ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
مرکزی وزیر ماحولیات نے بُھج میں مینگروو کے تحفظ سے متعلق ورکشاپ کی صدارت کی؛ مینگروو سے متعلق اہم اشاعتیں جاری کیں اور مشٹی (ایم آئی ایس ایچ ٹی آئی)کی پیش رفت کا جائزہ لیا
جناب بھوپیندر یادو نے سائنسی بنیادوں پر، مقام کی مخصوص ضروریات کے مطابق اور مقامی برادری کی قیادت میں مینگروو کی بحالی پر زور دیا؛ فیصلہ سازی میں معاونت کے لیے مینگروو جی آئی ایس (ایم جی آئی ایس) پورٹل کا آغاز کیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
13 SEP 2026 8:00PM by PIB Delhi
ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کے مرکزی وزیر جناب بھوپیندر یادو نے آج گجرات کے کچَھ ضلع کے بُھج میں منعقدہ مینگروو کے تحفظ، بحالی اور پائیدار انتظام سے متعلق ورکشاپ سے خطاب کیا۔ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر موصوف نے اس بات پر زور دیا کہ مینگروو کو زندہ ماحولیاتی نظام کے طور پر محفوظ کیا جانا چاہیے، کیونکہ یہ ساحلی حیاتیاتی تنوع، ماہی گیری، ساحلی پٹی کے تحفظ، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت اور مقامی لوگوں کے روزگار کے لیے انتہائی اہم ہیں۔

ورکشاپ میں گجرات حکومت کے کابینہ وزیر برائے جنگلات و ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور سائنس و ٹیکنالوجی جناب ارجن مودھواڈیا اور گجرات حکومت کے وزیر مملکت برائے اعلی اور تکنیکی تعلیم جناب تریکم بھائی چھانگا نے بھی شرکت کی اور خطاب کیا۔ دونوں رہنماؤں نے مشٹی(ایم آئی ایس ایچ ٹی آئی) کے تحت مینگروو کے تحفظ اور ساحلی ماحولیاتی نظام کی بحالی کے لیے ریاستی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔

مشٹی (مینگروو انیشیٹو فار شور لائن ہیبی ٹیٹس اینڈ ٹینجیبل انکمس) پروگرام کے تحت گجرات میں مینگروو کے تحفظ کے لیے کیے جا رہے اقدامات کا جائزہ لیتے ہوئے جناب یادو نے بحالی، سائنسی انتظام، مقامی برادری کی شمولیت اور ٹیکنالوجی کی مدد سے نگرانی پر دی جانے والی خصوصی توجہ کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ مشٹی (ایم آئی ایس ایچ ٹی آئی) کے تحت گجرات نے مینگروو کی بحالی کے میدان میں نمایاں پیش رفت کی ہے اور 2023 سے 2027 کے لیے مقررہ 29,250 ہیکٹیئر کے ہدف کے مقابلے میں اب تک 27,652 ہیکٹیئر رقبے کا احاطہ کیا جا چکا ہے۔ اس میں ماحولیاتی اعتبار سے مشکل علاقے کوری کریک میں 12,450 ہیکٹیئر رقبہ بھی شامل ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کچھ کی مقامی جغرافیائی اور ماحولیاتی صورت حال کے مطابق مخصوص مقامات کے لیے موزوں بحالی کی تکنیکیں اختیار کی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ حیاتیاتی تنوع میں اضافے، سمندری گھاس کی کاشت اور پائیدار روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

اس موقع پر وزیر موصوف نے ’’کچھ مینگرووز‘‘ سے متعلق کافی ٹیبل بک اور ’’گجرات مینگرووز اٹلس‘‘ جاری کیا اور مینگروو جی آئی ایس (ایم جی آئی ایس) پورٹل کا آغاز کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات ریاست بھر میں مینگروو کے مسکن سے متعلق سائنسی بنیادوں پر فیصلہ سازی اور نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ جناب یادو نے گونیری اندرون ملک مینگروو گاؤں کی حیاتیاتی تنوع انتظامی کمیٹی کو بھی اعزاز سے نوازا اور گونیری کے اندرون ملک مینگرووز کے تحفظ کے لیے کمیونٹی کی جانب سے مسلسل کی جانے والی کوششوں کی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ ساحل سے دور پروان چڑھنے والا یہ نایاب ماحولیاتی نظام جنوری 2025 میں گجرات کا پہلا حیاتیاتی ورثہ مقام قرار دیا گیا تھا۔

ورکشاپ میں ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی مرکزی وزارت اور گجرات کے محکمہ جنگلات کے اعلی افسران کے علاوہ سائنس دانوں، ماحولیاتی تحفظ کے ماہرین اور مقامی برادریوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ یہ مقامی برادریاں کچَھ میں مینگروو کی بحالی اور ساحلی علاقوں میں روزگار سے متعلق اقدامات کے لیے کام کر رہی ہیں۔
********
(ش ح ۔ش ت ۔ت ا )
U. No. 3400
(ریلیز آئی ڈی: 2309970)
وزیٹر کاؤنٹر : 9