محنت اور روزگار کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مزدوروں کی فلاح و بہبود اور ہنرمندی کے نظام کو مضبوط بنانے پر توجہ کے ساتھ تعمیراتی اور دیگر تعمیراتی کارکنوں (بی او سی ڈبلیو) سے متعلق قومی کانفرنس ممبئی میں اختتام پذیر


سکریٹری (محنت و روزگار) نے بی او سی ڈبلیو کے تحت فلاحی خدمات کی مؤثر فراہمی کو مضبوط بنانے کے لیے مرکز اور ریاستوں کے درمیان زیادہ ہم آہنگی اور باہمی تجربات سے سیکھنے پر زور دیا

بی او سی ڈبلیو کانفرنس میں ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے ہنرمندی، ڈیجیٹل لیبر چوک اور کارکنوں کی سہولت کاری سے متعلق اقدامات پیش کیے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 12 SEP 2026 3:59PM by PIB Delhi

محنت و روزگار کی وزارت، حکومت ہند نے حکومت مہاراشٹر کے اشتراک سے تعمیراتی اور دیگر تعمیراتی کارکنان (بی او سی ڈبلیو) سے متعلق دو روزہ قومی کانفرنس کا انعقاد کیا، جو آج ممبئی میں اختتام پذیر ہوئی۔ 11 اور 12 ستمبر 2026 کو منعقد ہونے والی اس کانفرنس میں مرکزی حکومت، ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی حکومتوں، بی او سی ڈبلیو ویلفیئر بورڈوں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے نمائندوں نے شرکت کی اور تعمیراتی کارکنوں کی فلاح و بہبود، ہنرمندی، روزگار اور سماجی تحفظ سے متعلق امور پر غور و خوض کیا۔ مرکزی وزیر محنت و روزگار اور نوجوانوں کے امور و کھیل ڈاکٹر منسکھ منڈاویہ نے کانفرنس کے پہلے دن کی صدارت کی۔ اس موقع پر محنت و روزگار اور بہت چھوٹی، چھوٹی و درمیانے درجے کی صنعتوں کی مرکزی وزیر مملکت، محترمہ شوبھا کرندلاجے بھی موجود تھیں۔

دوسرے دن اپنے افتتاحی خطاب میں سکریٹری نے بی او سی ڈبلیو شعبے کو درپیش موجودہ چیلنجوں اور اس میں موجود مواقع کی تفصیل پیش کی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہنرمندی کے نظام کو مضبوط بنانا اور پالیسیوں اور پروگراموں کی تشکیل کے مرکز میں محنت کے وقار کو رکھنا ایک زیادہ جواب دہ، جامع اور مضبوط محنت کے نظام کی تعمیر کے لیے نہایت اہم ہے۔ انہوں نے محنت کی منڈی میں معلومات اور رسائی سے متعلق عدم مساوات کو دور کرنے اور ایسے نظام کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر روشنی ڈالی جو ملازمت کے متلاشی افراد اور آجروں کے درمیان بہتر روابط قائم کرنے میں معاون ہوں۔

 

 

سکریٹری نے اس بات پر زور دیا کہ سماجی تحفظ اور فلاحی اسکیموں کی تشکیل کے دوران کارکنوں کی بین ریاستی اور بین الاقوامی نقل و حرکت کو مناسب طور پر مدنظر رکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے تعمیراتی کارکنوں کی پیشہ ورانہ صحت، جسمانی تحفظ اور کام کی جگہ سے متعلق دیگر امور پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

کانفرنس کے دوران ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی جانب سے پیش کیے گئے بہترین طور طریقوں کی ستائش کرتے ہوئے انہوں نے مسلسل تعاون اور باہمی طریقے سے سیکھنے کے لیے مرکز اور ریاستوں کے درمیان تجربات کے زیادہ سے زیادہ تبادلے اور زیادہ باقاعدگی سے ورچوئل رابطوں کی حوصلہ افزائی کی۔

 

مستقبل کے حوالے سے سکریٹری نے بی او سی ڈبلیو فلاحی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم اقدامات کی نشاندہی کی، جن میں کیے جا رہے مختلف النوع اقدامات کو یکجا کرنا اور پائیدار فلاحی اقدامات کے لیے معاونت کی غرض سے ایکچوریل تجزیے کا زیادہ سے زیادہ استعمال شامل ہے۔

 

 

کانفرنس کے دوسرے دن کا آغاز ”نئے لیبر کوڈ کی روشنی میں بی او سی ڈبلیو ویلفیئر بورڈوں کے کردار اور ذمہ داریاں“ کے موضوع پر ایک اجلاس سے ہوا۔ اجلاس میں مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی جانب سے پیشکشیں کی گئیں، جن میں تعمیراتی اور دیگر تعمیراتی کارکنان کے لیے فلاح و بہبود اور خدمات کی فراہمی کے نظام کو مضبوط بنانے کے مقصد سے کیے گئے ان کے اقدامات اور بہترین طور طریقوں کو اجاگر کیا گیا۔

 

 

اتر پردیش نے تعمیراتی کارکنوں کی ہنرمندی کی ترقی کے حوالے سے اپنے اقدامات پیش کیے، جبکہ راجستھان نے ڈیجیٹل لیبر چوک سے متعلق اپنے تجربات کا اشتراک کیا۔ بہار نے شرم سیوا سہولت کیندروں پر روشنی ڈالی، جبکہ آسام نے نرمان سکھی پورٹل پیش کیا۔ ان پیشکشوں کے بعد شریک ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں اور متعلقہ فریقوں کے درمیان تبادلہ خیال ہوا، جس سے بی او سی ڈبلیو کارکنوں کو فلاحی اور روزگار سے متعلق خدمات کی مؤثر فراہمی کو مضبوط بنانے کے لیے تجربات اور طریقہ کار کا اشتراک کرنے کا موقع ملا۔

 

 

اس کے بعد کانفرنس میں ہنرمندی اور روزگار کے موضوع پر ایک خصوصی اجلاس منعقد ہوا، جس میں ہنرمندی کی ترقی و صنعت کاری کی وزارت کی جانب سے ہنرمندی کے موضوع پر اور محنت و روزگار کی وزارت کی جانب سے ہندوستان میں روزگار کی ترقی کی صورت حال پر پیشکشیں کی گئیں، جس کے بعد تبادلۂ خیال کیا گیا۔

لیبر اسٹیک سے متعلق بھی ایک اجلاس منعقد کیا گیا۔ اس کے علاوہ تعمیراتی شعبے اور صنعتی کارکنوں کے صارف قیمت اشاریہ پر بھی غور و خوض کیا گیا، جس میں اس موضوع پر ایک پیشکش کے بعد تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

 

 

دو روزہ کانفرنس کے دوران ہونے والے غور و خوض نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو اپنے تجربات اور طور طریقوں کا اشتراک کرنے اور تعمیراتی اور دیگر تعمیراتی کارکنوں کے لیے فلاح و بہبود، ہنرمندی، روزگار اور خدمات کی فراہمی کے نظام کو مضبوط بنانے کے اقدامات پر تبادلۂ خیال کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کیا۔

**********

ش ح۔ ف ش ع                                                                                                                                                                         U: 3347

 


(ریلیز آئی ڈی: 2309511) وزیٹر کاؤنٹر : 14