مواصلات اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت
بھارت نے 6 جی قیادت اور سلامتی کے لیے کال ٹو ایکشن کی توثیق کی ؛ محکمہ ٹیلی مواصلات کامحکمہ اس پہل کو آگے لے جائے گا
چیپل ہل، نارتھ کیرولائنا میں منعقد جی20 وزرائے اختراعات کے اجلاس کے موقع پریہ اعلان کیا گیا
بھارت باہمی طور پر قابل عمل محفوظ اور مضبوط اگلی نسل کے نیٹ ورک کے لیے20 سےزائد ہم خیال حکومتوں کے ساتھ مشترکہ عزم میں شامل ہوا
وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں بھارت کا ہدف 6جی کے عالمی معیارات اور پیٹنٹس میں10 فیصدتعاؤن دینا ہے
مواصلات اور شمال مشرقی خطے کی ترقی کے مرکزی وزیر جناب جیوترآدتیہ ایم سندھیا کے بھارت کو 6جی کے شعبے میں عالمی قائد بنانے کے عزم کو مذکورہ اقدام کے ذریعے آگے بڑھایا جائے گا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
09 SEP 2026 4:08PM by PIB Delhi
بھارت نے 6جی کی قیادت اور سلامتی کے لیے‘عملی اقدامات’ کی حمایت کی ہے اور ان ہم خیال حکومتوں کے گروپ میں شامل ہو گیا ہے جنہوں نے کھلے پن، باہمی مطابقت، سلامتی، مضبوطی، وسائل کے مؤثر استعمال اور اختراع پر مبنی مسابقت کے اصولوں کے تحت وائرلیس مواصلات کی چھٹی نسل کی تشکیل کےتئیں عزم ظاہر کیا ہے۔
مذکورہ اقدام مواصلات اور شمال مشرقی خطے کی ترقی کے مرکزی وزیر جناب جیوترآدتیہ ایم سندھیا کے وژن کو آگے بڑھائے گا، جنہوں نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ بھارت 6جی کے شعبے میں دنیا کی قیادت کرنے کے تئیں پُرعزم ہے۔ یہ اقدام مواصلات کے وزیر مملکت ڈاکٹر چندر شیکھر پیماسانی کی جانب سے بھارت کو ٹیکنالوجی اپنانے والے ملک سے ٹیکنالوجی کے معیارات طے کرنے والے ملک میں تبدیل کرنے پر دی جانے والی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
اعلان کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے، مواصلات کے مرکزی وزیر جناب جیوترآدتیہ ایم سندھیانے اس پیش رفت پر اپنے خیالات کا اظہار کرنے کے لیے سوشل میڈیا کا سہارا لیا۔
ٹیلی مواصلات کا محکمہ مذکورہ ‘عملی اقدامات’ کے تحت بھارت کی شمولیت کو آگے بڑھائے گا اور متعلقہ سرکاری اداروں، صنعت، تعلیمی و تحقیقی اداروں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ مل کر آئندہ کی سرگرمیوں میں تال میل قائم کرے گا۔ بھارت ان دیگر حکومتوں میں شامل ہو گیا ہے جنہوں نے ‘عملی اقدامات’ کی توثیق کی ہے، جن میں کینیڈا، کوسٹا ریکا، چیک جمہوریہ، ڈنمارک، ایسٹونیا، فرانس، جرمنی، یونان، ہونڈوراس، اٹلی، جاپان، لاتویہ، ناروے، پیراگوئے، جمہوریہ کوریا، رومانیہ، سویڈن، برطانیہ اور امریکہ شامل ہیں۔
اس توثیق کا اعلان یکم اور 2 ستمبر 2026 کو امریکہ کی صدارت میں نارتھ کیرولائنا، امریکہ میں منعقد جی20 وزرائے اختراعات کے اجلاس کے موقع پر کیا گیا۔ اس اعلان کے موقع پربھارتی حکومت میں تجارت و صنعت اور الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے مرکزی وزیر مملکت جناب جتن پرساد اور امریکہ کے تجارت وزیرجناب ہاورڈ لوٹنک نے ہاتھ ملایا۔
عملی اقدامات کے تحت شریک حکومتوں نے اس بات کی توثیق کی ہے کہ محفوظ ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ تکنیکی مسابقت، معاشی خوشحالی اور قومی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے، جبکہ جدید مواصلاتی نیٹ ورک اس بنیادی ڈھانچے تک رسائی کا ذریعہ بھی ہیں اور اس کا بنیادی حصہ بھی ہے۔ مذکورہ اقدام میں اس امر کو تسلیم کیا گیا ہے کہ اگلی نسل کے نیٹ ورک بڑی معاشی و سماجی سرگرمیوں اور اہم خدمات کی فراہمی کی بنیاد ہوں گے؛ عالمی سطح پر باہم مربوط مواصلاتی نظام سائبر، معاشی اور قومی سلامتی کے لیے خطرات پیدا کر سکتے ہیں،لہٰذا نیٹ ورک کی سلامتی اور مضبوطی کے لیے مؤثر بنیادی معیارات قائم کرنا مشترکہ ذمہ داری ہے؛ اور 6جی کے مستقبل کی تشکیل کے لیے صنعت، تعلیمی و تحقیقی اداروں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے تعاون سے مربوط اور مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے۔
عملی اقدامات میں شریک حکومتوں کے لیے مرحلے وار اقدامات کا ایک لائحہ عمل پیش کیا گیا ہے۔ ایک ماہ کے اندر ہر حکومت کو 6جی کے ماہر رابطہ افسران کی نشاندہی اور تقرری کرنی ہوگی، رابطہ گروپ کے ساتھ مواصلات کے انتظام کی ذمہ دار ایجنسی کا تعین کرنا ہوگا اور صنعت و تعلیمی و تحقیقی شعبے سے متعلقہ فریقوں کی ایک ابتدائی فہرست تیار کرنی ہوگی۔تین ماہ کے اندر حکومتوں کو ٹیلی مواصلات کے شعبے کے ساتھ مل کر محفوظ اور باہمی مطابقت رکھنے والے 6جی کے ابھرتے ہوئے منظرنامے کا جائزہ لینا ہوگا، عالمی قیادت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کی نشاندہی کرنی ہوگی، اپنے نتائج کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس منعقد کرنا ہوگا اور 6جی کے شعبے میں مسابقتی صلاحیت کو فروغ دینے کے لیے درکار ممکنہ معاشی، سیاسی اور مالی وسائل کی نشاندہی کا عمل شروع کرنا ہوگا۔چھ ماہ کے اندر انہیں ماہرین کی سطح پر طویل مدت کے لیے محفوظ، مضبوط، پائیدار اور اختراعی6جی سپلائی چین کو معاونت فراہم کرنے کے لیے حکمت عملی تیار کرنی ہوگی اور اس بات پر غور کرنا ہوگا کہ 6جی میں قیادت اور سلامتی کو قومی اور علاقائی حکمت عملیوں میں کس طرح شامل کیا جا سکتا ہے۔بارہ ماہ کے اندر شریک ممالک کو 2027 میں بالمشافہ اجلاس منعقد کرنا ہوگا، جس میں پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا، حاصل شدہ تجربات اور بہترین طریقہ کار کا تبادلہ کیا جائے گا اور متعلقہ صنعتی فریقوں کے ساتھ مل کر آئندہ سال کے لیے بھی ترجیحات طے کی جائیں گی۔
تعاون کے لیے مزید جن شعبوں کی نشاندہی کی گئی ہے، ان میں6جی سے متعلق تحقیق و ترقی کے حوالے سے باہمی رابطہ اور معلومات کا تبادلہ؛ عالمی منڈیوں میں محفوظ اور مضبوط 5جی اور 6جی ٹیکنالوجیز کے نفاذ میں معاونت کی خاطر تجارتی اور ترقیاتی مالیاتی اداروں کے درمیان تعاون؛ ٹیلی مواصلات کے شعبے میں سرمایہ کاری سے وابستہ تکنیکی اوراہمیت کے حامل سائبر سلامتی کے خطرات کا جائزہ؛ سپلائی چین میں ہونے والی پیش رفت اور اس کی کمزوریوں کے بارے میں زیادہ شفافیت؛ صنعتی، تجارتی، سلامتی اور دفاعی مقاصد کے لیے5جی نظام کی مکمل صلاحیت سے استفادہ؛ اور معیارات وضع کرنے والی تنظیموں میں صنعت کے ساتھ مل کر مضبوط سلامتی کے معیارات سمیت عالمی 6جی معیارات کی تشکیل میں رول ادا کرنا شامل ہیں۔
عملی اقدامات میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اس میں شرکت کسی بھی حکومت کو صنعت کی قیادت میں کام کرنے والے معیارات وضع کرنے والے اداروں کے حوالے سے اپنی آزادانہ پوزیشن یا خودمختاری اختیار کرنے کے حق سے نہ تو پابند کرتی ہے اور نہ ہی اسے محدود کرتی ہے۔ اس میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ہر شریک ملک کے آئندہ اقدامات اس کی اپنی قومی ترجیحات، وسائل اور صلاحیتوں کے عین مطابق، مختلف ہوں گے۔ اس کے علاوہاس میں صنعت کی قیادت میں معیارات وضع کرنے والے فورمز میں پہلے سے جاری تکنیکی کام کو دوبارہ انجام دینے سے گریز کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
بھارت ان دیگر حکومتوں میں شامل ہو گیا ہے جنہوں نے عملی اقدامات کی توثیق کی ہے، جن میں کینیڈا، کوسٹا ریکا، چیک جمہوریہ، ڈنمارک، ایسٹونیا، فرانس، جرمنی، یونان، ہونڈوراس، اٹلی، جاپان،لاتویہ، ناروے، پیراگوئے، جمہوریہ کوریا، رومانیہ، سویڈن، برطانیہ اور امریکہ شامل ہیں۔
محکمہ ٹیلی مواصلات کامحکمہ عملی اقدامات کے تحت بھارت کی شمولیت کو آگے بڑھائے گا اور متعلقہ سرکاری اداروں، صنعت، تعلیمی و تحقیقی شعبے اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ آئندہ کی سرگرمیوں میں تال میل بھی قائم کرے گا۔
بھارت کی شمولیت ایک مضبوط ملکی بنیاد پر استوار ہے، جس میں بھارت 6جی وژن، بھارت 6 جی الائنس اور ملک میں تیار کردہ 4 جی اور 5 جی ٹیکنالوجی اسٹیک شامل ہیں۔ خود کفیل بھارت کے وژن اور وِکست بھارت 2047 کے ہدف سے ہم آہنگ، عملی اقدامات کے تحت بھارت کی شمولیت بین الاقوامی معیارات وضع کرنے اور اسپیکٹرم سے متعلق فورمز میں جاری بھارت کی کوششوں کو تقویت فراہم کرے گی، جبکہ ان فورمز میں بھارت کے آزادانہ موقف پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
.
******
ش ح۔ش م۔اش ق
U. No. 3211
(ریلیز آئی ڈی: 2308351)
وزیٹر کاؤنٹر : 8