PIB Backgrounder
برکس
ارتقا، تعاون اور بھارت کی قیادت
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
10 SEP 2026 12:43PM by PIB Delhi
|
چار ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے استعمال ہونے والا ایک مختصر نام آج ایک بہت وسیع گروپ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ آج یہ چار براعظموں تک پھیلا ہوا ایک اہم جغرافیائی سیاسی اتحاد ہے۔ اس کا سفر چار ممالک کے درمیان بات چیت سے شروع ہوا اور آج یہ ایک بہت وسیع گروپ بن چکا ہے۔ رکنیت میں مرحلہ وار توسیع کے ساتھ تیل پیدا کرنے والے ممالک، افریقی معیشتیں اور جنوب مشرقی ایشیا کے شراکت دار بھی اس میں شامل ہوئے۔ اس وسیع ہوتے ہوئے ڈھانچے کے مرکز میں اس سال بھارت ہے، جو اس کے قیام کے بعد چوتھی مرتبہ اس کی صدارت کر رہا ہے۔
|
برکس: ایک جامع عالمی نظام کی تشکیل
برکس بڑی ابھرتی ہوئی معیشتوں کے درمیان اقتصادی پالیسیوں میں تال میل پیدا کرنے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر ابھرا ہے۔ یہ وہ اہم فورم ہے جہاں یہ ممالک عالمی نظام سے متعلق امور پر مشترکہ موقف اختیار کرتے ہیں۔ مسلسل بات چیت کے ذریعے یہ کثیر فریقی اداروں میں گلوبل ساؤتھ یعنی عالمی خطہ جنوب کے مفادات کو آگے بڑھانے کا ایک ذریعہ بن گیا ہے۔ اس کے ایجنڈے میں ترقی، مالیات، ٹیکنالوجی، تجارت اور عوام سے عوام کے روابط سمیت مختلف شعبے شامل ہیں۔ یہ گروپ دنیا بھر میں ابھرتی ہوئی معیشتوں کی بڑھتی ہوئی اقتصادی اہمیت اور ان کی امنگوں کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ رکن ممالک کو اپنے تجربات بانٹنے اور مشترکہ چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔
2026 میں برکس کی صدارت کے تحت بھارت 12 اور 13 ستمبر 2026 کو نئی دہلی میں 18ویں برکس سربراہ کانفرنس کی میزبانی کرے گا۔ 2026 میں یہ بھارت کی جانب سے برکس کی چوتھی صدارت ہوگی۔ بھارت کی صدارت کا رہنما موضوع ‘‘استحکام، اختراع، تعاون اور پائیداری کی تشکیل’’ہے۔ یہ موضوع موجودہ کامیابیوں کو مستحکم کرنے اور ادارہ جاتی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے پر بھارت کی توجہ کی عکاسی کرتا ہے۔ اس میں ترقی، پائیداری اور اختراع کو ایجنڈے کے مرکز میں رکھا گیا ہے۔ ساتھ ہی عالمی خطہ جنوب کی امنگوں کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ بھارت برکس کو ایک تعمیری اور مسائل کے حل پر مرکوز فورم کے طور پر مزید مضبوط بنانا چاہتا ہے۔

آج برکس میں 11 ممالک ،برازیل، چین، مصر، ایتھوپیا، بھارت، انڈونیشیا، ایران، روس، سعودی عرب، جنوبی افریقہ اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ مجموعی طور پر یہ رکن ممالک دنیا کی 49.5 فیصد آبادی، عالمی مجموعی گھریلو پیداوار کے 40 فیصد اور عالمی تجارت کے 26 فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار ان ممالک کی نمایاں آبادی اور اقتصادی اہمیت کو واضح کرتے ہیں۔ رکنیت میں توسیع کے باعث برکس کا جغرافیائی دائرہ بھی ایشیا، افریقہ، مشرق وسطی اور لاطینی امریکہ تک وسیع ہوگیا ہے۔ یہ تنوع بڑی منڈیوں، قدرتی وسائل، تکنیکی صلاحیتوں اور ترقی کے مختلف تجربات کو ایک جگہ یکجا کرتا ہے۔
|
ابتدا
‘برک’ کی اصطلاح 2001 میں گولڈمین سیکس نے اپنی عالمی اقتصادی رپورٹ ‘دنیا کو بہتر اقتصادی برکس کی ضرورت ہے’ میں وضع کی تھی۔ معاشی پیمانوں پر مبنی اس رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا تھا کہ اگلی پانچ دہائیوں کے دوران برازیل، روس، بھارت اور چین دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل ہوں گے۔ ان ممالک کی بڑھتی ہوئی اقتصادی اہمیت اور تین براعظموں تک پھیلا وسیع جغرافیائی دائرہ ان کی ابھرتی ہوئی عالمی اہمیت کو نمایاں کرتا تھا۔ بعد ازاں برک کا تصور اس وقت ایک باقاعدہ گروپ کی شکل اختیار کر گیا، جب 2010 میں جنوبی افریقہ اس میں شامل ہوا اور برک، برکس میں تبدیل ہوگیا۔ اس تبدیلی کے ساتھ تجزیہ کاروں کی جانب سے شناخت کیے گئے ایک اقتصادی گروپ نے سیاسی، اقتصادی اور ترقیاتی تعاون کے لیے ایک باقاعدہ پلیٹ فارم کی شکل اختیار کرلی۔
|
اغراض، اہداف اور تعاون کے شعبے
برکس کا تصور ابتدا میں بین الاقوامی ایجنڈے کو تشکیل دینے والے اہم مسائل پر بات چیت کے لیے ایک فورم کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ ابتدائی طور پر اس کی توجہ عالمی سیاسی اور اقتصادی معاملات پر مشترکہ موقف تشکیل دینے پر مرکوز تھی۔ اس کا مقصد زیادہ جمہوری، منصفانہ اور متوازن عالمی نظام کو فروغ دینا تھا۔ اس گروپ نے پائیدار اقتصادی اور سماجی ترقی، سماجی شمولیت اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کے درمیان مشترکہ خوشحالی پر بھی زور دیا۔ وقت کے ساتھ یہ ترجیحات رکن ممالک کے درمیان مزید گہرے اور وسیع تعاون کی بنیاد بنیں۔
مختلف سربراہ کانفرنسوں کے دوران برکس کے تعاون کا دائرہ بتدریج وسیع ہوتا گیا اور اس میں عالمی اہمیت کے اہم مسائل کے ساتھ ساتھ عملی تعاون کے مختلف شعبے بھی شامل ہوتے گئے۔ اس کے ایجنڈے میں دہشت گردی،آب و ہوا کی تبدیلی کی روک تھام، خوراک اور توانائی کی یقینی فراہمی، تجارت اور زراعت شامل ہیں۔ اس کے علاوہ محنت اور روزگار، مواصلاتی ذرائع، بین الاقوامی مالیات اور عالمی اقتصادی صورتحال سے متعلق امور بھی اس کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔ برکس عالمی تجارتی تنظیم اور عالمی مالیاتی نظام سمیت بین الاقوامی اداروں میں زیادہ نمائندگی اور مساوات کی وکالت کرتا ہے۔ ان کوششوں کا مقصد عالمی حکمرانی کو زیادہ جامع، مؤثر اور موجودہ دور کے چیلنجوں اور تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا ہے۔
برکس کا سفر: بحران سے اجتماعی اقدام تک
2008 کے عالمی مالیاتی بحران نے برکس کے ارتقا میں ایک فیصلہ کن موڑ کا کردار ادا کیا۔ اس بحران نے موجودہ عالمی مالیاتی نظام کی خامیوں کو اجاگر کیا۔ اس کے ساتھ ہی عالمی اقتصادی حکمرانی کے بارے میں وسیع تر اتفاق رائے کی ضرورت بھی سامنے آئی۔ برک کے چاروں ممالک نے ان معاملات پر مشترکہ موقف اختیار کیا۔ انہوں نے زیادہ نمائندگی والے بین الاقوامی مالیاتی نظام کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور عالمی بینک میں ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے زیادہ مؤثر آواز کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے تحفظ پسندی کی مخالفت کی اور ایسے کثیر فریقی تجارتی نظام کی حمایت کی جو کھلا ہو اور طے شدہ قواعد پر مبنی ہو۔ اس باہمی تال میل نے 2009 میں روس کے شہر یکاترین برگ میں پہلی برک سربراہ کانفرنس کا انعقاد کیا ۔

برک کو 2006 میں برازیل، روس، بھارت اور چین کے درمیان سیاسی تعاون کے فورم کے طور پر باضابطہ طور پر قائم کیا گیا۔ اس کے بانی ارکان زیادہ نمائندہ اور منصفانہ عالمی نظام کے قیام کے مشترکہ خواہاں تھے۔ جنوبی افریقہ 2011 میں مکمل رکن کی حیثیت سے اس میں شامل ہوا، جس کے نتیجے میں برک، برکس میں تبدیل ہوگیا۔ اس شمولیت سے مختلف براعظموں میں اس گروپ کی جغرافیائی نمائندگی مزید وسیع ہوگئی۔ اس کے بعد گروپ نے اپنے ایجنڈے کو اقتصادی معاملات سے آگے بڑھاتے ہوئے ترقی، مالیات، صحت، آب و ہوا کی تبدیلی کی روک تھام سے متعلق اقدامات، ٹیکنالوجی اور تجارت کو بھی اس میں شامل کرلیا۔ اس ارتقا نے ابھرتی ہوئی معیشتوں کے درمیان باہمی تعاون اور روابط کے لیے برکس کو ایک وسیع تر پلیٹ فارم کے طور پر مزید مضبوط کیا۔
ایک وسیع تر برکس: دائرہ کار میں توسیع اور تعاون میں وسعت

برکس کی توسیع کا ایک اہم مرحلہ جنوری 2024 میں شروع ہوا۔ مصر، ایتھوپیا، ایران، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اس کےمکمل رکن بن گئے۔ انڈونیشیا جنوری 2025 میں گیارہویں مکمل رکن کی حیثیت سے برکس میں شامل ہوا۔ ان ممالک کی شمولیت سے برکس کا جغرافیائی اور اقتصادی دائرہ نمایاں طور پر وسیع ہوگیا۔ اس توسیع کے ساتھ شراکت دار ممالک کا ایک نیا زمرہ بھی قائم کیا گیا۔ 2025 کے دوران دس ممالک بیلاروس، بولیویا، کیوبا، قزاقستان، ملیشیا، نائیجیریا، تھائی لینڈ، یوگانڈا، ازبکستان اور ویتنام اس نظام میں شامل ہوئے۔ اس نئے انتظام کے ذریعے برکس کے ساتھ منظم اور باقاعدہ تعاون کے لیے ایک اضافی راستہ فراہم ہوا۔

شراکت دار ممالک کا یہ نظام برکس کے مکمل رکنیت کے ڈھانچے میں کوئی تبدیلی کیے بغیر اس کے دائرہ کار کو وسیع کرتا ہے۔ اس سے ایشیا، افریقہ، لاطینی امریکہ اور یوریشیا میں ترقی پذیر ممالک کے درمیان باہمی تعاون کے مواقع مزید مستحکم ہوتے ہیں۔ یہ وسیع تر نیٹ ورک تجارت، مالیات، آب و ہوا کی تبدیلی کی روک تھام کے اقدامات اور پائیدار ترقی کے شعبوں میں تعاون کی نئی گنجائش بھی پیدا کرتا ہے۔ یہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ابھرتی ہوئی معیشتوں میں عالمی حکمرانی سے متعلق مباحث میں حصہ لینے میں بڑھتی ہوئی دلچسپی پیدا ہو رہی ہے۔
برکس کا ارتقا چار ممالک کے اقتصادی مکالمے سے سیاسی، اقتصادی، مالیاتی اور سماجی تعاون کے ایک وسیع تر ڈھانچے کی جانب منتقلی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کی توسیع سے اس کی آبادی اور اقتصادی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس کی علاقائی نمائندگی اور تعاون کے شعبے بھی وسیع ہوئے ہیں۔ برکس کی ادارہ جاتی ترقی ابھرتی ہوئی معیشتوں کی بدلتی ہوئی ترجیحات کے ساتھ ہم آہنگ رہی ہے۔
|
برکس کی صدارت: باری اور ذمہ داریاں
برکس کی صدارت ہر سال اس کے نام کے حروف کی ترتیب کے مطابق ایک ملک سے دوسرے ملک کو منتقل ہوتی ہے۔ ہر صدارتی مدت یکم جنوری سے شروع ہو کر متعلقہ سال کی 31 دسمبر کو ختم ہوتی ہے۔ صدارت کرنے والا ملک اس سال کے ایجنڈے کی ترجیحات طے کرتا ہے۔ وہ گروپ کی سالانہ سربراہ کانفرنس کا انعقاد بھی کرتا ہے اور وزارتی سطح کی اہم میٹنگوں اور ورکنگ گروپوں کے اجلاسوں کی رہنمائی کرتا ہے۔ برکس کی رکنیت میں حالیہ توسیع کے بعد صدارت کے لیے باری مقرر کرنے کے ایک نئے طریقہ کار پر بھی رکن ممالک کے درمیان غور وخوض کیا جا رہا ہے۔
|
برکس کی قیادت میں بھارت: تسلسل سے اتفاق رائے تک
اس سال سے پہلے بھارت 2012، 2016 اور 2021 میں برکس کی صدارت کر چکا ہے۔ ہر صدارتی دور میں اس وقت کی ترجیحات اور چیلنجوں کی عکاسی ہوئی۔ بھارت کی جانب سے بار بار قیادت سنبھالنا اس گروپ کے ساتھ اس کی مسلسل وابستگی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ تعمیری کثیر فریقی تعاون اور ترقی پذیر معیشتوں کی ترجیحات کے تئیں بھارت کے عزم کی بھی عکاسی کرتا ہے۔
2012: مضبوط تعاون کی بنیاد رکھنا
بھارت نے 29 مارچ 2012 کو نئی دہلی میں چوتھی برکس سربراہ کانفرنس کی میزبانی کی۔ یہ سربراہ کانفرنس ‘‘عالمی استحکام، سلامتی اور خوشحالی کے لیے برکس شراکت داری’’ کے موضوع کے تحت منعقد ہوئی۔ بات چیت میں عالمی حکمرانی میں اصلاحات، پائیدار ترقی، خوراک اورتوانائی کی یقینی فراہمی پر توجہ مرکوز کی گئی۔ سربراہ کانفرنس میں دہلی اعلامیہ اور برکس تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے عملی منصوبہ منظور کیا گیا۔ ان اقدامات سے ادارہ جاتی اور مختلف شعبوں میں تعاون کے لیے مزید مضبوط بنیاد قائم ہوئی۔دہلی اعلامیے کے بارے میں مزید پڑھیں
|
اہم نتائج
- سربراہ کانفرنس میں بنیادی ڈھانچے اور پائیدار ترقی کے پروجیکٹوں کے لیے وسائل جمع کرنے کی غرض سے ایک نئے ترقیاتی بینک کے قیام کے امکانات تلاش کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔ مجوزہ ادارہ برکس، ابھرتی ہوئی معیشتوں اور ترقی پذیر ممالک کے لیے کام کرتا ہے۔ یہ عالمی اقتصادی ترقی اور پیش رفت میں موجودہ کثیر فریقی اور علاقائی مالیاتی اداروں کی معاونت کرتاہے۔
- رکن ممالک نے مقامی کرنسی میں قرض کی سہولت فراہم کرنے سے متعلق بنیادی معاہدے پر دستخط کیے اور برکس کے رکن ممالک کے درمیان باہمی تجارت کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔
- سربراہ کانفرنس میں برکس ممالک کے لیے مالیاتی تحفظ کے طریقہ کار کے طور پر ہنگامی ذخائر کے انتظام کی بنیاد بھی رکھی گئی۔ اس انتظام کا مقصد قلیل مدتی مالیاتی تعاون فراہم کرنا اور رکن ممالک کو مالیاتی عدم استحکام سے نمٹنے میں مدد دینا تھا۔
- بھارت نے زراعت، صحت اور سائنس کے شعبوں میں عملی تعاون کے لیے نئے مشترکہ طریقہ کار کو ادارہ جاتی شکل دی۔
|
2016: گوا سربراہ کانفرنس سے برکس کا دائرہ کار وسیع ہوا
بھارت نے اکتوبر 2016 میں گوا میں آٹھویں برکس سربراہ کانفرنس کی میزبانی کی۔ سربراہ کانفرنس کا موضوع تھا:‘‘ذمہ دار، جامع اور اجتماعی حل کی تشکیل’’۔ بھارت کی صدارت کے تحت برکس کے رکن ممالک کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے اور دیگر ممالک تک رسائی بڑھانے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اس کے ساتھ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے، تجارت، اختراع اور کثیر فریقی تعاون کے شعبوں میں اشتراک کو بھی آگے بڑھایا گیا۔ گوا سربراہ کانفرنس نے ابھرتے ہوئے عالمی چیلنجوں اور عملی تعاون پر گروپ کی توجہ کو مزید مضبوط کیا۔
|
اہم نتائج
- نئے ترقیاتی بینک کے عملی آغاز کو اس کے پہلے مرحلے میں مالی قرضوں کی فراہمی کے ساتھ مزید مضبوط کیا گیا، جن میں بنیادی طور پر قابل تجدید توانائی کے پروجیکٹوں کومدد فراہم کی گئی۔
- برکس نے قابل تجدید توانائی تک رسائی، ماحولیات کےلئے سازگارتوانائی کی جانب منتقلی اور توانائی کی یقینی فراہمی کو مشترکہ ترجیحات کے طور پر مزید اہمیت دی۔
- ایچ آئی وی اور تپ دق سے نمٹنے پر مزید توجہ مرکوز کی گئی۔
- بھارت نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے برکس کے اعلامیوں میں زیادہ مضبوط موقف شامل کرانے میں کامیابی حاصل کی اور مالیاتی کارروائی سے متعلق عالمی ادارے کے طے کردہ معیارات کی پابندی پر زور دیا۔
- کثیر شعبہ جاتی تکنیکی اور اقتصادی تعاون کے لیے خلیج بنگال کے اقدام کی رابطہ کانفرنس نے برکس اور خلیج بنگال کے وسیع خطے کے ممالک کے درمیان تعاون کو وسعت دی۔ بات چیت میں دہشت گردی کا مقابلہ کرنے، تجارت، توانائی، سرمایہ کاری، ماحولیات، ٹیکنالوجی اور بنیادی ڈھانچے سمیت مختلف امور شامل تھے۔
- برکس زرعی تحقیقاتی پلیٹ فارم، برکس ریلوے تحقیقاتی نیٹ ورک، برکس کھیل کونسل اور نوجوانوں پر مرکوز مختلف تعاون کے فورم قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
|
2021: بدلتی ہوئی دنیا میں تعاون کو مستحکم کرنا
بھارت نے 9 ستمبر 2021 کو 13ویں برکس سربراہ کانفرنس کی آن لائن میزبانی کی۔ اس سربراہ کانفرنس میں برکس کے قیام کے 15سال مکمل ہونے کا جشن منایا گیا ۔ یہ سربراہ کانفرنس ‘‘برکس کی 15ویں سالگرہ: تسلسل، استحکام اور اتفاق رائے کے لیے برکس کے رکن ممالک کے درمیان تعاون’’ کے موضوع کے تحت منعقد ہوئی۔ بھارت نے ادارہ جاتی تسلسل کو مضبوط بنانے، تعاون کو مزیدوسعت دینے اور وسیع تر اتفاق رائے پیدا کرنے پر توجہ مرکوز کی۔ بھارت کی صدارت میں صحت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، دہشت گردی کا مقابلہ کرنے اور پائیدار ترقی کے شعبوں میں بھی تعاون کو آگے بڑھایا گیا۔
|
اہم نتائج
- بھارت کی قیادت میں انسداد دہشت گردی کے لیے برکس کے متحدہ عملی منصوبے کو منظوری دی گئی۔
- بھارت نے اپنی صدارت کے دوران پہلی مرتبہ برکس ڈیجیٹل صحت سربراہ کانفرنس کی میزبانی کی۔
- برکس ویکسین تحقیق و ترقی مرکز قائم کیا گیا، تاکہ موجودہ اور مستقبل میں وباؤں سے نمٹنے کے لیے اجتماعی طور پر اقدامات کیے جا سکیں۔
- برکس کے دور دراز سے زمین کا مشاہدہ کرنے والے مصنوعی سیاروں کے مجموعے کے لیے تعاون کے معاہدے پر اتفاق کیا گیا۔ اس کے ذریعے ماحولیاتی تحفظ، آفات سے نمٹنے اور موسمیاتی صورتحال کی نگرانی کے لیے ممالک ایک دوسرے کے ساتھ دور دراز سے حاصل کردہ زمینی مشاہداتی اعداد و شمار کا تبادلہ کر سکیں گے۔
- بھارت نے وزارتی سطح پر تعاون کے نئے راستے متعارف کرائے، جن کے تحت برکس گرین سیاحتی اتحاد قائم کیا گیا اور پائیدار وسائل کے انتظام کے لیے پہلی برکس آبی وسائل کے وزرا کی میٹنگ منعقد کی گئی۔
|
مسلسل صدارت کے دوران بھارت نے برکس کی ادارہ جاتی اور عملی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ عالمی سطح پر ابھرتے ہوئے چیلنجوں کے ساتھ اس کی ترجیحات بھی تبدیل ہوتی رہی ہیں، تاہم عملی تعاون پر توجہ برقرار رہی ہے۔ بھارت کی 2026 کی صدارت اسی تجربے اور برکس کی وسیع تر رکنیت کی بنیاد پر آگے بڑھ رہی ہے۔
برکس 2026: وزارتی اجلاسوں سے سامنے آنے والے اہم نتائج
بھارت نے یکم جنوری 2026 کو چوتھی مرتبہ برکس کی صدارت سنبھالی۔ اپنی صدارت کے دوران بھارت نے برکس تعاون کے ترجیحی شعبوں میں متعدد وزارتی اجلاس منعقد کیے۔ پورے سال برکس کے رکن ممالک نے مشترکہ ترجیحات اور عالمی و علاقائی حالات و واقعات پر خیالات کا تبادلہ کیا۔ ان مذاکرات کے ذریعے گروپ کے تعاون کے تین بنیادی ستونوں کے تحت باہمی تعاون کو مزید آگے بڑھایا گیا۔ ان ستونوں میں سیاسی اور سلامتی سے متعلق تعاون، اقتصادی اور مالیاتی تعاون، اور ثقافتی و عوام سے عوام کے روابط شامل ہیں۔
بھارت کی صدارت کے دوران 25 شہروں میں 350 سے زیادہ اجلاس اور اعلی سطح کی میٹنگیں منعقد ہوئیں۔ ان میٹنگوں کے نتیجے میں تعاون کے اہم شعبوں میں عملی اور ترقی پر مبنی نتائج سامنے آئے۔ بھارت کی 2026 کی برکس صدارت کے دوران منعقد ہونے والے وزارتی اجلاسوں سے درج ذیل نتائج سامنے آئے۔
- زرعی ماحولیات کے لئے برکس مہارت کے مراکز کے قیام پر اتفاق کیا گیا، جو قدرتی، نامیاتی اور احیا پر مبنی زرعی طریقوں سے متعلق مشترکہ تحقیق، معلومات کے تبادلے اور صلاحیت سازی کے لیے ایک مشترکہ پلیٹ فارم کے طور پر کام کریں گے۔ اس کا مقصد موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے اور پائیدار زرعی نظام کو فروغ دینا ہے۔ اس کی ابتدائی ذمہ داری مودی پورم میں واقع بھارتی زرعی تحقیقی کونسل کے بھارتی کاشتکاری نظام تحقیقی ادارے کو سونپی گئی ہے۔ برکس ڈیجیٹل زراعت نیٹ ورک کے ذریعے زراعت میں مصنوعی ذہانت پر مبنی فیصلہ سازی کے معاون نظام، جغرافیائی معلوماتی ٹیکنالوجی، انٹرنیٹ سے منسلک آلات کے ذریعے نگرانی اور جدید اعداد و شمار کے تجزیے کے استعمال کو وسعت دے کر تعاون کو مزید گہرا کیا جائے گا۔ اس کی ابتدائی ذمہ داری آئی آئی ٹی، دہلی کو سونپی گئی ہے۔
- برکس ایگرن یعنی زرعی پیداوار، جینیاتی وسائل اور معلوماتی نیٹ ورک کے قیام پر اتفاق کیا گیا۔ یہ برکس ممالک کے درمیان بیج، جرثومی ذخیرے اور زرعی پیداوار کے شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے رضاکارانہ اور کسانوں پر مرکوز تعاون کا ایک نظام ہوگا۔
- برکس صحت مند طرز زندگی مشن: اس ترجیح کا آغاز صحت مند طرز زندگی کے فروغ کے لیے مشترکہ اقدام کے برکس نقش راہ 2026 تا 2029 کے ساتھ کیا گیا۔ اس کا مقصد تکنیکی تعاون، معلومات کے تبادلے اور باہمی طور پر مربوط آگاہی مہمات کے لیے ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے، جس کے ذریعے موٹاپے اور دیگر غیر متعدی بیماریوں کی روک تھام اور زندگی کے تمام مراحل میں صحت مند طرز زندگی کو فروغ دیا جائے گا۔
- روایتی، تکمیلی اور مربوط طب سے متعلق برکس ماہرین کا ورکنگ گروپ: اس کا مقصد روایتی، تکمیلی اور مربوط طب کے شعبے میں منظم اور اتفاق رائے پر مبنی تعاون کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔ اس میں پالیسی سے متعلق بات چیت، تحقیق اور شواہد کی تیاری، صلاحیت سازی اور علمی تبادلہ، ڈیجیٹل معلوماتی پلیٹ فارم، معیاری اور ضابطہ جاتی اصول، اور روایتی و مقامی علمی ورثے کا تحفظ شامل ہوگا۔
- برکس تربیتی مراکز کے نیٹ ورک اور برکس مہارت کے مراکز کے نیٹ ورک کے ذریعے دماغی صحت پر توجہ مرکوز کی گئی ہے، جس میں بھارت کا نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ نیورو سائنسز رابطہ کار مرکز ہوگا۔ اس کا مقصد اضافی تربیت، ذمہ داریوں کی باہمی تقسیم اور یکساں تربیت کے ذریعے ذہنی صحت کے لیے انسانی وسائل کو زیادہ مؤثر بنانا اور بنیادی صحت کی خدمات میں دماغی صحتمندی کو شامل کرنا ہے۔
- روایتی علم کو مرکزی دھارے میں لانے کے لیے موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے میں عوام مرکوز اور برادری پر مبنی موافقت کو آگے بڑھانے سے متعلق برکس اصول اور روایتی و مقامی علمی نظاموں پر علمی تعاون کو مضبوط بنانے سے متعلق برکس رہنما اصول اپنائے گئے۔
- پائیدار طرز زندگی کو فروغ دینے کے لیے علم کے تبادلے، تحقیق اور اختراع کو آگے بڑھانے والے برکس اداروں کے نیٹ ورک اور پائیدار طرز زندگی ہفتہ کے ذریعے پالیسیوں، پروگراموں، اقدامات اور بہترین طریقوں سے متعلق معلومات کا تبادلہ کیا جائے گا؛ مختلف موضوعاتی شعبوں میں صلاحیت سازی کی ورکشاپس منعقد کی جائیں گی؛ تعلیمی اور تحقیقی اداروں سمیت متعلقہ فریقوں کے درمیان مکالمے کو فروغ دیا جائے گا اور کامیاب تجربات سے متعلق مطالعات مرتب کیے جائیں گے۔
- ہنرمندی کی خاطر برکس کنیکٹ: برکس کے ورچوئل رابطہ دفتر کی بنیاد پر صلاحیت سازی، روزگار کے مواقع اور نئی مہارتوں و ٹیکنالوجیوں کے لیے برکس تعاون نیٹ ورک قائم کیا گیا ہے۔ یہ ایک مستحکم پلیٹ فارم ہے جس کے چار اہم حصے ہیں: سماجی تحفظ کو آگے بڑھانے کے لیے صلاحیت سازی، افرادی قوت میں خواتین کی شرکت، مہارتیں اور روزگار کے مواقع اور ڈیجیٹل سرکاری بنیادی ڈھانچہ۔ اس کے تحت تعاون رضاکارانہ اور غیر پابند ہوگا۔
- اسمارٹ گرڈ اور توانائی ذخیرہ: توانائی ذخیرہ کرنے اور اسمارٹ گرڈ سے متعلق برکس رہنما اصول اپنائے گئے اور اسمارٹ گرڈ اور توانائی ذخیرہ کرنے کے لیے برکس ڈیجیٹل مہارت کے مرکز کا آغاز کیا گیا۔ یہ برکس ممالک کے درمیان معلومات کے تبادلے، صلاحیت سازی، پالیسی اور ضابطہ جاتی بہترین طور طریقوں کے تبادلے اور آزمائشی اقدامات کو فروغ دینے کے لیے رضاکارانہ پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گا۔
- شہری بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے برکس شہری موبیلٹی مرکز قائم کیا گیا ہے، جو ایک ورچوئل باہمی تعاون پر مبنی پلیٹ فارم ہے۔ اس کے ذریعے پائیدار شہری نقل و حرکت کے شعبے میں معلومات کے تبادلے، صلاحیت سازی اور تکنیکی تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ شہری بنیادی ڈھانچے کے لیے برکس رضاکارانہ اصول اپنائے گئے ہیں، جن کا مقصد شہری منصوبہ بندی، ڈیزائن، سرمایہ کاری، تعمیر اور دیکھ بھال میں موسمیاتی تبدیلی اور آفات کے خطرات سے متعلق امور کو شامل کرنے میں معاونت فراہم کرنا ہے۔ شہری تحقیق اور معلوماتی نیٹ ورک بھی قائم کیا گیا ہے، جو عملی نوعیت کی شہری تحقیق، سرحد پار باہمی سیکھنے اور ادارہ جاتی تعاون کو مسلسل فروغ دے گا۔
- برکس چھوٹی، بہت چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کے تعاون کے پورٹل کو برکس کے تمام رکن ممالک کے لیے قابل رسائی ڈیجیٹل نظام کے طور پر قائم کیا جائے گا۔ یہ چھوٹی، بہت چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں، ٹیکنالوجی مراکز اور صنعتی کلسٹروں، تجارتی انجمنوں، مالیاتی اداروں، تربیت اور صلاحیت سازی کے اداروں، پالیسی سازوں اور دیگر متعلقہ فریقوں کی معاونت کرے گا۔ اس کے ساتھ چھوٹی، بہت چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کی مالی اعانت سے متعلق ادارہ جاتی مکالمہ اور ان کی بین الاقوامی سطح پر توسیع سے متعلق کام کا منصوبہ بھی اہم نتائج میں شامل ہیں۔ ان اقدامات کے ذریعے منڈیوں اور مالی وسائل تک ان صنعتوں کی رسائی بہتر بنانے کے لیے برکس کی صلاحیت سے فائدہ اٹھایا جائے گا۔
- برکس اسٹارٹ اپ انکیوبیٹر نیٹ ورک ایک ڈیجیٹل رابطہ نظام ہے، جو برکس ممالک میں قومی رابطہ ایجنسیوں، منتخب انکیوبیٹروں اور نئے کاروباری اداروں کو باہم مربوط کرے گا۔ اس کے ذریعے شرکت کرنے والے انکیوبیٹروں کے ساتھ رجسٹریشن اور روابط کو آسان بنایا جائے گا اور اہل نئے کاروباری اداروں کو برکس کے دیگر ممالک میں موجود انکیوبیٹروں سے جوڑنے کی سہولت فراہم کی جائے گی۔
- برکس اسٹارٹ اپ اختراعی فنڈ کا مقصد ابتدائی اور ترقی کے مرحلے میں موجود نئے کاروباری اداروں کے لیے مالی اعانت کو فروغ دینا اور برکس ممالک میں اختراع پر مبنی کاروباری سرگرمیوں کو تقویت دینا ہے۔
- برکس سائنس اور تحقیق کے ذخیرے کو برکس ممالک کے درمیان سائنسی معلومات کے منظم ذخیرے اور تبادلے کے لیے ایک باقاعدہ پلیٹ فارم کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔
- برکس لاجسٹکس سپلائی چین میں تعاون کا فریم ورک: یہ رضاکارانہ اور باہمی اتفاق رائے پر مبنی فریم ورک ہے، جس کا مقصد مختلف شعبوں میں نقل و حمل اور رسدی خدمات کی لچک اور پائیداری کو مضبوط بنانا ہے۔ اس کے تحت رسدی فراہمی کی بکھری ہوئی زنجیروں اور کمزور رابطوں سے متعلق مسائل سے نمٹنے کے لیے تکنیکی تبادلے، مال برداری اور جہاز رانی کی خدمات سے متعلق معلومات کے تبادلے، مقامی سطح پر اسمبلنگ اور تیاری کے نظام اور صلاحیت سازی کو فروغ دیا جائے گا، جبکہ ماحول دوست اور موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ لاجسٹکس طریقوں کو بھی آگے بڑھایا جائے گا۔
- عالمی ویلیو چین میں برکس تعاون کو 2026-2030 کے لیے عالمی ویلیو چین سے متعلق عملی منصوبے کے ذریعے آگے بڑھایا جائے گا۔ اس میں ایک تکنیکی کونسل اور عالمی ویلیو چین سے متعلق مشترکہ مطالعہ شامل ہے، جس کا مقصد برکس تعاون کو مزید مستحکم کرنا اور عالمی ویلیو چین کو زیادہ لچک دار، موثر اور پیداواری بنانا ہے، ساتھ ہی برکس رکن ممالک کے درمیان منڈیوں کو کھولنے اور اقتصادی تنوع کو فروغ دینا ہے۔
- کسٹمز سے متعلق امور میں تعاون اور باہمی انتظامی معاونت سے متعلق برکس معاہدے کے لیے ارکان نے اصولی منظوری اور معاہدے پر دستخط کرنے کی آمادگی کی تصدیق کی۔ اس کا مقصد تجارت کو تیز تر بنانا، لین دین کی لاگت کم کرنا، سرحدوں کو زیادہ محفوظ بنانا، قابل اعتماد تجارت میں آسانی کو فروغ دینا، کاروبار کرنے میں آسانی کو بہتر بنانا اور غیر قانونی تجارت سے نمٹنا ہے۔
- معیارات کے تعین کے شعبے میں تعاون کو برکس کے قومی معیاراتی اداروں کے سربراہان کے دستخط شدہ مفاہمت نامے کے ذریعے باضابطہ شکل دی گئی ہے۔ یہ فریم ورک معیارات کے تعین، منظوری اور نفاذ میں تعاون کو مضبوط بنائے گا، معلومات اور بہترین طور طریقوں کے تبادلے، تکنیکی تعاون اور صلاحیت سازی کو فروغ دے گا، معیاری بنیادی ڈھانچے کو مستحکم کرے گا، صارفین کے تحفظ کو بہتر بنائے گا اور تجارت میں تکنیکی رکاوٹوں کو کم کرے گا۔
- نوجوانوں کے تعاون کا برکس فریم ورک 2026 ایک رہنما دستاویز کے طور پر اپنایا گیا ہے، جو برکس کے نوجوانوں سے متعلق تعاون کے تحت مستقبل کے مکالمے، تجربات کے اشتراک اور عملی اقدامات پر غور کے لیے تسلسل، ہم آہنگی اور منظم تعاون کو یقینی بنانے میں رہنمائی فراہم کرے گا۔
- کھیلوں کی ٹیکنالوجی میں تعاون کو ایک نئے ورکنگ گروپ کے ذریعے ادارہ جاتی شکل دی گئی ہے۔ اس کا مقصد کھیلوں کی ٹیکنالوجی کے شعبے میں بہترین طورطریقوں، ادارہ جاتی تجربات، تکنیکی معلومات اور تحقیقی معلومات کے تبادلے کے ذریعے تعاون کو فروغ دینا ہے۔
بھارت کی 2026 کی برکس صدارت کے تحت وزارتی اجلاسوں کے نتائج عملی تعاون، جامع ترقی اور عالمی خطہ جنوب کے لیے زیادہ مضبوط آواز پر مسلسل توجہ کی عکاسی کرتے ہیں۔
2026: برکس کو ایک زیادہ جامع مستقبل کی جانب لے جانے کی سمت میں قیادت
بھارت کی 2026 کی برکس صدارت ایسے وقت میں ہے جب دنیا میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ بین الاقوامی نظام کو اقتصادی انتشار، تکنیکی تبدیلیوں اور جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی اور وسائل پر بڑھتا دباؤ ان پیچیدگیوں میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔ ان باہم مربوط چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ایسے تعاون کی ضرورت ہے جو جامع، عملی اور مختلف ممالک کے حالات کے مطابق فوری طور پر ردعمل دینے والا ہو۔
برکس مکالمے اور مربوط اقدامات کے ذریعے ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ایک اہم ذریعہ فراہم کرتا ہے۔ اس کی توسیع شدہ رکنیت بڑے ابھرتے ہوئے ممالک کے متنوع نقطہ نظر کو ایک پلیٹ فارم پر لاتی ہے۔ یہ گروپ ترقی، موسمیاتی اقدامات، ٹیکنالوجی، توانائی اور مالیاتی استحکام کے شعبوں میں تعاون کو آگے بڑھانے میں مدد دے سکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ عالمی اداروں میں اصلاحات سے متعلق بات چیت میں بھی اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔
بھارت کے لیے مقصد صرف گروپ کے حجم کو بڑھانا نہیں ہے۔ اصل مقصد زیادہ نمائندگی کو بامعنی تعاون اور ٹھوس نتائج میں تبدیل کرنا ہے۔ بھارت کی صدارت کا مقصد متنوع رکن ممالک کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ موجودہ نظام کار کی موثریت کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ بھارت برکس کو ایک زیادہ جامع عالمی نظام کے لیے تعمیری قوت کے طور پر مزید مستحکم کرنا چاہتا ہے۔
References
Cabinet
Special Service and Features
Prime Minister's Office
Ministry of Commerce & Industry
Ministry of Environment, Forest and Climate Change
Ministry of Micro, Small & Medium Enterprises
BRICS
Ministry of External Affairs
Ministry Of Agriculture and Farmers Welfare
- https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/185/AU271_UZhNkJ.pdf?source=pqals
Ministry of Health and Family Welfare
Click here to see pdf
*****
ش ح۔م ع - ف ر
U-no-3257
(ریلیز آئی ڈی: 2308766)
وزیٹر کاؤنٹر : 8