نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ
azadi ka amrit mahotsav

نائب صدر نے ڈی این ایچ ڈی ڈی کو ’’منی انڈیا‘‘ قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی اور منتظم پرفل پٹیل کی قیادت میں ہونے والی ہمہ جہت ترقی کو سراہا


عوام کی فعال شمولیت کے ساتھ ڈی این ایچ ڈی ڈی عوام پرمرکوز ترقی کے ایک نمونے کے طور پر ابھر رہا ہے: نائب صدر

’’ڈی این ایچ ڈی ڈی کی تبدیلی و ترقی وکست بھارت 2047 کے وژن کو آگے بڑھانے میں معاون ہے‘‘: نائب صدر

صحت، تعلیم، سیاحت اور بہتر رابطہ کاری مرکز کے زیر انتظام خطے میں تبدیلی کے اہم محرکات ہیں: نائب صدر

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 11 SEP 2026 5:31PM by PIB Delhi

نائب صدر جناب سی پی رادھا کرشنن نے آج مرکز کے زیرانتظام خطے دادرو نگر حویلی اور دمن و دیو کے اپنے پہلے دورے کے دوران سلواسا کے ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام سرکاری کالج میں منعقدہ ایک عوامی تقریب سے خطاب کیا۔

اس موقع پر عوامی نمائندوں نے نائب صدر کا پرتپاک استقبال اور اعزاز کیا، جن میں معزز منتظم جناب پرفل پٹیل اور معزز رکنِ پارلیمنٹ محترمہ کالابین موہن بھائی ڈیلکر کے علاوہ ضلعی پنچایتوں، میونسپل کونسلوں، صنعتی اور ہوٹل ایسوسی ایشنوں، مختلف کالجوں کے نمایاں کامیاب طلبہ اور تمل سنگم کے نمائندے شامل تھے۔ نائب صدر نے پی ایم وشوکرما اسکیم کے مستفیدین میں ٹول کٹس اور  نئی تقرری پانے والے اساتذہ میں تقرری کے سرٹیفکیٹس بھی تقسیم کیے۔

 

 حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے نائب صدر نے کہا کہ مرکز کے زیر انتظام یہ خطہ اس بات کی ایک نمایاں مثال ہے کہ کس طرح اختراعی طرز حکمرانی اور عوام کی شمولیت ترقی  کے عمل میں بڑی تبدیلی لا سکتی ہے۔ انہوں نے وزیراعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران حاصل ہونے والی پیش رفت اور منتظم جناب پرفل پٹیل کی مسلسل کوششوں کو سراہا، جن میں عوام نے بھی فعال طور پر حصہ لیا ہے۔

جناب سی پی رادھا کرشنن نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران مرکز کے زیرِ انتظام خطے میں 13,000 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے 450 سے زیادہ بنیادی ڈھانچے کے منصوبے شروع کیے گئے ، جن میں 4,000 کروڑ روپے سے زائد کی لاگت سے تقریباً 800 کلومیٹر سڑکیں بھی شامل ہیں۔

صحت کے شعبے میں ہونے والی تبدیلی کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس مرکز کے زیرِ انتظام خطے میں 2019 سے قبل کوئی میڈیکل کالج موجود نہیں تھا، وہاں اب 177 نشستوں والا ایک میڈیکل کالج قائم ہے۔ اس کے علاوہ سلواسا میں 450 بستروں پر مشتمل نمو اسپتال اور حال ہی میں دمن میں افتتاح کیا گیا 350 بستروں والا نمو اسپتال بھی موجود ہے۔ گزشتہ تین برسوں کے دوران ٹی بی کے معاملات میں 57 فیصد اور غذائی قلت میں 58 فیصد کمی آئی ہے۔ مرکز کے زیرِ انتظام خطے نے صحت و تندرستی مراکز اور ادارہ جاتی زچگیوں میں 100 فیصد کوریج کے ساتھ ساتھ آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن کے تحت مکمل رجسٹریشن کا ہدف بھی حاصل کر لیا ہے۔

تعلیم کے شعبے کا ذکر کرتے ہوئے نائب صدر نے کہا کہ 700 کروڑ روپے سے زائد کی سرمایہ کاری سے 21 نئے اسکول تعمیر کیے گئے ہیں، جبکہ مزید 16 اسکول زیرِ تعمیر ہیں۔ اس کے علاوہ سرکاری اسکولوں میں اسمارٹ کلاس روم بھی قائم کیے گئے ہیں۔ انہوں نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ٹیکنالوجی (این آئی ایف ٹی )، گجرات نیشنل لا یونیورسٹی اور دیگر پیشہ ورانہ اداروں اور کیمپس کے قیام کا بھی ذکر کیا، جن سے مرکز کے زیرانتظام خطے کے نوجوانوں کے لیے مواقع میں اضافہ ہوا ہے۔

سیاحت کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے نائب صدر نے کہا کہ سیاحوں کی آمد 2021 میں تقریباً 6 لاکھ سے بڑھ کر 2025 میں تقریباً 50 لاکھ ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دمن نائٹ مارکیٹ، رام سیتو سی فرنٹ، بحال کیے گئے تاریخی مقامات، ساحلوں، واٹر اسپورٹس اور ایکو ٹورزم منصوبوں جیسے اقدامات نئے مواقع پیدا کر رہے ہیں اور ساتھ ہی خطے کے مالا مال ثقافتی ورثے اور قدرتی حسن کو بھی اجاگر کر رہے ہیں۔

نائب صدر نے مرکز کے زیرانتظام خطے کی صنعتی قوت کو بھی اجاگر کیا، جہاں 7,500 سے زائد مینوفیکچرنگ یونٹس موجود ہیں اور ایم ایس ایم ای شعبے کے ذریعے 2.8 لاکھ سے زائد روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ نمو ایئرپورٹ، دمن کے افتتاح سے دہلی، ممبئی اور احمد آباد کے ساتھ فضائی رابطہ مزید مضبوط ہوا ہے۔ انہوں نے سرکاری عمارتوں میں 100 فیصد سولرائزیشن حاصل کرنے پر بھی مرکز کے زیرِ انتظام خطے کی تعریف کی، جہاں تقریباً 12 میگاواٹ شمسی توانائی کی تنصیب شدہ صلاحیت موجود ہے۔

گجرات کے تین عظیم رہنماؤں مہاتما گاندھی، سردار ولبھ بھائی پٹیل اور وزیراعظم جناب نریندر مودی،کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے نائب صدر نے کہا کہ گاندھی عدم تشدد اور تحریکِ آزادی کی علامت ہیں، سردار پٹیل ہندوستان کے اتحاد اور سالمیت کی علامت ہیں، جبکہ وزیراعظم نریندر مودی ترقی کی نمائندگی کرتے ہیں۔

نائب صدر نے کہا کہ مرکز کے زیر انتظام خطے کا سماجی تنوع، ثقافتی ورثہ اور ہم آہنگی کا جذبہ اسے ایک ’’منی انڈیا‘‘ بناتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے مختلف حصوں سے آنے والے لوگ خطے کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں اور باہمی ہم آہنگی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔

*****

ش ح۔ م م۔ ش ب ن

U.No. 3325


(ریلیز آئی ڈی: 2309271) وزیٹر کاؤنٹر : 19