نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ
azadi ka amrit mahotsav

نائب صدر جمہوریہ سی پی رادھا کرشنن نے اروناچل پردیش قانون ساز اسمبلی کے خصوصی اجلاس سے خطاب کیا


قانون سازی میں ’راشٹر پرتھم‘ اور ’وکست بھارت @ 2047‘ کو رہنما اصول بنایا جائے: نائب صدر

’بحث، تبادلۂ خیال یا حتیٰ کہ تعطل بھی کسی فیصلے تک پہنچنا چاہیے‘: نائب صدر

اروناچل پردیش کی ترقی بھارت کی مجموعی ترقی اور سلامتی کے لیے نہایت اہم ہے: نائب صدر

اروناچل پردیش کی آبی بجلی کی صلاحیت کا ذمہ دارانہ استعمال ریاست کی آمدنی اور ترقی کو فروغ دے سکتا ہے: نائب صدر

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 09 SEP 2026 1:46PM by PIB Delhi

نائب صدر جمہوریہ جناب سی پی رادھا کرشنن نے آج ایٹانگر میں اروناچل پردیش قانون ساز اسمبلی کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اراکینِ اسمبلی پر زور دیا کہ وہ جمہوریت کی اعلیٰ ترین روایات کو برقرار رکھتے ہوئے ریاست اور ملک کی ترقی کے لیے کام کریں۔

اسمبلی کے احاطے میں آمد پر نائب صدر جمہوریہ جناب سی پی رادھا کرشنن نے مہاتما گاندھی اور باباصاحب ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے مجسموں پر پھول چڑھا کر خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر انہیں رسمی گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔ بعد ازاں نائب صدر نے اروناچل پردیش قانون ساز اسمبلی کے میوزیم کا دورہ کیا، جہاں ریاستی قانون ساز اسمبلی کے قیام سے لے کر اب تک اس کے ارتقا، ترقی اور قانون سازی کے سفر کو مختلف پہلوؤں کے ذریعے اجاگر کیا گیا ہے۔ میوزیم میں ریاستی قانون ساز ادارے کی تاریخ اور اس کی اہم پیش رفت کو بھی نمایاں کیا گیا ہے۔

اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے جناب سی پی رادھا کرشنن نے کہا کہ اروناچل پردیش کو بے پناہ اسٹریٹجک اہمیت حاصل ہے، یہ ریاست مالا مال ثقافتی ورثے اور وافر قدرتی وسائل کی حامل ہے اور ملک کی سرحدوں کی حفاظت میں اہم کردار ادا کرتی ہے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کے باقی حصوں کی سلامتی کا انحصار اروناچل پردیش کے عوام کی جانب سے ملکی سرحدوں کے تحفظ پر بھی ہے۔

نائب صدر نے تنوع میں بھارت کی وحدت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ملک ایک آئین، ’راشٹر پرتھم‘کے ایک وژن اور ’وکست بھارت @ 2047‘ کے ایک ہدف سے متحد ہے۔ قومی شاعر سبرامنیا بھارتی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بھارت کی مختلف زبانوں اور روایات کے پس پشت کارفرما فکری اتحاد کو اجاگر کیا۔

بھارت کی شاندار جمہوری وراثت کا ذکر کرتے ہوئے جناب سی پی رادھا کرشنن نے بھارت کو ’جمہوریت کی ماں‘ قرار دیا اور قانون سازوں پر زور دیا کہ وہ اس ورثے کے شایانِ شان اپنے فرائض انجام دیں۔

نائب صدر نے شمال مشرقی خطے کی ترقی پر بڑھتی ہوئی توجہ کو اجاگر کیا۔ انہوں نے سابق وزیر اعظم جناب اٹل بہاری واجپئی کے دورِ حکومت میں شمال مشرقی خطے کی ترقی سے متعلق وزارت (ڈونر) کے قیام اور وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی ’ایکٹ ایسٹ پالیسی‘ کے تحت اس خطے پر خصوصی توجہ کا ذکر کیا۔ انہوں نے اروناچل پردیش کی ترقی کی کامیابیوں پر ریاستی حکومت اور عوام کو مبارک باد دی، جن میں ملک میں کیوی پھل کے سب سے بڑے پیداوار کنندہ کے طور پر ریاست کا ابھرنا، سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے میں توسیع، ایک لاکھ سے زائد مٹی کی صحت کے کارڈ جاری کرنا، اور تعلیم و فی کس آمدنی کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت شامل ہے۔

ریاستی قانون ساز اسمبلی کی گولڈن جوبلی مکمل ہونے پر مبارک باد دیتے ہوئے جناب سی پی رادھا کرشنن نے قانون ساز سیکریٹریٹ کو پلاسٹک سے پاک بنانے اور اسمبلی لائبریری و میوزیم کے قیام جیسے اقدامات کو سراہا۔

نائب صدر نے قانون سازوں پر زور دیا کہ وہ انتخابی کامیابی کے مقابلے میں عوامی خدمت کو ترجیح دیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات ووٹوں کے ذریعے جیتے جا سکتے ہیں، لیکن عوام کا احترام اور اعتماد صرف مخلصانہ اور مسلسل خدمت کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اراکینِ اسمبلی پر زور دیا کہ وہ عوامی پالیسی اور اپنے حلقوں سے متعلق مسائل اٹھانے کے لیے سوالیہ وقت اور زیرو آور کا مؤثر استعمال کریں۔

راجیہ سبھا کے پریزائیڈنگ آفیسر کی حیثیت سے جناب سی پی رادھا کرشنن نے قانون سازی کے عمل میں مکالمے، بحث اور تبادلۂ خیال کی اہمیت پر زور دیا۔ اپنے اس پیغام کو دہراتے ہوئے کہ ’’بحث، تبادلۂ خیال یا حتیٰ کہ تعطل بھی ہمیشہ کسی فیصلے تک پہنچنا چاہیے‘‘، انہوں نے کہا کہ صحت مند بحث جمہوریت کو مضبوط کرتی ہے، جبکہ تعمیری تعاون ریاست اور ملک کی ترقی کو آگے بڑھاتا ہے۔

نائب صدر نے کہا کہ وکست بھارت، وکست اروناچل پردیش کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ترقی ہمہ گیر اور جامع ہونی چاہیے اور کسی بھی قبائلی یا محروم طبقے کو پیچھے نہیں چھوڑا جانا چاہیے۔ انہوں نے معاشی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ماحولیاتی تحفظ کے تقاضوں اور قدرتی وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال کے درمیان توازن قائم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ اروناچل پردیش میں آبی بجلی کے وسیع امکانات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کا مناسب استعمال ریاست کے لیے زیادہ آمدنی پیدا کرنے اور اس کی ترقی کو تیز کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

اس موقع پر اروناچل پردیش کے گورنر لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) کیولیہ تری وکرم پرنائک، اروناچل پردیش قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر جناب تیسام پونگٹے، وزیر اعلیٰ جناب پیما کھانڈو، نائب وزیر اعلیٰ جناب چاؤنا مین، قانون ساز اسمبلی کے اراکین، ریاستی حکومت اور قانون ساز سیکریٹریٹ کے اعلیٰ افسران موجود تھے۔

*****

ش ح۔ ش ب  ۔ ص ج

U. No-3196


(ریلیز آئی ڈی: 2308278) وزیٹر کاؤنٹر : 7