سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ آر آئی ایس ای کانکلیو ہندوستان کے ٹائر-2 اور ٹائر-3 شہروں میں اسٹارٹ اپس کی پاؤرہائس ( طاقتور صلاحیتیوں) پر توجہ مرکوز کرتا ہے
کولکتہ میں منعقدہ کانکلیو سائنس، اسٹارٹ اپس، صنعت اور حکومت کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر دیسی ٹیکنالوجیز کے لیب سے مارکیٹ تک کے سفر کو تیز کرتا ہے
چار سی ایس آئی آر لیبارٹریوں نے معدنیات، ادویات، مواد اور مشینوں کے شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا؛ اسٹارٹ اپ نمائش اور ایس اینڈ ٹی پویلین نے ٹیکنالوجی شراکت داری کے لیے پلیٹ فارم فراہم کیا
آٹھ مفاہمت نامے، ٹیکنالوجی کی منتقلی کے چار اقدامات، دو مصنوعات کی رونمائی اور ایک سہولت کا افتتاح تحقیق کو ٹھوس نتائج میں تبدیل کرنے پر توجہ کا مظہر ہیں
آٹھ پینل مباحثوں میں 67 ماہرین نے صحت کی دیکھ بھال، مینوفیکچرنگ، جدید مواد، اہم معدنیات، ڈی کاربنائزیشن اور سائنس پر مبنی اسٹارٹ اپس سمیت مختلف موضوعات پر غور کیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
06 SEP 2026 2:18PM by PIB Delhi
سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی سائنس کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج)، عملہ، عوامی شکایات اور پنشن کے مرکزی وزیر مملکت اور محکمہ جوہری توانائی و محکمہ خلاء کے مرکزی وزیر مملکت، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج ہندوستان کے تیزی سے فروغ پاتے اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام کو میٹروپولیٹن مراکز سے آگے لے جانے اور سائنس، اسٹارٹ اپس اور صنعت کے درمیان مضبوط روابط قائم کرنے پر زور دیا، تاکہ دیسی ٹیکنالوجی کو لیبارٹری سے منڈی تک پہنچانے کے عمل کو تیز کیا جا سکے۔
کولکتہ میں چھٹے آر آئی ایس ای کانکلیو 2026 کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ٹائر-2 اور ٹائر-3 شہروں کی اختراعی صلاحیت کو تسلیم کرنے کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے اس بات کا ذکر کیا کہ ہندوستان کے 50 سے 60 فیصد سے زیادہ اسٹارٹ اپس کا تعلق میٹرو شہروں سے نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے شہروں کے نوجوان اختراع کار تیزی سے بڑے شہروں کے اپنے ہم منصبوں کے برابر آ رہے ہیں اور کئی معاملات میں ان سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ سائنسی ادارے اور اختراعی ماحولیاتی نظام قائم شدہ ٹیکنالوجی مراکز تک ان کے آنے کا انتظار کرنے کے بجائے خود ان تک پہنچیں۔
وزیر موصوف نے کہا کہ آر آئی ایس ای کانکلیو اسٹارٹ اپس، صنعت کے نمائندوں، ممکنہ سرپرستوں، محققین اور سرکاری نمائندوں کو ایک ہی پلیٹ فارم پر لا کر بالکل ایسا ہی پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہم آہنگی اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ سائنسی تحقیق صرف لیبارٹریوں تک محدود نہ رہے، بلکہ اسے صنعت کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی، تجارتی کاری اور وسیع تر سماجی استعمال کی جانب لے جایا جائے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ آر آئی ایس ای کانکلیو کے مقام کے طور پر کولکتہ کا انتخاب ہندوستان کے سائنسی اور تعلیمی سفر میں شہر کے تاریخی تعاون کے پیش نظر خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ بنگال کی سائنسی مہارت اور ادارہ سازی کی طویل روایت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کولکتہ نے ایسی ممتاز شخصیات اور اداروں کو جنم دیا اور پروان چڑھایا ہے، جنہوں نے ہندوستان کی فکری اور سائنسی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
ڈاکٹر بدھان چندر رائے، پروفیسر یو این برہماچاری، سر سی وی رمن اور ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کی وراثت کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ موجودہ نسل کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس غیر معمولی ورثے کو آگے بڑھائے اور کولکتہ کو سائنسی و تکنیکی مہارت کے ایک بڑے مرکز کے طور پر دوبارہ ابھرنے میں مدد دے۔ انہوں نے کہا کہ شہر کی فکری قوت اور تعلیمی صلاحیت اس کے تاریخی سائنسی ورثے کو جدید ترین ٹیکنالوجیز اور صنعت کاری سے جوڑنے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ حکومت کا ’’مکمل حکومتی نقطۂ نظر‘‘ تیزی سے ’’مکمل سائنسی نقطۂ نظر‘‘ میں تبدیل ہو رہا ہے، جس کے تحت مختلف وزارتوں، محکموں، تحقیقی اداروں، تعلیمی اداروں اور صنعت کو ایک ساتھ لایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی آئی ٹی کھڑگ پور، آئی آئی ایس ای آر کولکتہ، این آئی ٹی درگا پور اور اٹل ٹنکرنگ لیبز جیسے اداروں کے ساتھ سی ایس آئی آر کی تجربہ گاہوں کا انضمام، محکمہ بایوٹیکنالوجی، محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی، محکمہ جوہری توانائی اور وزارت ارضیاتی علوم کے تحت موجود نیٹ ورکس کے ساتھ مل کر مشرقی ہندوستان میں ایک مضبوط علمی راہداری تشکیل دے سکتا ہے۔
وزیر موصوف نے کہا کہ ہندوستان نے حالیہ برسوں میں ان شعبوں میں نجی شعبے کی شمولیت کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں، جو پہلے بڑی حد تک صنعت کے لیے بند تھے، جن میں خلاء، جوہری توانائی اور بایوٹیکنالوجی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان شعبوں کے کھلنے سے اسٹارٹ اپس اور کاروباری اداروں کے لیے قومی ٹیکنالوجی کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے ایک نیا ماحول پیدا ہوا ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ایک لاکھ کروڑ روپے کا ریسرچ، ڈیولپمنٹ اینڈ انوویشن (آر ڈی آئی) فنڈ قائم کرنے کے حکومت کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انوسندھان نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن (اے این آر ایف) اعلیٰ خطرے اور اعلیٰ ثمرات والی تحقیق کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں، اسٹارٹ اپس اور صنعت کے درمیان مضبوط شراکت داری کی حوصلہ افزائی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
وزیر موصوف نے صنعت پر زور دیا کہ وہ ہندوستانی تجربہ گاہوں سے ابھرنے والی دیسی ٹیکنالوجیز کو اپنانے، ان کی معاونت، مالی اعانت اور تجارتی کاری کے لیے آگے آئے۔ انہوں نے کہا کہ سائنسی منصوبوں اور اسٹارٹ اپس کو الگ تھلگ رہ کر برقرار نہیں رکھا جا سکتا اور کاروبار و صنعت کے ساتھ باہمی طور پر مفید تعلقات قائم کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکنالوجیز کو بڑے پیمانے پر بازار تک پہنچانے کے لیے صنعت کو ان میں واضح تجارتی قدر نظر آنی چاہیے اور اسے اختراعی عمل میں ایک فعال شراکت دار بننا چاہیے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آر آئی ایس ای کانکلیو کے نتائج کو کسی ایک تقریب تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ انہیں ایک وسیع اور مسلسل فروغ پاتے اختراعی ماحولیاتی نظام کا حصہ بننا چاہیے۔ انہوں نے ایسے پلیٹ فارموں سے حاصل ہونے والے علم، ٹیکنالوجیز اور مواقع کو ایسی زبانوں اور فارمیٹس میں مواصلات کے ذریعےمعاشرے کے وسیع تر طبقات تک پہنچانے پر زور دیا جنہیں لوگ آسانی سے سمجھ سکیں اور جن تک ان کی رسائی ہو۔ اس سے ایک آر آئی ایس ای ایڈیشن سے حاصل ہونے والے تجربات اور اسباق کو دوسرے ایڈیشن میں شامل کرنے میں مدد ملے گی۔
چھٹا آر آئی ایس ای کانکلیو 2026، 6 اور 7 ستمبر کو سی ایس آئی آر-انڈین انسٹی ٹیوٹ آف کیمیکل بائیولوجی (سی ایس آئی آر-آئی آئی سی بی)، سالٹ لیک، کولکتہ میں منعقد کیا جا رہا ہے۔ اس کا مشترکہ اہتمام سی ایس آئی آر-سی جی سی آر آئی، سی ایس آئی آر-آئی آئی سی بی، سی ایس آئی آر-سی ایم ای آر آئی اور سی ایس آئی آر-آئی ایم ایم ٹی نے ’’وکست بھارت 2047 کے لیے اختراع اور صنعت کاری کو فروغ دینا‘‘ کے موضوع کے تحت کیا ہے۔ یہ کانکلیو اسٹارٹ اپس، صنعت، تعلیمی شعبے، محققین، اختراع کاروں، سرمایہ کاروں، انکیوبیٹرز، ایم ایس ایم ایز اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرتا ہے، تاکہ سائنسی تحقیق، صنعت کاری اور صنعتی اطلاق کے درمیان روابط کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔
افتتاحی اجلاس سے سی ایس آئی آر کی ڈائریکٹر جنرل اور محکمہ سائنسی و صنعتی تحقیق (ڈی ایس آئی آر) کی سکریٹری ڈاکٹر این کلائی سیلوی نے خطاب کیا۔ مغربی بنگال حکومت کے محکمہ صحت و خاندانی بہبود کے وزیر انچارج ڈاکٹر شردوت مکھرجی مہمان خصوصی تھے۔ پروفیسر وبھا ٹنڈن، ڈائریکٹر، سی ایس آئی آر-آئی آئی سی بی؛ ڈاکٹر رامانوج نارائن، ڈائریکٹر، سی ایس آئی آر-آئی ایم ایم ٹی؛ پروفیسر بکرم جیت باسو، ڈائریکٹر، سی ایس آئی آر-سی جی سی آر آئی؛ ڈاکٹر نریش چندر مرمو، ڈائریکٹر، سی ایس آئی آر-سی ایم ای آر آئی؛ سینئر سائنس دان، محققین، اسٹارٹ اپ کے بانی، صنعت کے نمائندے اور دیگر متعلقہ فریق بھی اس موقع پر موجود تھے۔
ممبئی، لکھنؤ، حیدرآباد، چنئی اور بنگلورو میں پہلے ایڈیشنز کے انعقاد کے بعد کولکتہ ایڈیشن آر آئی ایس ای کانکلیو کا چھٹا ایڈیشن ہے۔ ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ قومی آر آئی ایس ای پلیٹ فارم کو ملک کے مختلف حصوں تک لے جانے کا مقصد رسائی کو بہتر بنانا اور تمام خطوں میں اختراع کاروں اور کاروباری افراد کو سائنسی صلاحیتوں سے جوڑنا ہے۔
کانکلیو کا محور 4 ایم فریم ورک ہے: معدنیات، ادویات، مواد اور مشینیں، جو اس میں حصہ لینے والی چار سی ایس آئی آر لیبارٹریوں کی تکمیلی صلاحیتوں کی نمائندگی کرتا ہے۔
حصہ لینے والی سی ایس آئی آر لیبارٹریوں نے ٹیکنالوجی کی منتقلی، لائسنسنگ، تجارتی کاری اور وسیع تر صنعتی استعمال کی صلاحیت رکھنے والی دیسی ٹیکنالوجیز اور مصنوعات کی بھی نمائش کی۔ یہ ٹیکنالوجیز جدی مواد، صحت کی دیکھ بھال اور مشینری سے لے کر صفائی ستھرائی، فضلے کے انتظام اور پائیدار انجینئرنگ کے حل تک مختلف شعبوں پر محیط ہیں۔ یہ صنعتی اور سماجی دونوں ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مقامی تحقیق کی صلاحیت کا مظاہرہ کرتی ہیں۔
اسٹارٹ اپ نمائش اور ایس اینڈ ٹی پویلین نے اسٹارٹ اپس اور کاروباری افراد کو اپنی ٹیکنالوجیز اور مصنوعات کی نمائش کرنے اور محققین، صنعت کے نمائندوں، سرمایہ کاروں اور معززین کے ساتھ رابطہ قائم کرنے کے لیے ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کیا۔ کانکلیو میں تقریباً 150 اسٹارٹ اپس نے شرکت کی، جبکہ تقریباً 300 اسٹارٹ اپ نمائندوں اور انکیوبیشن و اختراعی مراکز سے مزید 150 مندوبین نے بھی اس وسیع تر شرکت میں حصہ لیا۔
تکنیکی پروگرام میں 67 پینلسٹوں پر مشتمل آٹھ پینل مباحثے شامل ہیں۔ ان میں ادویات کی دریافت اور سستی صحت کی دیکھ بھال، مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجی، اختراع اور ایم ایس ایم ایز کے لیے تحقیق و ترقی، مواد پر مبنی اختراع، اسٹیل اور ایلومینیم کی ڈی کاربنائزیشن، اہم معدنیات اور نئے مواد، سائنس مواصلات، سائنس پر مبنی اسٹارٹ اپس کے مواقع، اور روایتی دانش و جدید اختراع سمیت مختلف موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔
’’لیب ٹو مارکیٹ لیپ: بریک تھرو ریسرچ سے وینچرز کی تعمیر‘‘ کے موضوع پر ایک خصوصی لیکچر بھی منعقد کیا گیا، جس میں اہم سائنسی تحقیق کو کاروباری منصوبوں اور بازار پر مبنی مواقع میں تبدیل کرنے پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی۔
کانکلیو نے ٹیکنالوجی کی تجارتی کاری پر اپنی توجہ کو ٹھوس نتائج میں تبدیل کیا ہے۔ پروگرام کے ایک اہم حصے کے طور پر آٹھ مفاہمت ناموں (ایم او یوز) پر دستخط اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے چار اقدامات شامل ہیں۔ تقریب میں سی جی سی آر آئی کے نئے لوگو، جامع مجموعہ اور بوٹ کیمپ کا آغاز، دو مصنوعات کی رونمائی اور ایک سہولت کا افتتاح بھی کیا گیا۔
انڈسٹری میٹ میں صنعت کے سینئر نمائندوں اور دیگر متعلقہ فریقوں کو سائنس دانوں اور معززین کے ساتھ بات چیت کے لیے ایک پلیٹ فارم پر لایا گیا، جس میں صنعت اور تحقیق کے درمیان روابط کو مضبوط بنانے اور تعاون، ٹیکنالوجی کو اپنانے اور اس کی تجارتی کاری کے مواقع کی نشاندہی پر توجہ مرکوز کی گئی۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ مشرقی ہندوستان کی سائنسی اور تکنیکی طاقت، اس کی مضبوط تعلیمی اور صنعتی بنیاد کے ساتھ مل کر، ہندوستان کی ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسٹارٹ اپس ٹیکنالوجی کی منتقلی کے اہم ذرائع کے طور پر کام کر سکتے ہیں، جبکہ اسٹیل، ایلومینیم، کان کنی، پٹ، آئی ٹی اور سافٹ ویئر جیسے شعبوں میں قائم صنعتیں دیسی ٹیکنالوجیز کو بڑے پیمانے پر رائج کرنےمیں اہم شراکت دار بن سکتی ہیں۔
انہوں نے ہندوستانی تجربہ گاہوں سے ابھرنے والی دیسی مشینوں، آپٹیکل نیٹ ورکس اور دیگر ٹیکنالوجیز میں نئی صلاحیتیں شامل کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے زیادہ سے زیادہ استعمال پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے صنعت اور اسٹارٹ اپس کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
وزیر موصوف نے کہا کہ خلاء، بائیوٹیکنالوجی، جوہری توانائی اور ڈیجیٹل معیشت کے شعبوں میں ہندوستان کی حالیہ پیش رفت، نیز ویکسین، علاج معالجے اور دیگر ٹیکنالوجیز کی دیسی ترقی ، حکومت، تعلیمی شعبے اور صنعت کے باہمی تعاون سے کام کرنے کی صورت میں سائنسی ماحولیاتی نظام کی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی کے اگلے مرحلے کے لیے اس انضمام کو مزید گہرا، وسیع اور پائیدار بنانے کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ وکست بھارت 2047 کے وژن کو حقیقت میں تبدیل کرنے کے لیے ہندوستان کو اپنی تاریخی سائنسی میراث کو مقامی ٹیکنالوجی، صنعت کاری، جدید مینوفیکچرنگ اور مضبوط صنعتی شراکت داری کے ساتھ جوڑنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ چھٹا آر آئی ایس ای کانکلیو بنگال کے تاریخی سائنسی جذبے اور ہندوستانی صنعت کاری کی نئی توانائی کے درمیان ایک اہم پل کے طور پر کام کر سکتا ہے، جس سے ملک کو مقامی اختراع کے ذریعے تعمیر، تیاری، علاج اور قیادت کی راہ پر آگے بڑھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
7 ستمبر کو کانکلیو کے اختتامی پروگرام میں سائنس و ٹیکنالوجی اور بائیوٹیکنالوجی، انفارمیشن ٹیکنالوجی و الیکٹرانکس، فوڈ پروسیسنگ انڈسٹریز اور باغبانی کے شعبوں کے وزیر انچارج، حکومت مغربی بنگال کے ڈاکٹر کلیان چکرورتی کا خطاب شامل ہوگا۔




***
UR-3068
(ش ح۔اس ک )
(ریلیز آئی ڈی: 2307165)
وزیٹر کاؤنٹر : 13