کامرس اور صنعت کی وزارتہ
بھارت کو مضبوط اور عالمی سطح سے مربوط طبی سپلائی چینز تشکیل دینا ہوں گی: بھارت ہیلتھ گلوبل ایکسپو 2026 میں وزیر تجارت و صنعت جناب پیوش گوئل
دوا سازی کے شعبے کو تحقیق و ترقی، نئی ادویاتی مالیکیولز، بایوسمیلیرس اور بایوٹیکنالوجی میں قائدانہ کردار ادا کرنا چاہیے: جناب گوئل
بھارت کو سپلائی چین کی مضبوطی کے لیے ایک وسیع اور بیرونِ ملک مرکوز حکمتِ عملی اپنانا ہوگی، جس میں مقامی ویلیو ایڈیشن اور آخری مرحلے تک مصنوعات کی ترسیل کے لیے بیرونِ ملک مارکیٹوں میں سرمایہ کاری بھی شامل ہو: جناب گوئل
حکومت ،طبی سیاحت (میڈیکل ویلیو ٹریول)، دوا سازی اور صحت کی دیکھ بھال کے بنیادی ڈھانچے کے فروغ کے ساتھ ساتھ مختلف شعبوں کے لیے مخصوص پلگ اینڈ پلے صنعتی سہولیات فراہم کرنے میں تعاون کے لیے تیار ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
06 SEP 2026 9:28PM by PIB Delhi
بھارت کو مضبوط، لچک دار اور عالمی سطح سے مربوط صحتِ عامہ کی سپلائی چینز تشکیل دینے، دنیا کے ایک قابلِ اعتماد طبی شراکت دار کے طور پر اپنی پوزیشن مزید مستحکم کرنے اور جنیرک ادویات کے شعبے میں حاصل کی گئی کامیابی سے آگے بڑھتے ہوئے تحقیق، ترقی اور جدت طرازی پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ یہ بات مرکزی وزیر تجارت و صنعت جناب پیوش گوئل نے آج نئی دہلی میں منعقدہ بھارت ہیلتھ گلوبل ایکسپو 2026 سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
وزیر موصوف نے ایکسپو میں وزیر مملکت برائے تجارت و صنعت اور الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی جناب جتن پرساد اور کامرس سیکریٹری جناب راجیش اگروال کے ہمراہ شرکت کی۔
جناب گوئل نے کہا کہ بھارت کے دوا سازی کے شعبے کے پاس دنیا کے سامنے اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا ایک اہم موقع موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں "فارمیسی آف دی ورلڈ" کے نام سے معروف بھارت کو ایک کہیں زیادہ وسیع اور بہتر مستقبل کا ہدف مقرر کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ بھارت ہیلتھ گلوبل ایکسپو کے ذریعے صحت کے شعبے سے وابستہ افراد اور اداروں کا ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا محض ایک آغاز ہے، جس میں مستقبل میں نمایاں امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پوری ویلیو چین کو ایک ہی پلیٹ فارم پر لانے سے بین الاقوامی شرکت کو مزید فروغ دینے اور عالمی سطح پر بھارت کے صحت کے شعبے کی موجودگی کو مضبوط بنانے کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے۔
وزیر موصوف نے کہا کہ مستقبل میں مناسب مرحلے پر اس پلیٹ فارم کو مختلف ممالک کے پویلینز اور شراکت دار ممالک کے لیے بھی کھولا جا سکتا ہے، جس سے غیر ملکی کمپنیوں کو بھارتی کمپنیوں کے ساتھ اپنی مصنوعات پیش کرنے کا موقع ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے بھارت کو اپنی صلاحیتوں کو اعتماد کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کرنے اور عالمی سطح پر بہترین ممالک اور کمپنیوں کے ساتھ مسابقت کرنے میں مدد ملے گی۔
سپلائی چینز میں مضبوطی اور لچک کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے جناب پیوش گوئل نے کہا کہ دنیا میں اب تیزی سے ایسی سپلائی چینز کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے جو کسی بھی بحران کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔ دنیا کسی ایک یا دو جغرافیائی مقامات پر حد سے زیادہ انحصار یا ایسی سپلائی چینز سے مطمئن نہیں ہے جنہیں ممکنہ طور پر دباؤ یا ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہو۔انہوں نے کہا کہ بھارت مختلف وجوہات کی بنا پر ماضی میں ایکٹو فارماسیوٹیکل اِنگریڈیئنٹس(اے پی آئیز) اور کلیدی ابتدائی خام مال(کے ایس ایمز)کے شعبے میں اپنی برتری کھو چکا تھا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ دوا سازی کی سپلائی چین میں دوبارہ مضبوطی اور لچک پیدا کی جائے۔
تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ سپلائی چین میں لچک کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہیے کہ بھارت صرف اندرونِ ملک تک ہی محدود ہو جائے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو ہر چیز کی مقامی سطح پر تیاری یا مکمل خود کفالت حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور جہاں ضروری ہو وہاں درآمدات جاری رہیں گی۔ تاہم، مصنوعات کی دستیابی مختلف ممالک اور کمپنیوں سے یقینی بنائی جانی چاہیے، تاکہ ایک یا دو ممالک یا کمپنیاں کاروباری اداروں کو اپنے مفادات کے تابع نہ بنا سکیں اور صنعت کی سرگرمیوں کے تسلسل کو خطرے میں نہ ڈال سکیں۔
جناب پیوش گوئل نے کہا کہ بھارت کی مجموعی مانگ کو یکجا کرنے سے ایسی متعدد مصنوعات کی نشاندہی کی جا سکتی ہے جو اس وقت درآمد کی جا رہی ہیں، لیکن جن کی مقامی سطح پر تیاری کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دنیا بھر کے ممالک اب سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور اپنی سپلائی چینز میں مضبوطی و لچک پیدا کرنے کے لیے ایک دوسرے سے مسابقت کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری کے حصول کی مسابقت اب صرف ترقی پذیر ممالک تک محدود نہیں رہی۔ امریکہ، کینیڈا، میکسیکو، جاپان، جنوبی کوریا، سنگاپور، یورپ اور دیگر ترقی یافتہ معیشتیں بھی اپنی اپنی جغرافیائی حدود میں سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس صورتِ حال میں بھارت کو نہ صرف اشیا اور خدمات کے شعبے میں مسابقت کا سامنا ہے بلکہ سرمایہ کاری حاصل کرنے کے معاملے میں بھی اسے ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ مقابلہ کرنا پڑ رہا ہے۔ اس لیے بھارت کے سرمایہ کاری کے امکانات اور کشش کو مزید مضبوط بنانا پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔
جناب گوئل نے کہا کہ اسی دوران بھارت کو یہ حقیقت بھی تسلیم کرنی چاہیے کہ دیگر ممالک بھی اپنی سپلائی چینز میں مضبوطی اور لچک پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لہٰذا، دوا سازی کے شعبے کو ایک عالمی اور بیرونِ ملک مرکوز نقطۂ نظر اپنانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ایسے ممالک بھی ہو سکتے ہیں جہاں بھارتی دوا ساز کمپنیوں کو مصنوعات کی آخری مرحلے تک ترسیل، مقامی سطح پر ویلیو ایڈیشن اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے سرمایہ کاری کرنا ضروری ہو، جن میں افریقی ممالک بھی شامل ہیں۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ آنے والے برسوں میں دوا سازی کے شعبے کو ایک وسیع اور عالمی نقطۂ نظر اپنانا ہوگا۔
تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) اور جدت طرازی کے حوالے سے جناب پیوش گوئل نے کہا کہ جنیرک ادویات کے شعبے میں بھارت کی کامیابی دوا سازی کی صنعت کی فعال اور مسلسل کوششوں کے نتیجے میں حاصل ہوئی ہے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ اگر بھارت 2047 تک ایک ترقی یافتہ ملک بننے کا ہدف رکھتا ہے تو وہ صرف جنیرک ادویات کی کامیابی پر اکتفا نہیں کر سکتا۔
جناب گوئل نے کہا کہ بھارت کو تحقیق و ترقی کے فروغ، اپنی مصنوعات تیار کرنے اور ان کے پیٹنٹ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ تحقیق و ترقی اور جدت طرازی کی حمایت کے لیے شروع کیے گئے پروگراموں سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ دوا سازی کے شعبے کو تحقیق و ترقی میں قائدانہ کردار ادا کرنا چاہیے اور ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ انوویشن فنڈ (آر ڈی آئی ایف) جیسے اقدامات سے استفادہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے بھارتی کمپنیوں، انجینئرز اور باصلاحیت افراد پر زور دیا کہ وہ نئے مالیکیولز، بایوسمیلیئرز اور بایوٹیکنالوجی پر توجہ مرکوز کریں، کیونکہ یہی شعبے مستقبل میں دوا سازی کی صنعت کے لیے ترقی کی نئی سرحد ثابت ہوں گے۔
جناب گوئل نے کہا کہ بھارت کو دنیا کے سامنے ایسا ضابطہ جاتی نظام(ریگولیٹری میکنزم) بھی پیش کرنا ہوگا جو ملک میں تحقیق و ترقی اور جدت طرازی کو پرکشش بنائے۔انہوں نے بھارت میں کلینیکل ٹرائلز، مصنوعات کے پیٹنٹ کے حصول، تحقیق و ترقی کے انعقاد اور نئی مصنوعات متعارف کرانے کے لیے سرمایہ کاری کے حوالے سے ایک کھلا، سازگار اور حوصلہ افزا رویہ اپنانے پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی ضابطہ کار اداروں کو زیادہ ترقی یافتہ ممالک میں رائج قوانین و ضوابط کا جائزہ لینا چاہیے اور عالمی سطح پر ہونے والی پیش رفت سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے ترقی یافتہ دنیا کے ساتھ زیادہ سے زیادہ ضابطہ جاتی ہم آہنگی (ریگولیٹری کنورجینس) کی جانب بڑھنا چاہیے۔انہوں نے زور دیا کہ جب تک بھارت کی سوچ اور طریقۂ کار ترقی یافتہ دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہوتے، اس وقت تک ملک 2047 تک ترقی یافتہ ملک بننے کا ہدف حاصل نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو ملک میں سرمایہ کاری کے خواہش مند سرمایہ کاروں کی تجاویز اور دنیا بھر کی حکومتوں کے تقاضوں کو سمجھنا ہوگا اور ان دونوں کو سامنے رکھتے ہوئے صنعت کی کامیابی کے لیے ایک نیا راستہ تشکیل دینا ہوگا۔
طبی سیاحت (میڈیکل ویلیو ٹریول) کے حوالے سے جناب گوئل نے کہا کہ اس شعبے میں تقریباً 8 ارب امریکی ڈالر خرچ کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی اسپتال جدید اور عالمی معیار کے حامل بن چکے ہیں اور ان میں بہترین طبی آلات دستیاب ہیں، جبکہ بھارتی ڈاکٹر، ٹیکنیشنز اور نرسیں بھی دنیا کے بہترین طبی ماہرین میں شمار ہوتی ہیں۔انہوں نے طبی سیاحت کے فروغ کو مشن موڈ میں آگے بڑھانے پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ ایس ای پی سی اس شعبے میں پہلے ہی ایف آئی سی سی آئی، سی آئی آئی اور دیگر اداروں کے ساتھ مل کر اقدامات کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کو عالمی طبی سیاحت کی مارکیٹ میں اپنا حصہ بڑھانے اور بھارتی صحت کے شعبے کی کامیابی کی داستان کو پوری دنیا میں فروغ دینے کے لیے مزید کوششیں کرنا ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ انڈیا برانڈ ایکویٹی فنڈ اور ای پی ایم کے ذریعے حکومت دنیا بھر کے لوگوں کے لیے بھارت میں طبی سہولیات کے فروغ سے متعلق اقدامات کی حمایت کرنے میں خوشی محسوس کرے گی۔ انہوں نے صنعت سے وابستہ اداروں پر زور دیا کہ وہ اس سلسلے میں اپنی تجاویز جلد از جلد حکومت کے سامنے پیش کریں۔
وزیر موصوف نے کہا کہ دنیا کے ایک قابلِ اعتماد شراکت دار، خصوصاً صحت کے شعبے میں بھارت کے کردار کا مظاہرہ بارہا ہو چکا ہے۔ کووڈ وبا کے دوران بھارت کی خدمات، دنیا بھر میں جنیرک ادویات کی فراہمی اور بھارت سے نئی اختراعات اور پیٹنٹ شدہ مصنوعات کا سامنے آنا اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام پیش رفت مجموعی طور پر ملکی اور عالمی سطح پر صنعت کو ترقی کی اگلی منزل تک لے جانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔
جناب پیوش گوئل نے کہا کہ گزشتہ 40 برس دوا سازی کی صنعت کے لیے ایک فیصلہ کن دور رہے ہیں، تاہم شعبے کو اپنی موجودہ حیثیت پر مطمئن نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے صنعت سے وابستہ افراد پر زور دیا کہ وہ ‘‘بلند ترین اہداف مقرر کریں’’ اور ایک کہیں بڑے اور بہتر مستقبل کی جانب پیش قدمی کریں۔
بنیادی ڈھانچے کے حوالے سے جناب گوئل نے کہا کہ حکومت بلک ڈرگ پارکس کے قیام کے لیے کام کر رہی ہے۔ آندھرا پردیش، گجرات اور ہماچل پردیش میں ایسے منصوبے زیرِ عمل ہیں، جن میں پہلے سے موجود اور نئے پارکس دونوں شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک میں 100 نئے صنعتی پارکس قائم کیے جا رہے ہیں، جہاں ضرورت پڑنے پر دوا سازی اور صحت کے شعبے کے لیے مخصوص صنعتی علاقے مختص کیے جا سکتے ہیں۔
اسی طرح انہوں نے انجینئرنگ، ایرو اسپیس اور دفاع سمیت دیگر شعبوں سے وابستہ صنعتوں کو بھی دعوت دی کہ وہ اپنی صنعتیں قائم کرنے کے لیے موزوں مقامات کے انتخاب کے حوالے سے حکومت سے مزید مطالبات کریں۔انہوں نے کہا کہ حکومت مختلف شعبوں کی مخصوص ضروریات کے مطابق پلگ اینڈ پلے بنیادی ڈھانچہ تیار کرنے میں خوشی محسوس کرے گی، تاکہ صنعتوں کو مطلوبہ سہولیات پہلے سے دستیاب ہوں اور وہ تیزی سے اپنے کاروباری و صنعتی منصوبے شروع کر سکیں۔
طبی آلات کے شعبے کے حوالے سے جناب پیوش گوئل نے کہا کہ اگرچہ اس شعبے میں کوششیں کی گئی ہیں، تاہم بھارت کو ابھی ایک طویل سفر طے کرنا ہے۔ انہوں نے صرف آلات کی اسمبلی تک محدود رہنے کے بجائے ان کے اجزا کی مقامی اور دیسی سطح پر تیاری اور طبی آلات کے مکمل ماحولیاتی نظام (ایکوسسٹم) کی اندرونِ ملک ترقی کی جانب منتقل ہونے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ طبی آلات کے شعبے میں ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں، نرسوں، ٹیکنیشنز اور اسپتالوں کو بھارت میں بہتر اور اعلیٰ معیار کی مصنوعات کی دستیابی کے حوالے سے زیادہ باخبر اور حساس ہونا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ملکی مارکیٹ میں زیادہ حصہ حاصل کرنے سے برآمدات کو بھی فروغ ملے گا، کیونکہ بھارت کی بڑی داخلی مارکیٹ پیداواری پیمانے کی معیشت فراہم کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایم ایس ایم ایز (MSMEs) اجزا اور طبی آلات کی مقامی تیاری میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، جبکہ بڑی کمپنیاں بڑے پیمانے پر پیداوار اور صنعتی وسعت پیدا کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔
جناب گوئل نے کہا کہ ان تمام کوششوں کو اجتماعی طور پر آگے بڑھانے سے لاکھوں روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں، اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکتا ہے اور بھارت کو مستقبل کے بحرانوں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط اور لچک دار بنایا جا سکتا ہے۔
آیوش کے حوالے سے جناب گوئل نے کہا کہ یہ بھارت کی روایتی طب اور صدیوں پر محیط روایتی دانش کی نمائندگی کرتا ہے، تاہم بھارت اب بھی بڑی مقدار میں خام جڑی بوٹیاں برآمد کر رہا ہے۔انہوں نے آیوش سے متعلق مصنوعات کی زیادہ سے زیادہ سائنسی توثیق (سائنٹیفک ویلیڈیشن) پر زور دیا تاکہ انہیں عالمی سطح پر وسیع پیمانے پر قبولیت حاصل ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پہلے ہی اس سمت میں کام کر رہی ہے
تعاون کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے جناب پیوش گوئل نے کہا کہ بھارت نے اپنی مضبوط صلاحیتوں کے حامل مختلف شعبوں میں اسی نوعیت کے کئی اقدامات کی منصوبہ بندی کی ہے، جن میں دوا سازی کا شعبہ ملک کی سب سے بڑی طاقتوں میں سے ایک ہے۔انہوں نے کہا کہ مختلف شعبوں کے لیے الگ الگ کانفرنسیں منعقد کرنے کے بجائے ضروری ہے کہ پورے شعبے کو ایک ہی پلیٹ فارم پر یکجا کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایک متحد پلیٹ فارم 50 ممالک سے شرکت اور دنیا بھر سے تقریباً 1,000 افراد کو راغب کر سکتا ہے۔ اس سے شعبے سے وابستہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو مجموعی طور پر ہونے والی پیش رفت کا جامع جائزہ لینے، مختلف شعبوں کا موازنہ کرنے اور بہترین طریقوں اور امکانات کی نشاندہی کرنے کا موقع بھی ملے گا۔
وزیر موصوف نے کہا کہ بھارت کو بھی اس پختہ یقین اور اعتماد کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا کہ وہ دنیا کے بہترین ممالک اور کمپنیوں کے ساتھ مسابقت کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بالآخر مسابقت کا فیصلہ معیار، بروقت ترسیل اور بہترین صارف خدمات کی بنیاد پر ہوگا۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے پاس، خصوصاً صحت کے شعبے میں، دنیا کے سامنے بہترین صلاحیتوں اور مصنوعات پیش کرنے کا بھرپور موقع اور قابلیت موجود ہے۔
بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کے حوالے سے جناب گوئل نے کہا کہ آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی ایز) بھارتی صنعت کے لیے عالمی منڈیوں کے دروازے کھول رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا کی تقریباً دو تہائی مارکیٹ پہلے ہی بھارت کے لیے ترجیحی تجارتی رسائی کے لیے کھل چکی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارت مزید 8 سے 10 کثیر ملکی یا دو طرفہ آزاد تجارتی معاہدوں (ایف ٹی ایز) یا ترجیحی تجارتی معاہدوں (پی ٹی ایز) پر مذاکرات کر رہا ہے، جن کے نتیجے میں عالمی تجارت کے تقریباً 75 فیصد تک رسائی حاصل ہو سکے گی۔
انہوں نے کہا کہ 2014 تک بھارت کے آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی ایز) مجموعی طور پر ایسی منڈیوں تک رسائی فراہم کرتے تھے جن کی مشترکہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) تقریباً 10 کھرب امریکی ڈالر تھی۔ اس کے برعکس، جن نو آزاد تجارتی معاہدوں کا ذکر جناب جتن پرساد نے کیا اور جو ساتھ میں جاری کی گئی کتاب میں شامل ہیں، ان کے ذریعے 38 ترقی یافتہ ممالک کی منڈیوں تک رسائی حاصل ہوتی ہے، جن کی مجموعی جی ڈی پی تقریباً 60 کھرب امریکی ڈالر ہے۔ یہ 2014 تک دستیاب مارکیٹ کے مقابلے میں چھ گنا زیادہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان میں سے کئی تجارتی معاہدے گزشتہ 25 برس سے تعطل کا شکار تھے۔
جناب پیوش گوئل نے کہا کہ بھارتی صنعت مسابقتی اور عالمی معیار کی حامل ہے اور ملک کے پاس باصلاحیت افرادی قوت بھی موجود ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ زیادہ بلند عزائم، بڑے اہداف اور مختلف امکانات کو آپس میں جوڑنے کی صلاحیت پیدا کی جائے۔انہوں نے کہا کہ بھارت ہیلتھ جیسا ادارہ عین یہی کام کرنے کی کوشش کر رہا ہےکہ مختلف تنظیموں کو ایک پلیٹ فارم پر لانا، سب کو ایک مشترکہ مقصد اور سمت پر متفق کرنا اور باہمی تعاون و اشتراک کو فروغ دینا۔
انہوں نے کہا کہ صحت مند مسابقت ضروری اور مفید ہے، تاہم شعبے کے مختلف اداروں کے درمیان تعاون بھی ناگزیر ہے۔ انہوں نے صنعت پر زور دیا کہ وہ بڑے اہداف مقرر کرے، جدید نقطۂ نظر اپنائے، عالمی سطح پر توسیع کرے، معیار کو اولین ترجیح بنائے، مضبوط اور لچک دار سپلائی چینز اور بڑے پیمانے پر پیداوار کی صلاحیت پیدا کرے، تحقیق و ترقی اور جدت طرازی میں سرمایہ کاری کرے، بھارتی صلاحیتوں اور ہنرمندی سے بھرپور فائدہ اٹھائے اور بھارت کی تجارتی شراکت داری کے ذریعے کھلنے والے مواقع سے مکمل استفادہ کرے۔
جناب پیوش گوئل نے صنعت سے وابستہ اداروں پر زور دیا کہ وہ دنیا بھر میں مزید اعتماد، نیک نامی اور مارکیٹ شیئر حاصل کریں اور بھارت کو ‘‘دنیا کے لیے ہیلتھ اسٹیک’’ بنانے کی سمت کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ معیار کی صحت کی دیکھ بھال کے بغیر کوئی بھی انسان، معیشت یا ملک کامیاب یا خوشحال نہیں ہو سکتا۔
وزیر موصوف نے کہا کہ وکست بھارت 2047 کا خواب صحت کے شعبے کے مضبوط کاندھوں پر قائم ہے۔ اس شعبے کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایک صحت مند بھارت کی تشکیل، معیاری طبی سہولیات اور اعلیٰ معیار کی ادویات کی فراہمی کو یقینی بنائے، جبکہ 140 کروڑ لوگوں کے لیے بیماریوں سے بچاؤ پر مبنی صحت و تندرستی (پریوینٹوویلنیس) اور بیماریوں کے علاج پر مبنی طبی خدمات(کیوریٹو ہیلتھ) دونوں فراہم کرے۔
***
ش ح۔ش ت۔رض
U.No. 3090
(ریلیز آئی ڈی: 2307352)
وزیٹر کاؤنٹر : 6