شماریات اور پروگرام کے نفاذ کی وزارت
این ایس او کی جانب سے غیر کارپوریٹ غیر زرعی شعبے کے لیے پہلی مرتبہ ضلعی سطح کے تخمینے جاری
سرفہرست 50 اضلاع اس شعبے کی تقریباً ایک تہائی سرگرمیوں کے محرک ہیں
237 اضلاع میں خواتین افرادی قوت کا ایک تہائی حصہ ہیں
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
10 SEP 2026 4:00PM by PIB Delhi
|
جھلکیاں:
- این ایس او نے پہلی مرتبہ ملک گیر سطح پر کیے گئے ایک بڑے ادارہ جاتی سروے سے ضلعی سطح کے تخمینے جاری کیے ہیں، جو بھارت میں ریاست سے نچلی سطح پر مزید تفصیلی اعداد و شمار کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
- غیر کارپوریٹ اداروں کی تعداد کے لحاظ سے سرفہرست 50 اضلاع مجموعی اداروں، افرادی قوت اور مجموعی اضافی قدر(جی وی اے) کا تقریباً ایک تہائی حصہ رکھتے ہیں۔
- تقریباً ایک تہائی اضلاع میں فی ضلع غیر کارپوریٹ اداروں کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہے۔
- 237 اضلاع میں غیر کارپوریٹ شعبے کی مجموعی افرادی قوت میں خواتین کا حصہ ایک تہائی ہے۔
- 280 اضلاع میں فی کارکن مجموعی اضافی قدر (جی وی اے) کی شرح ملکی اوسط سے زیادہ ہے، جو ان اضلاع میں نسبتاً بلند معاشی پیداواریت کی نشاندہی کرتی ہے۔
|
این ایس او نے ضلعی سطح پر شہری غیر کارپوریٹ اداروں کے منظرنامے سے متعلق اہم معلومات جاری کیا
حالیہ برسوں میں مزید تفصیلی اور باقاعدگی سے حاصل کیے جانے والے اعداد و شمار کی اہمیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، کیونکہ شواہد پر مبنی پالیسی سازی اور مخصوص اہداف کے تحت اقدامات کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔ بالخصوص، ریاستی سطح سے نچلی سطح کے اعداد و شمار علاقائی تفاوت، بڑھتی ہوئی آبادی اور ان شعبوں کی نشاندہی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں جن پر خصوصی توجہ درکار ہوتی ہے۔ اس طرح زیادہ مؤثر، ہدفی اور علاقہ مخصوص پالیسی اقدامات ممکن ہوتے ہیں۔
اسی کوشش کے تحت شماریات و پروگرام کے نفاذ کی وزارت(ایم او ایس پی آئی) نے پہلے ہی ملک کے 46،دس لاکھ سے زائد آبادی والے شہروں میں غیر کارپوریٹ شعبے کا جامع شماریاتی پروفائل پہلی مرتبہ شائع کیا ہے۔ ان شہروں کی شناخت مردم شماری 2011 کی آبادی کی بنیاد پر کی گئی ہے۔
اس اقدام کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے، ایم او ایس پی آئی نے اب ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں بھارت کے غیر کارپوریٹ غیر زرعی شعبے کے حجم، ساخت اور معاشی کارکردگی کی ضلعی سطح پر مکمل تصویر پیش کی ہے۔ اس رپورٹ میں ضلعی سطح کے تخمینوں کے ساتھ متعلقہ اضلاع میں واقع دس لاکھ سے زائد آبادی والے شہروں کے متعلقہ تخمینے بھی شامل ہیں۔
یہ قومی شماریاتی دفتر (این ایس او)، ایم او ایس پی آئی کی جانب سے بڑے پیمانے پر کیے گئے ملک گیر جائزے سے ضلعی سطح کے تخمینے جاری کرنے کی پہلی کوشش ہے۔ یہ رپورٹ وزارت کی ویب سائٹ https://mospi.gov.in. پر دستیاب ہے۔
ضلعی سطح پر غیر کارپوریٹ شعبہ اے ایس یو ایس ای 2025:سے حاصل شدہ معلومات
اے ایس یو ایس ای 2025 کے اعداد و شمار کی بنیاد پر یہ رپورٹ ضلعی سطح پر غیر کارپوریٹ شعبے کی جامع تصویر پیش کرتی ہے۔ اس میں اداروں کے حجم اور ساخت، روزگار اور اجرتوں اور معاشی کارکردگی سے متعلق مختلف اہم اشاریے شامل ہیں۔
ان میں اداروں اور کارکنوں کی تعداد، ملکیت اور روزگار کی ساخت، خواتین کی شمولیت، رجسٹریشن کی حیثیت، اجرت پر رکھے گئے کارکنوں کی فی کارکن اجرت، اور مارکیٹ میں کام کرنے والے اداروں کے لیے فی ادارہ اور فی کارکن مجموعی اضافی قدر(جی وی اے ) کے تخمینے شامل ہیں۔
اے ایس یو ایس ای 2025 کے نمونے کے انتخاب کے وقت دستیاب 770 اضلاع میں سے 757 اضلاع کے لیے ان اشاریوں کے تخمینے فراہم کیے گئے ہیں۔ اس طرح قومی سطح پر نمائندہ سروے کے اعداد و شمار کی بنیاد پر ضلعی سطح پر نہایت تفصیلی معلومات دستیاب ہوئی ہیں۔
تاہم، بعض اضلاع کی جغرافیائی حدود اور اضلاع کی مجموعی تعداد موجودہ انتظامی صورتحال سے مختلف ہو سکتی ہے، کیونکہ بعد میں اضلاع کی حدود، نام تبدیل ہوئے ہیں یا نئے اضلاع تشکیل دیے گئے ہیں۔
چونکہ لکشدیپ اور چنڈی گڑھ میں صرف ایک ایک ضلع ہے، اس لیے ان دونوں مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے ضلعی سطح کے تخمینے بالترتیب ان کے مرکز کے زیر انتظام علاقے سطح کے تخمینوں کے برابر ہیں، جو پہلے ہی اے ایس یو ایس ای 2025 کی رپورٹ میں شائع کیے جا چکے ہیں۔ لہٰذا اس رپورٹ میں لکشدیپ اور چنڈی گڑھ کے لیے الگ سے ضلعی تخمینے پیش نہیں کیے گئے ہیں۔اس کے علاوہ، دہلی میں دیہی آبادی بہت کم اور دیہات کی تعداد محدود ہونے کے باعث دیہی شعبے کے لیے تمام اضلاع کو ایک ہی طبقے میں شامل کیا گیا، جہاں سے نمونہ اکائیاں منتخب کی گئیں۔ شہری شعبے کے لیے بھی اسی طریقۂ کار کو اپنایا گیا۔ اس لیے دہلی کے لیے ضلعی سطح کے تخمینے تیار نہیں کیے جا سکے اور انہیں اس رپورٹ میں شامل نہیں کیا گیا۔
اے ایس یو ایس ای 2025کی کوریج، نمونہ سازی کے طریقۂ کار اور اعداد و شمار جمع کرنے کے نظام کا مختصر جائزہ رپورٹ کے اختتامی نوٹ میں دیا گیا ہے۔
غیر کارپوریٹ اداروں کے منظرنامے سے اہم معلومات
غیر کارپوریٹ شعبے کا جغرافیائی ارتکاز اور ضلعی سطح کی صورتحال
غیر کارپوریٹ غیر زرعی شعبے میں مختلف اضلاع کے درمیان معاشی سرگرمی کا نمایاں ارتکاز پایا جاتا ہے۔ غیر کارپوریٹ اداروں کی تخمینہ شدہ تعداد کے لحاظ سے سرفہرست 10 اضلاع مجموعی اداروں، کارکنوں اور شعبے کی پیدا کردہ مجموعی اضافی قدر (جی وی اے ) تقریباً دسواں حصہ رکھتے ہیں۔جبکہ سرفہرست 50 اضلاع مجموعی اداروں، افرادی قوت اور جی وی اے کا تقریباً ایک تہائی حصہ رکھتے ہیں۔
سرفہرست 10 اضلاع چار ریاستوں—گجرات، تلنگانہ، اتر پردیش اور مغربی بنگال میں واقع ہیں۔ جبکہ سرفہرست 50 اضلاع 12 ریاستوں میں پھیلے ہوئے ہیں، جن میں بہار، گجرات، کرناٹک، کیرالا، مہاراشٹر، اڈیشہ، پنجاب، راجستھان، تمل ناڈو، تلنگانہ، اتر پردیش اور مغربی بنگال شامل ہیں۔
ضلعی سطح کی تقسیم سے ملک بھر میں غیر کارپوریٹ شعبے کے حجم میں نمایاں فرق بھی سامنے آتا ہے۔ تقریباً ایک تہائی اضلاع میں فی ضلع غیر کارپوریٹ اداروں کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہے، جبکہ تقریباً 9 فیصد اضلاع میں فی ضلع اداروں کی تعداد 10 ہزار سے کم ہے۔
صرف 16 اضلاع میں فی ضلع غیر کارپوریٹ اداروں کی تعداد 5 لاکھ سے زیادہ ہے۔ ان میں مغربی بنگال کے 8، مہاراشٹر کے 3، گجرات کے 2، جبکہ کرناٹک، تلنگانہ اور اتر پردیش کا ایک ایک ضلع شامل ہے۔
اضلاع میں پیداواریت کی کارکردگی
ضلعی سطح کے تخمینوں سے غیر کارپوریٹ شعبے کی پیداواریت کی کارکردگی میں پائے جانے والے فرق بھی نمایاں ہوتے ہیں۔ تقریباً 331 اضلاع میں فی کارکن مجموعی اضافی قدر (جی وی اے) ایک لاکھ روپے سے 1.5 لاکھ روپے کے درمیان رہنے کا اندازہ ہے۔ جبکہ 280 اضلاع میں فی کارکن جی وی اے کی شرح ملکی اوسط 1,56,539 روپے سے زیادہ ہے، جو ان اضلاع میں نسبتاً بلند معاشی پیداواریت کی نشاندہی کرتی ہے۔
خواتین کی کاروباری سرگرمیوں کا ضلعی منظرنامہ
ضلعی سطح کے تخمینوں سے خواتین کی کاروباری سرگرمیوں میں نمایاں علاقائی رجحانات سامنے آتے ہیں۔ خواتین کی زیرِ قیادت غیر کارپوریٹ اداروں کے سب سے زیادہ تناسب والے سرفہرست 10 اضلاع تلنگانہ، منی پور اور میگھالیہ میں واقع ہیں۔میزورم میں ریاست کے ہر ضلع میں خواتین کی ملکیت والے واحد ملکیتی کاروباری ادارے کل اداروں کا کم از کم 50 فیصد ہیں۔
اسی طرح افرادی قوت میں خواتین کی شمولیت کے حوالے سے بھی ایسا ہی رجحان دیکھا گیا ہے۔ خواتین کارکنوں کے سب سے زیادہ تناسب والے سرفہرست 10 اضلاع تلنگانہ، منی پور، میگھالیہ اور میزورم میں واقع ہیں، جو ان ریاستوں کے غیر کارپوریٹ شعبے میں خواتین کے اہم کردار کو ظاہر کرتا ہے۔237 اضلاع میں غیر کارپوریٹ شعبے کی مجموعی افرادی قوت میں خواتین کا حصہ ایک تہائی ہے، جبکہ 25 اضلاع میں خواتین کارکن مجموعی افرادی قوت کا 50 فیصد سے زیادہ ہیں۔
جدول 1 میں 33 ریاستوں/مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں سے ہر ایک کے سب سے زیادہ حصہ رکھنے والے ضلع اور متعلقہ ریاست/مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کی کل غیر کارپوریٹ کاروباری اکائیوں میں اس ضلع کے فیصد حصے کی تفصیلات پیش کی گئی ہیں۔
|
ریاست
|
اس ریاست کے اندر ضلع جس میں تخمینہ شدہ اداروں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔
|
ریاست / مرکز کے زیر انتظام علاقے کے اندر شراکت فیصد میں
|
ریاست
|
سب سے زیادہ تعداد میں تخمینہ لگانے والا اضلاع
|
ریاست / مرکز کے زیر انتظام علاقے کے اندر شراکت فیصد میں
|
|
انڈمان اور نکوبار جزائر
|
جنوبی انڈمان
|
61.04
|
مہاراشٹر
|
پونے
|
9.14
|
|
آندھرا پردیش
|
پرکاشم
|
5.61
|
منی پور
|
مغربی امپھال
|
24.75
|
|
اروناچل پردیش
|
پاپم پارے
|
24.57
|
میگھالیہ
|
مشرقی خاصی پہاڑیوں
|
26.85
|
|
آسام
|
دھوبری
|
8.14
|
میزورم
|
آئزوال
|
31.49
|
|
بہار
|
پٹنہ
|
8.23
|
ناگالینڈ
|
کوہیما
|
17.54
|
|
چھتیس گڑھ
|
درگ
|
11.08
|
اوڈیشہ
|
میوربھنج
|
10.65
|
|
دادرا اور نگر حویلی اور دمن اور دیو
|
دادرا اور نگر حویلی
|
65.48
|
پڈوچیری
|
پڈوچیری
|
76.64
|
|
گوا
|
شمالی گوا
|
77.66
|
پنجاب
|
لدھیانہ
|
14.74
|
|
گجرات
|
سورت
|
19.43
|
راجستھان
|
جے پور
|
11.70
|
|
ہریانہ
|
گروگرام
|
9.96
|
سکم
|
گنگ ٹوک
|
27.97
|
|
ہماچل پردیش
|
کانگڑا
|
19.02
|
تمل ناڈو
|
چنئی
|
7.13
|
|
جموں و کشمیر
|
سری نگر
|
18.49
|
تلنگانہ
|
رنگاریڈی
|
23.53
|
|
جھارکھنڈ
|
گریڈیہہ
|
10.70
|
تریپورہ
|
مغربی تریپورہ
|
32.66
|
|
کرناٹک
|
بنگلورو (شہری)
|
12.83
|
اتر پردیش
|
پریاگ راج
|
5.77
|
|
کیرالہ
|
ترواننت پورم
|
12.38
|
اتراکھنڈ
|
ادھم سنگھ نگر
|
23.03
|
|
لداخ
|
لیہہ
|
59.00
|
مغربی بنگال
|
شمالی چوبیس پرگنہ
|
15.99
|
|
مدھیہ پردیش
|
جبل پور
|
6.03
|
|
|
|
غیر کارپوریٹ شعبے کے اداروں کے سالانہ سروے میں سروے کے دائرۂ کار، نمونہ بندی کے طریقۂ کار اور اعداد و شمار جمع کرنے کے نظام کا مختصر تعارف:
الف : کوریج
الف:1 جغرافیائی کوریج:یہ سروے پورے بھارت کے دیہی اور شہری علاقوں کا احاطہ کرتا ہے، تاہم انڈمان و نکوبار جزائر کے بعض ایسے دیہات اس میں شامل نہیں ہیں جہاں رسائی مشکل ہے۔
الف:2 شعبہ وار کوریج:اس سروے میں تین شعبوں سے تعلق رکھنے والے غیر کارپوریٹ غیر زرعی اداروں کا احاطہ کیا گیا ہے، یعنی مینوفیکچرنگ، تجارت اور دیگر خدمات۔
الف:3 ملکیت کے لحاظ سے کوریج:اس سروے میں غیر کارپوریٹ غیر زرعی اداروں کی مختلف اقسام شامل ہیں، جن میں واحد ملکیتی ادارے، شراکتی ادارے (محدود ذمہ داری والی شراکت داری یعنی ایل ایل پی کے علاوہ)، کوآپریٹو ادارے، سوسائٹیاں، ٹرسٹ وغیرہ شامل ہیں۔
ب: نمونہ سازی کا طریقۂ کار
یہ سروے کثیر مرحلہ جاتی درجہ بند نمونہ بندی کے طریقۂ کار کے تحت کیا گیا ہے۔ اس میں پہلے مرحلے کی اکائیاں(ایف ایس یو ز)دیہی علاقوں میں مردم شماری کے دیہات ہیں، تاہم دیہی کیرالا میں پنچایت وارڈز کو ایف ایس یوزکے طور پر لیا گیا ہے۔ شہری علاقوں میں یو ایف ایس (اربن فریم سروے) بلاکس کو پہلے مرحلے کی اکائیوں کے طور پر استعمال کیا گیا ہے، جنہیں وقتاً فوقتاً اپ ڈیٹ کیا جاتا ہے۔
دونوں شعبوں میں آخری مرحلے کی اکائیاں (ایف ایس یوز) ادارے ہیں۔ بڑے ایف ایس یوز کی صورت میں نمونہ بندی کا ایک درمیانی مرحلہ بھی شامل کیا گیا ہے، جس کے تحت دیہی علاقوں میں ہیملٹ گروپس اور شہری علاقوں میں سب بلاکس کو درمیانی سطح کی اکائیوں کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔
دہلی کے دیہی علاقے میں آبادی بہت کم اور دیہات کی تعداد انتہائی محدود ہونے کے باعث دہلی کے تمام اضلاع کو ملا کر ایک ہی طبقہ تشکیل دیا گیا اور دیہی علاقوں کے نمونہ ایف ایس یوز اسی طبقے سے منتخب کیے گئے۔ شہری علاقوں میں بھی یہی طریقۂ کار اختیار کیا گیا۔ لہٰذا، دہلی کے لیے ضلعی سطح کے تخمینے تیار کرنا ممکن نہیں تھا، اس لیے انہیں اس رپورٹ میں پیش نہیں کیا گیا ہے۔
د: اعداد و شمار جمع کرنے کا طریقۂ کار
یہ سروے ایریا فریم کی بنیاد پر کیا گیا۔ دیہی اور شہری دونوں شعبوں میں منتخب ایف ایس یوز کے اندر موجود اداروں کی فہرست تیار کی گئی اور اس فہرست میں سے نمونہ سازی کے مقررہ طریقۂ کار کے مطابق مطلوبہ تعداد میں اداروں کا سروے کیا گیا۔
زیادہ تر معلومات منتخب اداروں سے زبانی استفسار کے ذریعے حاصل کی گئیں، جس کے لیے ماہانہ حوالہ مدت مقرر کی گئی تھی۔ سروے کے اعداد و شمار ٹیبلٹ کے ذریعے کمپیوٹر اسسٹڈ پرسنل انٹرویوئنگ(سی اے پی آئی)کے طریقۂ کار سے جمع کیے گئے۔
ہ: صارفین کے لیے نوٹ اور احتیاطی نکات
ضلعی سطح کے تخمینے نمونہ جاتی سروے کے اعداد و شمار پر مبنی ہیں۔ اس لیے ان کی تشریح کرتے وقت مختلف علاقوں کی معاشی اور آبادیاتی خصوصیات، صنعتی ساخت میں فرق، مقامی حالات اور نمونہ سازی کے باعث پیدا ہونے والے شماریاتی تغیر کو مدنظر رکھنا چاہیے۔
تخمینوں کے درست اور محتاط استعمال میں مدد کے لیے اس کے معیار سے متعلق خامیوں کی صورت میں شماریاتی اعتبار کے پیمانے بھی فراہم کیے گئے ہیں۔بعض معاملات میں اس رپورٹ میں پیش کیے گئے معیار سے متعلق خامیوں( آر ایس ایز) نسبتاً زیادہ ہیں۔ ایسے معاملات میں نتائج اخذ کرتے وقت اس بات کو مناسب طور پر مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
|
ضلعی سطح پر غیر کارپوریٹ شعبے سے متعلق رپورٹ: اے ایس یو ایس ای 2025 سے حاصل شدہ معلومات وزارت کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔ اشاعتوں/رپورٹس تک رسائی حاصل کرنے کے لیے کیو آر کوڈ اسکین کریں۔
|
*****
(ش ح ۔ ت ف۔ م ذ)
U.No: 3269
(ریلیز آئی ڈی: 2308790)
وزیٹر کاؤنٹر : 4