سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
اسٹیل سلیگ سے بننے والی سڑکیں تعمیراتی لاگت میں 40 فی صد تک کمی اور چار گنا زیادہ مضبوطی فراہم کر سکتی ہیں: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
وزیر موصوف نے تمام ریاستوں، سرکاری محکموں اور نجی شعبے میں دیسی اسٹیل سلیگ روڈ ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر اپنانے پر زور دیا
یہ پہل بیک وقت حکومت کی کئی اہم ترجیحات کو پورا کرتی ہے، جن میں وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی جانب سے بار بار ’’ ویسٹ ٹو ویلتھ ‘‘ اور ری سائیکلنگ کے مواقع پر زور دینا بھی شامل ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
ایک اعشاریہ آٹھ پانچ کلومیٹر طویل گنیز ریکارڈ سے 40 کلومیٹر طویل اڈیشہ سڑک تک : سی ایس آئی آر – سی آر آر آئی اور جندل اسٹیل ایک اور سنگِ میل قائم کرنے کے لیے تیار
مرکزی وزیر موصوف نے کہا کہ اسٹیل سلیگ ٹیکنالوجی سے بنائی گئی سڑکوں میں تقریباً 15 سال بعد ہی بڑی مرمت کی ضرورت ہو گی
’’ایک منصوبے سے کئی منصوبوں تک، ایک ریاست سے کئی ریاستوں تک‘‘ : ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اسٹیل سلیگ روڈ ٹیکنا لوجی کو وسیع پیمانے پر اپنانے پر زور دیا
بھارت نے چھتیس گڑھ کے رائے گڑھ میں دنیا کی سب سے طویل اسٹیل سلیگ سڑک بنا کر گنیز ورلڈ ریکارڈ قائم کیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
12 SEP 2026 4:45PM by PIB Delhi
سائنس و ٹیکنا لوجی اور ارضیاتی سائنسز کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج)، وزیر اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، ایٹمی توانائی اور خلاء کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج کہا ہے کہ اسٹیل سلیگ روڈ ٹیکنالوجی سڑکوں کی تعمیر کی لاگت میں تقریباً 40 فی صد تک کمی کر سکتی ہے، جب کہ روایتی سڑکوں کے مقابلے میں چار گنا زیادہ مضبوط سڑکیں فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ٹیکنا لوجی سڑکوں کی مرمت کے دورانیے میں بھی نمایاں اضافہ کر سکتی ہے اور موزوں صورتوں میں تقریباً 15 سال بعد ہی مرمت کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اس طرح یہ ٹیکنا لوجی نہ صرف سڑکوں کی انجینئرنگ بلکہ مجموعی بنیادی ڈھانچے کی معیشت کے لیے بھی ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے زور دیا کہ اس دیسی ٹیکنا لوجی کو ایک منصوبے سے کئی منصوبوں اور ایک ریاست سے کئی ریاستوں تک وسعت دی جانی چاہیے۔ اس کا استعمال سڑک نقل و حمل اور شاہراہوں کی وزارت تک محدود نہ رہے بلکہ ریلوے، دیگر سرکاری محکموں، ریاستی حکومتوں اور نجی شعبے کے تعمیر کنندگان، ٹھیکیداروں اور بنیادی ڈھانچے کے آپریٹرز تک بھی اسے پہنچایا جائے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ ’’ پروسیسڈ اسٹیل سلیگ ایگریگیٹس سے تعمیر کی گئی دنیا کی سب سے طویل سڑک‘‘ کے گنیز ورلڈ ریکارڈ کے خطاب سے نوازے جانے کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ یہ ریکارڈ نئی دلّی کے سی ایس آئی آر - سنٹرل روڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ( سی ایس آئی آر – سی آر آر آئی ) اور جندل اسٹیل لمیٹڈ نے مشترکہ طور پر حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔ چھتیس گڑھ کے رائے گڑھ میں 1.85 کلومیٹر طویل یہ سڑک ایک دیسی ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر استعمال کرنے کی جانب اہم قدم ہے، جس کے ذریعے اسٹیل کی پیداوار سے حاصل ہونے والے ضمنی مادے، یعنی اسٹیل سلیگ کو ، پروسیس کرکے سڑکوں کی تعمیر کے لیے ایگریگیٹس میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ اس پروگرام کے دوران ، سڑک کا ورچوئل افتتاح بھی کیا گیا اور ایک سائنسی دستاویزی فلم جاری کی گئی، سی ایس آئی آر – سی آر آر آئی اور جندل اسٹیل کے درمیان ٹیکنالوجی منتقلی کے معاہدے پر دستخط کیے گئے نیز ’’ اسٹیل گرٹ ‘‘ برانڈ لانچ کیا گیا اور منصوبے کی ٹیم کو اعزاز سے نوازا گیا۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ یہ کامیاب پہل بیک وقت حکومت کی ایک سے زیادہ اہم ترجیحات کو پورا کرتی ہے، جن میں وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی جانب سے ’’ ویسٹ ٹو ویلتھ‘‘ اور ری سائیکلنگ کے مواقع پر بار بار زور دینا بھی شامل ہے۔
اس موقع پر موجود اہم شخصیات میں ، جناب نوین جندل، رکن پارلیمنٹ، چیئرمین، جندل اسٹیل اور صدر، انڈین اسٹیل ایسوسی ایشن؛ ڈاکٹر این کلیسیلوی، سکریٹری، ڈی ایس آئی آر اور ڈائریکٹر جنرل، سی ایس آئی آر ؛ ڈاکٹر وی کے سارسوت، سابق رکن، نیتی آیوگ اور سابق ڈائریکٹر جنرل، ڈی آر ڈی او ، ڈاکٹر چودھری روی شیکھر، ڈائریکٹر، سی ایس آئی آر – سی آر آر آئی ؛ گنیز ورلڈ ریکارڈز کے نمائندے، سائنس داں، انجینئرز، صنعتی شعبے کے رہنما اور میڈیا کے ارکان شامل تھے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ یہ کامیابی ظاہر کرتی ہے کہ بھارتی سائنس، ٹیکنالوجی اور صنعت کے باہمی تعاون سے صنعتی فضلے کو بنیادی ڈھانچے کی دولت میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں شاہراہوں، ایکسپریس ویز، صنعتی راہداریوں، بندرگاہوں اور شہری بنیادی ڈھانچے میں تیزی سے توسیع کے ساتھ قدرتی وسائل، خصوصاً کانکنی اور پتھر کی کھدائی سے حاصل ہونے والے قدرتی ایگریگیٹس، کے تحفظ کی ذمہ داری بھی بڑھ رہی ہے۔ اسٹیل سلیگ روڈ کا یہ اقدام ، ان دونوں چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی راستہ فراہم کرتا ہے، جس میں صنعتی ضمنی پیداوار کے مؤثر استعمال کے ساتھ ساتھ قدرتی وسائل کا تحفظ بھی شامل ہے۔
وزیر موصوف نے کہا کہ بھارت جیسے جغرافیائی اعتبار سے متنوع ملک میں ، اس ٹیکنالوجی کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے، جہاں دشوار گزار علاقوں اور زیادہ بارش والے خطوں میں روایتی سڑکوں کو اکثر پائیداری کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ شمال مشرقی خطے کے ساتھ اپنے سات سالہ تعلق کو یاد کرتے ہوئے ، انہوں نے کہا کہ کئی علاقوں میں شدید بارش کی وجہ سے سڑکوں کی تعمیر کا کام صرف چار یا پانچ ماہ تک ہی محدود رہتا ہے، جب کہ ایک موسم کے دوران تعمیر کیے گئے سڑک کے کچھ حصوں کو اگلا تعمیراتی دور شروع ہونے سے پہلے ہی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس لیے زیادہ مضبوط اور پائیدار سڑکوں کی ٹیکنالوجی ایسے مشکل جغرافیائی علاقوں میں خاص طور پر مفید ثابت ہو سکتی ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے دیہی سڑکوں کی بدلتی ہوئی ٹریفک کی صورتِ حال کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ جو سڑکیں ابتدا میں گاؤوں کو آپس میں جوڑنے اور بنیادی طور پر ہلکی گاڑیوں کی آمد و رفت کے لیے بنائی گئی تھیں، اقتصادی ترقی کے ساتھ اردگرد کے علاقوں کے صنعتی زون میں تبدیل ہونے پر ، ان سڑکوں پر بھاری ٹرکوں اور تجارتی گاڑیوں کی آمد و رفت بھی ہونے لگتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی تبدیلیاں ، اس ضرورت کو مزید نمایاں کرتی ہیں کہ سڑکوں کی تعمیر میں ایسی ٹیکنالوجی اختیار کی جائے ، جو زیادہ بوجھ برداشت کرنے اور زیادہ عرصے تک پائیدار رہنے کی ضروریات کو پورا کر سکے۔
ایک منظم اور وسیع پیمانے پر بیداری کی مہم کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ سڑکوں کی تعمیر صرف سڑک نقل و حمل اور شاہراہوں کی وزارت ( ایم او آر ٹی ایچ ) تک محدود نہیں ہے۔ ریلوے اور کئی دیگر سرکاری محکمے بھی سڑکوں اور بھاری بوجھ برداشت کرنے والے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کرتے ہیں، جب کہ نجی تعمیراتی ادارے، ٹھیکیدار اور بنیادی ڈھانچے کے آپریٹرز بھی اس ٹیکنالوجی کو اپنانے کے ایک بڑے شعبے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہوں نے بین وزارتی اور بین ریاستی سطح پر زیادہ تعاون پر زور دیا، جس میں خصوصی بیداری پروگرام بھی شامل ہوں، تاکہ انجینئرز اور عمل درآمد کرنے والی ایجنسیاں ، اس ٹیکنالوجی سے واقف ہوں اور اپنے متعلقہ منصوبوں کے لیے ، اس کی موزونیت کا جائزہ لے سکیں۔
وزیر موصوف نے کہا کہ اب مقصد یہ ہونا چاہیے کہ اس ٹیکنالوجی کو ’’ایک منصوبے سے کئی منصوبوں تک، ایک ریاست سے کئی ریاستوں تک‘‘ لے جایا جائے اور آخر کار ثابت شدہ دیسی اختراعات کو بنیادی ڈھانچے کی معمول کی تعمیر کا حصہ بنایا جائے۔ سی ایس آئی آر – سی آر آر آئی کی سائنسی رہنما ہدایات، پروسیسنگ کے طریقۂ کار اور معیار کو یقینی بنانے کا نظام تکنیکی طور پر مضبوط طریقے سے ، اس ٹیکنالوجی کو اپنانے کی بنیاد فراہم کرتے ہیں، جب کہ سرکاری ادارے، سائنسی ادارے، صنعت اور بنیادی ڈھانچہ تیار کرنے والے ، مل کر ایسے تمام مقامات پر عمل درآمد کو تیز کر سکتے ہیں ، جہاں یہ ٹیکنالوجی تکنیکی اور اقتصادی اعتبار سے موزوں ہو۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ، اس پہل کو ’’حکومت کے تمام شعبوں اور پورے ملک کی مشترکہ کوشش ‘‘ کی ایک مثال قرار دیا، جس میں حکومت، تحقیقی ادارے، صنعت اور انجینئرز سب مل کر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ٹیکنا لوجی اپنی تیاری اور استعمال، دونوں اعتبار سے دیسی ہے اور اگلے مرحلے میں زیادہ سے زیادہ بیداری پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ ایسی مضبوط راہیں بنانے پر توجہ دینی ہوگی، جن کے ذریعے ملک میں تیار ہونے والی ٹیکنالوجیز کو لیبا ریٹریوں اور تجرباتی منصوبوں سے آگے بڑھ کر بڑے پیمانے پر عملی طور پر میں نافذ کیا جا سکے۔
وزیر موصوف نے اسٹیل سلیگ روڈ پہل کو ’’ ویسٹ ٹو ویلتھ ‘‘ اور سرکولر اکانومی کے وسیع تر تصور کے تحت رکھا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو آہستہ آہستہ اس سوچ سے آگے بڑھنا ہوگا کہ کوئی بھی مواد محض فضلہ ہے، کیونکہ سائنس اور ٹیکنالوجی ایسے وسائل سے نئی اقتصادی قدر پیدا کرنے کے امکانات پیدا کر سکتی ہیں۔ استعمال شدہ کھانا پکانے کے تیل سے بایو فیول تیار کرنے اور الیکٹرانک اسکریپ سے قیمتی مواد حاصل کرنے سے متعلق سی ایس آئی آر کی پہل کا حوالہ دیتے ہوئے ، انہوں نے کہا کہ ری سائیکلنگ اور وسائل کی بازیافت صنعتی ترقی کے اگلے مرحلے میں تیزی سے اہم کردار ادا کرے گی۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ڈاکٹر ستیش پانڈے اور سی ایس آئی آر – سی آر آر آئی کی ٹیم کو بھی ٹیکنا لوجی کو تحقیق سے عملی شعبے تک پہنچانے کے لیے مسلسل محنت اور جذبے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ سائنسی صلاحیتوں کو اپنی صلاحیت ثابت کرنے کا موقع درکار ہوتا ہے اور جندل اسٹیل نے وہ پیمانہ اور پلیٹ فارم فراہم کیا ، جس کے ذریعے اس ٹیکنالوجی کو حقیقی بنیادی ڈھانچے میں عملی طور پر آزمایا جا سکا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مزید اسٹیل کمپنیاں بھی ، اسی طرح کی ٹیکنا لوجی پر مبنی حل کے لیے سائنسی اداروں کے ساتھ تعاون کے لیے آگے آئیں گی۔
اس ٹیکنالوجی نے پہلے ہی کئی اہم منصوبوں کے ذریعے اپنی افادیت ثابت کی ہے۔ اس کی شروعات گجرات کے ہزیرہ میں ایک بڑے عملی مظاہرے سے ہوئی، جہاں پروسیسڈ اسٹیل سلیگ ایگریگیٹس کو صنعتی علاقے کو ہزیرہ بندرگاہ سے جوڑنے والی چھ لین کی سڑک میں استعمال کیا گیا۔ اس کے بعد یہ ٹیکنالوجی این ایچ – 66 ممبئی-گوا ہائی وے تک پہنچی، جہاں تقریباً 80,000 ٹن اسٹیل سلیگ کو پروسیس کرکے ایگریگیٹس میں تبدیل کیا گیا اور انہیں ایک کلومیٹر طویل چار لین والے سڑک حصے کی تعمیر میں استعمال کیا گیا۔ اس ٹیکنالوجی کو اروناچل پردیش میں بھی بھاری بوجھ برداشت کرنے والے سڑک کے بنیادی ڈھانچے، بشمول اسٹریٹجک سرحدی علاقے میں استعمال کیا گیا ہے۔
اس ٹیکنا لوجی کو بندرگاہ کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے سلسلے میں بھی بروئے کار لایا جا رہا ہے۔ ہزیرہ بندرگاہ کے اندر 1.1 کلومیٹر طویل اسٹیل سلیگ سڑک تعمیر کی گئی ہے، جو ملٹی پرپز برتھ کو کوئلے کے یارڈ سے جوڑتی ہے۔ یہ منصوبہ ظاہر کرتا ہے کہ مناسب پروسیسنگ، سڑک کے ڈیزائن اور معیار پر کنٹرول کے ساتھ پروسیسڈ اسٹیل سلیگ ایگریگیٹس کو صنعتی اور لاجسٹکس کے مشکل حالات میں بھی مؤثر طریقے سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
1.85 کلومیٹر طویل گنیز ورلڈ ریکارڈ پہلے ہی ایک بہت بڑے سنگِ میل کی راہ ہموار کر رہا ہے۔ ڈی ایس آئی آر کی سکریٹری اور سی ایس آئی آر کی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر این کلیسیلوی نے کہا کہ یہ کامیابی ایسے وقت میں حاصل ہوئی ہے ، جب سی ایس آئی آر اپنے قیام کے 85ویں سال میں داخل ہونے کی تیاری کر رہا ہے اور یہ ادارے کے لیے ، خاص طور پر ایک اہم سنگِ میل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سی ایس آئی آر – سی آر آر آئی کو جندل اسٹیل کے انگول پلانٹ کی جانب سے اڈیشہ میں 40 کلومیٹر طویل سڑک کی تعمیر کا ورک آرڈر موصول ہوا ہے۔ اس طرح یہ ٹیکنالوجی موجودہ 1.85 کلومیٹر کے گنیز ریکارڈ سے آگے بڑھ کر 40 کلومیٹر کے عملی نفاذ کی جانب جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی ایس آئی آر – سی آر آر آئی اور جندل اسٹیل ، اب اس اگلے سنگِ میل کے ذریعے اپنا ہی ریکارڈ توڑنے کے لیے تیار ہیں۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ گنیز ورلڈ ریکارڈ کو منزل نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کو اگلے مرحلے میں وسیع پیمانے پر اپنانے کی شروعات کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی کامیابی اس وقت حاصل ہوگی ، جب اس ٹیکنالوجی کو ، ملک بھر میں ان تمام مقامات پر اپنایا جائے ، جہاں یہ تکنیکی اور اقتصادی اعتبار سے موزوں ہو۔ وزیر موصوف نے سرکاری محکموں، ریاستوں اور نجی بنیادی ڈھانچے کے اداروں کے ساتھ مزید مضبوط تعاون پر زور دیا، تاکہ بھارت میں تیار کی گئی یہ اختراع ، بھارت ہی میں بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والا بنیادی ڈھانچے کا حل بن سکے۔
انہوں نے کہا کہ اسٹیل سلیگ روڈ کا یہ منصوبہ سائنس اور صنعت، فضلے اور دولت، اختراع اور بنیادی ڈھانچے اور تحقیق کو معاشرے کی ضروریات کے ساتھ جوڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی ظاہر کرتی ہے کہ بھارت ، اب صرف دیسی ٹیکنالوجی تیار کرنے تک محدود نہیں ہے بلکہ اسے بڑے پیمانے پر استعمال میں لانے کی جانب بھی تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ایسا بنیادی ڈھانچہ تیار ہو رہا ہے ، جو اقتصادی طور پر مؤثر، ماحول کے تئیں ذمہ دار اور تکنیکی اعتبار سے مضبوط ہے۔
ڈاکٹر کلیسیلوی نے کہا کہ یہ کامیابی سی ایس آئی آر – سی آر آر آئی اور جندل اسٹیل کے درمیان مضبوط شراکت داری کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے ، جناب نوین جندل اور ان کی ٹیم کا سی ایس آئی آر کے ساتھ تعاون کے لیے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے سائنس دانوں اور انجینئرز، بالخصوص ڈاکٹر ستیش پانڈے کو مبارکباد دی، جن کی کوششوں سے یہ ٹیکنالوجی گجرات میں اپنے ابتدائی استعمال سے آگے بڑھ کر قومی شاہراہوں کے نیٹ ورک، اروناچل پردیش اور اب گنیز ورلڈ ریکارڈ تک پہنچی ہے۔
اڈیشہ میں اگلے 40 کلومیٹر طویل منصوبے پر پہلے ہی کام آگے بڑھ رہا ہے۔ اب یہ سفر عالمی ریکارڈ سے آگے بڑھ کر ، ملک بھر میں وسیع پیمانے پر اس ٹیکنالوجی کو اپنانے کی جانب بڑھ رہا ہے، جس کا مقصد ایک کامیاب منصوبے کو کئی منصوبوں، ایک ریاست کو کئی ریاستوں میں تبدیل کرنا اور صنعتی ضمنی پیداوار کو ایک قیمتی بنیادی ڈھانچے کے وسائل میں تبدیل کرنا ہے۔





۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔۔ ۔۔۔۔ ۔
( ش ح ۔ ا ع خ ۔ ر ا )
U.No. 3350
(ریلیز آئی ڈی: 2309499)
وزیٹر کاؤنٹر : 12