لوک سبھا سکریٹریٹ
azadi ka amrit mahotsav

خواتین کی سیاسی قیادت کے لیے  33 فیصد ریزرویشن سے نئے راستے کھلیں گے: لوک سبھا اسپیکر


وہ دن دور نہیں جب سرکاری خدمات میں خواتین کی تعداد 50 فیصد سے تجاوز کر جائے گی: لوک سبھا اسپیکر

محض تعاون فراہم کرنے کے بجائے خواتین کو پالیسیوں اور قوانین کی تشکیل میں کردار ادا کرنے کے لیے بااختیار بنانے پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے: لوک سبھا اسپیکر

خواتین کو معاشی اور سماجی طور پر بااختیار بنائے بغیر بھارت ایک ترقی یافتہ ملک کی جانب پیش قدمی نہیں کر سکتا: لوک سبھا اسپیکر

لوک سبھا اسپیکر نے فریدآباد میں نیشنل کمیشن فار ویمن (این سی ڈبلیو) کے زیر اہتمام ’’جینڈر ریسپانسیو گورننس‘‘ کے موضوع پر دو روزہ آل انڈیا صلاحیت ورکشاپ کا افتتاح کیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 07 SEP 2026 6:21PM by PIB Delhi

لوک سبھا اسپیکر جناب اوم برلا نے آج جمہوری اداروں میں خواتین کی زیادہ نمائندگی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے لوک سبھا اور ریاستی قانون ساز اسمبلیوں میں خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن کی فراہمی کو ایک تاریخی ضرورت قرار دیا۔ مختلف سرکاری خدمات اور پیشوں میں خواتین کی بڑھتی ہوئی موجودگی کا ذکر کرتے ہوئے جناب برلا نے کہا کہ آنے والے برسوں میں سیاسی، انتظامی اور سماجی شعبوں میں خواتین کی نئی نسل کی قیادت ابھر کر سامنے آئے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ دن دور نہیں جب سرکاری خدمات میں خواتین کی تعداد 50 فیصد سے تجاوز کر جائے گی۔

جناب برلا نے یہ باتیں آج فریدآباد میں نیشنل کمیشن فار ویمن (این سی ڈبلیو) کے زیرِ اہتمام ’’جینڈر ریسپانسیو گورننس‘‘ کے موضوع پر دو روزہ آل انڈیا  صلاحیت سازی  ورکشاپ کا افتتاح کرتے ہوئے کہیں۔

جناب برلا نے کہا کہ اب توجہ محض خواتین کو تعاون اور مواقع فراہم کرنے کے بجائے انہیں پالیسیوں، پروگراموں اور قوانین کی تشکیل میں فعال کردار ادا کرنے کے قابل بنانے پر مرکوز ہونی چاہیے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ خواتین کو خود ان قوانین کے تعین میں حصہ لینا چاہیے جو ان کے مسائل اور امنگوں سے نمٹنے کے لیے ضروری ہیں۔ خواتین کی مساوات کے لیے آئینی عزم اور ان کی سلامتی، بااختیاری اور خود انحصاری کے لیے کیے گئے مختلف قانونی اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ این سی ڈبلیو جیسے اداروں کا ابھرتے ہوئے چیلنجوں کی نشاندہی اور ان کے حل میں سہولت فراہم کرنے میں اہم کردار ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین قانون ساز—لوک سبھا، ریاستی قانون ساز اسمبلیوں، پنچایتوں اور میونسپلٹیوں کے ذریعے—خواتین کے مسائل کو متعلقہ فورم کے سامنے رکھنے اور اس امر کو یقینی بنانے میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہیں کہ قوانین زمینی حقائق کے مطابق ہوں۔

جناب برلا نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ملک کی تقریباً نصف آبادی پر مشتمل خواتین کو معاشی اور سماجی طور پر بااختیار بنائے بغیر بھارت ایک ترقی یافتہ ملک کے ہدف کی جانب پیش رفت نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ہر خاتون کو روزگار، معاشی خود مختاری اور سماجی بااختیاری کے مواقع ملنے چاہئیں۔ انہوں نے خواتین قانون سازوں پر زور دیا کہ وہ ایسی مؤثر پالیسیوں، اسکیموں اور قانونی اقدامات پر غور و خوض کریں جو خواتین کو معاشی اور سماجی طور پر مضبوط بنا سکیں، خصوصاً ان خواتین کو جو محرومی اور مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ مختلف قانون ساز اداروں کے تجربات اور کامیاب اقدامات کو ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کیا جائے، تاکہ بہترین طریقۂ کار کو پورے ملک میں اپنایا جا سکے۔ مزید برآں، انہوں نے خواتین میں ان قوانین اور ادارہ جاتی طریقۂ کار کے بارے میں بیداری بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا جو ان کے مسائل کے حل کے لیے دستیاب ہیں، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں خواتین زیادہ خطرات سے دوچار ہیں۔

اس بات کی نشان دہی کرتے ہوئے کہ بھارت کی تبدیلی کے سفر میں خواتین ہمیشہ صفِ اول میں رہی ہیں—خواہ وہ آزادی کی تحریک ہو، قوم کی تعمیر ہو یا جمہوری اداروں کو مضبوط بنانا—جناب برلا نے زور دیا کہ یہ پروگرام خواتین قانون سازوں کو اپنے تجربات، خیالات اور نقطۂ نظر کے تبادلے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے، جس سے ان کی قائدانہ صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں سے خواتین قانون سازوں کی شرکت اس اہم کردار کی عکاسی کرتی ہے جو وہ قانون ساز فورم کے ذریعے خواتین کی امنگوں کو آواز دینے میں ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے شرکا پر زور دیا کہ وہ اس ذمہ داری کو مؤثر طریقے سے پورا کرنے کے لیے اپنی صلاحیتوں کو مزید نکھاریں۔

ایک متحرک جمہوریت میں مکالمے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے جناب برلا نے کہا کہ عوام کو درپیش چیلنجز اور ان کی امنگوں کو مسلسل بحث و مباحثے اور مشاورت کے ذریعے ہی بہتر طور پر حل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ حساسیت خواتین کی قیادت کی ایک بنیادی قوت ہے، جو عوام کے مسائل کی گہری تفہیم اور مؤثر حل تلاش کرنے کی زیادہ صلاحیت کو فروغ دیتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حساس اور جواب دہ طرزِ کار، سماجی چیلنجز سے نمٹنے اور جمہوری اداروں کو مضبوط بنانے میں نمایاں کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے اختتاماً کہا کہ خواتین کی قیادت کو فروغ دینا اجتماعی عزم کا حصہ ہونا چاہیے اور امید ظاہر کی کہ مسلسل کوششوں کے نتیجے میں قومی زندگی کے ہر شعبے میں خواتین تیزی سے قائدانہ مناصب پر فائز ہوں گی۔

اس موقع پر نیشنل کمیشن فار ویمن کی چیئرپرسن محترمہ وجے راہتکر؛ حکومت ہریانہ میں وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے خوراک، سول سپلائیز اور امور صارفین جناب راجیش ناگر، اور 20 ریاستوں اور 2 مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے تقریباً 200 خواتین قانون ساز موجود تھیں۔

*****

ش ح۔ ف ا۔ م ر

U-NO. 3127


(ریلیز آئی ڈی: 2307623) وزیٹر کاؤنٹر : 6