وزارت دفاع
azadi ka amrit mahotsav

دفاعی افواج کو خطرات کا فیصلہ کن جواب دینے کے لئے   مکمل آزادی اور وسائل فراہم  کئےگئے ہیں: وزیر دفاع


’’امن اور کمزوری میں واضح فرق ہے،  ہندوستان کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا‘‘

جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورت حال کے درمیان  ہندوستان  خود مختار فیصلوں اور  اسٹریٹجک  خود انحصاری کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے: جناب راج ناتھ سنگھ

’’حکومت کا مقصد ہندوستان کو جدید ٹیکنالوجی مقامی طور پر تیار کرنے والی قوم بنانا ہے‘‘

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 07 SEP 2026 8:37PM by PIB Delhi

 

’’دفاعی افواج کو خطرات کا فیصلہ کن جواب دینے کے لیے مکمل آزادی اور وسائل فراہم کیے گئے ہیں، جن میں دشمن کے اپنے علاقے کے اندر موجود ٹھکانوں کو نشانہ بنانا بھی شامل ہے۔‘‘ وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ نے 7 ستمبر -  2026 کو نئی دہلی میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ انہوں نے بتایا کہ دشمن نے ہر ممکن مذموم طریقے سے  ہندوستان  کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی، جن میں جموں و کشمیر کے نوجوانوں کو گمراہ کرنا،  ہندوستان  مخالف سرگرمیوں کے لیے مالی معاونت فراہم کرنا، تشدد اور دہشت گردی پھیلانا اور معاشرے میں تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کرنا شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں حکومت نے ان مذموم عزائم کو ناکام بنا دیا ہے اور تمام محاذوں پر مؤثر کارروائی کی ہے۔ اس کے تحت گمراہ نوجوانوں کو دوبارہ قومی دھارے میں لانے، بحالی اور انتہا پسندی سے دور رکھنے کی کوششیں کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار اور کاروبار کے مواقع پیدا کیے گئے ہیں۔

وزیر دفاع نے مزید کہا کہ دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد سے جموں و کشمیر میں بے مثال ترقی ہوئی ہے اور نوجوانوں کے لیے نئے راستے اور مواقع کھلے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ  ہندوستان نے سرجیکل اسٹرائیکس، بالاکوٹ فضائی حملے اور آپریشن سندور جیسی فیصلہ کن فوجی کارروائیوں کے ذریعے دہشت گردی کے خاتمے کی حکمت عملی اپنائی، جن میں دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا- ’’سندھ طاس معاہدے کی معطلی نے واضح پیغام دیا کہ خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے۔‘‘

جناب راج ناتھ سنگھ نے نشاندہی کی کہ دشمن عناصر کی جانب سے  ہندوستانی عوام کے درمیان اختلاف اور انتشار پیدا کرنے کی کوششوں کو بھی کامیابی کے ساتھ ناکام بنایا گیا ہے۔ آپریشن سندور کے دوران عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے والے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ  ہندوستان کے عوام نے ایسی سازشوں کو مسترد کرتے ہوئے اتحاد اور سماجی ہم آہنگی کا مظاہرہ کیا۔

وزیر دفاع نے ایک بار پھر کہا کہ ہندوستان  امن پر یقین رکھتا ہے اور نہ تو جنگ چاہتا ہے اور نہ ہی کسی ملک کی سرزمین پر قبضہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ تاہم انہوں نے زور دے کر کہا کہ امن اور کمزوری میں واضح فرق ہے۔ انہوں نے کہا-’’جنگ کے خوف سے قائم ہونے والے امن کی مذمت کی جانی چاہیے، جبکہ امن کے لیے لڑی جانے والی جنگ قابل احترام ہے۔ ہم نے واضح کر دیا ہے کہ اگر کوئی ملک  ہندوستان  کے خلاف دہشت گردی کو فروغ دیتا ہے تو اس کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہوگی، بلکہ ہماری دفاعی افواج اس کا منہ توڑ جواب دیں گی۔‘‘

جنگ کی تیزی سے بدلتی ہوئی نوعیت پر بات کرتے ہوئے جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ خشکی، فضا اور سمندر کے ساتھ خلا اور سائبر اسپیس بھی تنازعات کے نئے میدان بن کر ابھرے ہیں، جبکہ مصنوعی ذہانت(آئی اے)، ڈرونز، خودکار نظام اور درست نشانہ لگانے والے ہتھیار جیسی ٹیکنالوجیز نے میدان جنگ کی نوعیت بدل دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی دفاعی حکمت عملی اور سلامتی کے نظام کو مستقبل کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے تیار کرنے پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ  اس کامقصد  ہندوستان کو ایسا ملک بنانا ہے جو جدید ٹیکنالوجیز کو مقامی طور پر تیار کرے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ  ہندوستان  کی دفاعی پالیسی محض ردعمل پر مبنی ہونے کے بجائے اب پیشگی اور فعال حکمت عملی اختیار کر چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی سفارت کاری اور قیادت کے باعث  ہندوستان-  2016 میں میزائل ٹیکنالوجی کنٹرول رجیم کا رکن بنا، جس سے برہموس میزائل کی مار کرنے کی صلاحیت میں اضافے کی کوششوں میں مدد ملی اور آپریشن سندور کے دوران یہ صلاحیت انتہائی اہم ثابت ہوئی۔

دفاعی شعبہ میں تبدیلی کا ذکر کرتے ہوئے جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ حکومت نے سرحدی سلامتی کو مضبوط بنانے، دفاعی افواج کو جدید بنانے، مقامی دفاعی پیداوار کو فروغ دینے اور آرڈی ننس فیکٹریوں میں اصلاحات کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کوششوں نے ملک کو دفاعی شعبہ میں خود کفیل اور خود اعتماد بنایا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2014 سے قبل تقریباً 40,000 کروڑ روپے کی دفاعی پیداوار اب بڑھ کر تقریباً 1.80 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے، جبکہ دفاعی برآمدات میں 56 گنا اضافہ ہوا ہے اور یہ 38,000 کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہیں۔

وزیر دفاع نے زور دے کر کہا کہ  ہندوستان درآمدات پر انحصار کرنے کی پالیسی سے آگے بڑھ کر مقامی دفاعی پیداوار اور خود انحصاری پر مرکوز ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا – ’’آج ہماری دفاعی افواج کے پاس مقامی طور پر تیار کردہ فضائی دفاعی کنٹرول نظام ’آکاش تیر‘ اور اگلی نسل کا فضائی دفاعی میزائل ’آکاش‘ موجود ہے۔ ہمارے پاس ’پنّاکا‘ راکٹ لانچر، فضا سے فضا میں مار کرنے والا میزائل ’استرا‘، مقامی طور پر تیار کردہ ’پرچنڈ‘ اور ’دھرو‘ جیسے ہیلی کاپٹر، ’تیجس‘ لڑاکا طیارہ، ’ارجن‘ ٹینک اور جدید ڈرون و انسدادِ ڈرون نظام موجود ہیں۔ مزید برآں،  ہندوستان  کا پہلا مقامی طور پر تیار کردہ طیارہ بردار بحری جہاز ’آئی این ایس وکرانت‘  ہندوستانی  بحریہ میں شامل کیا جا چکا ہے۔ اب ہم دفاعی سازوسامان کی وسیع اقسام تیار کر رہے ہیں اور چھٹی نسل کے لڑاکا طیارے کی تیاری پر بھی کام جاری ہے۔ ہمارا مقصد 2029 تک 50,000 کروڑ روپے مالیت کا دفاعی سازوسامان برآمد کرنا ہے۔‘‘

جناب راج ناتھ سنگھ نے دفاعی پیداوار کے نظام میں آنے والی نمایاں تبدیلی کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ دفاعی شعبے کی تمام 16 سرکاری کمپنیوں کو اب خسارے سے نکال لیا گیا ہے اور وہ تحقیق و ترقی میں سرمایہ کاری بڑھانے کے ساتھ ساتھ برآمدات کے نئے مواقع تلاش کر رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا’’گزشتہ 12 برسوں کے دوران  ہندوستان  کا دفاعی بجٹ 2.5 لاکھ کروڑ روپے سے بڑھ کر تقریباً 8 لاکھ کروڑ روپے ہو گیا ہے اور ہر روپے کو مکمل شفافیت اور جواب دہی کے ساتھ  ہندوستان کی سلامتی مضبوط بنانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔‘‘

وزیر دفاع نے نشاندہی کی کہ گزشتہ 12 برسوں میں  ہندوستان  کی سلامتی، علاقائی سالمیت اور ثقافتی شناخت مزید مضبوط ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا  -’’بین الاقوامی یوم یوگا، نالندہ یونیورسٹی کی بحالی، بین الاقوامی شمسی اتحاد اور عالمی حیاتیاتی ایندھن اتحاد جیسے اقدامات کے ذریعے  ہندوستان  ایک تہذیبی رہنما کے طور پر ابھرا ہے۔ ہم ’وائس آف گلوبل ساؤتھ سمٹ‘ اور ’مہاساگر‘ (خطوں میں سلامتی اور ترقی کے لیے باہمی اور جامع پیش رفت) جیسے اقدامات کے ذریعے ترقی پذیر ممالک کی آواز کو مضبوط بنا رہے ہیں۔ ہندوستان نے پڑوسی ممالک میں پیدا ہونے والے بحرانوں کے دوران ایک قابل اعتماد ’اولین مددگار‘ کے طور پر اپنی شناخت قائم کی ہے۔‘‘

اقتصادی سلامتی اور قومی سلامتی کے باہمی تعلق کو اجاگر کرتے ہوئے جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ جدید فوجی صلاحیتوں کو فروغ دینے اور  اسٹریٹجک  خود مختاری برقرار رکھنے کے لیے مضبوط معیشت ناگزیر ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ عالمی اقتصادی غیر یقینی صورت حال کے باوجود  ہندوستان 7.8 فیصد کی شرح نمو کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، جبکہ سپلائی چین کو مضبوط بنانے، اہم شعبوں میں خود انحصاری کو فروغ دینے اور مقامی مینوفیکچرنگ کو وسعت دینے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے  ہندوستان کے سیمی کنڈکٹر ماحولیاتی نظام کی ترقی اور پیداوار سے منسلک ترغیبی اسکیم کو اقتصادی استحکام پیدا کرنے کی کوششوں کی مثال قرار دیا۔ انہوں نے کہا –’’جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورت حال کے درمیان بہت سے ممالک کو فریق منتخب کرنے یا مخصوص اتحادوں کے ساتھ وابستہ ہونے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ تاہم،  ہندوستان  اپنی ترجیحات پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے آزادانہ طور پر فیصلے کرنے اور اسٹریٹجک(تزویراتی) خود مختاری کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ آج جب ہم بات کرتے ہیں تو دنیا ہماری بات سنتی ہے۔‘‘

دفاعی پیداوار میں نجی شعبے اور چھوٹی، انتہائی چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کی بڑھتی ہوئی شمولیت کی وضاحت کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا- ’’اب 16,000 سے زیادہ چھوٹی، انتہائی چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتیں اس شعبے سے وابستہ ہیں اور ملک بھر میں دفاعی پیداوار کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے۔ اتر پردیش اور تمل ناڈو کے دفاعی صنعتی راہداریوں کے لیے تقریباً 70,000 کروڑ روپے مالیت کی سرمایہ کاری کی تجاویز موصول ہوئی ہیں، جن میں سے تقریباً 10,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری پہلے ہی کی جا چکی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’آئی ڈیکس‘ اور ’آئی ڈیکس پرائم‘ جیسے اقدامات کے ذریعے دفاعی شعبے میں اختراع کو فروغ دینے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دفاعی شعبے کے نئے کاروباری اداروں کی تعداد 2018 میں چند درجن سے بڑھ کر آج 2,000 سے زیادہ ہو گئی ہے۔

جناب راج ناتھ سنگھ نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ روزگار کے متلاشی بننے کے بجائے روزگار پیدا کرنے والے اور اختراع کار بنیں  اور امید افزا خیالات کو وزارت دفاع کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے دفاعی تحقیق و ترقی کی تنظیم کی ان کوششوں کو سراہا جن کے ذریعے صنعت، تعلیمی اداروں، نئے کاروباری اداروں اور سائنس دانوں کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر دفاعی شعبے میں خود انحصاری کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مئی میں اسکرم جیٹ کمبسٹر کے کامیاب تجربے کو ہائپر سونک میزائلوں کی تیاری کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔ انہوں نے حکومت کے اس فیصلے کا بھی خصوصی ذکر کیا جس کے تحت دفاعی تحقیق و ترقی کی تنظیم کی تیار کردہ میزائل ٹیکنالوجیز بھارتی صنعت کو منتقل کی جا رہی ہیں، تاکہ نجی کمپنیاں انہیں تیار کر سکیں اور دفاعی افواج کو یہ ٹیکنالوجیز بروقت دستیاب کرائی جا سکیں۔

وزیر دفاع نے واضح کیا کہ حکومت کا مقصد دفاعی شعبے میں خود انحصاری حاصل کرنا اور ایسا دفاعی ماحولیاتی نظام تشکیل دینا ہے جو قومی سلامتی کو مضبوط بنانے، اقتصادی ترقی کو رفتار دینے اور عالمی سلامتی کے نظام میں ملک کے کردار کو مزید مستحکم کرنے میں معاون ہو۔ انہوں نے  اس اعتماد کا اظہار کیا کہ سن 2047 تک  ہندوستان  نہ صرف ترقی یافتہ  ہندوستان  کا ہدف حاصل کرے گا بلکہ ٹیکنالوجی، معیشت اور دفاع کے شعبوں میں دنیا کی قیادت بھی کرے گا۔

*****

 ش ح – ظ الف –  ج

UR No. 3136


(ریلیز آئی ڈی: 2307720) وزیٹر کاؤنٹر : 11