وزارت آیوش
برکس نے روایتی طب سے متعلق ماہرین کے گروپ کی حمایت کی، شواہد پر مبنی عالمی تعاون پر زور
نئی دہلی اعلامیہ میں صحت کے نظام کو مضبوط بنانے اور سب کے لیے صحت کی عالمی کوریج کے فروغ میں روایتی، تکمیلی اور مربوط طب کے بڑھتے کردار کو اجاگر کیا گیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
13 SEP 2026 2:07PM by PIB Delhi
اٹھارہویں برکس سربراہ اجلاس میں منظور کیے گئے نئی دہلی اعلامیہ نے روایتی، تکمیلی اور مربوط طب (ٹی سی آئی ایم) کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون کو نمایاں فروغ دیا ہے۔ اعلامیہ میں صحت کے نظام کو مضبوط بنانے اور سب کے لیے عالمی صحت کوریج (یو ایچ سی) کے حصول میں اس شعبے کی بڑھتی اہمیت کو تسلیم کیا گیا ہے۔

اعلامیہ کا ایک اہم نتیجہ برکس ہیلتھ ٹریک کے تحت روایتی، تکمیلی اور مربوط طب (ٹی سی آئی ایم) سے متعلق برکس ماہرین کا ورکنگ گروپ قائم کرنے کی مجوزہ تجویز کا خیرمقدم ہے۔ مجوزہ ورکنگ گروپ برکس کے رکن ممالک کے درمیان بات چیت، تعاون اور تجربات کے تبادلے کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گا اور روایتی طب کے شعبے میں تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے ایک منظم طریقہ کار فراہم کرے گا۔
وزارت آیوش کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور صحت و خاندانی بہبود کے وزیر مملکت پرتاپ راؤ جادھو نے کہا، ’’نئی دہلی اعلامیہ میں روایتی، تکمیلی اور مربوط طب کو تسلیم کیا جانا روایتی طب کے شعبے میں عالمی تعاون کو مضبوط بنانے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ مجوزہ برکس ماہرین کا ورکنگ گروپ رکن ممالک کو معلومات اور تجربات شیئر کرنے، تحقیق کو مضبوط بنانے اور شواہد پر مبنی طریقہ کار کو فروغ دینے کے لیے ایک بامعنی پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔ ہندوستان سائنسی تحقیق، معیار کی یقین دہانی اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے آیوروید اور دیگر روایتی نظام ہائے طب کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے، تاکہ ان کی صلاحیت کو محفوظ، مؤثر اور سستی صحت خدمات کی فراہمی میں بروئے کار لایا جاسکے۔‘‘
وزارت آیوش کے سکریٹری ویدیا راجیش کوٹیچا نے کہا، ’’نئی دہلی اعلامیہ برکس ممالک کے درمیان روایتی، تکمیلی اور مربوط طب کے شعبے میں منظم تعاون کو آگے بڑھانے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ مجوزہ ماہرین کا ورکنگ گروپ شواہد کے تبادلے، تحقیقی تعاون کو مضبوط بنانے اور معیار و ضابطہ جاتی طریقہ کار کو بہتر بنانے کے لیے ایک مرکوز پلیٹ فارم فراہم کرسکتا ہے۔ ہندوستان اپنے آیوش نظام کے ذریعے سخت سائنسی تحقیق اور شواہد پر مبنی طریقوں کو فروغ دے کر اس تعاون میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے، جس سے محفوظ، مؤثر اور سستی صحت خدمات کی فراہمی میں مدد مل سکتی ہے۔‘‘
اعلامیہ میں علاج اور بیماریوں سے بچاؤ کے مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے ادویاتی پودوں اور جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ ادویات پر تحقیق کے شعبے میں مزید تعاون پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔ اس میں تسلیم کیا گیا ہے کہ برکس رکن ممالک کے مشترکہ روایتی فارماکوپیا محفوظ، مؤثر اور سستی علاج کی مصنوعات تیار کرنے کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
تحقیق میں مربوط تعاون کی یہ ترجیح برکس ممالک کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے، جہاں روایتی نظام ہائے طب نسل در نسل پروان چڑھے ہیں اور ادویاتی پودے و جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ ادویات صحت کی روایات کا اہم حصہ ہیں۔ باہمی تعاون سے تحقیق، دستاویز سازی، معلومات و تجربات کے تبادلے اور سائنسی شواہد جمع کرنے کے عمل کو فروغ مل سکتا ہے، جبکہ علاج کی مصنوعات کی ذمہ دارانہ تیاری میں بھی مدد ملے گی۔

اعلامیہ میں شواہد پر مبنی طریقہ کار اور رکن ممالک کے قومی حالات کے مطابق موزوں ضابطہ جاتی فریم ورک کے ذریعے روایتی، تکمیلی اور مربوط طب (ٹی سی آئی ایم) کے طریقوں اور مصنوعات کے معیار، تحفظ اور افادیت کو یقینی بنانے کی اہمیت کی بھی توثیق کی گئی ہے۔
شواہد، معیار، تحفظ اور افادیت پر یہ توجہ روایتی طب پر اعتماد مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم بنیاد فراہم کرتی ہے۔ اس کے علاوہ برکس ممالک کے درمیان تحقیقی طریقہ کار، فارماکوپیا کے معیارات، معیار کی یقین دہانی، ضابطہ جاتی طریقوں اور روایتی طب کے طریقوں و مصنوعات کی سائنسی توثیق جیسے شعبوں میں تجربات اور مہارت کے تبادلے کی گنجائش بھی پیدا ہوتی ہے۔
ہندوستان کی برکس صدارت میں روایتی طب کے شعبے میں منظم تعاون کو فروغ
یہ پیش رفت ہندوستان کی برکس صدارت کے تحت 21 جولائی 2026 کو چندی گڑھ میں منعقدہ برکس اجلاس برائے روایتی، تکمیلی اور مربوط طب کے بعد سامنے آئی ہے۔ اجلاس میں برکس رکن ممالک کے اعلیٰ سرکاری عہدیداروں، تکنیکی ماہرین اور نمائندوں نے شرکت کی اور ٹی سی آئی ایم سے متعلق تحقیق، تعلیم، معلومات و تجربات کے تبادلے اور ضابطہ جاتی فریم ورک کے شعبوں میں تعاون کو آگے بڑھایا۔
اجلاس میں مجوزہ برکس ماہرین کے ورکنگ گروپ برائے ٹی سی آئی ایم کے ضابطہ کار (ٹرمز آف ریفرنس) پر بھی اتفاق رائے قائم ہوا۔
مجوزہ ماہرین کا ورکنگ گروپ اس تعاون کو مزید ادارہ جاتی شکل دینے اور برکس ممالک کے تحقیقی اداروں، ماہرین، پالیسی سازوں اور تعلیمی اداروں کے درمیان مسلسل رابطے اور تعاون کو فروغ دینے کا موقع فراہم کرے گا۔

ہندوستان کے لیے یہ پیش رفت خاص اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ اس سے تحقیق، شواہد کی تیاری، معیار کی یقین دہانی اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے آیوروید اور دیگر آیوش نظام ہائے طب کو فروغ دینے کی ملک کی کوششوں کو تقویت ملتی ہے۔ ہندوستان روایتی طب کو صحت کے نظام میں ذمہ دارانہ طور پر شامل کرنے کے ساتھ ساتھ سائنسی شواہد، تحفظ، افادیت اور مناسب معیارات کی اہمیت پر مسلسل زور دیتا رہا ہے۔
ادویاتی پودوں اور جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ ادویات پر توجہ سے برکس ممالک کے درمیان سائنسی اور تکنیکی تعاون کے مزید مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ مربوط تحقیق سے ادویاتی وسائل کی بہتر دستاویز سازی اور سائنسی تفہیم میں مدد مل سکتی ہے، فارماکوپیا سے متعلق معلومات کو مضبوط کیا جا سکتا ہے اور معیاری و محفوظ علاج کی مصنوعات کی تیاری میں معاونت مل سکتی ہے۔
یہ پیش رفت صحت کے نظام میں روایتی طب کے مناسب کردار پر بڑھتی ہوئی عالمی توجہ کے پس منظر میں سامنے آئی ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی ’گلوبل ٹریڈیشنل میڈیسن اسٹریٹجی 2034-2025‘ میں شواہد کی بنیاد مضبوط بنانے، تحفظ اور معیار یقینی بنانے اور روایتی طب کو صحت کے نظام میں مناسب طور پر شامل کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
ڈبلیو ایچ او نے برکس کے اس اقدام کو روایتی طب کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون کو آگے بڑھانے کی سمت ایک اہم پیش رفت بھی قرار دیا ہے۔

نئی دہلی اعلامیہ میں ٹی سی آئی ایم پر توجہ محض روایتی طب کو تسلیم کیے جانے تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ شواہد پر مبنی بین الاقوامی تعاون کو مزید گہرا کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیتی ہے۔
مجوزہ ماہرین کا ورکنگ گروپ روایتی، تکمیلی اور مربوط طب کے شعبے میں برکس ممالک کے متنوع تجربات کو ایک پلیٹ فارم پر لاسکتا ہے اور تحقیق، شواہد کی تیاری، صلاحیت سازی، معلومات و تجربات کے تبادلے اور ضابطہ جاتی طریقہ کار میں تعاون کے نئے مواقع پیدا کرسکتا ہے۔
اس طرح نئی دہلی اعلامیہ برکس ممالک کے درمیان روایتی طب کے شعبے میں زیادہ منظم تعاون کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ اس کے تحت روایتی معلومات، سائنسی تحقیق، ادویاتی پودوں کے وسائل، فارماکوپیا سے متعلق مہارت اور ضابطہ جاتی تجربات کو ایک دوسرے سے جوڑنے پر زور دیا گیا ہے۔
ہندوستان کے لیے یہ نتیجہ آیوروید اور وسیع تر آیوش نظام کو عالمی سطح پر شواہد پر مبنی روایتی طب، احتیاطی صحت خدمات اور مضبوط و پائیدار صحت نظام سے متعلق مباحث میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے بین الاقوامی پلیٹ فارم کو مزید مضبوط کرتا ہے۔
ٹی سی آئی ایم کو برکس ہیلتھ ٹریک کا حصہ بنانے اور تعاون کو سب کے لیے عالمی صحت کوریج، تحقیق، شواہد، معیار، تحفظ اور افادیت سے جوڑنے کے ذریعے نئی دہلی اعلامیہ رکن ممالک کے درمیان محفوظ، مؤثر اور سستی صحت خدمات کے حل کے لیے پائیدار تعاون کی مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔
************
ش ح ۔ م د ۔ م ص
(U : 3373 )
(ریلیز آئی ڈی: 2309756)
وزیٹر کاؤنٹر : 12