نیتی آیوگ
عالمی فن ٹیک فیسٹ 2026 میں جناب راجیو گوبا نے ہندوستان میں اگلی نسل کی اصلاحات کی نمایاں خصوصیت کے طور پر ضابطوں کو آسان بنانے پر زور دیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
10 SEP 2026 12:08PM by PIB Delhi
جناب راجیو گوبا، رکن نیتی آیوگ نے گلوبل فن ٹیک فیسٹ 2026 میں ’’ضابطہ کاری سے تبدیلی تک: ہندوستان کے لیے اگلی نسل کے اصلاحاتی ڈھانچے کی تشکیل‘‘ کے موضوع پر منعقدہ فائر سائیڈ چیٹ میں شرکت کی۔ اس گفتگو میںہندوستان کے ضابطہ کاری کے سفر، فن ٹیک کے شعبے میں جدت اور نگرانی کے درمیان توازن کی ضرورت اور وکست بھارت کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ترقی کو برقرار رکھنے کی خاطر درکار ادارہ جاتی تبدیلیوں سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
گزشتہ ایک دہائی میں کی جانے والی اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے جناب گوبا نے کہا کہ اشیا و خدمات ٹیکس، دیوالیہ پن اور دیوالیہ پن سے متعلق ضابطہ اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لبرل نظام جیسے اقدامات نے معیشت کو نئی شکل دی ہے اور ان شعبوں کو نجی کاروباری اداروں کے لیے کھول دیا ہے جنہیں کبھی ان کے لیے ممنوع سمجھا جاتا تھا۔ ان میں دفاع، خلائی شعبہ اور اب جوہری توانائی بھی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگلی نسل کے اصلاحاتی ڈھانچے کی نمایاں خصوصیت ”ضابطوں میں نرمی“ ہونی چاہیے، جس میں اصلاحات کے بنیادی اور عملی پہلوؤں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے مختلف شکلوں میں رائج لائسنس، منظوری، اجازت اور بار بار تجدید کے نظام کو ختم کرنے پر زور دیا جائے۔ انہوں نے قوانین، ضوابط اور انتظامی طریقہ کار کا منظم طور پر جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کام ایک اعلی سطحی کمیٹی کے ذریعے انجام دیا جا رہا ہے، جسے وزیر اعظم کے پیش کردہ اعتماد پر مبنی حکمرانی کے تصور سے رہنمائی مل رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بہت سی اہم اصلاحات ریاستوں اور بلدیاتی حکومتوں کے دائرہ کار میں آتی ہیں اور ضابطوں میں نرمی کے لیے قائم ٹاسک فورس کے ذریعے کیے جا رہے کام کی جانب توجہ دلائی، جو اعتماد پر مبنی حکمرانی کے اصولوں کو ریاستی اور شہری سطح تک لے جا رہی ہے۔ ریاستوں کو سرمایہ کاری کے لیے خصوصی امداد کی اسکیم اور اربن چیلنج فنڈ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے مرکزی حکومت کے طریقہ کار کو ”مسابقتی جذبے کے ساتھ تعاون پر مبنی وفاقیت“ قرار دیا، جہاں اسکیم کے تحت مراعات کو اصلاحات کے اہداف کی تکمیل سے منسلک کیا گیا ہے اور منصوبوں کا انتخاب چیلنج موڈ کے ذریعے کیا جاتا ہے۔
فن ٹیک کے شعبے پر بات کرتے ہوئے جناب گوبا نے اس شعبے میں ہندوستان کی غیر معمولی ترقی اور مالی شمولیت اور مالی خدمات تک رسائی میں اس کے اہم کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بھارت کے ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آدھار اور یو پی آئی سے لے کر ڈیجی لاکر اور اکاؤنٹ ایگریگیٹر فریم ورک تک کا نظام دنیا کے لیے ایک ایسا نمونہ ہے جسے دوسرے ممالک بھی اپنا سکتے ہیں۔ اس نظام میں حکومتیں کھلے، محفوظ اور باہم قابل تعامل بنیادی پلیٹ فارم فراہم کرتی ہیں، جن پر نجی کاروباری ادارے اپنی خدمات تیار کرتے اور جدت کو فروغ دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی پر مبنی شعبوں میں ضابطہ کاری کے ذریعے عوامی مفاد کے تحفظ اور جدت کو فروغ دینے کے درمیان متحرک توازن قائم کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضابطہ جاتی ڈھانچے اصولوں پر مبنی، ٹیکنالوجی سے غیر جانب دار اور خطرات کے تناسب سے ہونے چاہئیں، جبکہ مسابقت کو فروغ دینے، بنیادی ڈھانچے تک بلا امتیاز رسائی یقینی بنانے اور معلومات میں عدم توازن کو کم کرنے پر بھی توجہ دی جانی چاہیے۔ انہوں نے مالیاتی ضابطہ کار اداروں کے درمیان بہتر تال میل، تعمیل کے عمل کو آسان اور زیادہ قابل پیش گوئی بنانے اور رکاوٹوں اور باہمی تعامل میں موجود خلا کو کم کرنے کے لیے مسلسل کوششوں کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
جناب گوبا نے کہا کہ حکومت نے طویل مدتی ملکی اور غیر ملکی سرمایہ راغب کرنے کے لیے ایسے اقدامات کیے ہیں جن کے ذریعے منصفانہ برتاؤ، پالیسی میں پیش بینی، مضبوط ڈیٹا گورننس، سائبر سکیورٹی اور جدت کے لیے مناسب گنجائش جیسے پہلوؤں کے حوالے سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بہتر بنایا گیا ہے۔
اپنے اختتامی کلمات میں جناب گوبا نے کہا کہ اصلاحات کو طویل مدتی اور اسٹریٹجک سوچ کے ذریعے حکمرانی کے کلچر کا لازمی حصہ بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی جانب سے 2047 تک وکست بھارت کے ہدف کو ایک قومی کوشش کے طور پر آگے بڑھانے کی اپیل پر عمل کرتے ہوئے حکومت، صنعت اور شہریوں، سب کو بھارت میں اصلاحات اور ترقی کی رفتار برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔


*****
ش ح۔ م ح۔رض
U.No3251
(ریلیز آئی ڈی: 2308622)
وزیٹر کاؤنٹر : 9