ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ماحولیات  کےمرکزی وزیر نے گجرات کے کچھ میں گریٹ انڈین بسٹرڈ ہیبی ٹیٹ  کا دورہ کیا؛ جی آئی بی سافٹ ریلیز سینٹر اور سیارا ون کَوَچ کا افتتاح کیا اور مینگروو کی شجر کاری کی کوششوں کا جائزہ لیا


جناب بھوپیندر یادو نے نالیا میں گشت کرنے والی گاڑیوں کو ہری جھنڈی دکھاکر روانہ کیا ؛ سیارا اور جکھاؤ میں شجر کاری کی اور مِشٹی کے مستفیدین سے بات چیت کی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 14 SEP 2026 3:31PM by PIB Delhi

کچھ/نئی دلّی، 14 ستمبر  ، 2026 ء

ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کے مرکزی وزیر جناب بھوپیندر یادو نے آج گجرات کے کچھ ضلع کے نالیا میں گریٹ انڈین بسٹرڈ  ( جی آئی بی ) ہیبی ٹیٹ (مسکن )کا دورہ کیا۔ انہوں نے گریٹ انڈین بسٹرڈ کو زیادہ سے زیادہ تحفظ فراہم کرنے کے لیے جاری کوششوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران  ، کچھ کے گریٹ انڈین بسٹرڈ ہیبی ٹیٹ کے پورے علاقے میں جامع تحفظ اور ہیبی ٹیٹ کے انتظام کے لیے کیے جا رہے اقدامات پر خصوصی توجہ دی گئی۔

وزیر موصوف کے ہمراہ گجرات کے جنگلات و ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور سائنس و ٹیکنالوجی کے کابینی وزیر جناب ارجن مودھ واڈیا بھی موجود تھے۔ وزارت ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی، گجرات  کے محکمہ جنگلات، وائلڈ لائف انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا ( ڈبلیو آئی آئی ) اور بارڈر سکیورٹی فورس ( بی ایس ایف ) کے سینئر افسران کے علاوہ مقامی برادری کے افراد اور  پورے کچھ بھر میں شجرکاری، پودے لگانے اور ساحلی روزگار سے متعلق اقدامات کے مستفیدین بھی اس موقع پر موجود تھے۔

 

 

اپنے دورے کے دوران  ، جناب یادو نے اس مرکز میں گریٹ انڈین بسٹرڈ کے لیے قائم سافٹ ریلیز سینٹر کا افتتاح کیا اور وائلڈ لائف انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا، گجرات محکمہ جنگلات اور اس نسل کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے دیگر متعلقہ اداروں کے افسران سے بات چیت کی۔ اس کے بعد  ، انہوں نے ‘کھٹالا سبھا ’  میں عوامی نمائندوں سے تفصیلی بات چیت کی اور اس نسل کے تحفظ سے متعلق اقدامات کو آگے بڑھانے میں ان کی مسلسل حمایت حاصل کرنے پر زور دیا۔

وزیر موصوف کو گریٹ انڈین بسٹرڈ  ہیبی ٹیٹ کے علاقے میں زمینی سطح پر حاصل ہونے والی اہم پیش رفت کے بارے میں معلومات  فراہم کی گئیں۔ اس میں انویسیو پروسوپس جولی فلورا سے متاثر تقریباً 11 مربع کلومیٹر گھاس کے میدان کی بحالی؛ 15 مربع کلومیٹر علاقے میں 30 کلومیٹر طویل شکاری جانوروں سے محفوظ باڑ لگانا؛ اور ‘ جمپ اسٹارٹ ’ کے تحت ایک اہم اقدام شامل ہے، جس میں جنگل میں گریٹ انڈین بسٹرڈ کی مادہ کے دیے گئے بانجھ انڈوں کی جگہ تحفظ اور افزائش کے پروگرام سے حاصل کیے گئے قابلِ حیات انڈے رکھے گئے۔ جناب یادو کو بتایا گیا کہ اس طرح کی دوسری کوشش سے پیدا ہونے والا بچہ جنگل میں ابتدائی تین ماہ کے اہم مرحلے سے بھی آگے زندہ رہا ہے۔ گجرات میں اس نسل کی بحالی کے لیے یہ ایک اہم کامیابی ہے۔

 

 

جناب یادو نے اس کامیابی کے لیے گجرات  کے محکمہ جنگلات اور وائلڈ لائف انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا کی مربوط کوششوں کی ستائش کی ۔ انہوں نے جنگلات اور جنگلی حیات کے تحفظ سے متعلق کوششوں کے لیے 33 نئی گشت اور امدادی گاڑیوں کو بھی ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔ ان گاڑیوں کا استعمال کچھ فاریسٹ سرکل کے مختلف ڈویژنوں میں جنگلات کے تحفظ، جنگلات کی ترقی، جنگلی حیات کے تحفظ، میدانی گشت، نگرانی اور فوری کارروائی سے متعلق سرگرمیوں کے لیے کیا جائے گا۔

اس کے بعد  ، وزیر موصوف نے سیارا میں ہریالو گرام شجر کاری کا دورہ کیا، جہاں انہیں سیارا ون کَوَچ پہل اور اس سے منسلک شہد کی مکھیوں کے پالنے کے یونٹ کے بارے میں معلومات  فراہم کی گئیں ۔ انہوں نے وہاں شجر کاری کی، سیارا ون کَوَچ کا افتتاح کیا اور شجرکاری کی سرگرمیوں کے لیے دین دیال پورٹ اتھارٹی کے ساتھ مفاہمت  ناموں تبادلے کا مشاہدہ کیا۔ وزیر موصوف نے ون کَوَچ فوٹو بک بھی جاری کی اور مقامی باشندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ان میں پودے بھی تقسیم کیے۔

 

 

سیارا ون کَوَچ کو 9.46 مربع کلومیٹر کے رقبے میں میاواکی طریقے سے تیار کیا گیا ہے، جس میں گھنے اور مختلف سطحوں پر مشتمل شجر کاری کی گئی ہے۔ اس میں کچھ کے نمکین اور کم پانی والے حالات کے لیے موزوں 47 مقامی انواع کے 10,000 سے زیادہ پودے شامل ہیں۔ جناب یادو کو بتایا گیا کہ اس ماڈل سے مقامی درجہ حرارت میں 1.5 سے 2 ڈگری سیلسیس تک کمی آنے، زیر زمین پانی کی سطح بہتر ہونے، مٹی کے کٹاؤ کو روکنے اور پرندوں، کیڑوں اور چھوٹے جنگلی جانوروں کے لیے قدرتی مسکن فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ  ، یہ مقام ماحول دوست سیاحت، ماحولیاتی تعلیم اور مقامی روزگار کے مرکز کے طور پر بھی کام کرے گا۔

جکھاؤ میں وزیر موصوف نے مینگروو نرسری کا دورہ کیا اور اس سے متصل مقام پر بارڈر سکیورٹی فورس کے تقریباً 50 اہلکاروں اور 50 سے زیادہ مقامی باشندوں کے ساتھ مینگروو کی شجر کاری کی۔ انہوں نے کوری کریک اور سر کریک کے علاقوں میں مینگروو کی شجر کاری سے متعلق کوششوں پر ایک تصویری نمائش دیکھی، سمندری گھاس کے بیجوں کے بینک کا دورہ کیا اور ماہرین سے بات چیت کی۔ انہوں نے سمندری گھاس کی کاشت کرنے والوں اور مِشٹی (مینگروو انیشی ایٹو فار شور لائن ہیبی ٹیٹس اینڈ ٹینجیبل انکمز – ایم آئی ایس ایچ ٹی آئی ) پروگرام کے مستفیدین سے بھی ملاقات کی۔

 

 

.................

( ش ح ۔ م  م ۔ ع ا )

U. No. 3423

 


(ریلیز آئی ڈی: 2310097) وزیٹر کاؤنٹر : 7