PIB Backgrounder
azadi ka amrit mahotsav

ساتواں عالمی فن ٹیک فیسٹ- 2026


اثرانداز ہونے کی صلاحیت

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 08 SEP 2026 6:01PM by PIB Delhi

فن ٹیک انقلاب کواستحکام

ہندوستان وسیع پیمانے پر توسیع، اختراع اور ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے کے ذریعے عالمی فن ٹیک منظرنامے کو نئی شکل دے رہا ہے۔ آدھار کارڈ کا آغاز، انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی کی توسیع اور یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس میں ہونے والی پیش رفت نے مالی خدمات کے شعبے میں انقلابی تبدیلیاں لائی ہیں۔ ان اختراعات نے ڈیجیٹل شناخت، فوری ادائیگیوں اور رضامندی پر مبنی ڈیٹا کے تبادلے کو وسیع عوامی حلقے تک پہنچایا ہے۔ہندوستان کا تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی کس طرح مالی خدمات کو زیادہ قابل رسائی، مؤثر اور جامع بنا سکتی ہے۔

اس تبدیلی نےہندوستان کو فن ٹیک اختراع اور ڈیجیٹل مالیاتی نظام کے عالمی مرکز کے طور پر نمایاں مقام دلایا ہے۔ گلوبل فن ٹیک فیسٹ(جی ایف ایف) 2026 اس شعبے میں ہندوستان کے بڑھتے ہوئے عالمی اثر و رسوخ کی عکاسی کرتا ہے۔ گلوبل فن ٹیک فیسٹ کا ساتواں ایڈیشن 8 سے 11 ستمبر 2026 تک ممبئی میں منعقد ہو رہا ہے۔ یہ فیسٹ مالیاتی ٹیکنالوجی کے شعبے میں عالمی سطح پر تبادلۂ خیال، تعاون اور اختراع کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔

سال2020 میں آغاز کے بعد سے گلوبل فن ٹیک فیسٹ دنیا کی نمایاں فن ٹیک تقریبات میں شامل ہو چکا ہے۔ اس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت  ہندوستان کے ڈیجیٹل مالیاتی نظام اور فن ٹیک صلاحیتوں میں عالمی دلچسپی میں اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ فیسٹ  ہندوستان کے تجربات کو دنیا کے سامنے پیش کرنے اور عالمی سطح کے اختراع کاروں کے ساتھ تبادلہ خیال کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ ترقی یافتہ معیشتوں، ابھرتی ہوئی منڈیوں اور عالمی جنوب کے ممالک کے ساتھ تعاون اور روابط کو مزید مضبوط بناتا ہے۔

جی ایف ایف 2026 کی کامیابی میں مدد فراہم کرنے والے اہم ادارے

انڈین پیمنٹس کونسل (پی سی آئی)، نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا (این پی سی آئی) اور فن ٹیک کنورجنس کونسل (ایف سی سی) جی ایف ایف کے اہم منتظمین ہیں۔ اس کے علاوہ، جی ایف ایف 2026 کو درج ذیل اداروں کا تعاون حاصل ہے:

  • الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت (ایم ای آئی ٹی وائی)
  • محکمہ مالی خدمات، وزارت خزانہ
  • نیو، ایمرجنگ اینڈ اسٹریٹجک ٹیکنالوجی (این ای ایس ٹی) ڈویژن، وزارت خارجہ
  • نیتی آیوگ
  • ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی)
  • سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (ایس ای بی آئی)
  • انٹرنیشنل فنانشل سروسز سینٹرز اتھارٹی (آئی ایف ایس سی اے)
  • پنشن فنڈ ریگولیٹری اینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (پی ایف آر ڈی اے)

جی ایف ایف 2026 — مالیاتی اختراع کے نئے دور کو فروغ دینے کی جانب ایک قدم

گلوبل فن ٹیک فیسٹ 2026 کا ساتواں ایڈیشن محض ایک کانفرنس نہیں، بلکہ دنیا کا سب سے بڑا فن ٹیک فیسٹ ہے، جو مصنوعی ذہانت سے تقویت یافتہ مستقبل کی تشکیل کے لیے دنیا کے ذہین ترین اور باصلاحیت ذہنوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرتا ہے۔ گلوبل فن ٹیک فیسٹ کے ہر ایڈیشن کا سفر اختراع، شمولیتی ترقی اور خوشحالی کے مشترکہ وژن سے تحریک پاتا رہا ہے۔

گلوبل فن ٹیک فیسٹ — موضوع اور ایجنڈا

جی ایف ایف 2026 کا موضوع ہے: ’’اثرانداز ہونے کی صلاحیت: ایجنٹک مصنوعی ذہانت | ٹوکنائزیشن | کوانٹم: سب کو شامل کرنے والی مالیات کے لیے قابلِ اعتماد، باہمی مربوط اور عالمی نظام‘‘۔یہ موضوع تین بنیادی ٹیکنالوجیز پر مبنی ہے، جو عالمی مالیاتی نظام کے منظرنامے کو خودکار، قابلِ پروگرام اور محفوظ نظاموں کی جانب منتقل کر رہی ہیں۔

  • ایجنٹک مصنوعی ذہانت: یہ مالیاتی نظاموں کو بہترین حکمرانی کے دائرۂ کار میں رہتے ہوئے حقیقی وقت میں حالات کو سمجھنے، فیصلے کرنے اور اقدامات کرنے کے قابل بناتی ہے۔ یہ ابتدا سے اختتام تک کے کام کے طریقۂ کار کو مربوط کرتی ہے، ضابطہ جاتی نگرانی کو مضبوط بناتی ہے، مالی فراڈ کی روک تھام کو مؤثر بناتی ہے اور بڑے پیمانے پر مالی خدمات کو ذمہ دارانہ انداز میں صارفین کی ضروریات کے مطابق ڈھالنے میں مدد دیتی ہے، جبکہ قابلِ فہم ذہانت کے ذریعے انسانی فیصلہ سازی کو مزید مؤثر بناتی ہے۔
  • ٹوکنائزیشن: یہ اثاثوں کو قابلِ پروگرام ڈیجیٹل اکائیوں میں تبدیل کرتی ہے، جس سے جزوی ملکیت، فوری تصفیہ اور باہم طور پرمربوط رقم کا استعمال ممکن ہوتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی مالی وسائل کی دستیابی میں اضافہ اور مالی خدمات تک رسائی کو عام بنا کر عالمی مالیاتی نظام میں سرمایہ جاتی منڈیوں، ادائیگیوں اور عوامی شمولیت کے طریقۂ کار کو نئی شکل دے رہی ہے۔
  • کوانٹم: کوانٹم ٹیکنالوجیز حساب اور سیکورٹی کے شعبے میں بنیادی نوعیت کی تبدیلی کا آغاز کر رہی ہیں۔ کوانٹم ٹیکنالوجی کے مطابق محفوظ خفیہ کاری سے لے کر خطرات کو بہتر انداز میں منظم کرنے کی جدید صلاحیتوں تک، یہ ٹیکنالوجیز مالیاتی نظام کی مجموعی مضبوطی میں اضافہ کرتی ہیں اور مستقبل کے مالیاتی بنیادی ڈھانچے میں طویل مدتی اعتماد کو یقینی بناتی ہیں۔

جی ایف ایف 2026 کا ایجنڈا دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں

 

فن ٹیک کو سمجھیں

فن ٹیک سے مراد عموماً ایسا شعبہ ہے جو مالیاتی نظاموں اور مالی خدمات کی فراہمی کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ اس سے مراد ’’ٹیکنالوجی کے ذریعے ممکن بنائی جانے والی مالیاتی اختراع‘‘ ہے، جو نئے کاروباری ماڈلز، ایپلی کیشنز، طریقۂ کار یا مصنوعات کو جنم دے سکتی ہے اور مالیاتی منڈیوں، اداروں اور مالی خدمات کی فراہمی پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔

فن ٹیک میں استعمال ہونے والی اہم معاون ٹیکنالوجیز

  • اے پی آئی (ایپلی کیشن پروگرامنگ انٹرفیس): اے پی آئی قواعد اور ضوابط کا ایک مجموعہ ہے، جس کے ذریعے سافٹ ویئر پروگرام ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ اور معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں۔ اس کی مدد سے موجودہ پروگراموں اور نظاموں کی بنیاد پر نئی ایپلی کیشنز تیار کی جا سکتی ہیں۔
  • کلاؤڈ کمپیوٹنگ: کمپیوٹنگ کی صلاحیت کے دائرۂ کار اور لچک میں اضافہ کرنے کے لیے آن لائن نیٹ ورک، یعنی ’کلاؤڈ‘ پر موجود میزبان پروسیسرز کے استعمال کو کلاؤڈ کمپیوٹنگ کہا جاتا ہے۔ اس سے اخراجات میں بھی کمی آتی ہے۔
  • بایومیٹرکس: انسان کی ایسی منفرد اور قابلِ پیمائش خصوصیات کا مطالعہ، جنہیں افراد کی درجہ بندی اور شناخت کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
  • ڈی ایل ٹی (ڈسٹریبوٹیڈ لیجر ٹکنالوجی): اثاثوں کے لین دین کا ریکارڈ رکھنے والا ایک ڈیجیٹل نظام، جس میں لین دین کی تفصیلات بیک وقت متعدد مقامات پر درج کی جاتی ہیں۔
  • بگ ڈیٹا: بڑی مقدار میں موجود منظم یا غیر منظم اعداد و شمار، جنہیں ڈیجیٹل ذرائع اور اطلاعاتی نظاموں کے ذریعے جمع، تجزیہ اور استعمال کیا جا سکتا ہے۔
  • اے آئی (مصنوعی ذہانت) اور ایم ایل (مشینی تعلیم): ایسے اطلاعاتی ٹیکنالوجی نظام جو ایسے کام انجام دے سکتے ہیں جن کے لیے بصورت دیگر انسانی صلاحیتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ مشینی تعلیم میں کمپیوٹر انسانی مداخلت کے بغیر اعداد و شمار سے سیکھتے ہیں۔

فن ٹیک کی اہمیت اور فوائد

فن ٹیک میں مالیاتی منظرنامے کو بنیادی طور پر نئی شکل دینے کی صلاحیت موجود ہے۔ یہ صارفین کو زیادہ مسابقتی قیمتوں پر مالی مصنوعات کے وسیع تر انتخاب کی سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ مالیاتی اداروں کو زیادہ مؤثر انداز میں کام کرنے میں مدد دیتی ہے۔ فن ٹیک مختلف معیشتوں میں کارکردگی، شمولیت اور مالیاتی استحکام میں  نمایاں اورقابلِ پیمائش بہتری لا رہی ہے۔

  • مالیاتی شعبے کو زیادہ مؤثر بنانے میں فن ٹیک نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ مثال کے طور پر، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی جانب سے دنیا کے سب سے بڑے حقیقی وقت کے ادائیگی نظام کے طور پر تسلیم شدہ یونیفائڈ پیمنٹ انٹرفیس (یو پی آئی) نے صرف جولائی 2026 میں 2,365.8 کروڑ لین دین کیے، جس کی مجموعی مالیت 29.88 لاکھ کروڑ روپے رہی۔ اس پلیٹ فارم پر 741 بینک فعال ہیں، جبکہ مالی سال17-2016 کے بعد سے لین دین کی تعداد میں تقریباً 12,000 گنا اضافہ ہوا ہے۔
  • معلومات کی غیر مساوی دستیابی اور لین دین کی اونچی لاگت جیسے مارکیٹ کے مسائل پر قابو پا کر فن ٹیک مالیاتی شمولیت کو فروغ دینے میں مدد کرتی ہے۔ ہندوستان کا مالیاتی شمولیت اشاریہ مارچ 2017 میں 43.4 سے بڑھ کر مارچ 2026 میں 70.0 ہو گیا۔
  • فن ٹیک کی ترقی سے روایتی بینکاری ذرائع سے آگے بڑھ کر قرض کی فراہمی کے ذرائع میں تنوع پیدا ہو رہا ہے۔ قرض کی فراہمی میں زیادہ تنوع سے محدود تعداد میں بینکوں پر انحصار سے پیدا ہونے والے نظامی خطرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ اس سے مالیاتی نظام کی مضبوطی، مسابقت اور استحکام میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

ہندوستان کی فن ٹیک کامیابی کی بنیاد

ہندوستان کی فن ٹیک کامیابی گزشتہ ایک دہائی کے دوران ’ڈیجیٹل انڈیا‘ اور ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے (ڈی پی آئی)میں کی جانے والی سرمایہ کاری کانتیجہ ہے۔ اس بنیاد میں سب کے لیے رسائی، ڈیجیٹل شناخت، باہم مربوط ادائیگیوں اور کھلے ڈیجیٹل نیٹ ورکس کو یکجا کیا گیا ہے۔ ان صلاحیتوں نے ایسا نظام تشکیل دیا ہے ،جہاں مالیاتی اختراعات کو تیزی سے اور سب کی شمولیت کے ساتھ بڑے پیمانے پر وسعت دی جا سکتی ہے۔مزید  معلومات کے لیے یہاں کلک کریں: ہندوستان کا ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچہ

  • جے اے ایم تثلیث: جن دھن، آدھار اور موبائل پر مشتمل جے اے ایم تثلیث ڈیجیٹل مالیاتی شمولیت کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ جن دھن کھاتے رسمی بینکاری خدمات تک رسائی فراہم کرتے ہیں، جبکہ آدھار محفوظ ڈیجیٹل شناخت کو ممکن بناتا ہے۔ انٹرنیٹ تک بڑھتی ہوئی رسائی شہریوں کو ڈیجیٹل مالی خدمات سے جوڑ رہی ہے۔ 26 اگست 2026 تک 59.15 کروڑ جن دھن کھاتے کھولے جا چکے تھے، جبکہ مارچ 2026 تک آدھار کے اندراج کی تعداد 144 کروڑ سے تجاوز کر چکی تھی۔ اس کے نتیجے میں ملک بھر میں فن ٹیک خدمات کے لیے ایک وسیع اور آسانی سے قابلِ رسائی بنیاد قائم ہوئی ہے۔
  • یونیفائڈ پیمنٹ انٹرفیس (یو پی آئی): یونیفائڈ انٹرفیس ہندوستان میں ڈیجیٹل لین دین کے لیے درکار باہم مربوط ادائیگیوں کا بنیادی ڈھانچہ فراہم کرتا ہے۔ اگست 2026  میں یو پی آئی کے ذریعے 24,509 ملین لین دین کیے گئے۔ یہ پلیٹ فارم دنیا بھر میں بروقت ہونے والے ڈیجیٹل لین دین کے حجم کا تقریباً 50 فیصد سنبھالتا ہے اور 11 ممالک میں فعال ہے۔ یہ کھلا بنیادی ڈھانچہ فن ٹیک کمپنیوں کو بڑے پیمانے پر جدید ادائیگی حل تیار کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
  • ڈیجیٹل شناخت اور دستاویزات: محفوظ اور مؤثر مالی خدمات کے لیے قابلِ اعتماد ڈیجیٹل شناخت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ آدھار ای-کے وائی سی کاغذی کارروائی اور صارفین کو خدمات سے جوڑنے میں لگنے والے وقت کو کم کرتے ہوئے ڈیجیٹل طور پر صارفین کی تصدیق کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ 29 جون 2026 تک اس کے ذریعے 2,458 کروڑ سے زیادہ لین دین کیے جا چکے تھے۔ ڈیجی لاکر کے 73.53 کروڑ سے زیادہ رجسٹرڈ صارفین ہیں اور اس کے ذریعے 936.03 کروڑ دستاویزات جاری کی جا چکی ہیں۔ یہ ڈیجیٹل نظام اعتماد کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ مالی خدمات کے شعبے میں صارفین کے اندراج اور تصدیق کے عمل کو بھی آسان بناتے ہیں۔
  • ڈیجیٹل فلاحی خدمات کی فراہمی: براہ راست فائدہ  کی منتقلی (ڈی بی ٹی) ڈیجیٹل مالیاتی بنیادی ڈھانچے کا استعمال کرتے ہوئے مستحقین کے بینک کھاتوں میں براہِ راست فوائد منتقل کرتی ہے۔ اس سے درمیانی ذرائع کم ہوتے ہیں، شفافیت میں اضافہ ہوتا ہے اور سرکاری فوائد کی تیزتر فراہمی میں مدد ملتی ہے۔ ستمبر 2026 تک براہِ راست فائدہ منتقلی کے ذریعے مجموعی طور پر 53.26 لاکھ کروڑ روپے منتقل کیے جا چکے تھے۔ بڑے پیمانے پر ہونے والی یہ ڈیجیٹل منتقلیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ ہندوستان کا مالیاتی بنیادی ڈھانچہ خدمات کو مؤثر انداز میں فراہم کرنے کی کتنی صلاحیت رکھتا ہے۔
  • کھلی ڈیجیٹل تجارت: ڈیجیٹل تجارت کے لیے کھلا نیٹ ورک (او این ڈی سی) ادائیگیوں سے آگے ہندوستان کے باہم مربوط ڈیجیٹل نظام کے تصور کو وسعت دیتا ہے۔ جون 2026 تک او این ڈی سی ایک ہزار سے زائد شہروں میں 20 کروڑ سے زیادہ خریداروں اور 5 لاکھ فروخت کنندگان تک پہنچ چکا تھا۔ اس کی مالی خدمات کے زمرےڈیجیٹل مالیاتی مصنوعات کے لیے مزید مواقع پیدا کر رہے ہیں۔ یہ کھلا نظام فن ٹیک کمپنیوں کو نئے صارفین اور منڈیوں تک زیادہ مؤثر انداز میں رسائی حاصل کرنے میں مدد فراہم کرسکتا ہے۔

مضبوط اور قابل اعتماد ضابطہ جاتی نظام

جیسے جیسے ہندوستان کے فن ٹیک شعبے نے وسعت اختیار کی ہے، حکومت اور انڈین ریزرو بینک نے ڈیجیٹل مالیات میں عوام کے اعتماد کی بنیاد فراہم کرنے والے ضابطہ جاتی اور صارفین کے تحفظ کے نظام کو مسلسل مضبوط کیا ہے۔

  • خود ضابطہ کاری اور معیارات: فن ٹیک شعبے میں خود ضابطہ کار تنظیموں کے لیے انڈین ریزرو بینک کا فریم ورک (ایس آر او۔ایف ٹی، مئی 2024) صنعت میں اخلاقی طرز عمل، منڈی کے سالمیت اور تنازعات کے حل کو فروغ دیتا ہے۔
  • محفوظ ادائیگی: انڈین ریزرو بینک کی ڈیجیٹل ادائیگیوں کے حفاظتی ضوابط سے متعلق ماسٹر ہدایات (2021) مختلف ادائیگی ذرائع، بشمول انٹرنیٹ اور موبائل بینکاری کے لیے مشترکہ کم از کم حفاظتی معیارات کو لازمی قرار دیتی ہیں تاکہ ویب اور موبائل ایپلی کیشنز سے لاحق خطرات کا مقابلہ کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا نے یو پی آئی کے لین دین میں مصنوعی ذہانت اور مشینی تعلیم پر مبنی فراڈ کی نگرانی کا نظام بھی نافذ کیا ہے۔
  • ڈیٹا کا تحفظ: الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت نے افراد کے ذاتی ڈیٹا کے تحفظ کے لیے 2023 میں ڈیجیٹل انفرادی ڈیٹا تحفظ ایکٹ اور 2025 میں ڈیجیٹل ذاتی ڈیٹا تحفظ ضوابط نافذ کیے۔
  • محفوظ طریقے سے اختراعات کاتجربہ:انڈین ریزرو بینک نے اگست 2019 میں ضابطہ جاتی آزمائشی نظام متعارف کرایا، جس کے تحت جدید مالیاتی مصنوعات اور خدمات کو ایک ایسے محدود اور نگرانی والے ضابطہ جاتی ماحول میں آزمانے کی اجازت دی جاتی ہے جہاں ضابطہ جاتی شرائط میں نرمی ہو بھی سکتی ہے اور نہیں بھی۔
  • ڈیجیٹل قرض دینے کے شعبے میں صارفین کا تحفظ: مضبوط ضابطہ جاتی نظام، ڈیجیٹل قرض دینے والی ایپلی کیشنز کی ڈائریکٹری اور سائبر جرائم کی اطلاع دینے کے طریقۂ کار شہریوں کو فرضی قرض دینے والی ایپلی کیشنز سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ ان میں نیشنل سائبر کرائم رپورٹنگ پورٹل اور ہیلپ لائن 1930 شامل ہیں۔ عوام کے لیے دستیاب ’سچیٹ‘ پورٹل بالخصوص غیر قانونی طور پر جمع رقم وصول کرنے سے متعلق شکایات درج کرانے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
  • لہذا ضابطہ جاتی طریقۂ کار صرف اس وقت اختراع پر ردعمل دینے تک محدود نہیں ہے، جب وہ منڈی میں پہنچ جائے، بلکہ یہ ایسے ادارہ جاتی طریقۂ کار بھی تشکیل دیتا ہے جن کے ذریعے ذمہ دارانہ اختراعات کا تجربہ، جانچا اور معاونت فراہم کی جا سکتی ہے۔

آگے کا راستہ

ہندوستان کا فن ٹیک نظام بڑے پیمانے، باہم مربوط ہونے کی صلاحیت، اختراع اور ادارہ جاتی اعتماد کی بنیاد پر قائم ہے۔ اس کا ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچہ قابل رسائی، سستی اور سب کو شامل کرنے والی مالی خدمات کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔ اگلے مرحلے میں ڈیجیٹل خودمختاری، ٹیکنالوجی میں خود کفالت اور ذمہ دارانہ اختراع کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ کھلے ڈیجیٹل پلیٹ فارم شہریوں، اسٹارٹ اَپس اور کاروباری اداروں کے لیے ٹیکنالوجی تک رسائی کو مزید عام بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز زیادہ بہتر، محفوظ اور مؤثر مالی خدمات کی فراہمی کو ممکن بنا سکتی ہیں۔ مصنوعی ذہانت، ٹوکنائزیشن، بلاک چین اور کوانٹم ٹیکنالوجیز مالیاتی نظام کے مختلف شعبوں میں نئے مواقع پیدا کر سکتی ہیں۔ ڈیجیٹل مالیات کے دائرۂ کار میں توسیع کے ساتھ مضبوط سائبر سکیورٹی، ڈیٹا کا تحفظ اور صارفین کے تحفظ کے مؤثر اقدامات بدستور ناگزیر رہیں گے۔ فن ٹیک میں اختراع کا محور عوام پر مرکوز حکمرانی، شمولیت اور عوامی مفاد ہی رہنا چاہیے۔

ہندوستان ابھرتی ہوئی معیشتوں اور عالمی جنوب کے ممالک کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے اپنی ڈیجیٹل مہارت اور تجربات کو مزید وسیع پیمانے پر اشتراک کر سکتا ہے۔ اس سے جامع ڈیجیٹل مالیاتی نظام کی تشکیل میں ایک قابل اعتماد شراکت دار کے طور پر ہندوستان کے کردار کو مزید مستحکم کیا جا سکتا ہے۔ آگے بڑھنے کا راستہ ایک خودمختار، محفوظ اور سب کی شمولیت والے ڈیجیٹل مالیاتی نظام کی تشکیل ہے۔ یہ طریقہ ہندوستان کو عوام پر مرکوز ڈیجیٹل مالیات کے مستقبل کی تشکیل میں عالمی قائد کے طور پر اپنا مقام مستحکم کرنے میں مدد فراہم کرسکتا ہے۔

حوالہ جات

Global FinTech Fest

PIB

Ministry of Finance

National Payments Corporation of India

Reserve Bank of India

Others

7th Global Fintech Fest 2026

**********

ش ح۔ م ع ن۔ ش ہ ب

U. No-3215

 


(ریلیز آئی ڈی: 2308391) وزیٹر کاؤنٹر : 2
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Bengali