ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
ریاستی حیاتیاتی تنوع بورڈز اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی حیاتیاتی تنوع کونسلوں کا 16واں قومی اجلاس چندی گڑھ میں منعقد؛ ریاستی اور مقامی سطح پر حیاتیاتی تنوع کی حکمرانی کے فریم ورک کے مؤثر نفاذ پر غور و خوض
گورنر (پنجاب) اور ایڈمنسٹریٹر (چندی گڑھ) نے حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے عصری طریقۂ کار کے ساتھ روایتی علم اور کمیونٹیزکی شمولیت کو یکجا کرنے کی اہمیت اجاگر کی
ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو ترمیم شدہ قومی حیاتیاتی تنوع کی حکمرانی کے فریم ورک کے ساتھ ضوابط، ادارہ جاتی طریقۂ کار اور نفاذ کے عمل کو ہم آہنگ کرنے کی ضرورت: مرکزی وزیر ماحولیات
پائیدار ترقی میں معاون مقامی حیاتیاتی تنوع اور روایتی علم کو دستاویزی شکل دینے کے لیے متحرک مقامی سطح کی منصوبہ بندی ناگزیر: جناب بھوپیندر یادو
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
06 SEP 2026 1:32PM by PIB Delhi
چندی گڑھ/نئی دہلی، 6 ستمبر، 2026
ریاستی حیاتیاتی تنوع بورڈز (ایس بی بی) اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی حیاتیاتی تنوع کونسلوں (یو ٹی بی سی) کا 16واں قومی اجلاس آج چندی گڑھ میں شروع ہوا۔ قومی حیاتیاتی تنوع اتھارٹی (این بی اے) کے زیرِ اہتمام 06–07 ستمبر 2026 کو منعقد ہونے والے دو روزہ قومی اجلاس میں ملک بھر کے ایس بی بی اور یو ٹی بی سی کے چیئرپرسنز اور ممبر سیکریٹریز کے ساتھ ساتھ اعلیٰ افسران، ماہرین اور سائنس دان شرکت کررہے ہیں۔

افتتاحی اجلاس کی صدارت پنجاب کے گورنر اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقے چندی گڑھ کے ایڈمنسٹریٹر جناب گلاب چند کٹاریہ، ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کے مرکزی وزیر جناب بھوپیندر یادو، اور حکومتِ ہریانہ کے ماحولیات، جنگلات اور جنگلی حیات کے وزیر جناب راؤ نربیر سنگھ نے کی۔ اس موقع پر موجود دیگر معزز شخصیات میں وزارتِ ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کے سیکریٹری جناب تنمے کمار، ڈائریکٹر جنرل آف فاریسٹ اور وزارتِ ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کے خصوصی سیکریٹری جناب سشیل کمار اوستھی، ایڈیشنل سیکریٹری (وزارتِ ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی) جناب آشوتوش اگنی ہوتری، چیئرپرسن، نیشنل بایو ڈائیورسٹی اتھارٹی (این بی اے)، جناب ویریندر تیواری، اور مرکزی وزارت کے دیگر اعلیٰ افسران کے علاوہ ریاستی حیاتیاتی تنوع بورڈز اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی حیاتیاتی تنوع کونسلوں کے نمائندے شامل تھے۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جناب گلاب چند کٹاریہ نے بھارت کے بھرپور حیاتیاتی ورثے اور ماحولیات کے حوالے سے اس کی روایتی اقدار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ماحولیاتی تحفظ کا تعلق خوراک اور پانی کے تحفظ، روزگار اور پائیدار ترقی سے گہرا ہے، اور روایتی علم اور برادری کی شمولیت کو حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے عصری طریقۂ کار کے ساتھ یکجا کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ گورنر نے چندی گڑھ کی آبی دلدلی زمینوں، دریائی ماحولیاتی نظام اور زرعی حیاتیاتی تنوع کی ماحولیاتی اہمیت کی جانب توجہ مبذول کرائی۔ انہوں نے حیاتیاتی تنوع کے انتظام کی کمیٹیوں اور عوامی حیاتیاتی تنوع رجسٹروں کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا اور حیاتیاتی تنوع سے متعلق اداروں اور مقامی برادریوں کے درمیان مزید مضبوط تال میل کی اپیل کی۔

اس موقع پر اپنے خطاب میں جناب بھوپیندر یادو نے بھارت کی دیرینہ ماحولیاتی اقدار کو اجاگر کیا اور وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کے وژن کے تحت شروع کیے گئے ’مشن لائف‘، ’ایک پیڑ ماں کے نام‘، ’امرت سروور‘ اور ’گرین کریڈٹ پروگرام‘ جیسے اقدامات کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت تحفظِ ماحول کے اس سفر میں اپنی سائنسی صلاحیت کے ساتھ ساتھ روایتی اجتماعی دانش کو بھی ساتھ لے کر چل رہا ہے۔ حیاتیاتی تنوع ایکٹ، 2002 کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ حیاتیاتی تنوع (ترمیمی) ایکٹ، 2023 اور حیاتیاتی تنوع ضابطہ، 2024 نے حیاتیاتی تنوع کی حکمرانی کے فریم ورک کو مزید مضبوط اور منظم کیا ہے۔ انہوں نے ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں پر زور دیا کہ وہ اپنے ضابطہ، ادارہ جاتی طریقۂ کار اور نفاذ کے عمل کو ترمیم شدہ فریم ورک کے مطابق ہم آہنگ کریں۔
وزیر موصوف نے حیاتیاتی تنوع سے متعلق بھارت کے بین الاقوامی وعدوں کو پورا کرنے میں ہونے والی پیش رفت کو سراہا، جس میں حیاتیاتی تنوع سے متعلق کنونشن کے تحت 7ویں قومی رپورٹ اور رسائی و فوائد کی تقسیم سے متعلق ناگویا پروٹوکول کے تحت پہلی قومی رپورٹ پیش کرنا بھی شامل ہے۔ زمینی سطح پر نفاذ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے جناب یادو نے 2.76 لاکھ سے زیادہ حیاتیاتی تنوع کے انتظام کی کمیٹیوں کو فعال اور مؤثر بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عوامی حیاتیاتی تنوع رجسٹروں کو مقامی اداروں کے لیے متحرک منصوبہ بندی کے وسائل کے طور پر ترقی دینی چاہیے، تاکہ مقامی حیاتیاتی تنوع اور اس سے وابستہ روایتی علم سے متعلق معلومات مقامی منصوبہ بندی اور پائیدار ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔

رسائی اور فوائد کی تقسیم کے حوالے سے وزیر موصوف نے بتایا کہ قومی حیاتیاتی تنوع اتھارٹی نے کسانوں، مقامی برادریوں، حیاتیاتی تنوع کے انتظام کی کمیٹیوں، ریاستی حیاتیاتی تنوع بورڈز، مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی حیاتیاتی تنوع کونسلوں اور تحقیقی اداروں کے ساتھ 200 کروڑ روپے سے زیادہ کے اے بی ایس فنڈز تقسیم کیے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اے بی ایس کے ذریعے برادریوں کو ٹھوس فوائد حاصل ہونے چاہئیں، جبکہ اس سے حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور پائیدار روزگار میں بھی مدد ملنی چاہیے۔ اس موقع پر معلوماتی مواد بھی جاری کیا گیا، جس میں این بی اے کی گزشتہ ایک سال کی کامیابیوں سے متعلق دستاویز بھی شامل تھی، جس میں اے بی ایس اسکیم اور متعلقہ فریقوں کے درمیان ان فنڈز کی مؤثر تقسیم کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
حیاتیاتی تنوع اور موسمیاتی اقدامات کے درمیان تعلق کو اجاگر کرتے ہوئے جناب بھوپیندر یادو نے بتایا کہ گزشتہ برسوں کے دوران بھارت نے حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے شعبے میں بین الاقوامی پروٹوکول کے مطابق باقاعدگی سے فیصلہ کن اقدامات کیے ہیں، جبکہ ’حکومت کی مکمل شمولیت‘ اور ’معاشرے کی مکمل شمولیت‘ کے طریقۂ کار پر عمل کیا ہے۔ انہوں نے بھارت کے تازہ ترین قومی حیاتیاتی تنوع حکمتِ عملی اور عملی منصوبے (این بی ایس اے پی) 2024–2030 کا ذکر کیا، جو کنمنگ۔مونٹریال عالمی حیاتیاتی تنوع فریم ورک (کے ایم جی بی ایف) کے مطابق ہے۔ انہوں نے ماحولیاتی نظام کی بحالی، انواع اور مسکن کے تحفظ، زرعی حیاتیاتی تنوع اور موسمیاتی تبدیلی کے مقابلے میں لچکدار مناظر کے شعبوں میں قابلِ پیمائش نتائج حاصل کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی بھی حوصلہ افزائی کی کہ وہ عالمی سطح پر 30 بائی 30 تحفظ کے ہدف میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے شراکت دار بنیں۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جناب راؤ نربیر سنگھ نے تحفظ اور بحالی کے لیے ہریانہ کی کوششوں کو اجاگر کیا اور ریاستی و مقامی سطح پر حیاتیاتی تنوع کی حکمرانی کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے مقامی حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں ہریانہ کی حیاتیاتی تنوع کے انتظام کی کمیٹیوں کے کردار کو اجاگر کیا اور حیاتیاتی تنوع کے انتظام کی کمیٹیوں اور مقامی برادریوں کی بہتر تربیت اور صلاحیت سازی پر زور دیا۔

دو روزہ قومی اجلاس ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو اپنے تجربات، اختراعات اور نفاذ سے متعلق درپیش چیلنجز ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرنے اور حیاتیاتی تنوع کی حکمرانی کو مضبوط بنانے کے لیے عملی اقدامات پر غور و خوض کرنے کا ایک پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔ توقع ہے کہ اس اجلاس میں ہونے والے غور و خوض سے مضبوط ادارہ جاتی طریقۂ کار، حیاتیاتی تنوع کے انتظام کی کمیٹیوں کے بہتر کام کاج، عوامی حیاتیاتی تنوع رجسٹروں کے بہتر معیار اور مؤثر استعمال، صلاحیت سازی میں بہتری اور ریاستی و مقامی سطح پر حیاتیاتی تنوع کی حکمرانی کے فریم ورک کے زیادہ مؤثر نفاذ میں مدد ملے گی۔
******
ش ح۔ ف ا۔ م ر
U-NO. 3076
(ریلیز آئی ڈی: 2307137)
وزیٹر کاؤنٹر : 9