صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
انڈین فارماکوپیا کمیشن نے بایوسِمیلرز کے معیار اور تحفظ پر قومی کانفرنس منعقد کی: بھارت کے بایوفارما شکتی وژن کو مضبوط بنانے کی سمت اہم قدم
کانفرنس حکومت کے بایوفارما شکتی وژن سے ہم آہنگ ہے، جس کا مقصد اختراع، خود انحصاری، معیار اور عالمی مسابقت کے ذریعے بھارت کے حیاتیاتی دواسازی کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانا ہے
آئی پی سی نے بایوایسیز کے لیے اینوکساپرین سوڈیم کے انڈین فارماکوپیا ریفرنس مادے (آئی پی آر ایس) کا اجرا کیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
11 SEP 2026 5:00PM by PIB Delhi
وزارتِ صحت و خاندانی بہبود، حکومتِ ہند کے تحت ایک خود مختار ادارے انڈین فارماکوپیا کمیشن (آئی پی سی) نے 10 اور 11 ستمبر 2026 کو بنگلورو کے سینٹر فار سیلولر اینڈ مالیکیولر پلیٹ فارمز (سی-کیمپ) میں معیار اور بایوسِمیلرزکے تحفظ: بھارت کے بایوفارما شکتی وژن کو مضبوط بنانے کے موضوع پر دو روزہ قومی کانفرنس کا انعقاد کیا۔ کانفرنس میں ضابطہ جاتی اداروں، صنعت، تعلیمی شعبے، تحقیقی تنظیموں اور دیگر متعلقہ فریقوں سے وابستہ 160 افراد نے شرکت کی۔
یہ کانفرنس آئی پی سی نے انڈین ڈرگ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (آئی ڈی ایم اے) کے اشتراک سے منعقد کی۔ بایوٹیکنالوجی صنعت کی تحقیق کی معاون کونسل (بیرک) اور سیلولر اور مالیکیولر کے مرکز(سی-کیمپ) نے علمی شراکت داراور کرناٹک ڈرگز اینڈ فارماسیوٹیکلز مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (کے ڈی پی ایم اے) نے معاون شراکت دار کی حیثیت سے تعاون کیا۔ یہ کانفرنس حکومتِ ہند کے بایوفارما شکتی وژن سے ہم آہنگ ہے، جس کا مقصد اختراع، خودکفالت، معیار اور عالمی مسابقت کے ذریعے بھارت کے بایوفارماسیوٹیکل ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانا ہے۔
کانفرنس میں بایوسِمیلرز کی تیاری، جانچ اور تحفظ سے متعلق اہم سائنسی اور ضابطہ جاتی چیلنجز پر غور وخوض کیا گیا۔ اس دوران فارماکوپیا کے معیارات، اہم معیاری خصوصیات، تجزیاتی خصوصیات کی جانچ، تقابلی جائزے، مدافعتی ردِعمل پیدا کرنے کی صلاحیت، ادویاتی حفاظتی نگرانی اور بدلتی ہوئی ضابطہ جاتی توقعات جیسے اہم موضوعات پر خصوصی مرکوز کی گئی۔

کانفرنس کی ایک اہم خصوصیت بایوایسیز کے لیے اینوکساپرین سوڈیم کے انڈین فارماکوپیا ریفرنس سبسٹنس (آئی پی آر ایس) کا اجرا تھا۔ اینوکساپرین سوڈیم کم سالماتی وزن والا ہیپرین اور خون کو جمنے سے روکنے والی دوا ہے، جو خون کے لوتھڑے بننے سے متعلق امراض کی روک تھام اور علاج کے لیے بڑے پیمانے پر استعمال کی جاتی ہے۔ بایوایسیز کے لیے اینوکساپرین سوڈیم کا آئی پی آر ایس حیاتیاتی سرگرمی کی جانچ کے لیے ایک مستند حوالہ جاتی مادے کے طور پر کام کر سکتا ہے، جس سے اس کی حیاتیاتی سرگرمی کا درست، یکساں اور تقابلی جائزہ لینے میں مدد ملے گی۔ آئی پی آر ایس کا اجرا اینوکساپرین سوڈیم سے متعلق بایوایسیز کی جانچ کے لیے مستند فارماکوپیا ریفرنس سبسٹنس کی دستیابی کو مضبوط بنانے کی سمت ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھارت کے اندرون ملک دواسازی کے معیار کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنا کر آتم نربھر بھارت کے وژن کو بھی تقویت دے گا۔
افتتاحی اجلاس سے آئی پی سی، ایس ایل اے-کرناٹک، این آئی بی، آئی ڈی ایم اے، سی-کیمپ اور بیرک کے ممتاز نمائندوں نے خطاب کیا۔ مقررین نے بایوسِمیلرز کے معیار، تحفظ اور ضابطہ جاتی اعتماد کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ اجلاس میں اس امر کی ضرورت بھی اجاگر کی گئی کہ ایک مضبوط اور عالمی سطح پر مسابقتی بایوفارماسیوٹیکل شعبے کی ترقی کے لیے ضابطہ جاتی اداروں، فارماکوپیا سے متعلق اداروں، صنعت، تعلیمی شعبے اور تحقیقی تنظیموں کے درمیان مسلسل تعاون کو فروغ دیا جائے۔

شرکا سے خطاب کرتے ہوئے آئی پی سی کے سکریٹری اور سائنسی علوم کے ڈائریکٹر ڈاکٹر وی کلیئسلوین نے بایوسِمیلرز کے معیار اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فارماکوپیا کے معیارات کو بہتر بنانے، قابلِ اعتماد تجزیاتی جانچ، حفاظتی نگرانی اور ضابطہ جاتی تعاون کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بدلتی ہوئی ضابطہ جاتی توقعات کے مطابق بھارتی طریقۂ کار کو ہم آہنگ کرنے، بایوفارماسیوٹیکل شعبے میں اختراع کی حوصلہ افزائی کرنے اور وکست بھارت کے وژن میں اپنا رول ادا کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
تکنیکی اجلاسوں میں آئی پی سی، ایس ایل اے، عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او)، یو ایس پی، این آئی بی، آئی ڈی ایم اے، بیرک، سی-کیمپ اورحیاتیاتی ادویہ سازی کے معروف اداروں کے ماہرین نے شرکت کی۔ ماہرین نے فارماکوپیا کے معیارات طے کرنے، ضابطہ جاتی سائنس، تجزیاتی طریقۂ کار کی تیاری، حفاظتی نگرانی اور حیاتیاتی ادویات کے شعبے میں اختراع سمیت مختلف موضوعات پر اپنے خیالات پیش کیے۔
کانفرنس کے پہلے روز ایک خصوصی پینل ڈسکشن کا بھی انعقاد کیا گیا، جس میں ضابطہ جاتی اداروں، اورحیاتیاتی ادویہ سازی صنعت اور تعلیمی شعبے کے سینئر ماہرین نے شرکت کی۔ پینل میں بھارت کے بایوسِمیلرز کے ماحولیاتی نظام کو مزید مستحکم بنانے کے لیے ضروری اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ بحث کے دوران معیار کی یقین دہانی، تجزیاتی و ضابطہ جاتی صلاحیتوں، سائنسی استعداد اور بدلتے ہوئے قومی و عالمی ضابطہ جاتی تقاضوں سے ہم آہنگی کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ کانفرنس میں پوسٹر پریزنٹیشنز بھی پیش کئے گئے، جن کے دوران محققین اور صنعت سے وابستہ ماہرین نے بایوسِمیلرز کے حوالے سے اپنے سائنسی تحقیقی کام پیش کیے اور اہم معلومات و تجربات کا تبادلہ کیا۔

وکست بھارت کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کی کوششوں کے تحت یہ کانفرنس اورحیاتیاتی ادویہ سازی کے شعبے میں ہم آہنگ معیارات کو فروغ دینے اور معیار، تحفظ، اختراع اور ضابطہ جاتی برتری کو مزید بہتر بنانے کی سمت اہم قدم ہے۔ بایوایسیز کے لیے اینوکساپرین سوڈیم کے آئی پی آر ایس کا اجرا، سائنس پر مبنی بحث و مباحثے کے ساتھ مل کر، بھارت کے دواسازی اور ب اورحیاتیاتی ادویہ سازی کے شعبے کے معیار سے متعلق بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے انڈین فارماکوپیا کمیشن (آئی پی سی) کے مسلسل عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ضابطہ جاتی اداروں، صنعت، تعلیمی شعبے اور تحقیقی اداروں کے درمیان تعاون کو فروغ دینے پر بھی زور دیا گیا ہے، تاکہ اختراع کو تقویت ملے اور ضابطہ جاتی نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوسکے۔
******
(ش ح ۔ ش ب ۔ م ا)
UR. No-3323
(ریلیز آئی ڈی: 2309262)
وزیٹر کاؤنٹر : 8