ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
قومی حیاتیاتی تنوع اتھارٹی نے حیاتیاتی وسائل تک رسائی اور فوائد کی شراکت کے تحت 200 کروڑ روپے کی تقسیم کا ہندسہ عبور کر لیا
چار اہم سبزیوں کی فصلوں کے استعمال سے حاصل ہونے والی رسائی و فوائد کی شراکت (اے بی ایس) کی 8.23 کروڑ روپے کی رقم ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کی جائے گی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
05 SEP 2026 6:33PM by PIB Delhi
نیشنل بائیو ڈائیورسٹی اتھارٹی (این بی اے) نے ہندوستان کے ایکسیس اینڈ بینیفٹ شیئرنگ (اے بی ایس) فریم ورک کے نفاذ میں ایک اہم سنگِ میل عبور کیا ہے، جس کے تحت اے بی ایس کی مجموعی ادائیگیاں 200 کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہیں۔
اس مسلسل کوشش کے ایک حصے کے طور پر، این بی اے نے 27 ریاستی حیاتیاتی تنوع بورڈز (ایس بی بیز) اور 5 یونین ٹیریٹری بائیو ڈائیورسٹی کونسلوں (یو ٹی بی سیز) کو اے بی ایس کی آمدنی میں سے 8.23 کروڑ روپے منظورکیے ہیں۔ یہ آمدنی کریلے (مومورڈیکا چرنٹیا)، بھنڈی (ابیلموشس ایسکولینٹس)، مرچ (کیپسکم اینیوم) اور پیاز (ایلیئم سیپا) سے وابستہ حیاتیاتی وسائل تک رسائی اور ان کے استعمال سے حاصل ہوئی ہے۔
اے بی ایس سے حاصل ہونے والی آمدنی بیج تیار کرنے والی کمپنیوں میسرز نن ہیمس انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ، میسرز ایسٹ ویسٹ سیڈز انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ اور میسرز بایر سائنس اینڈ انوویشن پرائیویٹ لمیٹڈ سے حاصل ہوئی ہے۔ یہ آمدنی تحقیق اور تجارتی استعمال کے لیے ان حیاتیاتی وسائل تک رسائی کے سلسلے میں حاصل کی گئی ہے۔
حیاتیاتی وسائل تک رسائی کھلی منڈی یا تاجروں کے ذریعے حاصل کی گئی تھی، اس لیے ان کے مخصوص انفرادی کسانوں، برادریوں یا کسی ایک قابلِ شناخت جغرافیائی ماخذ سے تعلق کا تعین نہیں کیا جا سکا۔ چنانچہ ماہرین کی کمیٹی کی تجویز اور اتھارٹی کی منظوری سے طے شدہ طریقۂ کار کے مطابق، حاصل شدہ رقم کو ان ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ایس بی بیز/یو ٹی بی سیز کے درمیان تقسیم کیا جا رہا ہے جہاں متعلقہ فصلوں کی کاشت کی جاتی ہے۔
یہ تقسیم کاشت کے زیرِ رقبے کی بنیاد پر کی گئی ہے، جیسا کہ وزارتِ زراعت و کسانوں کی بہبود کی جانب سے شائع کردہ اعداد و شمار میں درج ہے۔ یہ طریقۂ کار اے بی ایس کی آمدنی کو ان ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں تک منتقل کرنے کے قابل بناتا ہے جہاں متعلقہ حیاتیاتی وسائل کی کاشت کی جاتی ہے اور جہاں انفرادی فراہم کنندگان یا ماخذ برادریوں کی براہِ راست شناخت ممکن نہیں ہے۔
اے بی ایس کی آمدنی حاصل کرنے والی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں مدھیہ پردیش اور مہاراشٹر چاروں فصلوں کے مجموعی طور پر سب سے بڑے وصول کنندگان کے طور پر ابھرے ہیں مدھیہ پردیش کے حصے کی بنیاد لوکی، مرچ اور پیاز کی کاشت میں اس کی نمایاں حیثیت ہے، جبکہ مہاراشٹر کی نمایاں پوزیشن بنیادی طور پر ہندوستان میں پیاز کی کاشت کے رقبے میں اس کے بڑے حصے سے منسوب ہے، جو 49 فیصد سے زیادہ ہے۔ چاروں فصلوں کے سلسلے میں دس سب سے بڑے وصول کنندہ ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ادا کی جانے والی مشترکہ اے بی ایس رقوم درج ذیل ہیں
|
نمبر شمار
|
ریاست، یوٹی
|
تقسیم کی گئی اے بی ایس رقم (روپے میں)
|
|
1
|
مدھیہ پردیش
|
1,17,39,914
|
|
2
|
مہاراشٹر
|
1,01,30,649
|
|
3
|
آندھرا پردیش
|
75,55,077
|
|
4
|
کرناٹک
|
65,22,893
|
|
5
|
گجرات
|
64,05,708
|
|
6
|
اوڈیشہ
|
57,63,361
|
|
7
|
بہار
|
47,63,367
|
|
8
|
چھتیس گڑھ
|
39,91,285
|
|
9
|
مغربی بنگال
|
36,04,978
|
|
10
|
اتر پردیش
|
35,72,456
|
|
11
|
باقی ریاستیں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں
|
1,82,88,892
|
ایس بی بیز/یو ٹی بی سیز کے لیے ضروری ہے کہ وہ حیاتیاتی تنوع ایکٹ، 2002 کی دفعہ 32(2) کے تحت درج سرگرمیوں کے لیے ان رقوم کا استعمال کریں۔ ان سرگرمیوں میں عوامی حیاتیاتی تنوع رجسٹروں (پی بی آرز) کی دستاویز بندی اور تازہ کاری، حیاتیاتی وسائل کا مقامی اور غیر مقامی سطح پر تحفظ(اِن سِٹو اور ایکس سِٹو تحفظ)، تباہ شدہ ماحولیاتی نظام کی بحالی، حیاتیاتی تنوع کے ورثے کے مقامات کو مستحکم بنانا، حیاتیاتی تنوع کے انتظام کی کمیٹیوں (بی ایم سیز) کی صلاحیت سازی اور معاش کے ذرائع میں اضافہ شامل ہیں۔
یہ تازہ ترین ادائیگی اس بات کو یقینی بنانے کی ہندوستان کی کوششوں میں ایک اور اہم قدم ہے کہ حیاتیاتی وسائل کے استعمال سے حاصل ہونے والے فوائد کو حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور اس سے متعلق کمیونٹی پر مبنی سرگرمیوں کی جانب منتقل کیا جائے۔
اے بی ایس کی 200 کروڑ روپے سے زیادہ کی مجموعی تقسیم حیاتیاتی تنوع ایکٹ کے نفاذ کو مستحکم کرنے اور حیاتیاتی وسائل کے استعمال سے حاصل ہونے والے فوائد کی منصفانہ اور مساوی تقسیم کے اصول کو عملی جامہ پہنانے کے لیے این بی اے کی مسلسل کوششوں کی عکاسی کرتی ہے۔
یہ اقدام حیاتیاتی تنوع سے متعلق کنونشن (سی بی ڈی) اور رسائی و فوائد کے اشتراک سے متعلق ناگویا پروٹوکول کے ساتھ ساتھ کنمنگ-مونٹریال گلوبل بائیو ڈائیورسٹی فریم ورک (کے ایم جی بی ایف)، بالخصوص ہدف 13 کے تحت ہندوستان کے وعدوں میں بھی تعاون کرتا ہے۔ اس ہدف جینیاتی وسائل کے استعمال سے حاصل ہونے والے فوائد کی منصفانہ اور مساوی تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے، جہاں قابلِ اطلاق ہو۔
***
(ش ح۔اس ک )
UR-3067
(ریلیز آئی ڈی: 2307074)
وزیٹر کاؤنٹر : 5