ریلوے کی وزارت
کابینہ نے 17 اضلاع کا احاطہ کرتے ہوئےتمل ناڈو، آندھرا پردیش، کرناٹک اور تلنگانہ پر مشتمل پانچ ملٹی ٹریکنگ پروجیکٹوں کی منظوری دی،جس سے بھارتی ریلوے کے موجودہ نیٹ ورک میں تقریباً540 کلومیٹر کا اضافہ ہوگا
ان پروجیکٹوں کی مجموعی تخمینہ لاگت 10,021 کروڑ روپے ہے اور انہیں مالی سال 30-2029 تک مکمل کرنے کا منصوبہ ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
09 SEP 2026 3:34PM by PIB Delhi
وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی زیر صدارت اقتصادی امور سے متعلق کابینہ کمیٹی نے آج ریلوے کی وزارتِ کے پانچ پروجیکٹوں کو منظوری دے دی ہے، جن کی مجموعی تخمینہ لاگت تقریباً10,021 کروڑ روپے ہے۔ ان پروجیکٹوں میں درج ذیل شامل ہیں:
اے - ارک کونم – رینِ گنٹا تیسری اور چوتھی ریلوے لائن – 77 کلومیٹر
بی - وائٹ فیلڈ – بنگارپیٹ تیسری اور چوتھی ریلوے لائن – 47 کلومیٹر
سی - ہوسور–اوملور ڈبلنگ–147 کلومیٹر
ڈی - سیلم – کرور – ڈنڈیگل ریلوے لائن کی ڈبلنگ– 159 کلومیٹر
ای - سکندرآباد (گھاٹ کیسر)– قاضی پیٹ کی ملٹی ٹریکنگ– 110 کلومیٹر
ریلوے لائن کی گنجائش میں اضافے سے آمدورفت میں نمایاں بہتری آئے گی، جس کے نتیجے میں بھارتی ریلوے کی عملی کارکردگی اور خدمات میں اضافہ ہوگا اور اسے زیادہ قابلِ اعتمادبنایا جا سکے گا۔ یہ کثیر پٹری پروجیکٹ ریلوے کے آپریشنز کو مزید منظم کرنے اور بھیڑ بھاڑکوکم کرنے میں اہم رول ادا کریں گے۔مذکورہ پروجیکٹس وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے نئے بھارت کے وژن سے ہم آہنگ ہیں۔ ان پروجیکٹوں کے ذریعے خطے میں جامع ترقی کو فروغ حاصل ہو گا، جس سے عوام کے لیے روزگار اور خودکے روزگار کے مواقع میں بھی اضافہ ہوگانیز وہ‘خود کفیل’ بننے کی جانب آگے بڑھ سکیں گے۔
مذکورہ پروجیکٹوں کی منصوبہ بندی پی ایم گتی شکتی قومی ماسٹر پلان کے تحت کی گئی ہے، جس میں مربوط منصوبہ بندی اور متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے ذریعے کثیر ذرائع نقل و حمل کے رابطے اور رسد کی کارکردگی کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ یہ پروجیکٹ لوگوں، اشیاء اور خدمات کی نقل و حرکت کے لیے بلارکاوٹ رابطہ فراہم کریں گے۔
تمل ناڈو، آندھرا پردیش، کرناٹک اور تلنگانہ کی17 اضلاع پر مشتمل یہ پانچ منصوبے بھارتی ریلوے کے موجودہ نیٹ ورک میں تقریباً 540 کلومیٹر کا اضافہ کریں گے۔ منظور شدہ کثیر پٹری پروجیکٹوں سے تقریباً 2,121 گاؤں کو بہتر ریل رابطہ فراہم ہوگا، جن کی آبادی تقریباً 52 لاکھ ہے۔
منظور شدہ گنجائش میں اضافے سے ملک بھر کے کئی اہم سیاحتی مقامات کے لیے ریلوے رابطے میں بہتری آئے گی، جن میں تروپتی، سبرامنیا سوامی مندر (تروتانی)، سری پدم وتی امّاواری مندر (تروچانور)، کوٹیلنگیشورا دیوالیہ، سری سیتی بیراویشورا سوامی مندر، بنگارو تروپتی، کولار گولڈ فیلڈز، ہوگیناکّل آبشار، ہوسور قلعہ، میٹور ڈیم، کوڈائی کنال کی پہاڑیاں، ستیامنگلم وائلڈ لائف سینکچری، نامکّل انجنیئر مندر، نامکّل قلعہ، کلیان پاسوپتیشور مندر، یادگیری گٹہ مندر، بھونگیر قلعہ، سریندرپوری، سورناگیری مندر وغیرہ شامل ہیں۔
مذکورہ پروجیکٹس کوئلہ، سیمنٹ، لوہا اور اسٹیل، کنٹینرز، گاڑیوں، غذائی اجناس، پٹرولیم مصنوعات، کھاد اور دیگر اشیاءکی نقل و حمل کے لیے اہم راستے ہیں۔ ریلوے لائنوں کی گنجائش میں اضافے کے ان کاموں سے سالانہ 47 ملین ٹن اضافی مال برداری ممکن ہو سکے گی۔ریلوے کے لیےسازگار اور توانائی کے لحاظ سے مؤثر ذریعۂ نقل و حمل ہے، اس لیے یہ پروجیکٹس ملک کے آب و ہوا سے متعلق اہداف حاصل کرنے اور رسد و ترسیل کی لاگت کم کرنے میں مدد کریں گے۔ اس کے علاوہ تقریباً8 کروڑ لیٹر تیل کی درآمد میں بھی کمی آئے گی اور تقریباً 42 کروڑ کلوگرام کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی ہوگی، جو تقریباً 2 کروڑ درخت لگانے کے برابر ہے۔
******
ش ح۔ش م۔اش ق
U. No. 3208
(ریلیز آئی ڈی: 2308302)
وزیٹر کاؤنٹر : 8