محنت اور روزگار کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

قومی ترقی کے لیے شرم شکتی بنیادی حیثیت رکھتی ہے: ڈاکٹر منسکھ منڈاویہ


مرکزی وزیر ڈاکٹر منسکھ منڈاویہ نے ممبئی میں تعمیراتی اور دیگر تعمیراتی کارکنوں سے متعلق قومی کانفرنس کی صدارت کی

تعمیراتی کارکنوں کی فلاح و بہبود، روزگار، ہنرمندی اور سماجی تحفظ پر مرکز، ریاستوں اور شراکت داروں نے غور و خوض کیا

ڈاکٹر منسکھ منڈاویہ نے اقتصادی ترقی اور یوا شکتی کی امنگوں کو آگے بڑھانے کے لیے بین الاقوامی محنت کی نقل و حرکت پر غور و خوض کی اپیل کی

ڈاکٹر منڈاویہ نے ریاستی حکومتوں سے تعمیراتی کارکنوں کے لیے مختص سیس فنڈ کے موجودہ استعمال کا جائزہ لینے، خامیوں کی نشاندہی کرنے اور ان کے مؤثر استعمال کے لیے نئے راستے تلاش کرنے پر زور دیا

وزیر مملکت محترمہ شوبھا کرندلجے نے تعمیراتی کارکنوں کی حفاظت، سماجی تحفظ اور باوقار کام کے حالات کی اہمیت پر زور دیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 11 SEP 2026 7:21PM by PIB Delhi

حکومت ہند کی وزارت محنت و روزگار نے حکومت مہاراشٹر کے اشتراک سے تعمیراتی اور دیگر تعمیراتی کارکنوں (بی او سی ڈبلیو) سے متعلق قومی کانفرنس کا آج ممبئی میں آغاز کیا۔ مرکزی وزیر محنت و روزگار اور نوجوانوں کے امور و کھیل ڈاکٹر منسکھ منڈاویہ نے کانفرنس کی کارروائی کی صدارت کی۔

کانفرنس میں محنت و روزگار اور بہت چھوٹی، چھوٹی و درمیانہ درجے کی صنعتوں کے مرکزی وزیر مملکت، شرکت کرنے والی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے محنت کے وزرا، وزارت محنت و روزگار کے اعلیٰ حکام، ریاستی اور مرکز کے زیر انتظام علاقے کے بی او سی ڈبلیو فلاحی بورڈ کے نمائندگان اور دیگر متعلقہ شراکت داروں نے شرکت کی۔

 

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر منسکھ منڈاویہ نے اس بات پر زور دیا کہ ”شرم شکتی“ کسی بھی ملک کی ترقی کا لازمی حصہ ہے اور ملک کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی لیے افرادی قوت کا سماجی تحفظ اور فلاح و بہبود قومی ترقی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے ریاستوں کے درمیان بہترین طور طریقوں کے تبادلے اور بی او سی ڈبلیو فنڈ کے زیادہ سے زیادہ مؤثر استعمال کی اہمیت پر زور دیا تاکہ کارکنوں کو وسیع تر سماجی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بدلتے ہوئے وقت کے تقاضوں کے مطابق محنت کے ماحولیاتی نظام کو مسلسل ترقی دیتے رہنے کی ضرورت ہے اور بی او سی ڈبلیو کارکنوں کی جامع فلاح و بہبود کے لیے مرکز اور ریاستوں کا اپنے وژن اور پالیسیوں میں باہمی ہم آہنگی برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔

 

مرکزی وزیر نے اس امر پر بھی زور دیا کہ ایسے اقدامات کے امکانات تلاش کرنے کی ضرورت ہے جن سے کارکنوں کو زیادہ وقار، عزت اور خود اعتمادی حاصل ہو سکے، جن میں کارکنوں کو پنشن کی سہولت فراہم کرنے کے امکان پر غور بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”وکست بھارت 2047“ کے ہدف کے حصول کے لیے ملک تیزی سے تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی سطح پر ہنرمند اور نیم ہنرمند کارکنوں کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس بات کی ضرورت پر زور دیا کہ ہندوستان کی افرادی قوت کو ان ابھرتے ہوئے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار کیا جائے۔

ڈاکٹر منسکھ منڈاویہ نے بین الاقوامی محنت کی نقل و حرکت کے موضوع پر غور و خوض کی اپیل کرتے ہوئے ترسیلات زر کے ذریعے قومی اقتصادی ترقی اور بھارت کی یوا شکتی کی امنگوں کی تکمیل میں اس کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے اس ضرورت پر زور دیا کہ بین الاقوامی محنت کی نقل و حرکت کے لیے ایک جامع پلیٹ فارم تشکیل دینے کی غرض سے مرکز اور ریاستیں مربوط کوششیں کریں، جسے مناسب مالی اور ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کی حمایت حاصل ہو، تاکہ ہندوستانی کارکن عالمی مواقع تک رسائی حاصل کر سکیں اور ساتھ ہی عالمی سطح پر ہندوستان کی ساکھ کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔

 

 

ڈاکٹر منسکھ منڈاویہ نے تمام متعلقہ شراکت داروں سے دو روزہ کانفرنس میں ہونے والے مباحث میں فعال طور پر شرکت کرنے کی اپیل کی، تاکہ کانفرنس کے نتائج کو وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے وکست بھارت کے وژن سے ہم آہنگ کیا جا سکے اور ساتھ ہی بھارت کی شرم شکتی کو بااختیار بنایا جا سکے۔

اپنے خطاب میں محنت و روزگار کے سکریٹری ڈاکٹر چندر بھوشن کمار نے کانفرنس کی اہمیت کی جانب توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ پورے ہندوستان میں تعمیراتی کارکنوں کی تعداد 7 کروڑ سے زیادہ ہے، جبکہ ملک میں دستیاب بی او سی ڈبلیو سیس فنڈ کا مجموعی حجم تقریباً 77,000 کروڑ روپے ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانفرنس میں ہونے والا غور و خوض بہترین طور طریقوں کے تبادلے اور صنعتی شراکت داروں کے ساتھ بات چیت کا موقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محنت سے متعلق ضابطوں میں بی او سی ڈبلیو کارکنوں کے سماجی تحفظ اور فلاح و بہبود کے اقدامات کو مضبوط بنانے والی متعدد دفعات شامل ہیں، تاہم محض اقدامات کافی نہیں ہیں، جب تک کہ فلاح و بہبود کے ایجنڈے میں محنت کے وقار کو مرکزی حیثیت نہ دی جائے۔ انہوں نے بی او سی ڈبلیو کارکنوں کے لیے ایک جامع فلاحی ماڈل تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا، جس میں ان کے کام میں مضمر نقل و حرکت کو مدنظر رکھا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ فلاحی سہولیات اس انداز میں وضع کی جائیں کہ کارکن جہاں بھی کام کے سلسلے میں جائیں، انہیں ان سہولیات تک آسانی سے رسائی حاصل ہو۔

افتتاحی اجلاس کے دوران تعمیراتی اور دیگر تعمیراتی کارکنوں کے لیے اقدامات کے مجموعے پر مشتمل ایک دستاویز جاری کی گئی۔ اس کے بعد ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی جانب سے اختیار کیے گئے بہترین طور طریقوں پر پریزنٹیشنز پیش کی گئیں، جن میں مہاراشٹر نے اپنی تعلیمی پہل، ہریانہ نے استفادہ کنندگان کی تصدیق کی مشق اور اتراکھنڈ نے اپنی صحت اسکیم پیش کی۔ پریزنٹیشن کے بعد مرکزی وزرا اور متعلقہ ریاستی نمائندگان کی شرکت کے ساتھ غور و خوض کیا گیا۔

پہلے روز کی ایک اہم خصوصیت تعمیراتی کارکنوں کے لیے ڈیجیٹل اور سہولت کاری کے نظام کو مضبوط بنانے کے مقصد سے شروع کیے گئے تین قومی اقدامات پر منعقدہ اجلاس تھا۔ ریاستی بی او سی ڈبلیو ڈیجیٹل لیبر چوک، لیبر چوک-کم-فیسلیٹیشن سینٹر اور آن لائن بی او سی ڈبلیو سیس کلیکشن پورٹل کے بارے میں پریزنٹیشنز پیش کی گئیں۔ چھتیس گڑھ نے اپنے ڈیجیٹل لیبر چوک، تمل ناڈو نے لیبر چوک-کم-فیسلیٹیشن سینٹر اور کیرالَم نے آن لائن بی او سی ڈبلیو سیس کلیکشن پورٹل کے بارے میں تفصیلی پریزنٹیشن پیش کی۔ متعدد شرکت کرنے والی ریاستوں کی جانب سے اختیار کیے گئے ان تینوں اقدامات کا بعد ازاں کانفرنس کے دوران باقاعدہ آغاز کیا گیا۔

 

 

مہاراشٹر، تلنگانہ، دہلی، مدھیہ پردیش، جھارکھنڈ، بہار، مغربی بنگال، آندھرا پردیش، اوڈیشہ اور منی پور سمیت متعدد ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے بی او سی کارکنوں کے لیے ڈیجیٹل اور کارکن مرکوز اقدامات کو آگے بڑھا رہے ہیں، جن میں ڈیجیٹل لیبر چوک بھی شامل ہے، جس کا آغاز اسی موقع پر کیا گیا۔ مدھیہ پردیش، مغربی بنگال اور منی پور نے آن لائن بی او سی ڈبلیو سیس کلیکشن پورٹلز کا آغاز کیا، جبکہ بہار اور مغربی بنگال نے روزگار، فلاحی خدمات تک رسائی اور سیس کے شفاف انتظام کو مضبوط بنانے کے لیے لیبر چوک-کم-فیسلیٹیشن سینٹرز کا افتتاح کیا۔

کانفرنس میں بین الاقوامی محنت کی نقل و حرکت کے راستوں پر بھی غور و خوض کیا گیا، جس کے بعد شرکت کرنے والے متعلقہ شراکت داروں کے ساتھ تبادلۂ خیال کیا گیا۔ تعمیراتی شعبے پر ایک الگ اجلاس بھی منعقد کیا گیا، جس میں حکومت اور صنعتی شعبے سے وابستہ شراکت داروں نے پریزنٹیشن پیش کیں۔

اختتامی کلمات میں محنت و روزگار کی وزیر مملکت محترمہ شوبھا کرندلجے نے تمام کارکنوں اور اداروں کی رجسٹریشن کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ کوششوں کے ساتھ ساتھ سیس فنڈز کے مؤثر استعمال کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ریاستی حکومتوں سے تعمیراتی اداروں سے سیس کی وصولی کو مضبوط بنانے اور جمع شدہ فنڈز کے بروقت اور شفاف استعمال کو کارکنوں کی فلاح و بہبود کے لیے یقینی بنانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ بی او سی ڈبلیو فنڈ کو عمر رسیدہ کارکنوں کے لیے پنشن اور سماجی تحفظ، کارکنوں کے بچوں کی ابتدائی تعلیم میں معاونت اور صحت کی نگہداشت کی کوریج جیسے اہم شعبوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

محترمہ کرندلاجے نے تعمیراتی مقامات پر کارکنوں کی حفاظت پر ازسرنو توجہ دینے اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان سہولیات میں بیت الخلا اور صفائی ستھرائی کی سہولیات، خواتین کارکنوں کے بچوں کے لیے کریچ اور رہائش کی سہولت شامل ہیں، تاکہ تعمیراتی شعبے کے کارکنوں کے لیے باوقار کام کرنے اور زندگی گزارنے کے حالات یقینی بنائے جا سکیں۔ انہوں نے مختلف ریاستوں کی جانب سے اپنائے گئے بہترین طریقہ ہائے کار کی ستائش کی اور اس بات پر زور دیا کہ کامیاب اقدامات کو ملک بھر میں ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کیا جائے اور اپنایا جائے، تاکہ تعمیراتی کارکنوں کی فلاح و بہبود اور سماجی تحفظ کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔

پہلے دن کے اختتام پر اپنے خطاب میں ڈاکٹر منڈاویہ نے ریاستی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ سیس فنڈز کے موجودہ استعمال کا تفصیلی جائزہ لیں، موجودہ خامیوں اور خلا کی نشاندہی کریں اور کارکنوں کی طویل مدتی فلاح و بہبود اور سماجی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے ان فنڈ کے مؤثر استعمال کے لیے نئے ذرائع تلاش کریں۔ انہوں نے ریاستوں سے یہ بھی کہا کہ وہ لیبر کوڈز کے نفاذ کے ایک سال مکمل ہونے کے بعد ان کے اثرات کا جامع جائزہ لیں اور ان شعبوں کی نشاندہی کریں جہاں زیادہ مؤثر عمل درآمد کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے لیبر قوانین کے ماہرین کے لیے ورکشاپس اور واقفیتی پروگرام منعقد کرنے کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ لیبر کوڈز کو ان کی روح اور حرف بہ حرف مؤثر طریقے سے نافذ کرنے میں سہولت ہو۔

روزگار کے فروغ اور افرادی قوت میں نئے شامل ہونے والوں کے لیے سماجی تحفظ کی کوریج کو وسعت دینے میں پردھان منتری وِکست بھارت روزگار یوجنا کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے، مرکزی وزیر نے ریاستی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ صنعت اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ خصوصی ورکشاپس اور تبادلہ خیال کا انعقاد کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی کوششوں سے زیادہ سے زیادہ بیداری پیدا کرنے میں مدد ملے گی اور اس بات کو یقینی بنایا جا سکے گا کہ اہل نئے کارکنوں کو اسکیم کے فوائد حاصل ہوں، جس کے نتیجے میں رسمی روزگار کے دائرے کو وسعت دینے اور کارکنوں کی فلاح و بہبود کے لیے اجتماعی کوششوں کو مزید تقویت ملے گی۔

کانفرنس کا سلسلہ کل بھی جاری رہے گا، جس میں نئے لیبر کوڈ کی روشنی میں بی او سی ڈبلیو ویلفیئر بورڈوں کے کردار اور ذمہ داریوں، ہنرمندی اور روزگار، تعمیراتی شعبے اور صنعتی کارکنوں کے صارف قیمت اشاریہ اور لیبر اسٹیک سے متعلق اجلاس منعقد ہوں گے۔

************

 

ش ح۔ ف ش ع

                                                                                                                                       U: 3330 


(ریلیز آئی ڈی: 2309349) وزیٹر کاؤنٹر : 5