شماریات اور پروگرام کے نفاذ کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

وزارت شماریات و پروگرام کے نفاذ نے اعداد و شمار پر مبنی حکمرانی میں انتظامی اعداد و شمار کے استعمال کے لیے ڈیٹا ہم آہنگی سے متعلق ورکشاپ کا انعقاد کیا

وزیر اعظم کے پرنسپل سکریٹری-2: شواہد پر مبنی پالیسی سازی اور اعداد و شمار پر مبنی حکمرانی کے لیے قابل اعتماد، بروقت اور باہمی مطابقت رکھنے والے اعداد و شمار ضروری ہیں

وزارت برقیات و اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے سکریٹری: اعلی معیار کے اعداد و شمار کی دستیابی حکمرانی کے لیے مصنوعی ذہانت کے کامیاب استعمال کی بنیادی ضرورت ہے

وزارت شماریات و پروگرام  کے نفاذ کے سکریٹری: ہم آہنگ، معیار کی ضمانت سے مزین اور مکمل طور پر دستاویزی اعداد و شمار مصنوعی ذہانت کے لیے تیار حکومت کی بنیادی ضرورت ہیں

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 08 SEP 2026 7:23PM by PIB Delhi

وزارت شماریات و پروگرام کے  نفاذ نے تمام مرکزی سرکاری وزارتوں، محکموں اور تنظیموں کے شماریاتی مشیروں اور چیف ڈیٹا افسران کے لیے 8 ستمبر 2026 کو رنگ بھون آڈیٹوریم، آکاشوانی بھون، براڈکاسٹنگ ہاؤس، پارلیمنٹ اسٹریٹ، نئی دہلی-110001 میں ’’اعداد و شمار پر مبنی حکمرانی میں انتظامی اعداد و شمار کے استعمال کے لیے ڈیٹا ہم آہنگی‘‘ کے موضوع پر ایک ورکشاپ کا انعقاد کیا۔

ورکشاپ کا مقصد قومی ڈیٹا نظام کو مضبوط بنانا، انتظامی اعداد و شمار کے موثر استعمال اور ان میں ہم آہنگی کو فروغ دینا، نیز حکومت بھر میں اعداد و شمار پر مبنی حکمرانی اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی کے لیے بہتر تال میل کو فروغ دینا تھا۔

افتتاحی اجلاس میں وزیر اعظم کے پرنسپل سکریٹری-2 جناب شکتی کانت داس، وزارت برقیات و اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے سکریٹری جناب ایس کرشنن، وزارت شماریات و پروگرام کے نفاذ کے سکریٹری ڈاکٹر سوربھ گرگ اور وزارت شماریات و پروگرام کے نفاذ کے ڈائریکٹر جنرل (ڈیٹا گورننس) جناب پی آر میشرام نے شرکت کی۔ اجلاس میں شماریاتی مشیروں، چیف ڈیٹا افسران کے علاوہ حکومت ہند کی مختلف مرکزی وزارتوں اور محکموں کے دیگر سینئر افسران اور نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

مہمان خصوصی جناب شکتی کانت داس نے ڈیٹا ہم آہنگی سے متعلق سہ ماہی پیش رفت رپورٹ (کیو پی آر) پورٹل (https://qpr.mospi.gov.in)  کا افتتاح کیا۔ کیو پی آر پورٹل تمام مرکزی وزارتوں، محکموں اور تنظیموں کے استعمال کے لیے ایک ٹیکنالوجی سے مزین پلیٹ فارم ہے، جس کے ذریعے متعلقہ ادارے ان ڈیٹاسیٹس کی شناخت اور فہرست سازی میں ہونے والی پیش رفت کی اطلاع دے سکتے ہیں جو اشاعت کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ میٹا ڈیٹا کی تیاری، مشین سے پڑھے جانے والے ڈیٹا میں قومی اور بین الاقوامی معیارات، درجہ بندیوں اور مشترکہ منفرد شناخت کنندگان کے استعمال، اور متعلقہ وزارتوں، محکموں اور تنظیموں کی جانب سے شماریاتی معیار کی یقین دہانی کے فریم ورک (ایس کیو اے ایف) کے مطابق معیار کی جانچ کے بارے میں بھی معلومات فراہم کی جا سکتی ہیں۔ کیو پی آر پورٹل میں خودکار توثیق، ڈیش بورڈز اور این ایم ڈی ایس ویب پورٹل کے ساتھ باہمی تصدیق کی سہولت موجود ہے۔ یہ پورٹل مختلف وزارتوں، محکموں اور تنظیموں کے حوالے سے تجزیاتی بصیرت بھی فراہم کرے گا۔

اپنے کلیدی خطاب میں جناب شکتی کانت داس نے اس بات پر زور دیا کہ شواہد پر مبنی پالیسی سازی اور اعداد و شمار پر مبنی حکمرانی کے لیے قابل اعتماد، بروقت اور باہمی مطابقت رکھنے والے اعداد و شمار ضروری ہیں۔ انہوں نے پالیسی سازی، نگرانی اور نتائج کے جائزے کے لیے تمام وزارتوں اور محکموں میں انتظامی اعداد و شمار اور شماریاتی مہارت کے زیادہ سے زیادہ استعمال پر زور دیا۔

وزارت شماریات و پروگرام کے  نفاذ کی اہم پہلوں، جن میں این ایم ڈی ایس 2.0، شماریاتی معیار کی یقین دہانی کا فریم ورک (ایس کیو اے ایف)، شماریاتی درجہ بندیاں، ڈیٹا لائف سائیکل سے متعلق رہنما خطوط، ای-سنکھییکی، مائیکرو ڈیٹا پورٹل اور ڈیٹا ہم آہنگی سے متعلق سہ ماہی پیش رفت رپورٹ (کیو پی آر) شامل ہیں، کو ایک مضبوط انتظامی ڈیٹا نظام کے لیے اہم معاون عوامل کے طور پر اجاگر کیا گیا۔

انہوں نے تمام وزارتوں اور محکموں پر زور دیا کہ وہ ڈیٹا گورننس کمیٹیاں قائم کریں، ڈیٹا شیئرنگ کے فریم ورک شائع کریں، ڈیٹاسیٹس کی تازہ ترین فہرست برقرار رکھیں اور پہلے سے موجود قومی ڈیٹا شیئرنگ پلیٹ فارمز، جیسے اے پی آئی سیتو، ڈیٹا ڈاٹ جی او وی ڈاٹ اِن، این ڈی اے پی، اے آئی کوش، ڈیجی لاکر، اینٹیٹی لاکر، ای-سنکھییکی اور مائیکرو ڈیٹا پورٹل سے بھرپور استفادہ کریں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وِکسِت بھارت 2047 کے وژن کے مطابق ایک جدید، مربوط، فوری ردعمل دینے والے اور مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ ڈیٹا نظام کی تعمیر کے لیے حکومت کے تمام حصوں کو یکجا کرتے ہوئے مجموعی حکومتی نقطۂ نظر اپنانے کی ضرورت ہے۔

جناب ایس کرشنن نے شواہد پر مبنی پالیسی سازی کو مضبوط بنانے اور حکمرانی کو بہتر بنانے کے لیے وزارتوں اور محکموں کے درمیان موثر ڈیٹا شیئرنگ، ہم آہنگی اور باہمی مطابقت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ اعلی معیار کے اعداد و شمار کی دستیابی حکمرانی کے لیے مصنوعی ذہانت کے کامیاب استعمال کی بنیادی ضرورت ہے۔

انہوں نے تیزی سے جاری ڈیجیٹلائزیشن اور انتظامی اعداد و شمار کی بڑھتی ہوئی دستیابی کے پیش نظر سرکاری اعداد و شمار کے زیادہ سے زیادہ اور موثر استعمال پر زور دیا۔ کوششوں کی توجہ اس بات پر مرکوز ہونی  چاہیے کہ ایسے اعداد و شمار کو فلاحی اقدامات کے بہتر نتائج، پالیسی سازی اور سرکاری خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے موثر انداز میں استعمال کیا جائے۔

حکومت کے تمام حصوں کو یکجا کرتے ہوئے مجموعی حکومتی نقطۂ نظر اپنایا جانا چاہیے۔ وزارتوں اور محکموں میں کام کرنے والے شماریاتی افسران، انڈیا اے آئی مشن کے ماہرین، نیشنل انفارمیٹکس سینٹر کے اہلکاروں اور دیگر ڈیٹا ماہرین سمیت موجودہ وسائل سے بھرپور استفادہ کیا جانا چاہیے۔

وزارت شماریات و پروگرام نفاذ کے سکریٹری ڈاکٹر سوربھ گرگ نے اجلاس کے پس منظر کو واضح کرتے ہوئے اس ضرورت پر زور دیا کہ وِکسِت بھارت 2047 کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے محکموں کے الگ الگ ڈیٹا نظام سے آگے بڑھ کر ایک مربوط، باہمی مطابقت رکھنے والے اور پوری حکومت پر محیط ڈیٹا نظام کی جانب پیش رفت کی جائے۔ انہوں نے ڈیٹا کے موثر استعمال کے لیے تصورات، تعریفوں، درجہ بندیوں، شناخت کنندگان، جغرافیائی تفصیلات، میٹا ڈیٹا اور ڈیٹا کے ڈھانچوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے شماریاتی قیادت اور معیار کی یقین دہانی میں شماریاتی مشیروں، جبکہ ڈیٹا گورننس اور باہمی مطابقت میں چیف ڈیٹا افسران کے تکمیلی کردار کو اجاگر کیا، جس میں قومی ڈیٹا گورننس کمیٹی اور ڈیٹا ہم آہنگی سے متعلق سہ ماہی پیش رفت رپورٹ اہم معاونت فراہم کرتی ہیں۔ انہوں نے ’’ڈیٹا کی درخواست سے پہلے ڈیٹا کی تلاش‘‘ کے نقطۂ نظر پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم آہنگ، معیاری اور مکمل طور پر دستاویزی ڈیٹا مصنوعی ذہانت کے لیے تیار حکومت کی بنیادی ضرورت ہے۔ انہوں نے مسلسل ڈیٹا ہم آہنگی، فعال انداز میں ڈیٹا شیئرنگ اور ڈیٹا کو قومی اثاثہ سمجھتے ہوئے اجتماعی ذمہ داری اپنانے کی اپیل کی۔

وزارت شماریات و پروگرام نفاذ کے ڈائریکٹر جنرل (ڈیٹا گورننس) جناب پی آر میشرام نے استقبالیہ خطاب کیا اور اعداد و شمار پر مبنی حکمرانی کو مضبوط بنانے اور حکومت کی مختلف وزارتوں اور محکموں میں انتظامی اعداد و شمار کے موثر استعمال کو ممکن بنانے کے لیے ڈیٹا ہم آہنگی اور باہمی مطابقت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے روایتی ڈیٹا شیئرنگ سے آگے بڑھ کر مشترکہ تعریفوں، میٹا ڈیٹا، درجہ بندیوں، شناخت کنندگان اور باہمی مطابقت رکھنے والے نظام کی ضرورت پر زور دیا۔

شماریاتی معیار، ڈیٹا گورننس اور ذمہ دارانہ ڈیٹا مینجمنٹ کو یقینی بنانے میں شماریاتی مشیروں اور چیف ڈیٹا افسران کے تکمیلی کردار کو بھی اجاگر کیا گیا۔ انہوں نے ڈیٹا کو مصنوعی ذہانت کے لیے موزوں اور مشین سے پڑھے جانے کے قابل بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ مستقبل کی سمت ساختی باہمی مطابقت سے معنوی باہمی مطابقت کی جانب، الگ الگ ڈیٹاسیٹس سے باہمی مطابقت رکھنے والے اور مربوط ڈیٹا نظام کی جانب، اور محض ڈیٹا کی دستیابی سے ڈیٹا کو استعمال کے لیے تیار بنانے کی جانب پیش رفت کرنا ہے۔

تکنیکی اجلاسوں میں این ایم ڈی ایس اور کیو پی آر پورٹلز کے ذریعے ڈیٹا ہم آہنگی، ماڈل ڈیٹا شیئرنگ فریم ورک اور ڈیجیٹل ڈیٹا شیئرنگ کے طریقہ کار، ڈیٹا کے الگ الگ نظاموں کو ختم کرنے کے لیے ادارہ جاتی طریقۂ کار، مصنوعی ذہانت کے لیے تیار ڈیٹا نظام، ڈیٹا دھارا طریقۂ کار، ہندوستان کا ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر، یو پی وائی او جی، صحت سے متعلق ڈیٹا اور معیشت میں کسی وزارت، محکمے یا تنظیم کے کردار کی پیمائش کے لیے موضوعاتی اور توسیعی کھاتوں کی تیاری جیسے موضوعات پر  پرزنٹیشنز پیش کی گئیں۔

پیشکشوں میں اس بات کو اجاگر کیا گیا کہ ہندوستان کس طرح مختلف وزارتوں کی جانب سے فراہم کیے جانے والے انتظامی اعداد و شمار میں ہم آہنگی، ان کی شراکت اور استعمال کو مضبوط بنا سکتا ہے، تاکہ تمام وزارتوں کے لیے مصنوعی ذہانت کے لیے تیار اور اعداد و شمار پر مبنی حکمرانی کو فروغ دیا جا سکے۔ وزارت شماریات و پروگرام نفاذ نے این ایم ڈی ایس 2.0، شماریاتی معیار کی یقین دہانی کے فریم ورک(ایس کیو اے ایف)، مشترکہ شناخت کنندگان اور کیو پی آر پورٹل سمیت اہم اقدامات پیش کیے، جبکہ وزارت برقیات و اطلاعاتی ٹیکنالوجی نے ماڈل ڈیٹا شیئرنگ فریم ورک اور محفوظ ڈیٹا شیئرنگ کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پیش کیے۔ وزارت کارپوریٹ امور نے اے پی آئی پر مبنی باہمی مطابقت کا مظاہرہ کیا، جس میں مستفیدین کی توثیق سے متعلق استعمال کی مثالیں بھی شامل تھیں۔ نیشنل اربن ڈیجیٹل مشن اور حکومت قومی راجدھانی خطہ دہلی کے ڈیٹا دھارا اقدامات نے حقیقی وقت میں شہری حکمرانی اور خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے ہم آہنگ ڈیٹا کی صلاحیت کو اجاگر کیا۔ دیگر اجلاسوں میں سرحد پار تجارت کے باہمی مطابقت رکھنے والے ڈیٹا، اے آئی کوش، صحت سے متعلق ڈیٹا میں ہم آہنگی اور وزارت شماریات و پروگرام نفاذ کی قومی اکاؤنٹس کے نظام (اے این اے)2025 کے فریم ورک کی جانب منتقلی جیسے موضوعات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ایک اہم پیغام یہ تھا کہ قدر پیدا کرنے کے لیے ڈیٹا کو مرکزی سطح پر جمع کرنا ضروری نہیں ہے؛ مشترکہ معیارات، مشترکہ منفرد شناخت کنندگان، اے پی آئی اور گورننس کے طریقہ کار کا استعمال مختلف مقامات پر موجود ڈیٹا نظاموں کے درمیان باہمی مطابقت کو ممکن بنا سکتا ہے۔ مباحثوں میں اس بات پر زور دیا گیا کہ رازداری، سلامتی اور ذمہ دارانہ ڈیٹا شیئرنگ کو یقینی بناتے ہوئے متعلقہ محکموں کی ڈیٹا پر ملکیت برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔

ورکشاپ نے شواہد پر مبنی حکمرانی کے لیے ایک جدید، ہم آہنگ، باہمی مطابقت رکھنے والے اور اعداد و شمار پر مبنی قومی ڈیٹا نظام کی تعمیر کے سلسلے میں وزارت شماریات و پروگرام نفاذ اور شریک وزارتوں و محکموں کے عزم کی تجدید کی۔

 

****

 

 

ش ح۔ا خ۔ خ م

U N-3214

                          


(ریلیز آئی ڈی: 2308396) وزیٹر کاؤنٹر : 8