PIB Backgrounder
azadi ka amrit mahotsav

زمین کی حرارتی توانائی


ماحولیات کے لیے سازگار توانائی کے بھارت کے سفر میں ایک نیا باب

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 04 SEP 2026 2:43PM by PIB Delhi

زمین کے اندرونی حصے کی شدید حرارت ماحولیات کے لیے سازگار توانائی کا ایک طاقتور ذریعہ ہے جسے زمین کی حرارتی توانائی کہا جاتا ہے۔ بھارت کے وسیع جیو تھرمل وسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے، توانائی کی یہ شکل چوبیس گھنٹے دستیاب بجلی کے ذریعہ کے طور پر بے پناہ امکانات رکھتی ہے۔ جیو تھرمل توانائی کی قومی پالیسی کا مقصد اس صلاحیت کو بروئے کار لانا ہے۔ اس کا مقصد جیو تھرمل توانائی کو ملک کی قابل تجدید توانائی کے سفر کا ایک اہم حصہ بنانا ہے کیونکہ بھارت 2070 تک خالص صفر اخراج کی سمت میں گامزن ہے۔ لداخ میں پہلے دو جیو تھرمل کنوؤں کا حالیہ آغاز اس سفر کا نقطۂ آغاز ہے۔

پائیدار بھارت کے لیے جیو تھرمل توانائی کا استعمال

زمین کی سطح کے بہت نیچے، اس کے اندرونی حصے کی شدید حرارت سے نکلنے والی توانائی، جسے زمین کی حرارتی توانائی کہا جاتا ہے، کم کاربن توانائی کا ایک مستقل ذریعہ ہے۔ مناسب ارضیات اور ٹیکٹونکس والے مقامات پر، اس توانائی کو بجلی پیدا کرنے یا براہ راست زمین پر استعمال کرنے کے لیے بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ شمسی اور ہوائی توانائی کے برعکس، یہ ذریعہ قابل تجدید توانائی فراہم کرتا ہے جو 24 گھنٹے دستیاب رہتی ہے۔ اس صلاحیت کو تسلیم کرتے ہوئے، حکومت نے ستمبر 2025 میں جیو تھرمل توانائی کی قومی پالیسی کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔ یہ پالیسی بھارت کے جیو تھرمل وسائل کی تلاش و تحقیق اور ان کی ترقی کے لیے ایک واضح روڈ میپ ترتیب دیتی ہے۔ نئی و قابلِ تجدید توانائی کی وزارت (ایم این آر ای) اس کے نفاذ کے لیے نوڈل وزارت ہے۔

0.jpg

اس فریم ورک پر آگے بڑھتے ہوئے، بھارت نے جولائی 2026 میں ایک تاریخی سنگِ میل حاصل کیا۔ او این جی سی انرجی سینٹر نے لداخ کی پوگا وادی میں ملک کے پہلے دو جیو تھرمل کنوؤں کا آغاز کیا۔ سطح سمندر سے 14 ہزار فٹ سے زیادہ کی بلندی پر واقع، پوگا وادی بھارت کی سب سے بہترین جیو تھرمل سائٹس میں سے ایک ہے، جو اپنے گرم چشموں اور زیرِ زمین حرارتی ذخائر کے لیے جانی جاتی ہے۔ یہ دو 1,000 میٹر گہرے کنویں ذخائر کے تخمینے میں مدد کریں گے۔ یہ بھارت کے پہلے 1-میگاواٹ کے مظاہراتی جیو تھرمل پاور پروجیکٹ کی راہ بھی ہموار کرتے ہیں، جو جیو تھرمل بجلی کی پیداوار میں ملک کے داخلے کی نشاندہی کرتا ہے۔

جیسے جیسے بھارت اپنی ماحولیات کے لیے سازگار توانائی کی منتقلی کو آگے بڑھا رہا ہے، جیو تھرمل بجلی ملک کے قابلِ تجدید توانائی کے ذخیرے میں تنوع لانے کے لیے ایک قابلِ اعتماد اور مقامی طریقہ فراہم کرتی ہے۔

1.jpg

جیو تھرمل توانائی: ایک جائزہ

جیو تھرمل انرجی توانائی کا ایک مستقل، کم کاربن پیدا کرنے والا اور ہر موسم میں دستیاب ذریعہ ہے۔ یہ بھارت کے ماحولیات کے لیے سازگار توانائی کے مستقبل کو مضبوط بنانے اور فوسل فیول پر انحصار کم کرنے کے لیے ایک وسیع غیر مستعمل وسائل کا ذخیرہ رکھتی ہے۔

2.jpg

جیو تھرمل توانائی کی تخلیق

زمین کے اندرونی حصے پر چار اہم تہیں ہوتی ہیں: سب سے بیرونی، سخت پپڑی؛ درمیانی، نیم سخت مینٹل؛ اور کور، جو کہ ایک کثیف مائع بیرونی کور اور سخت اندرونی کور میں تقسیم ہے۔ گہرائی کے ساتھ اندرونی حصے کا درجۂ حرارت بڑھتا ہے - کور کے ساتھ حد پر مینٹل کا درجہ حرارت تقریباً 3700 ڈگری سیلسیس تک پہنچ جاتا ہے، جبکہ کور کا درجہ حرارت 5000 سے 6000 ڈگری سیلسیس تک جاتا ہے۔ یہ حرارت یورینیم، تھوریم اور پوٹاشیم جیسے عناصر کا تابکاری عمل سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونےکے ساتھ ساتھ کرۂ ارض کی تخلیق کے وقت باقی رہ جانے والی حرارت سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ حرارت مینٹل میں بڑی حرارتی لہروں کو جنم دیتی ہے، کیونکہ گرم مواد کور کی حد سے مینٹل اور کرسٹ کے ٹھنڈے، بالائی حصوں کی طرف اوپر کی جانب حرکت کرتا ہے۔ اس مواد میں ہائیڈرو آکسائیڈ کی شکل میں پھنسا ہوا پانی بھی شامل ہوتا ہے۔ یہ کنویکشن کرنٹ تمام ٹیکٹونک سرگرمیوں کو جنم دیتے ہیں، جن میں زلزلے، آتش فشاں اور پہاڑوں کی تشکیل شامل ہے۔ ارضیاتی طور پر متحرک علاقوں میں، دراڑیں اور شگاف گرم مواد کو سطح کے قریب آنے دیتے ہیں۔ یہ عمل قابلِ نفوذ چٹانوں میں پھنسے ہوئے گرم پانی اور بھاپ کے ذخائر پیدا کرتا ہے۔ زمین کے اندر سے حاصل کی جانے والی اس حرارتی توانائی کو جیو تھرمل توانائی کہا جاتا ہے۔

جیو تھرمل توانائی سے بجلی کی پیداوار تک

جیو تھرمل بجلی کی پیداوار سطحِ زمین کے نیچے پھنسے ہوئے گرم پانی اور بھاپ کو حاصل کر کے زمین کی قدرتی حرارت کو بجلی میں تبدیل کرتی ہے۔ گہرے کنویں ان وسائل کو سطح پر لاتے ہیں۔ اس کے بعد بھاپ جنریٹر سے جڑے ہوئے ٹربائن کو چلاتی ہے۔ یہ عمل روایتی تھرمل بجلی کی پیداوار سے ملتا جلتا ہے۔ تاہم، یہ ایندھن کے احتراق کو قدرتی طور پر پائے جانے والی زیرِ زمین حرارت سے بدل دیتا ہے۔ بجلی کی پیداوار کے بعد، استعمال شدہ پانی کوٹھنڈا کر کے دوبارہ زیرِ زمین ذخیرے میں انجیکٹ کر دیا جاتا ہے۔ یہ عمل وسائل کی بحالی میں مدد فراہم کرتا ہے اور مسلسل توانائی کی پیداوار کو ممکن بناتا ہے۔ جیو تھرمل انرجی ڈسٹرکٹ ہیٹنگ، زراعت، ایکوا کلچر اور عمارتوں کو گرم و ٹھنڈا رکھنے میں براہِ راست حرارتی استعمال کو بھی فروغ دیتی ہے، جس سے جیو تھرمل حرارت کے موثر استعمال کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

3.jpg

اندرون زمین

مرکز سے باہر کی طرف، زمین چار نمایاں تہوں میں منظم ہے۔ اندرونی کور لوہے اور نکل کا ایک سخت گولا ہے، جو تقریباً 2,400 کلومیٹر چوڑا ہے۔ اس کا احاطہ کرنے والا بیرونی کور پگھلے ہوئے لوہے اور نکل کی ایک مائع تہ ہے، جو اندازاً 2,400 کلومیٹر موٹی ہے۔ مینٹل، جو زیادہ تر گرم، کثیف چٹانوں پر مشتمل ہے، تقریباً 2,900 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے اور سب سے بڑی تہ بناتا ہے۔ آخر میں، کرسٹ ایک پتلی، سخت بیرونی تہ ہے، جس کی موٹائی سمندروں کے نیچے تقریباً 5 سے 8 کلومیٹر اور بر اعظموں کے نیچے 24 سے 56 کلومیٹر تک ہوتی ہے۔

بھارت کے جیو تھرمل وسائل

بھارت کی متنوع ارضیات جیو تھرمل ترقی کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔ جیولوجیکل سروے آف انڈیا(جی ایس آئی) نے ملک بھر میں 381 گرم چشموں کی نشاندہی کی ہے اور 10 جیو تھرمل صوبوں کا تعین کیا ہے۔ بھارت کا نظریاتی جیو تھرمل امکان تقریباً 10.6 گیگا واٹ ہے۔ ان میں سے 42 سائٹس کو بجلی کی پیداوار اور براہِ راست حرارتی استعمال کے لیے امید افزا تسلیم کیا گیا ہے۔

 

دس جیو تھرمل صوبوں میں ہمالیائی جیو تھرمل پروونس، ناگا-لوشائی، انڈمان و نکوبار جزائر، سون نربدا تاپتی(سوناٹا)، مغربی ساحل، کیمبے گریبن، اراولی، مہاندی، گوداوری اور ساؤتھ انڈین کریٹونک کے علاقے شامل ہیں۔

4.jpg

بھارت کے جیو تھرمل رفٹ بیسن، موافق ارضیات اور ٹیکٹونکس کی وجہ سے، زبردست امکانات رکھتے ہیں۔ لیکن مناسب منصوبے وہاں کے لیے بھی لائے جا سکتے ہیں جہاں جیو تھرمل وسائل موجود ہوں۔ جدید ٹیکنالوجیز جیسے کہ اینہانسڈ جیو تھرمل سسٹمز (ای جی ایس) اور ایڈوانسڈ جیو تھرمل سسٹمز (اے جی ایس) تلاش و تحقیق کے مواقع کو مزید وسعت دیں گی۔

متروک شدہ تیل اور گیس کے کنوؤں کا دوبارہ استعمال

متروک تیل اور گیس کے کنوؤں سے جیو تھرمل انرجی حاصل کی جا سکتی ہے۔ غیر فعال یا غیر پیداواری کنوؤں کو، فنی اور عملی امکانات کے مطابق، جیو تھرمل اقدامات کے لیے دوبارہ استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔ یہ طریقہ کار تیل اور گیس کے شعبے کی پہلے سے موجود ڈرلنگ مہارت، کنوؤں کے اعداد و شمار اور بنیادی ڈھانچے پر مبنی ہے۔

بھارت کی جیو تھرمل توسیع

بھارت وسائل کے تخمینے سے میدانی مظاہرے کی طرف قابلِ ذکر رفتار کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ اس رفتار کو جولائی اور اگست 2025 کے درمیان نئی و قابلِ تجدید توانائی  کی وزارت کے اس اقدام سے تقویت ملتی ہے جس کے تحت تحقیق و ترقی کے پانچ منصوبوں کی منظوری دی گئی، جن میں وسائل کا تخمینہ، مقامی ٹیکنالوجی کی ترقی اور فیلڈ مظاہرہ شامل ہیں۔ یہ منصوبے بجلی کی پیداوار، حرارتی اور کولنگ کے استعمال پر محیط ہیں۔ یہ کوششیں وہ تکنیکی اعداد و شماراور میدانی تجربہ فراہم کر رہی ہیں جو مستقبل میں تجارتی سطح پر نفاذ کے لیے ضروری ہیں۔

 

پروجیکٹ

حکومت کے تعاون سے چلنے والے منصوبوں کی موجودہ صورتحال

12 دسمبر 2026 تک

انکلیشور، گجرات

یہ غیر پیداواری تیل اور گیس کے کنوؤں کو دوبارہ تیار کرکے بجلی کی پیداوار کا جائزہ لینے کا ایک پائلٹ پروجیکٹ ہے۔ فیلڈ تحقیقات اور بیس لائن ارضیاتی اور پیداواری ڈیٹا مکمل کر لیا گیا ہے۔

گاندھی نگر، گجرات

شمسی اور جیوتھرمل توانائی کو یکجا کرنے والے ایک مظاہرے کے منصوبے کے تحت تین جیوتھرمل کنویں کھودے گئے ہیں جنھوں نے 70 سے 80 ڈگری سینٹی گریڈ پر جیوتھرمل سیال پیدا کرتے ہیں اور 50 سے 90 کلو واٹ بجلی پیدا کرکے دکھائی ہے۔

توانگ، اروناچل پردیش

فیلڈ تحقیقات اور جیو کیمیکل تجزیہ کے ذریعے خطے کے جیوتھرمل وسائل کا اندازہ لگانے کے لیے پانچ جیوتھرمل سائٹس پر مطالعات جاری ہیں۔

حیدرآباد، تلنگانہ

ایک تحقیقی پروجیکٹ ماڈلنگ اور کارکردگی کے تجزیہ کا استعمال کرتے ہوئے ایئر کنڈیشنگ ایپلی کیشنز کے لیے جیوتھرمل کولنگ سسٹم تیار کر رہا ہے۔

شیلو جیوتھرمل انرجی

پائلٹ مطالعہ ہیٹنگ اور کولنگ ایپلی کیشنز کے لیے بورہول ہیٹ ایکسچینجرز کا استعمال کرتے ہوئے شیلو جیوتھرمل سسٹمز کا جائزہ لینے کے لیے تجزیاتی ماڈل تیار کر رہا ہے۔

 

 

اہم جیو تھرمل وسائل، جدید تر ٹیکنالوجیز اور ابتدائی میدانی سرگرمیاں بھارت میں جیو تھرمل انرجی کے مستقبل کی بنیاد رکھ رہی ہیں۔ اگرچہ تجارتی سطح پر بجلی کی پیداوار ابھی قائم ہونا باقی ہے، لیکن پھیلتے ہوئے کنوؤں کے میدان، نمائشی سرگرمیاں اور تحقیق و ترقی کے اقدامات وسیع تر نفاذ کے لیے ایکو سسٹم کو مضبوط بنا رہے ہیں۔

بھارت کی جیو تھرمل صلاحیت کا استعمال: پالیسی اور شراکت داری

جیو تھرمل توانائی دنیا بھر میں ایک ثابت شدہ اور قائم شدہ قابلِ تجدید ٹیکنالوجی ہے۔ 2025 کے اختتام تک عالمی سطح پر نصب شدہ صلاحیت 15.67 گیگا واٹ تک پہنچ گئی۔ انڈونیشیا، امریکہ، فلپائن، ترکیہ اور نیوزی لینڈ اس شعبے میں پیش پیش ہیں، جو مل کر عالمی صلاحیت کا تقریباً 67فیصد حصہ رکھتے ہیں۔ بھارت اب جیو تھرمل توانائی کو وسائل کے تخمینے سے حقیقی دنیا کے نفاذ تک آگے بڑھانے کے لیے ایک مضبوط ایکو سسٹم قائم کر رہا ہے۔ قومی پروگرام اور بین الاقوامی شراکت داریاں اس مشن کو آگے بڑھا رہی ہیں، جو اس شعبے میں تحقیق، ٹیکنالوجی کی ترقی اور علم کے تبادلے کو تقویت دے رہی ہیں۔

جیو تھرمل توانائی سے متعلق قومی پالیسی، 2025

جیو تھرمل توانائی کی  قومی پالیسی کا مقصد جیو تھرمل توانائی کو قابلِ تجدید توانائی کے ایک اہم ستون کے طور پر قائم کرنا ہے۔ یہ بھارت کے جیو تھرمل وسائل کی باقاعدہ تلاش و تحقیق اور نفاذ کو فروغ دیتی ہے۔ یہ پالیسی تحقیق، ڈرلنگ، ذخائر کے انتظام اور براہِ راست استعمال کی ایپلی کیشنز کو ترجیح دیتی ہے۔ یہ حرارت اور کولنگ کے لیے گراؤنڈ سورس ہیٹ پمپس (جی ایس ایچ پی) کو بھی سپورٹ کرتی ہے۔ ایک واضح انضباطی فریم ورک عوامی اور نجی دونوں شعبوں کی شمولیت کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ یہ پالیسی متروک تیل اور گیس کے کنوؤں کو جیو تھرمل استعمال کے لیے دوبارہ ناکارہ سے کارآمد بنانے میں سہولت فراہم کرتی ہے۔ یہ قومی جیو تھرمل ڈیٹا کے ذخیرے، پائلٹ پروجیکٹس اور مہارت کے مراکز کی مزید معاونت کرتی ہے۔

5.jpg

قابلِ تجدید توانائی تحقیق اور ٹیکنالوجی کی ترقی کا پروگرام (آر ای- آر ٹی ڈی)

ایم این آر ای تحقیقاتی اداروں اور صنعتی شراکت داروں کے ذریعے آر ای-آر ٹی ڈی اسکیم پر عمل درآمد کر رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد جیو تھرمل توانائی سمیت قابلِ تجدید توانائی کے لیے ملک بھر میں مقامی اور کفایتی ٹیکنالوجیز تیار کرنا ہے۔

بین الاقوامی تعاون

بھارت نے متعدد بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کے ذریعے اپنی جیو تھرمل توانائی کی کوششوں کو آگے بڑھایا ہے۔ آسٹریلیا اور آئس لینڈ کے ساتھ تعاون کے میکانزم کے تحت، جیو تھرمل توانائی کو تعاون کے ایک اہم شعبے کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ اسی طرح، مملکتِ سعودی عرب کے ساتھ طے پانے والے سمجھوتے  کے تحت جیو تھرمل توانائی کو باہمی تعلقات کے اہم شعبے کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔

یہ اقدامات تمام شعبوں میں بھارت کے جیو تھرمل وسائل کو قابلِ توسیع حل میں تبدیل کرنے کے لیے ایک ہم آہنگ پلیٹ فارم فراہم کر رہے ہیں۔

بھارت کے قابلِ تجدید توانائی کے ذخیرےکی نئی جہت

بھارت کا جیو تھرمل توانائی کا سفر توانائی کی یقینی فراہمی اور پائیدار ترقی کے لیے حکومت کےپختہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ جیو تھرمل توانائی سے متعلق قومی پالیسی کے نوٹیفکیشن سے لے کر پوگا وادی، لداخ میں ملک کے پہلے دو جیو تھرمل کنوؤں کے آغاز تک، بھارت منصوبہ بندی سے عمل درآمد کی طرف فیصلہ کن انداز میں آگے بڑھا ہے۔ ملک کے پاس تقریباً 10,600 میگاواٹ کا نظریاتی جیو تھرمل وسیلہ کا امکان موجود ہے۔ بڑھتے ہوئے پائلٹ پروجیکٹس اور مضبوط ہوتے بین الاقوامی تعاون اس کی ایپلی کیشنز کو بجلی کی پیداوار سے لے کر حرارت، جیو ٹورزم اور زراعت تک وسعت دے رہے ہیں۔ اس طرح جیو تھرمل توانائی  بھارت کے قابلِ تجدید توانائی کے پورٹ فولیو میں ایک قیمتی اضافے کے طور پر ابھر رہی ہے۔ جیسے جیسے بھارت اپنے 2070 کے خالص صفر کے ہدف کی طرف پیش قدمی کر رہا ہے، جیو تھرمل توانائی ملک کی توانائی کی منتقلی اور ترقی کا ایک مستقل اور مقامی ستون بنی رہے گی۔

 

حوالے:

نئی و قابلِ تجدید توانائی کی وزارت

 

مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ کی انتظامیہ

 

وزارت برائے اطلاعات و نشریات

 

تلنگانہ کی قابل تجدید توانائی سے متعلق ترقیاتی کارپوریشن لمیٹیڈ

 

قابل تجدید توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی

 

امریکہ کا محکمۂ توانائی

 

امریکہ کی توانائی سے متعلق اطلاعاتی انتظامہ

پی ڈی ایف کے لیے یہاں کلک کریں۔

******

ش ح۔ک ح۔ا ک م

U. No. 3153


(ریلیز آئی ڈی: 2307939) وزیٹر کاؤنٹر : 8