دیہی ترقیات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ساتویں ‘جینڈر سمواد’ میں روزگار کے ذرائع میں خواتین کی قیادت اور فیصلہ سازی کے اختیار کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 11 SEP 2026 9:52AM by PIB Delhi

دیندایال انتودیا یوجنا–قومی دیہی ذریعہ  معاش مشن (ڈی اے وائی-این آر ایل ایم)،  دیہی ترقی کی وزارت نے انسٹی ٹیوٹ فار واٹ ورکس ٹو ایڈوانس جینڈر ایکوئیلٹی (آئی ڈبلیو ڈبلیو اے جی ای) کے اشتراک سے ’’شمولیت سے قیادت تک: ذریعہ معاش میں خواتین کے اختیار کو بڑھانا‘‘ کے موضوع پر ’جینڈر سمواد‘ کے ساتویں ایڈیشن کا انعقاد کیا۔

 اس ڈائیلاگ میں ملک بھر سے 6 لاکھ سے زائد متعلقہ افراد نے شرکت کی، جن میں خود امدادی گروپوں (ایس ایچ جی ایس) سے وابستہ خواتین، ریاستی دیہی روزگارِ معاش مشن کے عملے، پالیسی سازوں، صنفی امور کے ماہرین اور عملی شعبے سے وابستہ افراد شامل تھے۔ اس پروگرام نے تجربات کے تبادلے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کیا اور دیہی ذریعہ معاش اور معاشی اداروں میں خواتین کی شرکت، قیادت اور فیصلہ سازی کے اختیار کو مضبوط بنانے پر غور و خوض کیا گیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image001_20260911095426_d9f85e.jpg

اپنے کلیدی خطاب میں  دیہی ترقی کی وزارت کے سکریٹری جناب روہت کنسل نے ’جینڈر سمواد‘ کے سفر پر روشنی ڈالی، جو اپریل 2021 میں 1,400 شرکاء سے شروع ہو کر ستمبر 2025 میں تقریباً 6 لاکھ شرکاء تک پہنچ گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اضافہ خواتین کی بڑھتی ہوئی آواز اور قیادت کی عکاسی کرتا ہے۔  انہوں نے خود امدادی گروپوں (ایس ایچ جی ایس) کی تحریک کی طاقت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ 10 کروڑ سے زائد خواتین اس تحریک کا حصہ ہیں، جو دنیا بھر میں خواتین کی قیادت میں چلنے والی ایک مثالی تحریک بن چکی ہے۔ ریاستی سطح پر کی جانے والی اختراعی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے مہاراشٹر کے ’خواتین کسانوں کے بااختیار بنانے کے بل‘ کا حوالہ دیا، جس کے تحت رسمی طور پر زمین کی ملکیت کے دستاویزات نہ رکھنے والی خواتین کسانوں کو بھی تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے اوڈیشہ کے ’بھوبنیشور اعلامیے‘ کا بھی ذکر کیا، جو خواتین کے زمین کے حقوق اور زرعی اداروں میں ان کی نمائندگی کو فروغ دیتا ہے۔ انہوں نے آندھرا پردیش کے آر وائی ایس ایس قدرتی کاشتکاری ماڈل کا بھی ذکر کیا، جسے بڑے پیمانے پر خواتین کے خود امدادی گروپوں (ایس ایچ جی ایس)  کے ذریعے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image002_20260911095458_a66e65.jpg

انہوں نے یہ بھی اجاگر کیا کہ سالانہ ایک لاکھ روپے سے زیادہ کمانے والی 3.46 کروڑ سے زائد ’لکھ پتی دیدیوں‘ کی تعداد میں اضافہ خواتین کی معاشی خواہشات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے ’وکست بھارت‘ کی تعمیر میں خواتین کو پیداوار کنندگان، کاروباری افراد، فیصلہ سازوں اور قائدین کے طور پر مزید مضبوط بنانے کے لیے ایسی اختراعی کوششوں کی نشاندہی، انہیں مقامی ضروریات کے مطابق ڈھالنے اور مختلف ریاستوں میں بڑے پیمانے پر نافذ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

 شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے دیہی ترقی کی وزارت کے جوائنٹ سکریٹری (آر ایل) جناب امت شکلا نے ڈی اے وائی-این آر ایل ایم کے تحت صنفی شمولیت کے ارتقا پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ عمل محض خواتین کو متحرک کرنے سے آگے بڑھ کر پروگرام کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد میں صنفی امور کو ایک اہم اور مرکزی مسئلے کے طور پر ادارہ جاتی شکل دینے تک پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دسمبر 2021 میں جاری کیا گیا ’جینڈر ایڈوائزری‘، سالانہ قومی صنفی مہم کے طور پر ’نئی چیتنا‘، ’جینڈر انٹیگریشن ورکشاپ‘ اور ’ذریعہ معاش میں صنفی شمولیت کے لیے پریکٹس گائیڈ‘ جیسی پہلوں نے بتدریج اس طریقۂ کار کو مزید مضبوط کیا ہے۔ خواتین کے اجتماعی معاشی اداروں، جن میں سی ایل ایف ایس، پروڈیوسر گروپس، پروڈیوسر انٹرپرائزز اور ایف پی او ایس شامل ہیں، کے اگلے مرحلے کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے بہتر حکمرانی اور انتظامی صلاحیتوں، مالی ریکارڈ رکھنے اور قرض حاصل کرنے کے لیے تیاری کی صلاحیت کو مضبوط بنانے پر زور دیا، خاص طور پر اقوامِ متحدہ کے ’خواتین کسانوں کے بین الاقوامی سال 2026‘ کے تناظر میں۔

 دیہی ترقی کی وزارت کی جوائنٹ سکریٹری محترمہ سواتی شرما نے قومی انٹرپرینیورشپ مہم-II (21 اگست تا 21 نومبر 2026) کو خود امدادی گروپوں (ایس ایچ جی ایس) سے وابستہ خواتین میں کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ انٹرپرائز ڈیولپمنٹ، ویلیو چینز، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور مارکیٹ تک رسائی کے ذریعے خواتین میں کاروباری صلاحیتوں کو مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایس ایچ جی ایس، فیڈریشنز، پروڈیوسر گروپس، ایف پی او ایس/ایف پی سی ایس اور پروڈیوسر انٹرپرائزز کے ذریعے خواتین کو اجتماعی طور پر منظم کرنا، مالی شمولیت، ہنرمندی، ٹیکنالوجی، مارکیٹ سے روابط اور اثاثوں کی ملکیت کی سہولت کے ساتھ، خواتین کے معاشی اختیار اور قیادت کو مضبوط بنانے کے لیے نہایت اہم ہے۔ انہوں نے ’پورے حکومتی نظام‘ اور باہمی اشتراک پر مبنی طریقۂ کار اپنانے کی اپیل کی، جس کے تحت وزارتوں اور محکموں، تکنیکی و تحقیقی اداروں، تعلیمی شعبے، سول سوسائٹی اور ترقیاتی شراکت داروں کو ایک ساتھ لا کرذریعہ معاش اور کاروباری سرگرمیوں سے متعلق تمام اقدامات میں صنفی امور کو مرکزی حیثیت دی جائے۔

دیگر مقررین نے بھی مختلف نقطۂ نظر اور طریقۂ کار پیش کرتے ہوئے ڈائیلاگ کو مزید مؤثر بنایا۔ مدھیہ پردیش کی ایس پی ایم-غیر زرعی ذریعہ معاش، محترمہ گریما سائی سندرم نے بتایا کہ معاشی بااختیاری اور وسائل تک رسائی خواتین کی بارگین کرنے کی صلاحیت کو مضبوط بناتی ہے اور ان کی قیادت کو برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ ایم اے کے اے اے ایم کی محترمہ سیما کلکرنی نے خواتین کی شرکت اور قیادت کو ممکن بنانے کے لیے سماجی تحفظ اور معاونتی نظام کی ضرورت پر زور دیا۔ صنفی امور اور روزگارِ معاش کی ماہر پروفیسر نیتا راؤ نے باہمی اشتراک، ادارہ جاتی معاونت، بلا معاوضہ بچّوں کی نگہداشتِ و خاندان کے کام کے مسئلے، وسائل کی ملکیت میں موجود خلا، اور موزوں آلات و ٹیکنالوجی تک رسائی کو خواتین کی معاشی شناخت، نمائندگی اور پائیدار قیادت کو مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image003_20260911095544_f72e0b.jpg

آسام اور مہاراشٹر سے تعلق رکھنے والی خواتین رہنماؤں نے خود امدادی گروپ (ایس ایچ جی) کی رکنیت سے کاروباری سرگرمیوں، قیادت اور فیصلہ سازی تک اپنے سفر کے تجربات شیئر کیے۔ آسام کے سونت پور سے تعلق رکھنے والی محترمہ نِہاریکا بھویان نے ایس ایچ جی کی رکن بننے سے لے کر خواتین کی قیادت میں قائم ایک ایف پی سی میں رہنما کا کردار ادا کرنے تک کا سفر طے کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اجتماعی کوشش، تربیت اور ادارہ جاتی تعاون نے خواتین کسانوں کو اپنی معاشی شرکت اور فیصلہ سازی کی صلاحیت مضبوط بنانے میں مدد دی۔ مہاراشٹر کے اکولا سے تعلق رکھنے والی محترمہ کیرتی تائی دیشمکھ نے گھریلو خاتون سے کاروباری شخصیت بننے تک کا سفر طے کیا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ ایس ایچ جی پر مبنی تربیت اور سرکاری اسکیموں تک رسائی نے انہیں اپنا کاروبار قائم کرنے، اعتماد بڑھانے اور دیگر خواتین کو بھی کاروباری سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے میں مدد فراہم کی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image004_20260911095639_212a25.jpghttps://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image005_20260911095703_b754be.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image006_20260911095725_c19acf.jpghttps://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image007_20260911095745_a46e8d.jpg

ساتواں ’جینڈر سمواد‘اقوامِ متحدہ کے خواتین کسانوں کے بین الاقوامی سال 2026 کے ساتھ ہم آہنگ تھا۔ اس نے خواتین کسانوں اور ان کے ذریعہ معاش سے متعلق اداروں کی دیہی معیشت، غذائی نظام اور مقامی اقتصادیات میں خدمات کو تسلیم کرنے اور انہیں مزید اجاگر کرنے کے لیے ایک قومی پلیٹ فارم فراہم کیا۔ اپریل 2021 میں ڈی اے وائی-این آر ایل ایم اور آئی ڈبلیو ڈبلیو اے جی ای کی مشترکہ پہل کے طور پر شروع ہونے والا ’جینڈر سمواد‘ اب علم کے تبادلے اور پالیسی ڈائیلاگ کے لیے ایک قومی پلیٹ فارم کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اس نے ایک بار پھر اس بات کی توثیق کی کہ صنفی مساوات خواتین کی معاشی بااختیاری اور جامع دیہی ترقی کے لیے ایک اہم محرک ہے۔

**********

Urdu Release-3302

(ش ح۔ ع ح۔ ش ہ ب)


(ریلیز آئی ڈی: 2309053) وزیٹر کاؤنٹر : 11
یہ ریلیز پڑھیں: English , Gujarati , Tamil