقصد پورے دیہی ہندوستان میں ’پنشن سکھیوں‘ کے ذریعے کمیونٹی پر مبنی رسائی کا نظام قائم کرنا اور اسے تعاون فراہم کرنا ہے۔ اس  مفاہمت نامے پر دیہی ترقی کے محکمے  کےجوائنٹ سکریٹری جناب امیت شکلا اور  پی ایف آر ڈی اے کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر محترمہ سومیت کور کپور نے ہ دیہی ترقی کے  محکمے  کےسکریٹری جناب روہت کنسل کی موجودگی میں دستخط کیے۔

اس شراکت داری کا مقصد دین دیال انتودیا یوجنا–نیشنل رورل لائیولی ہڈس مشن(ڈی اے وائی- این آر ایل ایم) کے تحت قائم وسیع کمیونٹی ادارہ جاتی نیٹ ورک سے فائدہ اٹھانا ہے۔ اس میں بینکنگ کرسپانڈنٹ (بی سی)  سکھیاں اور دیگر تربیت یافتہ کمیونٹی ریسورس  کے افراد  شامل ہیں، جو پنشن سے متعلق بیداری، مالی خواندگی، اندراج اور بعد کے اندراج   میں معاونت فراہم کرنے کے لئے  دیہی گھرانوں تک  پہنچانے میں مدد کریں گے۔

 مذکورہ پہل کے تحت خواتین کی قیادت والے  اپنی مدد آپ گروپوں  ((ایس ایچ جیز) کے مضبوط ادارہ جاتی نظام سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پنشن کوریج سے متعلق بنیادی چیلنج سے نمٹنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس چیلنج میں ایسے گھرانوں تک رسائی شامل ہے جہاں باضابطہ مالی مشوروں اور ریٹائرمنٹ کی منصوبہ بندی سے متعلق خدمات تک رسائی محدود ہوسکتی ہے۔ اس شراکت داری کے تحت پنشن سکھیاں قابل اعتماد کمیونٹی سطح کی سہولت کار کے طور پر کام کریں گی اور خاص طور پر ایس ایچ جی اراکین، دیہی خواتین، لکھ پتی دیدیوں اور دیگر دیہی افراد تک رسائی حاصل کریں گی۔ وہ گھرانوں کو پنشن اور ریٹائرمنٹ کی منصوبہ بندی سے متعلق معلومات فراہم کرنے، اندراج میں سہولت فراہم کرنے اور پنشن سے متعلق خدمات کو سمجھنے میں مدد کریں گی۔

اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئےہ دیہی ترقی کے  محکمے کےسکریٹری جناب روہت کنسل نے کہا کہ ایس ایچ جی تحریک میں شامل دیہی گھرانوں میں بچت کے مخصوص طریقے، روزگار کے مختلف ادوار اور خطرات کی مختلف نوعیت پائی جاتی ہے، لہذا  سماجی تحفظ کو پائیدار خوشحالی کے مشن کے وسیع تر مقصد کا ایک اہم حصہ بنانا ضروری ہے۔

جناب روہت کنسل نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ‘‘سماجی تحفظ صرف کمزوری اور خطرات سے تحفظ فراہم کرنے تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کا مقصد گھرانوں کو مسلسل معاشی ترقی کی راہ پر آگے بڑھنے کے لیے اعتماد اور مشکلات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت فراہم کرنا بھی ہے۔’’

جناب کنسل نے اس بات پر بھی  زور دیا کہ پنشن سے متعلق بیداری اور مالی خواندگی کی بنیاد ایمانداری، شفافیت اور اعتماد پر مبنی ہونی چاہیے۔  سکریٹری موصوف نے  اس بات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا کہ دیہی شہریوں کو واضح اور شفاف معلومات فراہم کی جائیں، تاکہ وہ اپنی طویل مدتی مالی سلامتی کے بارے میں باخبر فیصلے کرسکیں۔

محترمہ ممتا شنکر نے بڑھتی ہوئی اوسط عمر اور آبادی کے بدلتے ہوئے رجحانات کے تناظر میں ریٹائرمنٹ کی منصوبہ بندی کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو اجاگر کیا۔  محترمہ نے اس امید  کا اظہار کیا کہ اس شراکت داری سے دیہی گھرانوں میں پنشن مصنوعات، بشمول نیشنل پنشن سسٹم(این پی ایس) ، کے بارے میں بیداری میں نمایاں اضافہ ہوگا اور ان کے استعمال کو بھی فروغ  حاصل ہوگا، خاص طور پر ان گھرانوں میں جو اب بھی باضابطہ ریٹائرمنٹ اور سماجی تحفظ کے نظام سے باہر ہیں۔

اس تعاون سے ڈیجیٹل ڈیش بورڈز اور موبائل  اور ویب پر مبنی نظام کے ذریعے رسائی اور اندراج کی نگرانی بھی مضبوط ہوگی، جس میں متعلقہ محکمے کا اپنا ایل او کے او ایس نظام بھی شامل ہے۔ اس سے شراکت داری میں شامل اداروں کو پیش رفت پر نظر رکھنے اور کوریج میں موجود خامیوں کی نشاندہی کرنے میں مدد ملے گی، ساتھ ہی کمیونٹی سطح پر رسائی کے لیے نگرانی اور خدمات کی فراہمی کے مناسب ڈیجیٹل نظام کے ذریعے معاونت فراہم کی جائے گی۔

 مذکورہ مفاہمت نامہ (ایم او یو) ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والی  دوصلاحیتوں کو یکجا کرتا ہے: اس میں  پنشن کے ضابطہ کار اور ریٹائرمنٹ کے بعد مالی تحفظ کے نظام میں پی ایف آر ڈی اے کی مہارت اور خواتین کے اجتماعی گروپس اور تربیت یافتہ نچلی سطح کے کارکنوں کے ذریعے  ڈی اے وائی- این آر ایل ایم ایل کی بے مثال کمیونٹی رسائی شامل ہیں۔ اس شراکت داری کا مقصد اس ادارہ جاتی رسائی کو پورے دیہی ہندوستان میں پنشن سے متعلق بیداری اور اندراج کی مسلسل کوشش میں تبدیل کرنا ہے۔ یہ پہل مشن کے کمیونٹی کارکنوں کے  رول  میں ایک اہم پیش رفت کی نشاندہی کرتی ہے، جس کے تحت وہ بینکنگ اور روزگار کے مواقع تک رسائی میں سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ دیہی گھرانوں کو طویل مدتی مالی تحفظ اور مشکلات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیدا کرنے میں بھی مدد  فراہم کریں گے۔

ہندوستان کے دیہی گھرانے تیزی سے باضابطہ مالیاتی نظام کا حصہ بن رہے ہیں، لیکن بینکنگ تک رسائی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ریٹائرمنٹ کی مناسب منصوبہ بندی بھی خود بخود ہوجائے گی۔ زراعت، غیر رسمی روزگار اور چھوٹے کاروباروں پر منحصر بہت سے گھرانوں کی آمدنی غیر مستقل ہوسکتی ہے اور وہ معاشی مشکلات سے متاثر ہوسکتے ہیں۔ لہذا  بیداری پیدا کرنا اور ابتدائی مرحلے میں باخبر طریقے سے پنشن سے وابستہ ہونے کی حوصلہ افزائی کرنا گھرانوں کی مالی مشکلات سے نمٹنے کی صلاحیت کا ایک اہم حصہ بن سکتا ہے۔ اس طرح یہ پہل دیہی مالی شمولیت کے ایجنڈے میں ایک وسیع تر تبدیلی میں معاون ثابت ہوگی، جس میں مالی خدمات تک رسائی سے آگے بڑھ کر باخبر شمولیت، طویل مدتی بچت اور مالی مشکلات سے نمٹنے کی صلاحیت پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image001_20260915094939_d65af7.jpg

 دیہی  ترقی کی وزارت کے  دیہی ترقی کے محکمے اور پی ایف آر ڈی اے کے درمیان 14 ستمبر2026 کو  مفاہمت کے اقرار نامے پر دستخط  کئے گئے ۔

***

ش ح۔ش م۔رض

U-3552


(ریلیز آئی ڈی: 2310335) وزیٹر کاؤنٹر : 8