ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
سوچھ وایو دیوس 2026 کے موقع پر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے شہروں اور وارڈز کو پانچویں سوچھ وایو سرویکشن ایوارڈز سے نوازا گیا؛ این سی اے پی کے تحت بہترین انتظامی طریقۂ کار کا مجموعہ جاری
فضائی آلودگی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے مقامی اداروں کو جامع اور پورے معاشرے کو شامل کرنے والا طریقۂ کار اپنانا چاہیے: این جی ٹی کے چیئرپرسن
فضائی آلودگی کے خلاف جنگ ایک مسلسل عمل ہے، جس کے لیے مشن موڈ میں شہریوں کی قیادت میں ایک عوامی تحریک کی ضرورت ہے: ای ایف سی سی کے سیکریٹری
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
07 SEP 2026 2:29PM by PIB Delhi
مرکزی وزارتِ ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی ( ایم او ای ایف سی سی)نے آج بین الاقوامی یومِ صاف ہوا برائے نیلا آسمان کے موقع پر سوچھ وایو دیوس 2026 کا انعقاد کیا۔ اس تقریب کی صدارت قومی سبز ٹریبونل ( این جی ٹی)کے چیئرپرسن، جسٹس پرکاش شری واستو نے بطور مہمانِ خصوصی کی۔تقریب میں دیگر معزز شخصیات نے بھی شرکت کی، جن میں سیکریٹری (ای ایف سی سی) جناب تنمے کمار، چیئرپرسن (سی اے کیو یم) جناب راجیش ورما؛ ڈائریکٹر جنرل (جنگلات) و اسپیشل سیکریٹری (ای ایف سی سی) جناب سشیل کمار اوستھی؛ چیئرپرسن (سی پی سی بی)، جناب امن دیپ گرگ، اور ایڈیشنل سیکریٹری (ای ایف سی سی) جناب آشوتوش اگنی ہوتری شامل تھے۔مرکزی وزارتوں کے افسران، کثیرالجہتی تنظیموں کے نمائندگان، ایوارڈ حاصل کرنے والے شہروں اور وارڈز کے میئرز، ضلعی کلکٹرز اور میونسپل کمشنرز کے علاوہ ایم او ای ایف سی سی، سی پی سی بی اور سی اے کیو ایم کے افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔

اپنے خطاب میں جسٹس شری واستو نے قومی صاف ہوا پروگرام (این سی اے پی) کے تحت مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملک بھر کے ان شہروں اور وارڈز کی کوششوں کو تسلیم کرنے کا موقع ہے جو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں کہ ہوا کا معیار مقررہ پیمانوں کے مطابق برقرار رہے۔انہوں نے کہا، ‘‘ایوارڈ حاصل کرنے والوں نے ثابت کر دیا ہے کہ صاف ہوا محض ایک خواہش نہیں بلکہ ایک عملی ہدف ہے، جسے مناسب منصوبہ بندی اور زمینی سطح پر مؤثر عمل درآمد کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔’’چیئرپرسن نے اس بات پر زور دیا کہ صاف ہوا کوئی عیش و عشرت نہیں بلکہ بنیادی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘‘ ترقی اور ماحول کا تحفظ ایک دوسرے کے مخالف نہیں ہیں، بلکہ شہریوں کے معیارِ زندگی کو برقرار رکھتے ہوئے دونوں کو ساتھ لے کر چلا جا سکتا ہے۔ یہ ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ یہ یقینی بنائیں کہ آنے والی نسلیں بھی صاف ستھرے ماحول میں زندگی گزار سکیں۔’’

جسٹس شری واستو نے فضائی آلودگی کو ایک پیچیدہ چیلنج قرار دیا، کیونکہ یہ سیاسی حدود کی پابند نہیں ہے اور اس میں متعدد ذرائع کا کردار ہوتا ہے۔ چیئرپرسن نے زور دیتے ہوئے کہا کہ شہری اور دیہی مقامی ادارے وہ صفِ اول کے ادارے ہیں جو قومی وژن کے مؤثر نفاذ کو یقینی بناتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سوچھ سرویکشن ایوارڈز کے ذریعے حکومت فضائی معیار کے انتظام کے شعبے میں تمام متعلقہ فریقوں کی کوششوں کو تسلیم کرتی ہے، جو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کرتے ہیں کہ ہوا کا معیار مقررہ حدود کے اندر برقرار رہے۔انہوں نے مزید کہا، ‘‘یہ ضروری ہے کہ مقامی ادارے شہریوں میں بیداری پیدا کرتے ہوئے آلودگی کے اخراج کو اس کے منبع پر ہی روکنے کی کوشش کریں؛ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی اپنائیں؛ اور اس مسئلے کے حل کے لیے ایک جامع اور پورے معاشرے کو شامل کرنے والا طریقۂ کار اختیار کریں۔’’
اس موقع پر اپنے خطاب میں سیکریٹری (ای ایف سی سی) جناب تنمے کمار نے بتایا کہ حکومتِ ہند، وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے وژن کے مطابق فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے کثیر الجہتی، مربوط اور سائنسی طریقۂ کار اختیار کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس مشن میں عوامی نمائندوں کو بھی شامل کیا جا رہا ہے تاکہ فضائی آلودگی کے خلاف جنگ میں شہریوں کی شمولیت کی حوصلہ افزائی کی جا سکے، اور ساتھ ہی تمام متعلقہ فریقوں کی صلاحیتوں میں اضافہ اور استعدادِ کار کو مضبوط بنایا جا سکے۔

جناب کمار نے قومی صاف ہوا پروگرام (این سی اے پی) کے بارے میں بتایا، جو ایک ایسا فریم ورک فراہم کرتا ہے جس کے تحت ہر شہر صاف ہوا کو یقینی بنانے کے لیے اپنی حکمتِ عملی تیار کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پَرانا پورٹل، این سی اے پی کے تحت شامل 130 شہروں میں فضائی معیار کے انتظام سے متعلق مختلف اشاریوں کی نگرانی کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ فضائی آلودگی کے خلاف جنگ ایک مسلسل پروگرام ہے، کوئی ایک مرتبہ کی جانے والی سرگرمی نہیں۔ آنے والی نسلوں کے لیے صاف ستھرا ماحول یقینی بنانے کے لیے مشن موڈ میں شہریوں کی قیادت میں ایک عوامی تحریک کی ضرورت ہے۔انہوں نے تمام ایوارڈ حاصل کرنے والوں کو ان کی کوششوں پر مبارکباد دی اور ان کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ فضائی معیار کے انتظام کو ‘جن بھاگیداری’ (عوامی شراکت داری) کی تحریک میں تبدیل کریں۔
سوچھ وایو سرویکشن ایوارڈز
اس موقع پر وزارتِ ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی نے قومی صاف ہوا پروگرام (این سی اے پی) کے تحت بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے شہروں اور وارڈز کو پانچویں سوچھ وایو سرویکشن کے تحت دی گئی درجہ بندی کی بنیاد پر ایوارڈز سے نوازا۔سوچھ وایو سرویکشن فریم ورک 2022-23 میں جاری کیا گیا تھا۔ اس فریم ورک کے تحت شہروں کی جانب سے سڑکوں کی گرد و غبار، ٹھوس کچرے کے انتظام (ایس ڈبلیو ایم)، گاڑیوں سے ہونے والے اخراج، صنعتی آلودگی، تعمیراتی و انہدامی فضلے (سی اینڈ ڈی) کے انتظام، دیگر اخراجات (جنریٹر سیٹس اور تجارتی اداروں سے ہونے والے اخراج) اور اطلاعات، تعلیم و ابلاغ (آئی ای سی) کی سرگرمیوں کے حوالے سے کیے گئے اقدامات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

یہ ایوارڈز شہروں کی طرف سے خود تشخیص ، ریاستی سطح کی نگرانی کمیٹی کی طرف سے منظوری ، سی پی سی بی کی طرف سے تشخیص ، آزاد کمیٹیوں کی طرف سے فیلڈ کی تصدیق اور 10 بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے شہروں کے انتخاب پر مشتمل عمل کے ذریعے 3 گروپوں (3 لاکھ سے کم آبادی ؛ 3-10 لاکھ ؛ اور 10 لاکھ سے زیادہ) میں تمام 130 شہروں کی شرکت اور درجہ بندی پر مبنی تھے ۔
سوچھ وایو سرویکشن ایوارڈ یافتگان کی فہرست
نیشنل کلین ایئر پروگرام (این سی اے پی) کے تحت کامیابیاں
سوچھ وایو دیوس کے دوران ، 24 ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے 130 شہروں میں ہوا کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے شروع کی گئی انتہائی اہم پہل این سی اے پی کے تحت ہونے والی پیش رفت اور کامیابیوں کو اجاگر کیا گیا ۔ فضائی آلودگی کو کم کرنے کے اقدامات کو نافذ کرنے کے لیے این سی اے پی کے 130 شہروں کو 16,425 کروڑ روپے کی کارکردگی سے منسلک گرانٹ فراہم کی گئی ہے ۔
این سی اے پی نے مالی سال 2017-18 کی سطح کے حوالے سے 2025-26 میں پی ایم 10 کی سطح میں کمی کے حصول کے حوالے سے مثبت نتائج دکھائے ہیں:
- 130 میں سے 108 شہروں نے پی ایم 10 کی سطح میں بہتری دکھائی ہے ۔
- 72 شہروں نے پی ایم 10 کے ارتکاز میں 20 فیصد سے زیادہ کی کمی حاصل کی ہے ۔
- 26 شہروں میں 40 فیصد سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی ہے ۔
- 14 شہروں نے نیشنل ایمبیئنٹ ایئر کوالٹی اسٹینڈرڈز (این اے اے کیو ایس) کو پورا کیا ہے۔
این سی اے پی کے تحت بہترین انتظامی طریقوں کا مجموعہ

تقریب کے دوران این سی اے پی کے تحت بہترین انتظامی طریقوں کا مجموعہ جاری کیا گیا ۔ یہ این سی اے پی کے تحت شہروں اور ریاستی آلودگی کنٹرول بورڈز/کمیٹیوں کے ذریعے سڑک کی دھول پر قابو پانے ، گاڑیوں کی آلودگی ، صنعتی آلودگی ، ٹھوس اور تعمیر اور انہدام (سی اینڈ ڈی) فضلہ کے انتظام ، کھلے میں جلانے پر قابو پانے ، ہریالی ، ٹیکنالوجی کے استعمال اور عوامی رابطہ کاری جیسے مختلف شعبوں میں نافذ کردہ بہترین طریقوں اور ہوا کے معیار میں بہتری کے کامیاب اقدامات کو اجاگر کرتا ہے ۔ یہ بہترین طریقے دوسرے شہروں اور ایس پی سی بی کے ذریعے ان کی نقل تیار کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
******
ش ح۔ ا ک ۔ ر ب
(ریلیز آئی ڈی: 2307490)
وزیٹر کاؤنٹر : 7